Short story #01 | Talaq deti zubanein noch lo | Haadi khan

طلاق دیتی زبانیں نوچ لو
از قلم ہادی خان
میں جب پیدا ہوئی تھی تو مبارک باد ہر جانب دی گئی تھی مگر میٹھائیاں کم کم بانٹی گئیں۔میرے بھلے بخت کی دعائیں اماں نے اور خالہ نے مانگنی شروع کر دی تھیں۔بابا نے اپنی فیکٹری میں ۲ گھنٹے زائد کام لے لیا تھا۔اب وہ ۱۴ گھنٹے کام کرکے آمدنی بڑھانے کے عمل میں لگ پڑے۔اماں نے تب سے ہی جمع پونجی کرنا شروع کر دی تھی۔ میں نازوں پلی بڑی ہوئی اگرچہ میری خواہشات کچھ ادھوری رہ گئیں تھیں مگر بیشتر پوری ہو گئیں تھیں۔

بابا نے ایک ایک کر کے اپنی استعمال کی اشیاء میں دلچسپی کم کر دی اور اماں نے سبزی، سودہ سلف میں سے بچت کر کر کے دھیرے دھیرے گھر نیا سامان جمع کرنا شروع کر دیا ۔ بظاہر یہ ایک ایسا عجیب عمل تھا جو میں نے بہت آہستگی سے اپنی زندگی میں محسوس کیا تھا مگر سولہ برس کی ہوتے ہی نئی فریج گھر آئی. ماں نے اس دن سورہ بقرہ کا ختم کیا اور ہر بری بلا، ہر سائے سے اسے محفوظ کر دیا۔مجھے تجسس ہوا کرتا میں ان چیزوں کا استعمال کروں. ان شاپر, گتے میں لپٹی نئی اشیاء کو زرا سہولت کے لئے استعمال کر کے دیکھوں۔

مجھے اس فریج کو ابھی ہی کھولنا تھا۔ میں محلے والوں کے گھروں سے برف مانگ مانگ کر تھک چکی تھی مگر اماں اسے ہاتھ تک نہ لگانے دیتی تھیں۔من چاہے برے جملے اماں کی جانب بڑھا دیتی ۔کہ یہ اپنی دوسری شادی کو جمع کر رہی ہو کیا۔اماں جواب نی دیتی تھیں۔کچی بستی کی لڑکی نے اور کر بھی کیا لینا تھا۔

سرکاری کالج بابا کے ساتھ سویرے چلی جاتی اور واپسی پر سہیلیوں کے سنگ گلی کی نکڑ تک آ پہنچتی تھی۔میں کب اتنی بڑی ہو گئی کہ بابا کے ساتھ کام کرنے والے ایک نوجوان کا رشتہ میرے لئے آگیا۔ یہ پہلا جذبہ بہت مختلف و منفرد تھا۔جیسے میری سانسیں بھاری ہو گئیں ہوں، میرا جینا مہال ہو گیا تھا۔میں کمزور پڑنے لگی. مجھے اس احساس سے نمٹنے کو کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا تھا, میں پستی کا شکار ہو رہی تھی۔

یہ کیسی گراوٹ ہے کہ میں بتدریج برا محسوس کرنے لگی۔ایک آدھ بار تو یرق کر بستر سے لگ کر رہ گئی۔اماں نے سنبھال کر مجھے ایک سنہرا خواب دیکھایا. زندگی کے اس نئے دور کے بارے آگاہ کیا۔ میں مارے شرم اب اس سب کو سوچنے لگی۔میری تمام تر سوچوں کا مرکز اب صرف ایک شخص تھا۔بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں انگھوٹی پہنتے ہی میں کسی کے محبت کے حصار میں آگئی۔اب میری دسترس میں ایک محب آچکا تھا۔اس ایک انگوٹھی کا بوجھ اتنا تھا گویا میرا سارا جی اسی ایک انگلی میں پیوست ہو۔آہ یہ کس قسم کی بے چینی ہے۔

وہ تمام سامان, وہ ایک ایک اشیاء جو میری تمام عمر میں میرے سامنے گھر آئیں تھیں جن کو اماں مجھے ہاتھ تک نہ لگانے دیتی تھیں، ایک ہی دن میں اگلے گھر بھیج دیا گیا۔میں نے بابا کو دیکھا تھا, بابا نے کتنی توجہ دی تھی کہ یہ کونا بچا کر لے جاؤ, لگ نہیں جائے، یہ خراب نہ ہو، دیوار بچا کر جھلسا دینے والی گرمی میں بھی وہ کھڑے رہے ۔میں نے بابا کو شربت پلایا تو ایک نظر فقط تسکین کی میری جانب دیکھا اور زرا سا مسکرا دیئے۔اسی ایک لمحے کی فکر کو ۲۰ برسوں کا بوجھ شاید ان کے کندھوں پر رہا۔میں جانتی ہوں میں نے اپنے بابا کے ساتھ ۲۰ بہاریں دیکھیں تھیں پس چشم وہ اپنے جذبات پنہا کیے تھے۔یہاں یہی کہوں گی بیٹیاں رخصت کرنا بہت عمیق خسارہ ہے۔

