Afsana#10 | Pardadari | HaaDi khan

پردہ داری
از قلم ہادی خان

رباب اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔۔
وہ صرف چھ برس کی تھی جب کارگل کی جنگ میں اس کے والد کی شہادت ہو گئی اور اب اس کے مخلصین میں فقط اس کی والدہ رہ گئیں تھیں جو رباب کے ساتھ شوہر کی پینشن پر زندگی گزار رہی تھیں۔ رباب بن باپ کے پروان چڑھی تھی۔۔ بچپن ہی سے وہ کم گو اور اپنے آپ میں گم سم رہنے والی لڑکی تھی۔۔ جیسے دریا کی روانی کناروں کو کھا جاتی ہے ویسے ہی احساسِ کمتری نے اس کی خوشیوں کو چاٹ لیا تھا۔
رباب کی سب سے زیادہ اپنے ماموں سے بنتی تھی۔۔ وہ بھی اس سے بہت پیار کرتے تھے اور جب بھی آتے اس سے خوب لاڈ پیار کرتے۔ اس کی پسند تو مر چکی تھی مگر پھر بھی وہ کچھ نہ کچھ لے آتے، اور اس کے ساتھ کھیلتے۔۔ ان کے آنے سے رباب کا من لگا رہتا، وہ پل دو پل کو مسکراتی، خوش ہوتی۔۔ اداسی سے دھیان ہٹ جائے تو اداسی یکسر فراموش ہو جاتی ہے۔
موٹرسائیکل جیسی سواری کا رکھنا اور حادثات سے بھی بچے رہنا, انہونی سی بات ہے۔۔ ایک روز وہ اپنے گھر کے قریب کی دکان سے اپنی موٹر سائیکل پر گزر رہے تھے کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے انھیں پیچھے سے روند ڈالا۔ ان کا دماغ وہاں سڑک پر کھلا پڑا رہا اور ان کی روح پرواز کرچکی تھی۔ انھیں ہسپتال صرف موت کی تصدیق کروانے کے لیے لے جایا گیا تھا اور وہاں سے لواحقین کو فقط ایک ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تھما دیا گیا تھا۔
رباب پر اپنے ماموں کی موت کا گہرا اثر مرتب ہوا اور وہ جو چند لمحے بولا کرتی تھی اب اسے مستقل چپ لگ گئی۔۔۔ حالاتِ زندگی میں اس کی ایسی کوئی دوست بھی نہیں تھی جو اسے سمجھے، اس کی ڈھارس بندھائے۔۔۔ والد کی پینشن پر بمشکل ان دو لوگوں کا گزارہ ہو رہا تھا۔۔
وقت گزرتا گیا اور رباب نے بالغ ہو کر صنف نازک ہونے کی تمام علامات پالیں۔ اسے اپنی عصمت اور ایک لڑکی ہونے کے اقدار سے آشنائی ہو گئی تھی۔ اپنی ماں, اپنی تجنیس سے بھی وہ اتنی بے تکلف نہ تھی مگر کبھی گلو گیر ہو کر ماں جی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتی۔ یہ دور آگے نکل جانے کا تھا، معاشرے کے ترقی کرنے کے ساتھ بے حیائی نے بھی رفتار پکڑ لی۔۔
وہ دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی ہو گئی کہ اس پر ستر لازم ہو گیا۔ اب وہ عبایا اوڑھ کر چچا کے ساتھ جو ان کے ہم سایہ تھے گھر سے کوچنگ جاتی۔
جاڑے کے موسم کی آمد آمد تھی، موسم بدلنے کے ساتھ دل میں بہت سی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ یہ بدلتے موسم ساتھ اداسی لاتے ہیں، وہ ایک بار پھر سے باپ کے بچھڑ جانے کے سوگ میں مبتلا ہو گئی۔ اس کی طبیعت اداسی کا شکار ہونے لگی اور دل اضطراب کی جانب مائل ہونے لگا۔
رباب اپنی روٹین سے نہ ہٹی. وہ قریب ہی کوچنگ سینڑ میں پڑھتی تھی۔۔ راستے میں کئی برے بھلے لوگ آتے، کچھ کو وہ صرف شکل سے جانتی تھی اور کچھ کو تو بس نام سے مگر شکل سے نہیں۔۔
