Column#14 | Kutton ka fuqdan | HaaDi Khan
کتوں کا فقدان۔
ازقلم ہادی خان
کافی دنوں سے میں پریشان ہوں۔ دراصل بات رسوائی کی ہے تو بتانے میں جھجھک محسوس ہو رہی ہے۔ اب کیا ہی کہوں، مسئلہ جو اتنا اہم ہے۔ مگر بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کیا میں آپ کو بتا دوں؟ چلیں آپ سے کیا پردہ، آپ کو بتا دیتا ہوں مگر آپ کسی اور کو مت بتا دیجئے گا۔دوستوں کے بھی دوست ہوتے ہیں، یہ بات گویا مجھ پر سچ نہ ثابت کر لیجئے گا۔ میں بہت دنوں سے یہی اداد و شمار کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک پاکستان میں کتوں کا فقدان ہو گیا ہے۔ جی جی! آپ نے بالکل صحیح سنا۔ اب سوچیے مجھے یہ ادراک کیوں اور کیسے ہوا۔
سوچیے سوچیے۔۔۔ چلیں زیادہ مت سوچیں یہ کام آپ کو زیادہ تھکا نہ دے۔ میں نے دیکھا ہے وہ وقت کہ جب ہمارے ملک میں ہر گلی میں، ہر محلے، ہر دروازے، در پر کتے پہرہ دینے کو بیٹھے ہوتے تھے۔ کبھی آپ جسارت تو کریں کسی دوسرے محلے میں ٹیڑھی چال چلنے کی، ادھر کے ادھر آپ کو دبوچ لیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے آپ کو بھنبھوڑ کر، غرا کر، محلے سے بے دخل کر دیا جائے۔ مگر آپ ان کے سامنے سیدھی چال چلیں تو معاملہ بہتر رہے گا اور اس محاروے کے بالکل عین مطابق نہ سوچئے گا کہ بھونکنے والے کاٹتے نہیں اور کاٹنے والے بھونکتے نہیں۔ استاد لوگ کہتے ہیں خدا جانے کب بھونکنے والے خاموش ہو جائیں اور خاموش بھونکنے لگیں۔ یہ تو اب ان کے مزاج پر منحصر ہے، آپ بس احتیاط کریں اور بچ کر رہیں۔
ہاں تو اب محلوں میں کتوں کی ٹولیاں ختم ہونے کا دور آن پڑا ہے۔ تو ہم کتوں کے فقدان پر بات کر رہے تھے۔ پہلے زمانے میں کوئی صدقہ وغیرہ کرتا تھا تو بکرا یا بھینس جو بھی اس میں ایک حصہ غریبوں کا، پائے صاحب لوگوں کے، چمڑا قصائی کا اور آنتڑیاں اور آلائشیں کتوں، چیل، کوؤں کے حصے میں آیا کرتیں تھیں۔ غربا اپنے حصے کا کھا کر صدقے کی قبولیت کی دعا کرتے تھے۔ صاحب لوگ اپنے من پسند پائے بنا کر کھاتے اور دعا میں شامل ہوتے۔ کتوں کو ان سب باقیات ختم کرنے کے لئے موزوں سمجھا جاتا تھا۔ سب اپنے حصے کا کام کرلیتے تو ایک جاندار مویشی کی قربانی کی خوشبو ہر سو پھیل جاتی تھی۔ ماحول میں سب خوش حالی سے رہتے تھے۔
مگر چند دن سے میرے قریب والی ایک کچرا کنڈی سے بدبو بھر بھر کر آرہی ہے۔ اب کبھی صدقہ خیرات کی جاتی ہے تو انتڑیاں یہی کہیں کچرا کنڈی میں پھینک دی جاتی ہیں۔ جن کے گلنے سڑنے میں ۱۵ دن تو لازماً لگتے ہیں۔ اب وہ نہ تو جلدی گلتی ہیں، نہ سڑتی ہیں مگر ہم اس صدقے کی سوغات کو ۱۵ دن تک جھیلتے ہیں۔ میں نے دیکھا بدبو ہر سو پھیلتی جاتی ہے مگر اس کا کوئی علاج نہیں۔
وہ کتے کہاں گئے جو اس سب کے بدلے محلے کے وفادار ہوتے تھے۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ملک بھر کے ہوٹلوں میں کتوں کا گوشت بنا بنا کر عوام الناس کی خدمت کی جا رہی ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ یہ کام تو دوست ملک چائنہ کا تھا۔ دوست ملک اتنا خوش خوراک ہے کہ چلتے پھرتے ہر جاندار کو کھانے کے توے پر ڈال کر بھون بھون کر کھاتا ہے۔ ہم نے دوست ملک سے بہت سے معاہدے کر ڈالے ہیں۔وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں ہمیں چائنہ کا ماڈل لانا چاہئے۔ میری مودبانہ گزارش ہے ایسا ماڈل بھی نہ لایا جائے۔ ہم ان سے کام کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھ رہے ہیں، مگر ان کی عادات کو اپنانا تو اپنی تہذیب اور ذائقے کے خلاف ہے۔
