Column#13 | Zar ky Pujari | HaaDi Khan
زرکےپجاری
ہادی خان
دنیا کی تاریخ پر نظریں دوڑائیں، تمام مورخوں کی کتابیں چھان ماریں، تو بہت سی جہتیں (Dimentions) چھن کر سامنے آتی ہیں۔ کچھ سفید تو کچھ سیاہ، ایک جانب کامیابی آکر زر کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے سیاہ پہلو کی مثال میں نمرود و فرعون جیسے کردار سامنے آتے ہیں، جن کے نزدیک بلند عہدہ اور کثیر تعدادِ زر ہی کامیابی مانی جاتی تھی۔ کچھ بادشاہ و سلطان بھی تاریخ کے اوراق پر سفید و سیاہ قسم کے ہیں، کسی کے لئے تخت سب کچھ تھا اور کافیوں نے خون ریزی کو روکنے کے لئے تخت سے برطرفی کا اعلان کیا۔ اقتدار کی ہوس کو کامیابی جاننے والوں نے اپنی کامیابی کی خاطر اپنے بھائی، چچا اور قریبی تمام رشتہ داروں اور تخت کے متوقع امیدواروں کو قتل کروایا۔ ایسی کامیابیوں کے لئے ایک روح دوسری روح کی موجودگی کو قطعاً برداشت نہیں کرسکتی۔ اپنی کامیابی میں کسی تیسرے فریق کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ تب انسان کو گمان ہوتا ہے اتنی ساری روحیں اس کائنات میں جمع ہیں، پھر بھی یہ خدا تعالیٰ ہے جس نے تمام کو تھاما ہوا ہے۔ وگرنہ اس سب میں کب کا بگاڑ آچکا ہوتا۔
مثال کے طور پر نمرود اور فرعون ایسی مثالیں ہیں جو اپنے اور اپنی کامیابی کے مابین خدا تعالیٰ کو سمجھتے تھے۔ خدا تعالیٰ کا تو بندے سے ساری انائیں، ساری ضدیں اپنے سامنے ڈھیر کرنے کا مطالبہ ہے۔ دنیا کی تمام کامیابیوں کا حصول کرکے اس پر فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے بسر و چشم اپنی بندگی کو بروئے کار لائے۔ خدا تعالیٰ بندے کے پاس دنیاوی مال کے پہاڑ ہونے پر بھی اُسے اپنے ایک معمولی بندے کی حیثیت سے جانتا ہے، وہ امیر غریب سب کا یکسر موازنہ مٹا کر سب کو ایک جیسا تولتا ہے۔ پس جن لوگوں نے اس دنیاوی حکمرانی میں بادلوں کی طرف منہ کیا اور چاہ کی اب وہ سب سے بلند ہوگئے ہیں، اب ان کے مقام پر اس ارض و سما پر کوئی موجود نہیں، تو وہ اب اپنی عبادت کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔ وہ بھلا بیٹھتے ہیں کہ اگر خدا یہ جاہ و منصب دے سکتا ہے تو واپس لینے پر بھی قدرت رکھتا ہے، اگرچہ دنیا کو، اس نظامِ شمسی کو، رات دن کو وہ ذات چلا رہی ہے جو حیی القیوم ہے، وہ ہمیشہ سے باقی رہنے والی ذات ہے۔ نہ اسے محتاجی ہے کسی سانس کی، نہ کسی نفس کی۔۔ یہ حرص عصرِ حاظر میں راہب (Athiest) کی ایک جماعت کی شکل اختیار کر گئے ہیں جو ایسے عقیدے کی پیروکار ہیں۔۔ اگر ایک جہت سے دیکھا جائے یہ فرعونیت اور نمرودیت کی ہی باقیات ہیں، جن کا خدا کے بارے میں وہی گمان ہے جو قرون اولیٰ میں ملحدوں کا تھا۔ یہ جدت کی چادر اوڑھ کر جماعت بنا کر آگئے ہیں چند ایک اوٹ پٹانگ نظریات لے کر۔۔ یہ مذاہب اور خدا کے انکار پر بے سر و پا نظریوں کے جھنڈے لئے دنیا میں واویلا کرتے ہیں۔