کوچنگ کو جاتے ہوئے اسے کسی قسم کی مشکل پیش نہ آتی کیونکہ کھلے بازار میں لوگوں کی آمد و رفت رہتی یا محلے کا کوئی فرد آتا جاتا رہتا۔۔
مگر موسم بدلنے کی رت میں آندھی آئی تب وہ کوچنگ سینٹر میں تھی۔ تمام بازار بگ ٹٹ میں لگ گیا اور تمام دکان دار دکانیں بند کرکے مینہ کا انتظار کرنے کے بجائے گھر کو ہو لیے۔ مگر اس شام اسے چچا لینے نہیں آئے تھے۔ وہ واپس اکیلے آ رہی تھی، راستے میں چند انجان لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ بارش کے بعد سخت سردی ہونے لگی تھی اور چاروں اور خنکی چھانے لگی۔ لوگ اندھیرا ہونے سے پہلے ہی بارش کی وجہ سے گھروں کا رُخ کر چکے تھے اور گلیاں کوچے خالی ہوچکے تھے۔ رباب لاشعوری طور پر ان لفنگوں سے سہم گئی اور اس کے ہاتھ سے رجسٹر گر گیا۔۔ اس نے جھک کر رجسٹر اٹھایا تو بلند قہقہوں کے ذریعے اس کی تذلیل کی جانے لگی۔۔ اسے یوں معلوم ہورہا تھا کہ وہ لوگ اپنی نظریوں سے اس کی قبا کو چیر پھاڑ رہے ہیں اور وہ برہنہ ہوتی جارہی ہے۔۔ لڑکے آوازیں کستے نظروں سے اس کے جسم میں شگاف کرتے جارہے ہیں۔۔ وہ روتے ہوئے آگے کو بھاگی۔۔ ایک لڑکے نے اس کے عبایے کو کھینچا تو وہ منہ کے بل گر گئی اور اس کے برقعے کے پھٹنے کی آواز چاروں اور بلند ہوئی، اس کا ہونٹ بھی پھٹ گیا تھا، ناجانے کوئی کنکر لگا تھا یا کانچ کا کوئی ٹکڑا۔۔۔ اب تین لڑکے سیاہ شام میں اس ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑے۔۔ بارش پھر سے شروع ہو گئی اور بادلوں نے گریہ و زاری کی رباب سراپا مہنامت ہوئی۔

٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭
امِ رباب جلدی سے پڑوس کے گھر میں داخل ہوئیں اور اپنی اکلوتی بہن ثریا خاتون کو پکارنے لگیں۔۔
''کیا ہوا ہے، سب خیریت ہے نا؟" ثریا نے انھیں ابتر حالت میں دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔۔
"وہ رباب ابھی تک گھر نہیں آئی. مجھے تشویش ہورہی ہے، رات ڈھل چکی ہے، بھائی صاحب کہاں ہیں وہ اسے لے کر نہیں آئے۔" امِ رباب بے ربط سانسیں لیتے ہوئے بولیں۔۔
"ابھی تو تمہارے بھائی بھی گھر نہیں ہیں اور حذیفہ بھی گھر سے باہر نکلا ہوا ہے۔" ثریا بیگم کا یہ کہنا تھا امِ رباب واپس پلٹیں اور باہر کو دوڑ پڑیں۔۔ وہ دیوانہ وار کوچنگ سے واپسی کی راہ کی جانب باقائدہ بھاگیں۔
وہ ابھی چند قدم ہی چلی تھیں کہ ان کو حذیفہ کانوں میں ہینڈز فری اڑیسے اپنی موج میں مگن نظر آیا، وہ اس کے پاس گئیں، حذیفہ نے خالہ کو دیکھا تو اس نے احتراماً ہینڈفری اتار دی۔
"ارے خالہ سعدیہ آپ اتنے اندھیرے میں کہاں کو چل دیں۔ مجھے بتائیں کیا لانے جا رہی ہیں؟" حذیفہ نے ان کی حالت دیکھ کر بولنا شروع کردیا۔۔
"رباب گھر نہیں آئی ابھی تک تم دیکھ آؤ بیٹا۔" کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے چلے گئے۔۔ اس ٹھنڈی بارش میں بھی ان کے آنسؤوں کی اپنی ہی روانی تھی۔ ان کے آنسو ہر بارش کے قطرے سے مختلف لگ رہے تھے۔ حذیفہ نے ان کو دلاسہ دے کر واپس بھیج دیا اور خود رباب کی تلاش میں نکل گیا۔ امِ رباب گھر سے خالی ہاتھ نکلیں تھیں بادل ناخواستہ امید لے کر ہی واپس لوٹیں۔

٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭
وہ چلتا ہوا اسی راستے پر گیا جہاں سے کبھی کبھار وہ رباب کو کوچنگ چھوڑنے جایا کرتا تھا۔۔ اسے ہر موڑ مڑتے یوں معلوم ہوتا جیسے اب رباب اس کے سامنے ہوگی، ابھی اس کا رباب سے سامنا ہوگا۔۔ مگر یہ فقط اس کا خیال تھا اس کا سامنا رباب سے نہ ہوا اور وہ چلتا ہی چلا گیا۔۔ اور کوچنگ سینٹر تک جا پہنچا۔۔ وہاں اتنا بڑا تالا آویزاں دیکھ کر اب اس نے اپنے ہینڈز فری اتار دیئے۔۔ حذیفہ نے دائیں بائیں دیکھا تو گلی سنسان تھی اور ہر جانب سکوت کا عالم تھا۔ بارش کی ٹپ ٹپ اور چھتوں سے گرتے پانی کے قطرے اپنی سی ایک آواز بنا رہے تھے۔ خلافِ معمول وہ راستہ بدل کر واپس چلتے ہوئے آیا۔۔
اندھیرے کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے کسی کی بےترتیب سانسیں لینے کی آواز آئی۔۔۔ کچرے کے ڈبے کے بالکل پیچھے ایک لڑکی سدھ بدھ سمیٹ کر بیٹھی تھی۔۔ ایک رجسٹر بھی مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکا تھا۔
"رباب کیا ہوا تم یہاں کیوں بیٹھی ہو۔۔" حذیفہ نے فوراً اسے پہچانتے ہوئے کہا۔
رباب کی حالت ابتر اور بیزار تھی۔۔۔
رباب نے روتے روتے اسے سب کچھ بتادیا تھا۔۔
اب وہ اس کے کپڑے جھاڑ رہا تھا۔۔۔
رباب بچوں کی طرح کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔۔ وہ بےحس و ساکن تھی۔۔
رباب نے بغور حذیفہ کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو دیکھے۔۔ وہ دانستہ اپنے آنسو چھپا رہا تھا۔۔ حذیفہ کے آنسوؤں نے رباب کی بہت ڈھارس بندھائی۔ اپنی خاموش زندگی میں کسی مرد کو اس نے پہلی بار عورت کے لئے روتے دیکھا تھا تو وہ کیوں نہ حیران ہوتی۔۔حذیفہ نے اس کو اپنے آنسو صاف کرنے کا کہا اور اب وہ قدرے بہتر طریقے سے چل رہی تھی۔ گھر پر سب لوگ جمع ہو چکے تھے۔۔۔
"کہاں رہ گئی تھی۔۔۔" امِ رباب نے آگے بڑھ کر پوچھا۔۔
"خالہ کتے پیچھے لگ گئے تھے، اس کا عبایا بھی سارا پھاڑ ڈالا، شاید کاٹ بھی لیا۔ ابھی آرام کرے کل میں ہسپتال دکھا آتا ہوں۔۔" حذیفہ آگے بڑھ کر بولا۔۔۔
"یا اللہ مجھے پتہ نہیں کیسے کیسے خیالات آرہے تھے۔۔۔" امِ رباب نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔
"اللہ تیرا بھلا کرے بیٹا۔" دعاؤں کی آواز مدہم ہوتی گئی یا رباب کی قوت سماعت کم پڑگئی, وہ نہیں جانتی تھی۔
اس کی عصمت ملفوف رکھی گئی۔ کسی مرد نے اتنے بھروسے سے اس کی گواہی دی تھی، رباب حیران تھی۔۔۔

٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭
اگلے روز رباب اور حذیفہ ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہہ کر گئے۔
وہ ایک ہسپتال گئے جہاں حذیفہ کا کالج کے زمانے کا دوست لبارٹری میں کام کرتا تھا۔ اس سے مل کر اسے تمام واقعہ بتایا۔۔