خیر اب جب ہم نے زور و شور سے کتے کا گوشت کھانا شروع کر ہی دیا ہے تو میرا صرف گلہ یا گزارش سمجھیں کہ ہمارے محلوں کی آنتڑیاں کون کھائے گا؟
خیر ابھی تو پھر حالات قابو میں ہیں۔ بھلا ہو میونسیپلٹی والوں کا جو آٹھویں دن آکر ہمارا جیون سدھار دیتے ہیں، وگرنہ یہ بدبو ہمارے پیچھے پیچھے ہمارے گھر، کمرے اور بیت الخلاء تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ جہاں ہمارے کپڑے بھی ہمارے محسن نہیں ہوتے وہاں بھی یہ ہماری اجازت کے بغیر گھس جاتی ہے۔
جب تک کتوں کا حصہ کتے کھاتے رہے، ہمیں کوئی دقت نہیں تھی۔ مگر اب ان کا حصہ ہمیں جھیلنا پڑتا ہے۔ کتوں کی اہمیت کا اندازہ مجھے پہلے بھی تھا، مگر آج تو وہ اس معاشرے کے باوقار اور اہم شہری ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے، ہم باقی شہری کہاں جاتے۔ ہمارا کیا بنتا، ہم تو اپنے پھیلائے گند میں ہی ڈوب مرتے۔
میں ایک نعرہ لگانا چاہتا ہوں کتوں کو جینے دو۔ یہ اس نظام کا حصہ ہیں، نظام کو مت بگاڑیں۔
میں نے کتوں کے معاملے کو اتنا سنجیدگی سے لیا ہے وجہ یہی ہے کہ آگے بڑی عید آرہی ہے۔ عید پر میونسیپلٹی والے اپنی کھالیں جمع کرنے میں لگے رہیں گے تو پورے ۱۵ دن تک ہم سب کو اس بدبو کو جھیلنا پڑے گا۔ مگر جن غریب غربا کا حق لوگ اب فریج میں جمع کر لیتے ہیں ان پر اس بدبو کا اثر صور کی پھونک کی مانند ہوگا۔ وہ لوگ حق کو ترسیں گے۔ تو خدارا تھوڑے بہت کتے چھوڑ دیں، ہمیں بدبو سے مت ماریں اور مستحقوں کو، احساسِ کمتری سے۔ خدارا ہم سب کا احساس کریں۔
ازقلم ہادی خان
کافی دنوں سے میں پریشان ہوں۔ دراصل بات رسوائی کی ہے تو بتانے میں جھجھک محسوس ہو رہی ہے۔ اب کیا ہی کہوں، مسئلہ جو اتنا اہم ہے۔ مگر بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کیا میں آپ کو بتا دوں؟ چلیں آپ سے کیا پردہ، آپ کو بتا دیتا ہوں مگر آپ کسی اور کو مت بتا دیجئے گا۔دوستوں کے بھی دوست ہوتے ہیں، یہ بات گویا مجھ پر سچ نہ ثابت کر لیجئے گا۔ میں بہت دنوں سے یہی اداد و شمار کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک پاکستان میں کتوں کا فقدان ہو گیا ہے۔ جی جی! آپ نے بالکل صحیح سنا۔ اب سوچیے مجھے یہ ادراک کیوں اور کیسے ہوا۔
سوچیے سوچیے۔۔۔ چلیں زیادہ مت سوچیں یہ کام آپ کو زیادہ تھکا نہ دے۔ میں نے دیکھا ہے وہ وقت کہ جب ہمارے ملک میں ہر گلی میں، ہر محلے، ہر دروازے، در پر کتے پہرہ دینے کو بیٹھے ہوتے تھے۔ کبھی آپ جسارت تو کریں کسی دوسرے محلے میں ٹیڑھی چال چلنے کی، ادھر کے ادھر آپ کو دبوچ لیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے آپ کو بھنبھوڑ کر، غرا کر، محلے سے بے دخل کر دیا جائے۔ مگر آپ ان کے سامنے سیدھی چال چلیں تو معاملہ بہتر رہے گا اور اس محاروے کے بالکل عین مطابق نہ سوچئے گا کہ بھونکنے والے کاٹتے نہیں اور کاٹنے والے بھونکتے نہیں۔ استاد لوگ کہتے ہیں خدا جانے کب بھونکنے والے خاموش ہو جائیں اور خاموش بھونکنے لگیں۔ یہ تو اب ان کے مزاج پر منحصر ہے، آپ بس احتیاط کریں اور بچ کر رہیں۔