سامان کے بعد اگلی باری میری تھی۔ میں کب رخصت ہو گئی، یہ ایک حسین خواب تھا۔نیا جوڑا, پہننے کو نئے چپل ،یہ زندگی بہت خوبصورت ہے میں نے شاید زندگی آج ہی دیکھی تھی۔یہ نیا دور کتنا حسین ہے۔میں تو وہ بیان نہیں کر سکتی, میری کیفیات کیا ہیں۔گھر جب لوٹ کر ماں بابا کو دیکھا وہ مجھے خوش دیکھ کر ہی خوش ہو گئے تھے۔

میں نے پیا سنگ بہت سے شب و روز گزار لیے. میں نے انھیں اچھے مزاج کا تو نہیں پایا مگر میں نے صبر کیا۔مجھے سے چائے لانے میں دیری ہو جاتی تو جھڑک دیتے۔فیکٹری کی کڑوی چائے کا نتیجہ تھا. سوچا پیار سے مٹ جائے گا یہ رویہ بھی۔ہنوز چند مہینے گزر گئے وہ ہنوز اکھڑے ہوئے رہنے لگے۔مجھ میں سانس سانس کے ساتھ اماں نے صبر بھرا تھا تو بس صبر، مزید صبر کیا۔ اب صبر برداشت کی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔برداشت کی, حتی المقدور ضبط بس برقرار رہ لیتا تھا. چاہتے ہوئے بھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میرے پاس یہی ایک انتخاب تھا۔ میں ایک دن ان کے آگے بول پڑی۔میں نے گالوں پر پہلی بار اتنے زور دار تمانچے کھائے. میری زندگی زیر و زبر ہو گئ۔وہ جنت نما گھر وہ میرا سائیباں, میرا محرم, میں کسی حور پری جیسی یہ سب خواب تھا تو گویا میں اب بیدار ہوئی. وہ حسین خواب ,میرا مان سب ٹوٹ گیا تھا۔

پھر میں وجہ, بے وجہ روز پٹتی، میرے بال پہلے نوچے جاتے تھے،مگر اس میں بھی بتدریج شدت آتی جا رہی تھی. اب جب وہ مارتا ہے تو میرے بال اکھاڑتا ہے۔پہلے وہ مارتا تھا اب مسلتا ہے۔ کسی کمزور کیڑے کی طرح میرا وجود ختم کرنے کے مقصد سے،جیسے میں اس کی آنکھوں کی چبھن بن گئی ہوں ۔میں نے واپسی کے راستے مٹا دیئے تھے۔ میں نے تمام کشتیاں جلا دی تھیں ۔ایک دن کسی اور خاتون کا ذکر کر کے اس نے طلاق کا لفظ استعمال کیا۔

مجھ پر تو پہلی صور کی مانند کہرام ٹوٹ گیا .من مچل گیا, بے چینی اور بے اختیاری نے مجھے آ گھیرا۔قیامت اور کیا ہوگی۔میں نے ایک لمحے تمام ادوار, بچپن , وہ تمام گتے میں لپٹا ہوا سامان کی آمد اور اس کو کھولنے کا تجسس، میرے لوگوں کی زندگیاں جس میں صرف ہو گئیں میں نے جھرجھری لی اور دوسرے لمحے میں نے اس کا منہ نوچ لیا ۔
اس رات میں نے اس سے مار کھا کھا کر جان دے دی ۔
میری تڑپتی روح یہ سوال کرتی ہے کس منہ سے طلاق دیتے ہو؟ تمہیں پتا ہے جہیز نے میرے باپ کی کمر توڑ دی ہے۔میں سب سہہ لوں گی مگر طلاق کا طوق گلو میرے حمائل نہ بنایا جائے۔میں عورت ہوں, عزت نفس چھوڑ دیتی ہوں مگر اس کا مطلب نہیں میں پھینک دینے پر راضی رہوں۔البتہ یہ حلال عمل ہے مگر طلاق لفظ کہنے والے ایک شخص کو کئی زندگیاں, لوگوں کی ضروریات ،جوانیاں روند دینے کا کوئی حق نہیں۔
طلاق کہتی ہر وہ زبان کھینچ لو, ہر اس فرد کا منہ نوچ لو ۔

No comments

Powered by Blogger.