Tehreer#07 | Ramzan Kareem | HaaDi khan
لگ بھگ پانچ برسوں بعد تو یہ موقع مِلا۔ میں قرآن مکمل پڑھ چکا تھا مگر صرف لفظ مسلمان کی لاج رکھنے کے لیے۔
ایک مرتبہ مکمل کرنے کے بعد جوں کا توں الماری میں سجا کر رکھا قرآن بعد اس کے کھولا نہیں۔ ایک مبہم سا اندیشہ ہے شاید رمضان المبارک میں کبھی قرآن سے رابطہ رہ چکا ہے۔خلوت کے چند دن پاتے ہی واپس اسی جانب دل مائل ہوا۔عزم کیا چلو پڑھتے ہیں قرآن, دل کو تھاما اور ندامت سے باوضو قرآن کی جانب ہو لیا۔
میں نے زیرِ لب بسم اللہ پڑھا اور سورۃ یاسین پڑھنا شروع کی۔ قرآن رہبر کامل ہدایت کا منبع ہے۔ میں نے انگشت کو حروف کے سپرد کیا۔۔۔۔میری انگلی الفاظ در الفاظ چلتی گئی جیسے کسی بچے کو چلنا سیکھایا جاتا ہے۔ میرے لاشعور سے الفاظ پہچانے جارہے تھے جیسے کسی دور میں ان معنیت سےبھرپور الفاظ سے میرا واسطہ ہو چکا ہے۔ میں نے کسی جانب تیزی برتی اور ایک چند اغلاط کو میرے لاشعور نے پکڑا۔ میں نے انگلی واپس پچھلے الفاظ کو پکڑائی ، توجہ یرق گئی، میں نے توڑ جوڑ کیا اور واقعی میں جلد بازی میں غلط پڑھ چکا تھا۔ میں نے سورۃ مکمل پڑھی خدا کا یہ معجزہ ہے کہ میں نے سینکڑوں بار اپنی انگلی سپرد کی تو مجھے ہمیشہ ہدایت و اصلاح ملی۔ یہ خداتعالیٰ کا ہم میں ہمارا سب سے بڑا معلم ہے۔ آپ سب بھی اپنی انگلیاں قرآن کے سپرد کر دیں وہ اغلاط کی نشاندہی کرے گا سمجھائے گا احسن راستہ دیکھائے گا اور سدھارے گا۔
ازہادی خان

Leave a Comment