"کوئی بات نہیں یار سب اچھا ہو گا۔" ہارون نے کچھ بھاگ دوڑ کی اور رباب کے کچھ ٹیسٹ کروائے۔
اپنے بھروسے والے ڈاکٹر سے بات کی اور دوا لکھوا لی، اسی ہسپتال کی فارمیسی سے دوائیں لے کر حدیفہ کے سامنے لا رکھیں۔
پھر دونوں دوستوں میں کافی دیر پیسے لینے دینے پر بحث ہوئی۔
ہارون پیسے لینے سے انکاری تھا۔ آدھی رقم لینے پر وہ راضی ہوا اور پھر ادائیگی کے بعد وہ وہاں سے چل دیئے۔
وہ دونوں ایک پارک میں کچھ دیر بیٹھ گئے۔
"آپ نے گھر پر جھوٹ کیوں بولا؟ آپ کو تو سارا معاملہ معلوم ہے۔۔" رباب نے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔۔
حذیفہ جو کہ چشم پوشی کرنا چاہ رہا تھا مگر اب اسے جواب دینا تھا۔
"پتا نہیں ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ غلطی عورت کی ہوتی بھی نہیں پھر بھی اسی پر تھوپی جاتی ہے۔۔ اس سچ کو ظاہر کرنے پر تم پر بات آتی۔ کیا سزا کے مستحقین کو کوئی پوچھتا؟نہیں، بلکہ تہمت تم پر ہی لگتی۔ میں اس سچ کے بوجھ کے ساتھ نہیں جی سکتا جو تہمت پر مبنی ہو۔۔ روزِ قیامت یہ وزن میری کمر توڑ دے گا۔۔ "
"اگر کل کو کسی پر یہ بات آشکار ہو گئی تو تب میری گواہی کس نے دینی ہے؟ پھر مجھ پر جھوٹی ہونے کا الزام بھی لگ جائے گا۔۔" رباب نے نم آنکھوں سے جھکی گردن کے ساتھ کہا۔
"اللہ خیر کرے گا۔۔۔" حذیفہ نے آخری بات یہی کہی پھر دونوں کے درمیان خاموشی پھیل گئی۔

٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭
چار مہینوں بعد جب دوبارہ حذیفہ نے رباب کا چیک اپ کروایا تو رپورٹ میں سب کلیئر آیا۔ اُس سیاہ رات کو فقط ایک سانحہ سمجھ کر دونوں نے بھلا دیا تھا۔
حذیفہ نے رباب کے لیے اپنی پسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے اپنی ماں سے کہہ کر اس کے گھر رشتہ بجھوا دیا تھا۔۔ چونکہ لڑکی لڑکا دیکھے بھالے ہوئے تھے تو دونوں بہنوں نے اس رشتے پر رضامندی ظاہر کردی تھی۔ رشتے کی حامی بھرنے کے بعد اب اسے کسی قابل بننا تھا جس کے لئے وہ بیرونِ ملک چلا گیا۔۔ وہ وقتاً فوقتاً پاکستان فون کرتا رہتا تھا۔۔۔ بادل ناخواستہ وہ بےچین ہونے لگا تھا۔ اس کا کام میں دل لگاتے نہ لگتا۔۔۔ حذیفہ نے آنے سے پہلے تو اسے سب سمجھا دیا تھا کہ وہ اس رات کا ذکر اب حذیفہ سمیت کسی سے بھی نہ کرے مگر اسے خوف تھا کہ وہ واقعہ دوبارہ کبھی سامنے نہ آجائے۔۔۔ اسی وجہ سے ایک سال کے بعد وہ چھٹی لے کر آگیا اور نکاح کے لئے جلد بازی کر دی۔۔۔ سب نے خوشی سے اس کی خواہش کی قدر کی اور بسر و چشم اسے قبول کیا۔۔ حذیفہ نے شادی کے چند دنوں بعد ہی وطنِ عزیز میں اپنا کام ڈھونڈنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ اسے قلیل سی تنخواہ پر کام مل گیا تھا لیکن اب وہ اپنے گھروالوں کی نظروں کے سامنے تھا اور خوش باش اور آباد نظر آرہا تھا۔۔ سب اس شادی شدہ نئے جوڑے کو دعائیں دیتے، ان کے صدقے واری جاتے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭

فجر کی اذان سے رباب کی نیند کچی ہوچکی تھی۔۔ اس نے اپنا ہاتھ بدستور بیڈ پر تھپتھایا. وہ غائب دماغی سے کچھ تلاش رہی تھی۔۔ وہ اپنے حواس میں اس طرح لوٹی کہ جیسے ۴۴۰ وولٹ کا جھٹکا اسے چھوگیا ہو۔۔۔ وہ ماؤف دماغ کے ساتھ کچھ سوچنے کو کوشاں تھی مگر اس کے کوڑھ مغز میں کچھ بات آنے کو تیار نہ تھی۔۔۔ اس نے دوبارہ ساتھ دیکھا مگر وہاں کوئی موجود نہ تھا۔۔
اس نے استعجاب سے اٹھ کر یہاں وہاں دیکھا مگر کسی ذی روح کی موجودگی کا کوئی آثار اس کی بینائی سے نہ ٹکرایا۔۔۔ وہ واپس پلٹی اور بیت الخلا میں چلی گئی۔۔۔ چند گھڑی کی ٹک ٹک کے بعد وہ تربتر چہرہ اور بازو لیے باہر نکلی اور اب اپنی آستیں نیچے کر رہی تھی۔۔۔ مسہری کے ساتھ رکھی بک ریک کے سب سے اوپر والی تہہ پر جائے نماز سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔۔۔ اپنی آستین کو درست کرکے اس نے دوپٹے سے باقائدہ اپنا ستر ڈھانپا اور قبلہ رُخ کرکے جائے نماز بچھا دی۔۔۔
رباب کے ابروں میں پانی کی نمناکی یکسر موجود تھی۔۔۔ نیت کی خامشی اور پھر یکسوئی سے نماز میں توجہ دینے پر بھی اسے اپنے ماضی کے ادوار کی جھلک نظر آئی۔۔۔ وہ عموماً اس سب کو سوچ کر پریشان حال ہو جایا کرتی تھی۔۔ اس کا قد بڑھ چکا تھا مگر سوچ کی بڑھتی ٹہنیوں کو کسی نے کاٹ دیا تھا۔۔۔ وہ آج بھی سہم جاتی تھی، لرز جاتی تھی۔۔۔ طوق گلو بنے اُگلی نہ نِگلی جانے والی تفسیدگی کو بنا اجازت کے اپنے جسم کا ایک اضافی سا حصہ بلکہ بوجھ بنا کر وہ جیون کے لیل و نہار گزار رہی تھی۔۔۔ یہ طوق اس کے گلے کو اس قدر بوجھل کر دیتا  کہ اسے سانس لے کر چلنا دشوار ہو جاتا۔۔۔ نماز میں کھڑے کھڑے رباب کے آنسو تخت سے نیچے لڑھک گئے تھے۔۔۔ اسے صبر اور برداشت کے باہمی تعلق میں ابھی تک فرق کرنا نہ آیا تھا۔۔۔ حکم صبر کا ہے مگر رباب نے برداشت کی تمام حدوں اور سرحدوں کو عبور کرنے کے بعد بھی ضبط کیا تھا۔۔۔ خیالوں کو جھٹک کر رباب نے نماز کو ادا کیا۔۔۔ جائے نماز پر بیٹھی بیٹھی, وہ دعا مانگنے سجدہ میں جاچکی تھی۔۔۔ وہ سرخم کرکے اپنے لئے کچھ طلب کرتی۔۔۔
ناجانے وہ کب سجدہ میں سر رکھے رکھے ہی سو گئی۔۔
"الحمدللہ۔۔۔" وہ سرگوشی تھی جو کسی نے رباب کے کان میں پھونکی تھی۔۔۔ حذیفہ آچکا تھا۔۔ اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لئے وہ یہ ظاہر کررہی تھی کہ وہ سوئی نہیں بلکہ سجدہ شکر ادا کر رہی تھی۔۔
حذیفہ نے اس کے عقب میں دوزانو بیٹھ کر اسکے دعا مکمل کرنے کا انتظار کیا۔۔۔ لمحے بھر کی تاخیر کے بعد وہ مڑی۔۔۔
"چلیں آئیں۔۔" رباب نے جائے نماز چھوڑ دی تھی۔۔۔
اٹھ کر  ایک اور جائے نماز اسی کے برابر میں بچھادی۔۔
اب جس جائے نماز پر رباب نے فرائض ادا کیئے تھے وہاں حذیفہ اور اس کے پیچھے رباب کھڑی ہو گئی۔۔
دونوں نے سنت نمازوں کی تکبیر کو ہاتھ اٹھائے اور نماز کو مکمل کیا۔۔۔
حذیفہ نے نماز پہلے پڑھ لی اور سلام پھیر کر بیٹھ گیا۔۔
اس کی نسبت رباب کی نماز میں یکسوئی اور آہستگی کا عنصر شامل تھا۔۔