فرعونیت اور نمرودیت اپنے اور کامیابی کے درمیان سے خدا تعالیٰ کو نکال دیتے ہیں، اور شیطان کی پرستش کرنے لگ جاتے ہیں۔ وہ اس سے واقعی کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، کیونکہ جب سب دہریے بن جائیں، حلال و حرام سب جائز ہو جائے تو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے، مگر سکون نہیں۔
یہ تاریخ کے سیاہ کردار ہیں۔ مختصراً ان کے لئے کامیابی زر کی وافر مقدار، بڑے عہدے پر فائز ہونا اور بادشاہی حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب انقلابِ عرب ہے۔ یہ انقلاب محمد عربیﷺ کی بدولت آیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہر ہر فرد بسر و چشم تسلیم کرتا ہے، ماسوائے آٹے میں نمک برابر لوگوں کے ایک گروہ کے۔ مائیکل ہرڈز نے اپنی کتاب (The 100) میں رسالت مآب ﷺ کو سو میں سے اول نمبر پر رکھ کر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات انسانی عقل کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ایک عیسائی جو مسیحیت کا ماننے والا ہے، وہ کیوں کر محمد عربیﷺ کو اول نمبر پر رکھے گا۔ اس نے اپنی کتاب میں اس بات کا برملا اقرار کیا ہے کہ مجھ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ میں نے محمد کو اول نمبر پر کیوں رکھا، تو اس نے جواب دیا کہ بھلا جو کہا جائے محمد ﷺ دینی اور دنیاوی طور پر سب سے زیادہ کامیاب ترین انسان تھے تو یہ درست ہے۔
یہ منصفانہ عدل، سچائی اور بہادری سے حاصل کردہ کامیابی کا نتیجہ ہے کہ غیر مذہب اپنے ہم مذہبوں کو اس بات کی تعلیم فرما رہے ہیں کہ کامیابی سیکھنی ہے تو ان سے سیکھو۔
آقاﷺ نے سچے لوگ جمع کئے، عدل کا بول بالا کیا، حق پرستوں کی جماعت تیار کی دنیاِ تاریخ کو ۲۳ برس تبلیغ کی سیرت سے فیض یاب کیا اور ایک زبردست جماعت بنائی۔ جس نے اٹھ کر وقت کے طاقت ور ترین سلاطینِ وقت کو دھول چٹوا دی۔ آج بھی یہ جماعت جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جو بکھری پڑی امت ہے، اگر وہ رسالتِ مآب ﷺ کے اصولوں کی روح سے دوبارہ جیئں، اپنے بچوں کو اُن کے اصول بتائیں، ایمان پر ثابت قدم رہیں، تو دنیا اِن کی دسترس میں آجائے گی۔
بقول اقبال۔۔۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اس شعر میں مختصر اصول بتا دیئے حضرت اقبال ؒ نے۔
انسان کی اپنی ترجیحات ہیں، وہ کس چیز کو کامیابی جانتا ہے۔ یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ اصولی زندگی گزار کر مثال بنے یا پھر تاریخ کے سیاہ اوراق پر اس کا نام برے الفاظ میں لکھا جائے۔
میں نے چند ایک خبریں دیکھیں، کچھ قریبی احباب سے دریافت کیا، پوچھا تو معلوم ہوا وبا کے متاثرین اگر اس مرض سے ٹھیک ہو جائیں، تو باقی مریضوں کے لئے ان کا خون آبِ خضر کی مثل ہو جاتا ہے۔ ان کا پلازما یعنی اس مرض سے جیتنے والے اپنا خون کسی کو دیں تو کورونا میں مبتلا شخص جلدی صحت یاب ہو جاتا ہے۔ پھر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ اب لوگ پلازما بیچ رہے ہیں، کوئی ۱۰ لاکھ کا اور کوئی پانچ لاکھ کا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی کامیابی زر کی ہے۔ اب زندگی موت کا سودا پیسوں پر ہونے لگا ہے۔ جس نے زیادہ بولی لگادی وہ اپنے عزیز کو شفا پہنچا سکے گا، وگرنہ وہ بھلے سے تڑپ جائے مرجائے۔بطورِ مسلمان یہ میں جو آج دیکھ رہا ہوں یہ تاریخ کے کن لوگوں کی روایات ہیں؟ یہ زر کی حرص و ہوس کن اوصاف کے لوگوں کی روایت ہے؟ جس رب نے انسان کو اس وبائی مرض میں مبتلا کیا اور آزمائش لی، پھر صحت کی دولت دی کہ اب میرا بندہ میرا شکر کرے گا اور میرے بندوں کے کام آئے گا، وہ موت کے قریب جاکر بھی خوف نہ کھا سکا اور دنیاوی ثروت کی طمع دل میں پالنے لگا۔ کیا اپنے اجزاء کو بیچنا خدا تعالیٰ سے بغاوت نہیں؟ اس عمل سے کمائے گئے پیسے کب تلک پیٹ بھر سکیں گے؟ کیا یہ ختم نہیں ہونگے؟ اور کیا یہ مال جلا جلا کر پیٹھ پر نہیں لگایا جائے گا؟ ایسے لوگوں کو میں آقاﷺ کی سیرت اور اصول نہیں یاد کرواتا، اگر وہ کلمہ گوہ مسلمان ہیں تو وہ ایک موم بتی پر چند ساعت کو ہاتھ رکھ کر دیکھیں یہ قابلِ برداشت ہے یا نہیں؟
پھر اس آگ کو ۷۰ گنا زیادہ مشکل جانیں اور بہت سارے عرصے کے لیے سر تا پا جسم اس آگ میں خود کو جلتا محسوس کریں۔
کیا محسوسات ہیں؟
ہمیں یہ دنیاوی زر اور خوہشات لے ڈوبیں گی، میں اب بھی کہتا ہوں چند لاکھ روپوں کے عوض ساری عمر کے لیے آگ نہ خریدیں، یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا۔
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
(علامہ اقبال)
ہادی خان
دنیا کی تاریخ پر نظریں دوڑائیں، تمام مورخوں کی کتابیں چھان ماریں، تو بہت سی جہتیں (Dimentions) چھن کر سامنے آتی ہیں۔ کچھ سفید تو کچھ سیاہ، ایک جانب کامیابی آکر زر کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے سیاہ پہلو کی مثال میں نمرود و فرعون جیسے کردار سامنے آتے ہیں، جن کے نزدیک بلند عہدہ اور کثیر تعدادِ زر ہی کامیابی مانی جاتی تھی۔ کچھ بادشاہ و سلطان بھی تاریخ کے اوراق پر سفید و سیاہ قسم کے ہیں، کسی کے لئے تخت سب کچھ تھا اور کافیوں نے خون ریزی کو روکنے کے لئے تخت سے برطرفی کا اعلان کیا۔ اقتدار کی ہوس کو کامیابی جاننے والوں نے اپنی کامیابی کی خاطر اپنے بھائی، چچا اور قریبی تمام رشتہ داروں اور تخت کے متوقع امیدواروں کو قتل کروایا۔ ایسی کامیابیوں کے لئے ایک روح دوسری روح کی موجودگی کو قطعاً برداشت نہیں کرسکتی۔ اپنی کامیابی میں کسی تیسرے فریق کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ تب انسان کو گمان ہوتا ہے اتنی ساری روحیں اس کائنات میں جمع ہیں، پھر بھی یہ خدا تعالیٰ ہے جس نے تمام کو تھاما ہوا ہے۔ وگرنہ اس سب میں کب کا بگاڑ آچکا ہوتا۔
