Column#15 | Bary Masayl Aur hal | HaaDi Khan
کالم: بڑے مسائل، اور حل
بقلم ہادی خان۔
کیا آپ سب نے کبھی سوچا ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ کیا مطلب آپ لوگوں نے کبھی یہ خیال نہیں سوچا؟ لو جی کر لو بات، پھر کہتے ہیں ہم ترقی کی جانب گامزن کیوں نہیں ہو رہے۔بزرگان کہتے ہیں خیالات اور سوچ سے خالی قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں۔ ان میں انگریزی کے بزرگان کو بھی شامل کرکے قوم کی بنت کو مضبوط کر رہا ہوں۔ بھئی آپ لوگ سوچیں نہ سوچیں میں نے تو اس معاملے پر بہت سر کھپا ڈالا ہے۔ بہت ساری تحقیق کرنے کے بعد میرے ہاتھ ایک سراغ لگا۔ دراصل بچپن سے ملکی حالات کو دیکھ کر ہی یہ سوچ پا رہا ہوں۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ رمضان کے ۳۰ روزے ہیں یا ۲۹ روزے۔ ماہ مقدس کی فضیلت روزہ سے ہے۔ یہ لگ بھگ ۱۴۵۰ سال پرانی رسول پاک ﷺ کی سنت ہے۔ جسے اسلام نے رمضان کے مہینے میں فرض کے درجے پر فائز کیا ہے۔ اس ماہ مقدس کے آنے اور جانے کا مطلب تو بس یہی ہے کہ انسان صبر و برداشت کا درس سیکھے۔ اپنے آپ سے پہلے اپنوں کا سوچے، اپنی ذات سے باہر نکل کر دنیا کو پرکھے۔ انسان اس ایک مہینے میں پورے ۳۰ دن صبر و شکر کرے اور عبادت کرے۔ اپنی بساط میں تمام لوگوں کی ضرورت پوری کرے۔ اس بات سے قطعاً فرق نہیں پڑتا کہ یہ روزہ ۱۴ گھنٹے کی گرمی کا ہو یا ۱۰ گھنٹے کی ٹھنڈ کا۔ ہمیں یہ روزے رکھنے ہی رکھنے ہیں۔ ہمیں بھوک بھی لگی ہو، پیاس بھی لگی ہو تو بھی ہمیں صبر کرنا پڑتا ہے۔ ایک دور قدیم گزرا ہے، جب ماہ مقدس کی آمد آمد ہوتی تھی تو لوگ خوش ہوتے تھے۔ گھر کے سب لوگ اس ماہ کا استقبال کیا کرتے تھے۔ چاند دیکھنے کو سب لوگ محلوں میں چھتوں پر وہاں جمع ہو جایا کرتے جہاں آسمان صاف ہو اور چاند نظر آجانے کے امکانات بھی زیادہ ہوں۔ سب لوگ سر جوڑ کر چاند تلاش ہی لیتے، وگرنہ برے منہ کے ساتھ ایک دن کی تاخیر کو تسلیم کر لیتے اور اگلے دن چاند کے متلاشی پُرجوش ہو کر چھتوں پر جمع ہو جاتے۔ لوگ اس چاند کو دیکھنے آتے تو بڑوں کی دیکھا دیکھی بچے بھی چھتوں پر ہی چہ مگوئیاں کرنے لگتے، پاس موجود تمام اطلاعات آپس میں گوش گزار کرتے ہیں۔ چاند ایک شخص کو نظر آجائے تو وہ اپنی انگشت کے اشارے سے سب کو چاند کی نشاندہی کرتا تھا۔ کتنا اچھا دور ہوتا تھا۔ عید سے پہلے عید کا سما چاروں اور محسوس ہوا کرتا تھا۔ پھر زمانہ بدلا اور چاند دیکھنے کا کام ایک مخصوص کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اب ان کو چاند نظر آئے تو ہی اعلانیہ طور پر رمضان شروع ہوتا ہے۔ ایسے میں تفرقے بڑھ جاتے ہیں، چند ایک اس فیصلے کو مان لیتے ہیں، چند نہیں مانتے۔ آدھی قوم کا رمضان شروع ہو جاتا ہے، آدھی کا اگلے دن ہوتا ہے۔ اب جس نے ایک دن پہلے روزہ رکھا، گنتی کے حساب سے اس کا ایک روزہ زیادہ ہوا۔
اس طرح کبھی میزان برابر نہ رہا۔ ملک یکسر دو ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ ایسے ہی مسئلہ پھر عید کا چاند دیکھنے کا ہوتا ہے۔ چند ایک کو پہلے نظر آجاتا ہے، باقی سب کو ایک دن بعد میں۔ اکثریت علماء کے اعلان کی پابند ہے، اسی واسطے علماء کے فیصلے کے منتظر ہوتے ہیں۔ رمضان کے روزے سب رکھتے ہیں مگر اگر کوئی بیمار ہو عذر یا طبیعت روزے رکھنے کی اجازت نہ دے تو اسے شریعت نے اجازت دی ہےوہ کفارہ ادا کیسے کرے ، مگر جو لوگ اس ماہ مقدس کے روزے بلا وجہ چھوڑتے ہیں ان کے لئے سخت گرفت ہے۔ رمضان کے روزے ہمیشہ سے پورے نہیں رکھے گئے۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم لوگ ایک شخص کے فیصلے کو ماننے کے بجائے اپنی اپنی آراء اس میں لا داخل کرتے ہیں۔ جس سے ہر بار ملک کا نصف حصہ اپنے ہی طور عید اور رمضان منا لیتا ہے اور باقی سب اگلے دن۔ اس مسئلے کو سوچتے سوچتے میرے خیالات نے مجھے دوسری جانب ہانک دیا۔ ہمارے ملک میں الیکشن ہوتے ہیں۔ میں نے ملک کی تاریخ دیکھی۔
