Afsana#09 | Insan Numa | HaaDi khan
انسان نما
ازقلم ہادی خان
سرمئی شام میں تارکول کی سیاہ سڑک پر کم کم لوگ ہی نظر آرہے تھے۔۔۔ شام کے ساتھ ہوا میں تھوڑی خنکی ظاہر ہونے لگی تھی۔۔۔ ہوا کے ساتھ جسم کو لرزا دینے والے جھونکے بھی چل رہے تھے۔۔۔ یہ شام و رات کا برزخ معلوم ہوتا تھا۔۔ روشنی و اندھیرے کے اس سنگم میں سردی اب اپنے آپ کو منوانے لگی تھی کیونکہ دھوپ کے دیو کا وقتِ زوال آچکا تھا۔۔
ایک جانب میں بیٹھا ہوا اس تمام صورتحال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ بلکہ میں بےقراری میں قرار اور قرار میں بےقراری محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔
میں نے باز آفرینی سے مملو ایک سرد آہ بھری۔۔۔جیون مکمل طور پر اجیرن بنتا جارہا ہے۔۔
ایک کثیف و گدلا سا کمبل ایک جانب کو ڈھیر بن کر پڑا ہوا تھا۔۔ مجھ پر اس کے قریب بیٹھنا قدر گراں گزرا اور میرا پوپلا سا منہ کھٹے لیموں کھانے کے بعد والا بن گیا۔۔۔ وہیں پاس میں فقیر کا کشکول سلیقے سے رکھا ظاہر ہوتا تھا۔۔ سڑک پر چند گاڑیوں نے شور مچا مچا کر اپنا رستہ ہموار کروایا۔۔ مجھے نسبتاً اس بدبودار قباء سے یہ شور نشتر لگی۔۔۔
مجھے ناجانے کیوں ان اتاولے کوڑھ مغز لوگوں سے چڑ تھی۔۔ خدا جانے مگر مجھے لگتا ہے یہ تعلیم بل جبر کے طویل مرحلے سے نکلے ان ذہنی مریضوں کا بڑی محنتوں و مقابلے اور دھوپ میں بھاگ دوڑ سے لی گئی ڈگریوں کا ساختہ پر ساختہ ہوا قضیہ نتیجہ ہے۔۔۔
میں نے ادھر سے نظریں کوفت کے عالم میں پھیریں اور دوبارہ اُس جانب دیکھا۔۔ اب اس کمبل پر بےشمار مکھیوں کا گھر آباد ہورہا تھا۔۔
جیسے وہ اس پر مستقل اپنا گھر جمانے والی ہیں۔۔۔
میرے سامنے سبز درخت کے پھیلے ہوئے پتے باقی فضا سے زیادہ ٹھنڈ گھیرنے لگے۔۔
کوا تار پر صرف اسی لئے بیٹھا تھا کہ میرے مزاج کو اپنی بدترنم آواز سے مزید چڑچڑا کر دے۔۔۔
چند لوگوں کا ریوڑ گزرا تو ایک شخص جس کو میں بہت وقت سے دیکھتا آرہا ہوں اُس نے وہاں رکھے کاسے میں کچھ انڈیلا۔۔۔
کھنکنے کی آواز آئی۔۔۔
شاید سکہ تھا۔۔۔
رائج الوقت میں ۵ کا سکہ ہی تمام میں بزرگ مانا جاتا تھا۔۔۔
"ارے یہ لڑکا روز کشکول میں کچھ ڈال کر جاتا ہے ویسے۔۔۔"
میرا باتونی مزاج خود مجھے کوفت میں مبتلا کردیتا ہے مگر اس وقت میں بول نہیں صرف سوچ رہا تھا ۔۔۔ وہ سوچ جو مجھے خود کو تو باتوں جیسی محسوس ہوتی ہے۔۔۔
جیسے کوئی تاش کی بازی کھیلتے ہوئے بدبداتا ہے, کھسر پسر کرتا ہے, بالکل ویسے میرے اندر کی سوچ میرے کان پکا دیتی ہے۔۔۔
اب کہ دو عورتیں وہاں سے باتیں کرتی ہوئی گزریں۔۔۔
ایک نے برا سا منہ بنا کر کاسے کی جانب دیکھا اور پھر اس کمبل کی جانب, مگر پھر چپ کر گئی۔۔۔
میں نے اس کے اس قدر بدشکل زاویے کو ہرگز ناپسند کیا۔۔۔
اس نے تھوڑی , ہونٹ اور ناک کو کسوڑ کر کچھ ایسا منہ بنایا کہ وہ اس کی کراہت کو ظاہر کم کررہا تھا بلکہ کسی بدروح کا ڈراؤنا خواب زیادہ لگنے لگا۔۔۔