مثال کے طور پر نمرود اور فرعون ایسی مثالیں ہیں جو اپنے اور اپنی کامیابی کے مابین خدا تعالیٰ کو سمجھتے تھے۔ خدا تعالیٰ کا تو بندے سے ساری انائیں، ساری ضدیں اپنے سامنے ڈھیر کرنے کا مطالبہ ہے۔ دنیا کی تمام کامیابیوں کا حصول کرکے اس پر فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے بسر و چشم اپنی بندگی کو بروئے کار لائے۔ خدا تعالیٰ بندے کے پاس دنیاوی مال کے پہاڑ ہونے پر بھی اُسے اپنے ایک معمولی بندے کی حیثیت سے جانتا ہے، وہ امیر غریب سب کا یکسر موازنہ مٹا کر سب کو ایک جیسا تولتا ہے۔ پس جن لوگوں نے اس دنیاوی حکمرانی میں بادلوں کی طرف منہ کیا اور چاہ کی اب وہ سب سے بلند ہوگئے ہیں، اب ان کے مقام پر اس ارض و سما پر کوئی موجود نہیں، تو وہ اب اپنی عبادت کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔ وہ بھلا بیٹھتے ہیں کہ اگر خدا یہ جاہ و منصب دے سکتا ہے تو واپس لینے پر بھی قدرت رکھتا ہے، اگرچہ دنیا کو، اس نظامِ شمسی کو، رات دن کو وہ ذات چلا رہی ہے جو حیی القیوم ہے، وہ ہمیشہ سے باقی رہنے والی ذات ہے۔ نہ اسے محتاجی ہے کسی سانس کی، نہ کسی نفس کی۔۔ یہ حرص عصرِ حاظر میں راہب (Athiest) کی ایک جماعت کی شکل اختیار کر گئے ہیں جو ایسے عقیدے کی پیروکار ہیں۔۔ اگر ایک جہت سے دیکھا جائے یہ فرعونیت اور نمرودیت کی ہی باقیات ہیں، جن کا خدا کے بارے میں وہی گمان ہے جو قرون اولیٰ میں ملحدوں کا تھا۔ یہ جدت کی چادر اوڑھ کر جماعت بنا کر آگئے ہیں چند ایک اوٹ پٹانگ نظریات لے کر۔۔ یہ مذاہب اور خدا کے انکار پر بے سر و پا نظریوں کے جھنڈے لئے دنیا میں واویلا کرتے ہیں۔
فرعونیت اور نمرودیت اپنے اور کامیابی کے درمیان سے خدا تعالیٰ کو نکال دیتے ہیں، اور شیطان کی پرستش کرنے لگ جاتے ہیں۔ وہ اس سے واقعی کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، کیونکہ جب سب دہریے بن جائیں، حلال و حرام سب جائز ہو جائے تو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے، مگر سکون نہیں۔
یہ تاریخ کے سیاہ کردار ہیں۔ مختصراً ان کے لئے کامیابی زر کی وافر مقدار، بڑے عہدے پر فائز ہونا اور بادشاہی حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب انقلابِ عرب ہے۔ یہ انقلاب محمد عربیﷺ کی بدولت آیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہر ہر فرد بسر و چشم تسلیم کرتا ہے، ماسوائے آٹے میں نمک برابر لوگوں کے ایک گروہ کے۔ مائیکل ہرڈز نے اپنی کتاب (The 100) میں رسالت مآب ﷺ کو سو میں سے اول نمبر پر رکھ کر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات انسانی عقل کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ایک عیسائی جو مسیحیت کا ماننے والا ہے، وہ کیوں کر محمد عربیﷺ کو اول نمبر پر رکھے گا۔ اس نے اپنی کتاب میں اس بات کا برملا اقرار کیا ہے کہ مجھ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ میں نے محمد کو اول نمبر پر کیوں رکھا، تو اس نے جواب دیا کہ بھلا جو کہا جائے محمد ﷺ دینی اور دنیاوی طور پر سب سے زیادہ کامیاب ترین انسان تھے تو یہ درست ہے۔
یہ منصفانہ عدل، سچائی اور بہادری سے حاصل کردہ کامیابی کا نتیجہ ہے کہ غیر مذہب اپنے ہم مذہبوں کو اس بات کی تعلیم فرما رہے ہیں کہ کامیابی سیکھنی ہے تو ان سے سیکھو۔