ملک بنتے ہی لیاقت علی خان نے چار سال دو ماہ، سر خواجہ نظام الدین نے ایک سال چھ ماہ، محمد علی بوگڑا نے ۲ سال ۳ ماہ، چوہدری محمد علی نے ایک سال ایک ماہ، حسین شہید سہروردی نے ایک سال ۱ ماہ، ابراہیم اسماعیل چندریگر نے ۱ ماہ انتیس دن، ملک فیروز خان نون نے نو ماہ اکیس دن، نورالامین نے تیرہ دن، ذولفقار علی بھٹو نے تین سال دس ماہ اکیس دن، محمد خان جونیجو نے تین سال ۲ ماہ ، بینظر بھٹو نے ایک سال آٹھ ماہ چار دن، نواز شریف نے دو سال سات ماہ چار دن، پھر بینظر بھٹو نے تین سال سترہ دن، پھر نواز شریف نے دو سال سات ماہ پچیس دن، میر ظفراللہ خان جمالی نے ایک سال سات ماہ تین دن، چوہدری شجاعت حسین نے ایک ماہ ستائیس دن، شوکت عزیز نے تین سال دو ماہ اٹھارہ دن، یوسف رضا گلانی نے چار سال دو ماہ پچیس دن، راجہ پرویز اشرف نے نو ماہ دو دن، نواز شریف نے چار سال ایک ماہ تیئس دن، شاہد خاقان عباسی نے دس ماہ حکومت کی اور اب موجودہ دو سال سے عمران خان کی حکومت ہے جو دعا اور امید ہے کہ مدت پوری کریں۔ باقی اوپر تاریخ میں کسی ایک منتخب نمائدے نے بھی اپنی پانچ سال کی حکومتی مدت پوری نہیں کی ہے۔ یہ بالکل رمضان کے مسئلے کے مترادف ہے۔ہمارے ملک کے مسائل رمضان کی مدت سے شروع ہو کر حکومتی ایوانوں تک یکساں ہیں۔ ہم نے کبھی ایک جیسے ہو کر نہیں سوچا۔ چلو یار آپ کسی بھی مسلک کے ہو، کسی بھی فرقہ کے ہو، مگر ایک ریاست میں رہتے ہوئے ریاست کا کوئی حق ہے آپ پر، آپ ریاست کی بات مانو، ریاست کے کہے پر اپنے تہوار مناؤ۔ سرکاری مراسلہ جاری ہو تو آپ اس حساب سے چلو۔ آپ سارا سال روزے رکھیں اس میں اجر ہے مگر رمضان کے روزے سرکاری طور پر ایک ساتھ رکھیں، پوری قوم میں یک جہتی نظر آئے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ آپ بیشک مختلف سیاسی پارٹیوں کے ماننے والے ہو، جب ایک شخص منتخب ہو گیا ہے سب اس کو اپنا بڑا مان لو، آپس کے اختلافات کو صرف انتخابات تک محدود رکھنا چاہیے، اس کے بعد تو بس سب کو مل جل کر ایک ملک کے باشعور باسی ہونے کا ثبوت دینا چاہئے۔ اب جو منتخب ہو گیا ہے اسے کام کرنے دو، اسے اس کی مدت پوری کرنے دو، پڑوسی ملک میں بھی تو بدترین قصاب اقتدار پر بیٹھا ہے، وہاں کسی نے نہیں کہا اسے ہٹا دو، وہ لوگ بارہا اس بات پر داد کے مستحق ہیں کہ اپنے منتخب سربراہ کو مدت پوری کرنے دیتے ہیں۔
جیسے رمضان کے روزے اپنی مدت پوری نہیں کرتے، ویسے ہمارے ملک کے کسی بھی وزیراعظم کی ۵ سالہ اقتدار کی مدت پوری نہیں ہوتی۔ کیسے سب ٹھیک ہوگا جب تک ہم ایک انسان کے بجائے بہت سے لوگوں کی سنیں گے۔ کم سے کم ۵ رمضان تو مل کر پورے روزے رکھیں تو اس مشق سے ہم میں بہت سے اختلافات ختم ہو جائیں گے اور سب معمول پر آنے لگے گا، مگر اس میں اتنا وقت تو لگےگا ہی۔ جس دن ہمارا روزہ ایک ہی دن پورے ملک میں رکھا جائے گا اور عید اپنے پورے وقت پر آجائے گی اس دن ہمارے ملک کے سارے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ وگرنہ جس ملک میں لوگ رمضان کے روزے پورے نہیں ہونے دیتے وہاں اسمبلی کیا خاک پوری ہونے دیں گے۔

Leave a Comment