ہاں البتہ وہ صرف رات کے اندھیرے میں ہی ایسا منہ بنائے, باقی رنگ تو اس کا ویسے بھی سیاہ ہی تھا۔۔۔
خیر کسی کا مذاق نہیں بنانا چاہئے خاص طور پر اس کا جو خود مذاق بن کر پیش ہو۔۔۔
اب ایک گاڑی رُکی جس سے ایک متین شخص اتر کر سامنے کھوکھے سے سگریٹ کا پیکٹ لینے لگا۔۔
مجھے اتنے دور سے اتنے انہماک سے دیکھنے کے باوجود صرف یہ علم ہوا کہ سیگرٹ کی ڈبی اور دیا سلائی کا پیکٹ ہے. یہ نہیں پتا لگا کہ کون سی کمپنی کا ہے۔۔۔
مگر میرا مشورہ اور قیاس یہی ہے کہ اس نے گولڈ لیف لیئے ہونگے, نہیں تو وہ لیتا اس کا فلٹر جلدی خراب نہیں ہوتا اور آخری دم تک ساتھ دیتا ہے۔۔۔
مجھے تو وہ کافی احمق لگ رہا ہے۔۔۔ بھلا شام کو کون کالا چشمہ پہنتا ہے۔۔۔
"خدا جانے اندھا نہ ہو۔۔۔"
"گاڑی چلانے والا اندھا۔۔۔"
میرے پہلے خیال کو دوسرے خیال نے دبوچا۔۔۔
"بھلا اس ملک میں کیا ممکن نہیں۔۔۔ ممکن ہے کہ اندھے بھی گاڑی چلا سکتے ہوں۔۔۔" اس دلیل کو رد کر کے میرا دماغ آگے نکل گیا۔۔۔
"یہ میرا دماغ اتنا کیوں بول رہا ہے۔۔۔" میرا من ہوا میں اپنے ہی بال کھینچ کر اپنے مغز کو چپ کی تلقین کروں۔۔۔
مجھے تو حیرت گونگے لوگوں پر ہوتی ہے۔۔۔ وہ بچارے زبان سے نہیں تو دماغ سے بولتے ہونگے۔۔۔ چلو بہتر ہے ان کا دماغ ہمارے سیاستدانوں کی طرح کا نہیں ہوگا۔۔۔ ان کا دماغ کام کررہا ہے, حرکت میں ہے, جب ہی برکت میں ہے۔۔۔
شام کے سائے ڈھل گئے۔۔۔
میں نے اکڑو بیٹھے بیٹھے دماغ کا منہ بند کرنے کے لئے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ اور ہاتھ کے اوپر اپنا سر رکھ دیا۔۔۔
انکھوں کو موند کر میں نے کچھ دیر آرام پایا۔۔۔
اتنے شور کے بعد چند ساعت کی تسکین۔۔۔
مگر تجسس کا مارا انسان جانے کب سکون پائے۔۔۔ ہر وقت ہی پھدکتا رہتا ہے۔۔۔
بند آنکھوں سے میں اس چشمے والے شخص کی کلائی پر بندھی گھڑی کے وقت کی سوئیوں کا سوچنے لگا۔۔۔
"جانے کیوں مجھے سکون نہیں مل رہا۔۔۔" میں غصے سے اپنے کنپٹی کھجانے لگا۔۔۔ ایک قمل میرے ناخن میں پھنس گئی۔۔۔
"اففففف میں کتنا گندا ہوں۔۔" قمل کو ناخن پر رکھ کر دوسرے ناخن سے میں نے اس کا مربع بنا دیا۔۔۔
"بیچارا جاندار تین لمحے پہلے تک زندہ تھا۔۔۔"
اسی دوران مجھ پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ میرا دماغ صرف تین لمحے کے دورانیے میں نئی بات سوچنا جاری کر دیتا ہے۔۔۔
میرے سر پر سرکاری بتیوں کے جلنے کی قطار در قطار آمد ہونے لگی۔۔۔
ہل چل مچی اور سائے لہراتے لہراتے میرے پاس آرُکے۔۔۔
ایک آوارہ کتوں کی ٹکڑی نے اس گدلے کمبل میں منہ مارا اور اتنے میں تیز رفتار پولیس موبائل کسی گاڑی کے عقب میں شوں کرتے ہوئی وہاں سے گئی۔۔۔
کتوں نے بلاوجہ اپنی جان ہتھیلی پر نہ رکھی اور وہاں سے پیں پیں کر کے دُم سے عزت دبا کر پاس والی گلی میں بھاگ کر پناہ لے لی۔۔۔بےصرفہ ہی لامتوقع سے جان کے خطرہ کا ادراک کرتے ہی پتلی گلی پکڑ لی۔۔۔۔
میں نے اپنی گردن جو کہ ناجانے کیوں اور کب سے درد کر رہی تھی سیدھی کی جس میں سے ہڈھیوں کی صدیوں کی رنجشوں کے بعد از سر نو مل کر چٹخنے کی آواز بلند ہوئی۔۔۔