آقاﷺ نے سچے لوگ جمع کئے، عدل کا بول بالا کیا، حق پرستوں کی جماعت تیار کی دنیاِ تاریخ کو ۲۳ برس تبلیغ کی سیرت سے فیض یاب کیا اور ایک زبردست جماعت بنائی۔ جس نے اٹھ کر وقت کے طاقت ور ترین سلاطینِ وقت کو دھول چٹوا دی۔ آج بھی یہ جماعت جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جو بکھری پڑی امت ہے، اگر وہ رسالتِ مآب ﷺ کے اصولوں کی روح سے دوبارہ جیئں، اپنے بچوں کو اُن کے اصول بتائیں، ایمان پر ثابت قدم رہیں، تو دنیا اِن کی دسترس میں آجائے گی۔
بقول اقبال۔۔۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اس شعر میں مختصر اصول بتا دیئے حضرت اقبال ؒ نے۔
انسان کی اپنی ترجیحات ہیں، وہ کس چیز کو کامیابی جانتا ہے۔ یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ اصولی زندگی گزار کر مثال بنے یا پھر تاریخ کے سیاہ اوراق پر اس کا نام برے الفاظ میں لکھا جائے۔
میں نے چند ایک خبریں دیکھیں، کچھ قریبی احباب سے دریافت کیا، پوچھا تو معلوم ہوا وبا کے متاثرین اگر اس مرض سے ٹھیک ہو جائیں، تو باقی مریضوں کے لئے ان کا خون آبِ خضر کی مثل ہو جاتا ہے۔ ان کا پلازما یعنی اس مرض سے جیتنے والے اپنا خون کسی کو دیں تو کورونا میں مبتلا شخص جلدی صحت یاب ہو جاتا ہے۔ پھر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ اب لوگ پلازما بیچ رہے ہیں، کوئی ۱۰ لاکھ کا اور کوئی پانچ لاکھ کا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی کامیابی زر کی ہے۔ اب زندگی موت کا سودا پیسوں پر ہونے لگا ہے۔ جس نے زیادہ بولی لگادی وہ اپنے عزیز کو شفا پہنچا سکے گا، وگرنہ وہ بھلے سے تڑپ جائے مرجائے۔بطورِ مسلمان یہ میں جو آج دیکھ رہا ہوں یہ تاریخ کے کن لوگوں کی روایات ہیں؟ یہ زر کی حرص و ہوس کن اوصاف کے لوگوں کی روایت ہے؟ جس رب نے انسان کو اس وبائی مرض میں مبتلا کیا اور آزمائش لی، پھر صحت کی دولت دی کہ اب میرا بندہ میرا شکر کرے گا اور میرے بندوں کے کام آئے گا، وہ موت کے قریب جاکر بھی خوف نہ کھا سکا اور دنیاوی ثروت کی طمع دل میں پالنے لگا۔ کیا اپنے اجزاء کو بیچنا خدا تعالیٰ سے بغاوت نہیں؟ اس عمل سے کمائے گئے پیسے کب تلک پیٹ بھر سکیں گے؟ کیا یہ ختم نہیں ہونگے؟ اور کیا یہ مال جلا جلا کر پیٹھ پر نہیں لگایا جائے گا؟ ایسے لوگوں کو میں آقاﷺ کی سیرت اور اصول نہیں یاد کرواتا، اگر وہ کلمہ گوہ مسلمان ہیں تو وہ ایک موم بتی پر چند ساعت کو ہاتھ رکھ کر دیکھیں یہ قابلِ برداشت ہے یا نہیں؟
پھر اس آگ کو ۷۰ گنا زیادہ مشکل جانیں اور بہت سارے عرصے کے لیے سر تا پا جسم اس آگ میں خود کو جلتا محسوس کریں۔
کیا محسوسات ہیں؟
ہمیں یہ دنیاوی زر اور خوہشات لے ڈوبیں گی، میں اب بھی کہتا ہوں چند لاکھ روپوں کے عوض ساری عمر کے لیے آگ نہ خریدیں، یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا۔
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
(علامہ اقبال)

Leave a Comment