Tehreer#08 | Bashar | HaaDi khan

بشر
ازقلم ہادی خان
بشر کے لیے اپنے درجے پر رہنا ہی عافیت ہے۔ جو کوئی اس مقام پر ثابت قدم رہے گا خیر پائے گا۔بشر کو ایک نمونہ بشر کامل سیدی رسول اللہﷺ کی صورت میں بنا کر بتا دیا ہے۔ یہ تمام انسانیت کے لیے عمل کرنے کے بہتر معلم ہیں۔
جس کا برملا اقرار ایک مغربی مصنف نے بھی کیا ہے۔
"دنیا کے بااثر افراد کی فہرست میں میری رہنمائی کے لئے محمد Muhammad کا انتخاب کچھ قارئین کو حیرت میں ڈال سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ دوسروں سے اس کی پوچھ گچھ ہو ، لیکن وہ تاریخ کے واحد آدمی تھے جو دینی اور سیکولر دونوں سطحوں پر مکمل طور پر کامیاب رہے۔"
مائیکل ایچ ہاوڈ کی کتاب دنیا کی سو بااثر شخصیات سے اقتباس۔
مائیکل نے بہت سے لوگوں کے اختلاف پر بھی اس بات کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کہ انسانوں میں ان سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس بات سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ عیسائی ہو کر بھی اس نے حضرت مسیح کو تیسرے اور محمدﷺ کو اول نمبر پر رکھا۔ ساتھ یہ بھی الفاظ ہیں "حضرت مسیح کے عیسائیت پھیلانے سے زیادہ اچھی طرح نبی کریم ﷺ نے اسلام پھیلایا ہے۔"
محمد ﷺ کی زندگی بشریت کی معراج ہے وہ کاملیت ہیں۔ سیدی رسول اللہﷺ بشریت میں یکتا ہیں۔ بشر ہونے سے مراد ہے انسان اپنی لچکدار حالت میں رہے نہ سخت بن کر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے اور نہ نفس کی پیروی میں نرم پڑ کر بشریت سے گر جائے۔
وہ تمام انسانیت کے عمل کرنے کیلئے بہترین معلوم ہوئے۔ روزِ محشر دیکھا جائے گا کس نے خود کو بشریت پر کتنا ثابت کیا۔اختیار ملا تو آیا کہ وہ خدا بن گیا یا رعایا کے دکھ کا مداوا کیا۔کسی کی سرپرستی میں جبر کیا یا شفقت برتی۔ جہاں کسی کا حق بنتا تھا وہ حق ادا کیا یا حق دندوں کی مانند حق مار لیا۔
بشریت کو سوفیصد رسالت مآبﷺ نے عمل کرکے بتا دیا ہے رحم کیا تو منافقین کے چہرے جانتے ہوئے بھی جانے دیا۔انصاف کی بات آئی تو اپنی لخت جگر فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں کتنی سخت مثال دی۔ محبت کرتے ہوئے یہ بھی خیال رکھا کہ کسی کو احساس محرومی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ بشر اگر جنت کا داخلہ مانگتا ہے تو اسے بشریت کی تعریف اہمیت اور مقاصد جاننا سمجھنا اور عمل کرنا ہونگے۔
بندہ ہونا تو اللہ کی بندگی ہے کسی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینا ہے۔ مگر ہم کس گراوٹ کا شکار ہیں کہ کم سن بچوں پر غصہ کرتے ہیں۔ صبر اتنا نہیں کہ بیٹا باپ کو مار رہا ہے باپ اولاد کو۔ زرا سی بات نہیں مگر جانیں لینا آسان ہو گیا ہے صبر مشکل ہو گیا ہے۔
دو باتیں سننا مشکل ہو گیا ہے گلا دبا دینا آسان ہو گیا ہے۔
شاید ،بلکہ حقیقتاً ہم بشریت سے گرتے جا رہے ہیں ہم سخت ہو گئے ہیں۔
ہمارے دلوں میں انا کے بت پل رہے ہیں ہم ایک بھی بت گرانا نہیں چاہتے۔
ہم سب اب ہارنا نہیں چاہتے۔

No comments

Powered by Blogger.