ہاں تو اب محلوں میں کتوں کی ٹولیاں ختم ہونے کا دور آن پڑا ہے۔ تو ہم کتوں کے فقدان پر بات کر رہے تھے۔ پہلے زمانے میں کوئی صدقہ وغیرہ کرتا تھا تو بکرا یا بھینس جو بھی اس میں ایک حصہ غریبوں کا، پائے صاحب لوگوں کے، چمڑا قصائی کا اور آنتڑیاں اور آلائشیں کتوں، چیل، کوؤں کے حصے میں آیا کرتیں تھیں۔ غربا اپنے حصے کا کھا کر صدقے کی قبولیت کی دعا کرتے تھے۔ صاحب لوگ اپنے من پسند پائے بنا کر کھاتے اور دعا میں شامل ہوتے۔ کتوں کو ان سب باقیات ختم کرنے کے لئے موزوں سمجھا جاتا تھا۔ سب اپنے حصے کا کام کرلیتے تو ایک جاندار مویشی کی قربانی کی خوشبو ہر سو پھیل جاتی تھی۔ ماحول میں سب خوش حالی سے رہتے تھے۔
مگر چند دن سے میرے قریب والی ایک کچرا کنڈی سے بدبو بھر بھر کر آرہی ہے۔ اب کبھی صدقہ خیرات کی جاتی ہے تو انتڑیاں یہی کہیں کچرا کنڈی میں پھینک دی جاتی ہیں۔ جن کے گلنے سڑنے میں ۱۵ دن تو لازماً لگتے ہیں۔ اب وہ نہ تو جلدی گلتی ہیں، نہ سڑتی ہیں مگر ہم اس صدقے کی سوغات کو ۱۵ دن تک جھیلتے ہیں۔ میں نے دیکھا بدبو ہر سو پھیلتی جاتی ہے مگر اس کا کوئی علاج نہیں۔
وہ کتے کہاں گئے جو اس سب کے بدلے محلے کے وفادار ہوتے تھے۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ملک بھر کے ہوٹلوں میں کتوں کا گوشت بنا بنا کر عوام الناس کی خدمت کی جا رہی ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ یہ کام تو دوست ملک چائنہ کا تھا۔ دوست ملک اتنا خوش خوراک ہے کہ چلتے پھرتے ہر جاندار کو کھانے کے توے پر ڈال کر بھون بھون کر کھاتا ہے۔ ہم نے دوست ملک سے بہت سے معاہدے کر ڈالے ہیں۔وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں ہمیں چائنہ کا ماڈل لانا چاہئے۔ میری مودبانہ گزارش ہے ایسا ماڈل بھی نہ لایا جائے۔ ہم ان سے کام کے سلسلے میں بہت کچھ سیکھ رہے ہیں، مگر ان کی عادات کو اپنانا تو اپنی تہذیب اور ذائقے کے خلاف ہے۔
خیر اب جب ہم نے زور و شور سے کتے کا گوشت کھانا شروع کر ہی دیا ہے تو میرا صرف گلہ یا گزارش سمجھیں کہ ہمارے محلوں کی آنتڑیاں کون کھائے گا؟
خیر ابھی تو پھر حالات قابو میں ہیں۔ بھلا ہو میونسیپلٹی والوں کا جو آٹھویں دن آکر ہمارا جیون سدھار دیتے ہیں، وگرنہ یہ بدبو ہمارے پیچھے پیچھے ہمارے گھر، کمرے اور بیت الخلاء تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ جہاں ہمارے کپڑے بھی ہمارے محسن نہیں ہوتے وہاں بھی یہ ہماری اجازت کے بغیر گھس جاتی ہے۔
جب تک کتوں کا حصہ کتے کھاتے رہے، ہمیں کوئی دقت نہیں تھی۔ مگر اب ان کا حصہ ہمیں جھیلنا پڑتا ہے۔ کتوں کی اہمیت کا اندازہ مجھے پہلے بھی تھا، مگر آج تو وہ اس معاشرے کے باوقار اور اہم شہری ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے، ہم باقی شہری کہاں جاتے۔ ہمارا کیا بنتا، ہم تو اپنے پھیلائے گند میں ہی ڈوب مرتے۔
میں ایک نعرہ لگانا چاہتا ہوں کتوں کو جینے دو۔ یہ اس نظام کا حصہ ہیں، نظام کو مت بگاڑیں۔
میں نے کتوں کے معاملے کو اتنا سنجیدگی سے لیا ہے وجہ یہی ہے کہ آگے بڑی عید آرہی ہے۔ عید پر میونسیپلٹی والے اپنی کھالیں جمع کرنے میں لگے رہیں گے تو پورے ۱۵ دن تک ہم سب کو اس بدبو کو جھیلنا پڑے گا۔ مگر جن غریب غربا کا حق لوگ اب فریج میں جمع کر لیتے ہیں ان پر اس بدبو کا اثر صور کی پھونک کی مانند ہوگا۔ وہ لوگ حق کو ترسیں گے۔ تو خدارا تھوڑے بہت کتے چھوڑ دیں، ہمیں بدبو سے مت ماریں اور مستحقوں کو، احساسِ کمتری سے۔ خدارا ہم سب کا احساس کریں۔

Leave a Comment