Column#11 | Taza Surkhiyan | HaaDi Khan

تازہ سرخیاں
 از قلم ہادی خان
کیا آپ کو یاد ہے ساہیوال میں دن دیہاڑے چند پولیس والوں نے ایک گاڑی کو یرغمال بنایا اور پھر اس گاڑی پر فائرکھول دیئے۔ شاید والدین نے اپنی جان اپنے بچوں کی حفاظت کی نذر کردی ہوگی۔ جب ہی وہ کم سن زندہ ہیں جنھوں نے اتنے قریب سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنی ہوگی وہ بھی جو ان کے اپنے سرپرستوں کے سینے میں پیوست ہو رہی تھی۔ کتنا کرب ہے اس بات کو سوچنے میں اور انہوں نے اس کو دیکھا، محسوس کیا، گولیوں کے خول ان کے قدموں تلے آئے ہوں گے انہوں نے اس بارود کو سونگھا ہوگا۔ میں تو ایک دن یہ آرٹیکل لکھنے بیٹھا ہوں۔ سوچ سوچ کر وحشت محسوس کر رہا ہوں اور جنھوں نے اس رنجیدہ دل کے ساتھ اپنوں کے غم میں برس گزار لئیے ان کا احوال لکھنے سے قاصر ہوں۔
خیر کیا ہوا۔ اگلے دن وہی سورج نکلا۔ اسی اپنے پن کے ساتھ لوگ اٹھے، دفتر کھلے، کاروبار چلے، ڈاکٹرز نے اپنا اپنا کیلنک کھولا، چوھدری صاحب کھیتوں کھلیانوں پر گئے، خان صاحب نے دکان کھولی، لیڈران نے چند بیان دیئے تھے۔ ایک کیس چل گیا اور زندگی نارمل ہو گئی۔ سب کے سب وطن عزیز کے باسی اپنی منزلوں کی جانب چل دیئے۔
کسی نے احتجاج کیا؟ شاید کیا ہو گا؟ کسی نے ان لواحقین سے تعزیت کی؟ شاید کی ہوگی۔  پسماندگان کے ساتھ متعدد تصاویر اتروالی ہونگی۔
چلیں اس تناظر سے سوچتے ہیں کہ وہ گاڑی آپ کی تھی آپ اس میں موجود تھے۔ یہ بچے جو یتیم ہو گئے ہیں یہ آپ کے ہیں۔ وہ بیوی آپ کی تھی۔ وہ پوری فیملی آپ کی ہی تھی جو تاوقت مرنے کی وجہ ملنے سے بھی عاری ہے۔
کیا سوچ رہے ہیں انصاف؟ کیا آپ نے انصاف کی حمایت کی؟ آپ نے انصاف دلوایا کسی کو جو آپ اپنے لیے سوچ رہے ہیں۔
حاکمِ وقت سو کیسے لیتا ہے میں سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوں۔
اب ایک نظر کسی تہذیب یافتہ معاشرے پر ڈالیں (بغیرت اور بے حیا معاشرہ جیسا کہ ہمارے ذہنوں میں نقش ہے) جہاں ایک سیاہ فام کو پولیس نے بے دردی سے مار دیا اور عوام نے ریاست حکومت اور تمام نظام کو دھرم برہم کر دیا ہے۔
حاکم وقت اپنے صدارتی گھر میں سو نہیں سکتا وہ اپنے اس محل کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔ فوج کی طلبی بھی وہاں ہنگامی صورت حال میں کر دی گئی ہے۔ شہر کے کونے کونے میں "black lives matter" کے بینرز  ہاتھ میں اٹھائے لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ میں اس احتجاج کا مخالف نہیں ہوں میں اس احتجاج کی بھرپور حمایت کرتا ہوں۔ کیسے زندہ دل لوگ ہیں جو ایک سیاہ فام جو ان کے رنگ و نسل کا بھی نہیں کے لئے نظام کے خلاف کھڑے ہو گئے۔
میں تو حیران ہوں یہ سب تو اس تعلیمات پر عمل پیرا ہیں جو ہمیں اقاﷺ نے دی۔ جہاں قانون کی بلادستی ہے، امیر غریب، سیاہ، سفید، عربی، عجمی کسی کو کسی پر فضیلت نہیں۔
دوسری جانب وطنِ عزیز میں جب کوئی قتل کر دیا جائے تو ہم پہلے مقتول کو مسلک کی آنکھ سے دیکھتے ہیں پھر سیاست کی، جس جماعت سے مقتول کا تعلق ہو اسی جماعت کے لوگ آواز اٹھاتے ہیں بقیہ کچھ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں جبکہ جماعت کے مخالفین فتح کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں. ہمارا احتجاج نیٹ کی دستیابی کی آخری ایم بی تک جاری رہتا ہے۔ ایک ٹرینڈ بنتا ہے، مگر روز روز مرغ کھانے سے مرغ بھی بے سواد ہو جاتا ہے۔ اسی لئے لوگ روز ایک ہی مسئلے پر بات نہیں کرتے ٹرینڈ ختم ہوتے ہی بات دب جاتی ہے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ کیا ہماری جانوں کا سرخیوں کے تازہ رہنے تک ہی ذکر ہوتا رہے گا۔ ہم لوگ کب تک بات کرنے کو ہر روز ایک نئے حادثے کے منتظر رہیں گے۔ یہ انقلاب ہمارے یہاں کب آئے گا جو نظام اور حاکم وقت کو اس کے اختیارات بتائے؟
یہ قوم جسے بہت درد تھا۔ کیا یہ جھلسے ہوئے افضل کے جسم کو بھول گئے ہیں؟ کیا یہ لوگ صرف اس کی قبر کی مٹی کے سوکھنے کے منتظر تھے۔
جب موت آپ کے دروازے پر دستک دے گی تب آپ کے بھی انصاف کو دو دن نعرہ بازی ہوگی۔ ہر کوئی توجہ سمیٹ کر آپ کی موت کا فائدہ اٹھائے گا۔ تب آپ جاگ نہیں سکو گے تو خدارا ابھی اٹھو جاگو اور مجرموں کو تختہ دار تک پہنچاؤ، دیر ہونے کی صورت میں یہ جنگل کا قانون بڑھتا پنپتا پھلتا پھولتا رہے گا۔
میرا مشورہ ہے ابھی دو تین دن ہی ہوئے ہیں زہرہ شاہ آٹھ سال کی بچی کو قتل کیا گیا ہے۔ موقع بھی ہے دستور بھی ہے، تو سب لوگ اس ایک بچی کو انصاف دلا کر زندہ معاشرہ اور زندہ دل ہونے کا ثبوت دیں۔
کیوں کہ "our lives Matter" بھی ایک ٹرینڈ ہو سکتا ہے۔
ہم بھی انسان ہیں ہمیں بھی جینے کا حق ہے۔ کیا ہمیشہ ہم شکار ہوتے رہیں گے؟ کب تک کبوتر کی مانند آنکھیں بند کرتے رہیں گے؟ راؤ انوار آج بھی آزاد ہے اور نقیب اللہ محسود کا باپ اپنے بیٹے کے قاتل کے آزاد ہونے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے خود رخصت ہو گیا ہے۔ کسی دن ہماری بھی باری ہوگی اور ایک دن کے ٹرینڈ کے بعد قصہ تمام شد.
چمن سے آرہی ہے بوئے کباب
کسی بلبل کا دل جلا ہوگا
جگر مراد آبادی

No comments

Powered by Blogger.