شدید درد کے بعد گردن کو تو راحت ملی۔۔۔
دیوار کے ساتھ سر لگا کر میں نیم دراز ہوگیا۔۔۔
ناجانے کس وقت کی بات ہے مہتاب کی سفید اور سرکاری بتیوں کے زرد رنگ کے امتزاج سے ملجگا سماں بندھا اور آوارہ کتوں کے بعد اب آوارہ اب کے وہاں سامنے انسانوں کا ایک رُکا۔۔۔
دونوں میں فرق صرف زبان لٹکانے کا ہے باقی ایک جیسے آوارہ، ایک جیسے شریر اور دونوں ایک جیسے ہی بھوکے ہوتے ہیں۔۔۔
وہ کچھ منصوبہ بندی کرکے مکروہ نظروں سے کمبل کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔۔
ان میں سے ایک اسی جانب آنے لگا۔۔۔ باقی اس کے عقب میں نیم جھکے ہوئے آگے بڑھے۔۔۔۔
فوراً اس نے کمبل کو لات ماری پھر وہ سارے اس کمبل کو لاتیں مارتے رہے۔۔۔ اتنا کہ وہ تھک کر دوھرے ہوگئے اور سب نیم پیٹ کے بل ہو کر سانس لینے لگے۔۔۔
اب وہ کشکول سے عوامی امداد کے پیسوں کو لوٹ کر سامنے پان والے سے نا جانے کیا خریدنے لگے۔۔۔
کچھ دیر بعد کھوکھے والے نے موبائل فون کان سے لگایا۔۔۔
مجھے خیال پڑتا ہے اس نے کوتوالوں کو اطلاع دی تھی۔۔۔
چند ساعت میں کوتوالی سے چند طشتریاں کسی عذاب کی مانند نازل ہوئی۔۔۔ میرا گمان درست ثابت ہوا۔۔۔
کچھ پوچھ گچھ کے بعد وہ تمام کے تمام کمبل اور ٹوٹا کشکول اٹھا کر لے گئے۔۔۔
مجھ سے کسی نے کچھ نہ پوچھا۔۔۔
اگلے دن وہ لڑکے ان کوتوالوں کے ساتھ آئے اور اپنی کارستانیاں بتانے لگے۔۔۔
میں تمام خاکہ دیکھتا رہا۔۔۔ جس طرح اس لڑکے نے کل کیا تھا بالکل اسی طرح اس نے آج بھی کر کے دکھایا۔
پاس کھڑا ایک ملازم یہ سب حرکات روز نامچے میں لکھ رہا تھا۔۔۔
کوتوالوں نے آپس میں کچھ کھسر پسر کی۔۔۔
وہ کتے، وہ آوارہ انسان، وہ سیاہ چشمے والا انجان، وہ کھوکھےوالا مجہول شخص، وہ پولیس کے حکام، مسیحا وحکیم ،حقیقت کوئی بتا ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔
کوئی نہیں بتاسکتا تھا کہ یہاں ہوا کیا ہے۔۔۔
الفاظ موجودہ لوگوں میں سے آدھ چوتھائی یا اس سے بھی کم تعداد کے منہ سے نکلے۔ بلکہ اس سے بھی کم سمجھیں۔ وہاں مل جل کر افسوس، ندامت شرمندگی کا ایک مجموعی تاثر تک پیدا نہ ہوا۔۔۔
قاتل وہ لڑکے ہیں۔۔۔
حکمران ہیں۔۔۔
یا کوئی بھی نہیں۔۔۔
اس موت کو ناگہانی موت جان لیں۔۔۔
افسوس کا ٹوٹا پھوٹا ،لولا لنگڑا الفاظ بھی نہیں ادا کیا گیا۔ بس جواب طلبی کی جستجو میں ترپٹ, محنت, کام کے سلسلے میں سلائے ہوئے پُرغبار ضمیر جانے کیسے مطمئن تھے۔۔۔
ایک ہمدردی کا حرف سننے کو ملا۔ نہ کسی نے ملال و تعزیت کا کوئی رویہ اپنایا۔۔۔
میں آج خالی دماغ بیٹھا تھا مجھ سے کسی نے کچھ بھی نہیں پوچھا۔۔۔
میرا دماغ بھی آج قصداً چپ تھا۔۔۔
میں خود کو بھی بہت غیرضروری اور اضافی جان رہا تھا۔۔۔
شاید میں آج احتجاجاً چپ تھا۔۔۔۔
اس کمبل میں دو دن سے میری لپٹی لاش سردی کی وجہ سے خراب نہ ہوئی تھی۔۔۔ اور اب یہ لاش انصاف کا نہیں بلکہ صرف کفن و زمین کا تقاضا و مطالبہ کررہی تھی۔۔۔

Leave a Comment