Tehreer#06 | Karwan Gham-e-dil | HaaDi khan
تحریر:کارواں غم دل
ازقلم ہادی خان
میں صوفے پر بےسدھ پڑا تھا۔۔۔ میں نے پاؤں دراز کیے تھے۔۔۔ ہار کر ، یا شاید مسافت کی تھکن سے۔۔۔ بڑے روز سے میں ٹال دیتا ہوں خود کو۔۔۔ناجانے کیوں میں خود کو بوجھل پاتا ہوں۔۔۔ میرے سر پر پہاڑ پڑا ہوتا ہے۔۔۔۔ خدا جانے لوگ دھوکہ دے کر کیسے سکون پالیتے ہیں ۔۔۔
کیا ان کا دل ملامت نہیں کرتا؟
کیا انھیں پشمانی نہیں ہوتی؟
غبارِ راہ ان کی آنکھوں سے ٹکراتا نہیں جب وہ پرانی کسی پگڈنڈی پر چلتے ہیں۔۔۔
کیا ان کی یادوں کے دریچے کسی سمت سے کھل کر سرد گرم ہوا نہیں دیتے۔۔۔
میں پچھلے ۲۳ دن سے اس کے آخری خط کو چاک نہ کرسکا۔۔۔۔
روز اسے پرکھتا ہوں اور کل پر ٹال دیتا ہوں کہ شاید کل ہمت کر کے اس درد کی نشانی کو پڑھ سکوں گا۔۔۔ میں اپنی خود ساختہ دوزخ سے نکلوں گا۔۔۔
آج پھر پرکھا اسی کاغذ کو میں نے۔۔۔ میری التجاؤں کے قاتل تھے وہ لفظ جو درج تھے اس میں۔۔۔
میری دنیا کو اجاڑ دینے کو کافی تھا یہ کاغذ۔۔
شریعت نے طلاق کے اصول مقرر کیے تھے۔۔۔
جب یہ تعلق غیر شرعی تھا تو اس میں یہ معاہدہ کیوں؟
میں نے دوبارہ اس کو پرکھا میرا سارا جی میری پوروں پر تھا۔۔۔
اس خط کو چاک کرنے کی شکتی ٹوٹتی گئی۔۔۔
میرے جسم نے جھرجھری لی۔۔۔
میرے ہاتھوں نے خط کو پٹخا۔۔۔
اور کل چاک کر کے چھٹکارا پانے کا سوچ کر میں نے دیگر مصروفیات میں خود کو الجھا لیا۔۔۔
شاید وہ کل کل کرتے کرتے میرا ہر کل آج ہوجاتا ہے تب ہی میں کل کے اس دوزخ سے نہیں نکل پاتا کیونکہ میں آج میں جیتا ہوں اور جس دن میں آج کے پنوں پر کل ہوجاؤں گا تب ہی مجھ میں اسے بھولنے کی ہمت پیدا ہوگی۔۔۔۔

Leave a Comment