رباب کی نماز کے مکمل ہونے کے بعد حذیفہ نے رباب کے ہاتھوں کو پکڑ کر ان پر تسبیح کرنا شروع کر دیا۔ رباب یہ منظر دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگی۔۔۔۔
"آپ اپنے حصے کی روشنی مجھے کیوں دے رہے ہیں۔۔" جب بی بی پاک کی تسبیح مکمل پڑھ لی گئی تو رباب نے الفت بھرے لہجے میں سوال کیا۔۔۔
"میری مرضی بھئی۔۔" حذیفہ نے بچوں جیسا لہجہ اپنایا۔۔
"مگر ایسا کیوں۔۔" رباب بات کو طوالت دینا چاہتی تھی۔۔
"میرے کچھ عمل آپ کے ساتھ آپ کا حق ہیں, جیسے نمازِ فرض جماعت کے ساتھ مسجد میں اور سنت, گھر میں آپ کے ہمراہ۔۔ تسبیج آپ کی انگلیوں پر اس لیے پڑھتا ہوں کہ قیامت کے دن مجھے میری تسبیج یعنی آپ ظلمت کے مقابلے میں ملو گی۔۔" حذیفہ نے آج ناچاہتے ہوئے بھی اپنا راز کھول دیا تھا۔۔
"ہاہاہاہاہاہاہا افففف آپ کی باتیں کسی ننھے منے بچے جیسی ہیں۔۔" رباب کو اس کے جواب پر رشک آیا۔۔
"بس دیکھ لیجئے آپ کے حصے میں آنے تھے ہم اور ہمارے جوابات۔۔" حذیفہ نے اسے پھر سے لاجواب کر دیا۔۔
"پر مجھے میرے ماضی سے تو آپ نے نکالا، مجھے یہاں بھی آپ  کی ضرورت ہے اور بعد کے لئے بھی۔۔" از سرنو وہ پھر سے اسی جانب کو چل پڑی جہاں سے اسے حذیفہ نکال لایا تھا۔۔
"پرانی باتیں ہیں اور ویسے بھی اس کا حساب اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں رباب۔۔" حذیفہ پہلے کی نسبت اب تھوڑا مردانہ قوت سے گویا ہوا۔۔
"مگر پھر بھی۔۔۔" رباب نے بات کو بڑھانا چاہا وہ اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔
"اچھا چلیں اب اس بات کو نہ سوچیں۔۔۔" حذیفہ نے پھر بات کو ٹال دیا۔۔۔
رباب نے اپنا سر حذیفہ کے کاندھے پر رکھ لیا۔۔
"مجھے نہیں بھولتا وہ وقت جب میں ناسمجھ تھی، میرے ساتھ ان لڑکوں نے۔۔ ہاں میں سرخیوں میں نہیں آئی کیونکہ مجھے مار کر پھینکا نہ گیا، وگرنہ میرے نام کے بھی لوگ بینر لگاتے، احتجاج کرتے۔۔ میرے نام پر احتجاج ہوتے، لوگ سڑکیں بلاک کرتے۔" رباب اکثر ایسے ہی پرانی باتوں کے دھاگے ادھیڑ کر دوبارہ ان کو سینے سے لگاتی تھی۔۔
"آپ کو میری نظر میں عزت چاہئے تھی. وہ تو مل گئی نا، دنیا کی فکر نہ کریں اور نہ ہی ماضی میں الجھی رہیں۔۔ دعا کیا کریں کہ اللہ کسی کی بچی کے ساتھ ایسا نہ ہونے دے۔۔ ان لوگوں کو عبرت کا نشانہ بنا دے۔۔" حدیفہ نے رباب کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا۔
اس کے بعد رباب کچھ کہنے لگی تھی کہ حذیفہ نے سورۃ رحمٰن کی زبانی تلاوت شروع کردی۔ وہ پچھلے ۲ سال سے اسے ہر روز نہ سہی مگر ہر تیسرے چوتھے دن سورۃ الرحمٰن ضرور سناتا تھا۔۔
تلاوت سننے کے بعد اس کے دل میں تمام شکوے، شکایات اور شعبے دم لینے سے پہلے مر جاتے تھے۔۔ حذیفہ نے سکھ کا سانس لیا۔
وہ دوبارہ سے کھل اٹھتی تھی، اسے نئے پن کا احساس ہوتا تھا۔ رباب کو سورۃ رحمٰن کے مکمل ہونے تک دنیا کی سب سے زیادہ خوش نصیب عورت ہونے کا سکھ ملنے لگتا تھا۔۔
خدا تعالیٰ کا قانون عمل میں آیا۔۔
"بےشک نیک مردوں کے لئے نیک عورتیں اور بدکار مردوں کے لئے بدکار عوتیں ہیں۔۔"
٭٭٭

No comments

Powered by Blogger.