Column#12 | Moat Ka Mausam | HaaDi Khan

موت کا موسم۔
ہادی خان
یہ وبا نجانے کب آئی اور ہم سب کے سروں پر تلوار کی مانند لٹک گئی۔ ہمیشہ ہماری قوم دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے مگر اب کی بار بہت سی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ کلمہ گو مسلمانوں کا ایک گروہ ہے جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا عذاب ہے۔ جس کا جواز وہ یہ دیتے ہیں کہ خدائے بزرگ و برتر نے سجدے چھین لیئے ہیں اور خانہ کعبہ کے طواف اور مسجد نبوی کی زیارت سے بھی ہمیں محروم کر دیا گیا ہے۔ ہماری ناپ تول میں بے ایمانی، ہماری زبانوں کی صداقتیں، ہماری آئے دن بے جا حماقتیں، دین سے دوری کو اس وبا کا سبب مانا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں مساجد بند کرنے کا عندیہ دیا گیا، مگر بعد از قلیل تعداد کو مسجد جانے کی اجازت مل گئی۔ مساجد میں اس وبائی مرض سے پہلے اتنے ہی لوگ جاتے تھے جتنے عید والے دن فجر کی نماز میں۔ خیر یہ بہت حد تک درست ہے کہ تمام آفات ہم پر آزمائش ہیں۔
ایک سوچ یہ کہتی ہے کہ یہ کوئی وبا ہے ہی نہیں بس عالمی طاقتوں نے لڑنے کا نیا جواز ڈھونڈ لیا ہے۔ ایک ڈر اور خوف بلا وجہ پھیلانے پر ایک ویکسین بنائی جائے گی، جس کو مہنگے داموں بیچ کر انسانوں کے ذہن غلام بنائے جائیں گے۔ اب یہ بات بھی چند لوگوں کی سوچ ہے اس پر کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔
چند لوگ اسے حکومت کا امداد حاصل کرنے کے لئے شعبدہ بازی اور ڈرامہ کا نام دے رہے ہیں۔
ایک سوچ یہ ہے کہ انسانی کوتاہی کے نتیجے میں ہم پر یہ مصائب مسلط ہوئے ہیں۔ کشمیر، فلسطین اور چائنہ میں مسلمانوں پر مظالم ہوتے رہے اور دنیا خاموش رہی۔ ہم سب خاموش رہے، عزتیں لٹتی رہیں، بچے یتیم ہوتے گئے، حاملہ عورتیں تڑپ کر کرب سے مرتی گئیں۔ ایسے بہت سے ملے جلے نظریات پاکستان کی منڈی میں ملتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک اسلامی جمہوریہ مملکت ہے مگر یہاں سیکولرز بھی سیکولر ممالک سے زیادہ ہیں۔ یہ کچھ زیادہ ہی جمہوری ملک ہے اور حسن جمہوریت ہے ہر فرد کو آزادیِ اظہارِ رائے  رکھنے کا حق ہے۔ اسی وجہ سے ہر انسان گروہ بندی کر کے اپنے نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔
اس وبا کو اچھوت کہنا بھی غلط نہ ہوگا جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے چھونے سے پھیل سکتا ہے۔ اس میں عالمی ادارے اور ترقی پزید ممالک نے کچھ احتیاطی تدابیر ہمیں سمجھانے کی ہر ممکن کوششیں کر چھوڑی ہیں مگر بےسود۔ ہم ایک ترقی پسند ملک ہیں، جس کی بیشتر آبادی روز اٹھ کر اپنے اس دن کا کھانا پورا کرنے کا جدوجہد کرتی ہے۔ جس نے پوری زندگی سینٹائزر نہیں دیکھے ہوں ان کو کیا معلوم کیسی احتیاط کرنی ہیں۔ اس پر حکومت نے ملک میں جگہ جگہ لاک ڈاؤن کر کے انسانوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے، جس پر روزگار کا فقدان کھل کر سامنے آگیا ہے۔ غریب طبقہ اس سے بہت متاثر ہوا ہے، جس نے دیہاڑی لگانی ہوتی ہے۔ یہ  موت کا موسم جس میں تمام انسان نما درندے موقع ملے تو ہمارے وجود سے کفن بھی نوچ نوچ کر پھاڑ دینگے اور بیچ ڈالیں گے، تمام حفاظتی اشیاء مہنگے داموں بیچ رہے ہیں۔ ان تاجروں کی مثال اسی بھوکے گدھ کی مانند ہے جو بھوکے پیٹ سے نہیں مرتا بلکہ بھرے پیٹ اور بھوکی نظروں کی وجہ سے مر جاتا ہے۔ مجھے تو ان لوگوں پر رحم آتا ہے جن سے بارگاہ اقدس میں سوال ہوگا۔ 
انسانوں کے حق میں کیسا رہا؟
حساب والا فرشتہ کہے گا اس کی وجہ سے لوگ مرے اس نے لالچ کیا۔ تو تمام الحاج ،المکہ اور المدینہ کے نام سے کاروبار کرنے والے ماتھے پر محراب سجائے داڑھیوں والے کس کروٹ کو بیٹھیں گے۔ یہ لوگ کس سے منہ چھپائیں گے جب ان کے ہاتھ پاؤں بول دیں گے ناانصافیاں اور نفس کی پرستش میں جو کام کر گزرے۔ اگر ایک شخص جس کی اتنی بساط نہیں کہ وہ سینٹائزر خریدے، مہنگے ماسک خریدے، اس کا وبائی مرض میں مبتلا ہونا اور تڑپ تڑپ کر مرنا میں کس کے ہاتھ پر دیکھوں؟
اس کی موت کا قصور وار کون ہے جس کی خالی جیبیں اسے اور اس کے خاندان والوں کو صاحب ثروت لوگوں کی مانند ڈھک نہ سکے۔ جو اپنے گھر مہنگے اسپرے نہ کروا سکے۔
یہ تمام تاجر جو دام بڑھا کر دکانیں کھول کر بیٹھے ہیں وہ کس کو منہ دکھائیں گے۔ خدا سے کیسے نظریں ملائیں گے؟ 
کس جانب کو گریز پا ہونگے؟ 
خاکم بدہن میں یہ نہیں کہتا وہ لوگ جنت کا پھول اور جہنم کا ایندھن بنیں گے، وہ فیصلہ خدا تعالیٰ کی ذات کا ہے، مگر میرا سوال ہے ان سے۔ میرے ملک کے ذمہ داران نے موت کا موسم بڑا سجا دیا ہے، اُس جہان میں وہ کیا جواب دیں گے؟ میں اپنی تحریر میں ان کا کیا جواب لکھوں؟
میں بےبسی سے خودکشی کرتے لوگوں کا قاتل کس کو لکھوں؟

No comments

Powered by Blogger.