Afsana#11 | Us Jaysa | HaaDi khan
اُس جیسا
از قلم ہادی خان
دنیا زمین پر بہت خامشی ہوا کرتی تھی۔ یہ زمین سکوت کے عالم میں باقی سیاروں کے سنگ تیرتی جا رہی تھی، نہ کوئی تباہی کا عنصر، نہ کوئی شور و غل۔ پس اماں حوا کی دو اولادیں پیدا ہوئیں، دنیا میں انسانیت کا عمل بڑھتا چلا گیا، وہ دونوں آپس میں لڑ پڑے۔ ایک نے دوسرے کو مار کر کوّے کی دیکھا دیکھی دفنا دیا۔ انسان ابھی کپڑوں سے بھی آشنا نہیں ہوا تھا تو کفن کا تصور بھی کہاں تھا۔ روح زمین پر پہلا قتل ہونا تھا کہ وہ فسادات کی ابتداء تھی۔ انسان نے اپنا رنگ دنیا پر چھوڑنا شروع کر دیا تھا۔ تب سے اب تک زر و زن کی لڑائی چلتی آرہی ہے۔ ایک مرتا ہے تو دوسرا مال پا لیتا ہے، بھلے مارنے والے نے اپنے بھائی کو ہی کیوں نہ مارا ہو۔ کسی کے ہاتھ میں خواہشات کی ہڈیوں کا کاسہ ہے، کسی کے لب نالاں ہیں ، کوئی کم پر شکوہ کناں ہے، کوئی زیادہ پر ناشکرا ہے۔ یہ دھوپ چھاؤں کا سما چار سو ہے۔ جس دھرتی کو ترتیب دینے کی وجہ خیر و شر، یعنی باری تعالیٰ کی رحمانی اور شیرِ شیطانی ہے وہاں امن کہاں ہونا تھا۔ گویا ربِ خداوندی نے دو راستے انسان کو چننے کو دے چھوڑے تھے۔ پس چل پڑا یہ نظام اور دنیا کو پھاڑ کر الگ الگ کیا گیا۔ اس میں پہاڑ میخوں کے طور پیوست کر دیئے گئے کہ یہ توازن نہ کھو بیٹھے۔ زمین پر پیچ و خم موجود تھے۔ انسان تو بس گنتی کے تھے۔ دنیا میں بڑے جزیرے ابھی دریافت ہونے باقی تھے، جن کو بعد میں دنیا کی حکمرانی کرنی تھی۔ پہلا شجر ابھی تک انسانی شریر سوچ کے باعث کٹا نہ تھا۔ پرندوں کی زندگیاں بھی بہت خوش حال تھیں۔ اس دنیا کے درمیان کے علاقے میں پے در پے لوگ آ کر بس رہے تھے۔ پھر ایک خاموش اور بیابان سڑک بچھائی گئی ۔ یہ بیابان سڑک اس سے قبل سنگلاخ کے اونچے نیچے میدان تھے۔ شاید یہ طوفان نوح کے وقت کی بات ہے جب یہاں پر بڑے بڑے گھڑے ہوا کرتے تھے۔یہاں انسانوں کا گزر بہت کم تھا تو یہ اپنی اصل شکل میں ہی رہے تھے۔ انسان ابھی جھیلوں اور وادیوں میں پڑاؤ نہیں کر سکا تھا جس کی وجہ سے یہ ساری جگہیں اپنی فطری اور قدرتی حالت میں تھیں۔ پھر طوفان آیا، جس نے اس علاقے کو پانی کے نیچے چھپا دیا۔ بڑی بڑی موجوں کی لپیٹ میں آتی یہ زمین ہموار ہونے لگی۔ سمندری موجوں نے اسے کاٹ کاٹ کر یا پھر پانی کے شانہ بشانہ چلتی ریت اور پتھروں نے ان گھڑوں کر بند کر دیا، یہ زمین تقریباً ہموار ہو ہی گئی تھی۔ مگر انسان کی سعی سے اس جگہ کو مزید قابلِ آمد و رفت کیا گیا۔ جدید لوگ نئی دریافتیں کرتے اور ساری دنیا کے انقلاب کے ساتھ اس جگہ کو بھی مزید بہتر سے بہتر بناتے تھے۔ پہلے پہل یہاں سے منگولوں کے بدبودار لشکر گزرا کرتے تھے۔ کہتے ہیں منگول ایسی گندی سی قوم تھی، کہ ان کے لشکر کے پہنچنے سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر پہلے ان کی بدبو پہنچ جایا کرتی تھی۔ ان کا اثر دنیا سے ٹوٹا تو پھر ان ہی راستوں سے افغانیوں، ایرانیوں کے لشکر گزرا کرتے۔ تاجروں نے بھی اپنی کالینیں، مال اسباب اور قیمتی کپڑے بیچنے اور دوسرے بازاروں تک اپنا مال پہنچانے کو اس راستے کو آباد رکھا۔ اسی کو دیکھتے ہوئے حکم نامہ جاری ہوا کہ شاہراہ کو سڑک بنا دیا جائے۔
یہ دو شہروں بلکہ دو ریاستوں کے مابین ایک طویل سڑک بنا دی گئی۔ گرد و نواع میں لوگ آ بسے، پھر کرتے کرتے وہاں آبادی ہوتی گئی۔ ان لوگوں کے ذی شعور ہونے کا ثبوت ہے کہ وہ دو ریاستوں کے مابین آ بسے تھے۔ جہاں سے بیک وقت دونوں ریاستوں کی جانب رسائی حاصل کی جا سکے۔ وہ زراعت کرتے تھے لیکن ساتھ پیڑ کٹتے گئے، گھر بنتے گئے۔ زمین کے سینے پر روز گیتی، بیلچا اور کھودنے کے آلات ضرب کی مانند پڑتے۔ مٹی کھودی جاتی اور اینٹیں بنائیں جاتیں۔بھٹیاں بنائی گئیں، انسانی دریافتیں تیزی پکڑتی گئیں۔ دھواں فضا کی جانب اٹھنے لگا، ماحول متاثر ہوتا رہا۔ پرندوں کا کوچ کرنا ناگہانی یا حادثات کی علامت ہے، مگر جہاں انسان آجائیں وہاں سے باقی نفوس کا ہجرت کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ قدیم لوگ کہتے ہیں یہ ایک شہر ہوا کرتا تھا جب دونوں ریاستیں ایک ہوا کرتی تھیں، مگر بادشاہ کے دو بچے تھے تو ریاست بھی دو نظریوں کی نذر ہو گئی۔
شہزادے عقل و فہم رکھتے تھے، وگرنہ دونوں نمائندے ہی مضبوظ ظاہر ہوتے تھے۔ خانہ جنگی کی بو سرایت کرنے لگی تو ریاست کے حصے بخرے کر دیئے گئے۔ ساتھ رہ کر لڑنے سے الگ رہ کر سکھ پانا بہتر ہے۔ ایک شہر کو چاک کرکے دونوں ریاستوں کا درمیان بنا دیا گیا۔ یہ ایک شہر ہوا کرتا تھا، سلطنت میں ضم تھا جب یہاں کارواں سرائے بنا ہوا تھا۔ تب مسافر دور سے آتے اور رات گزاری کو یہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ پھر سلطنت ٹوٹی، یہ شہر اب بغیر کسی سلطنت کی حدود کا شہر ہے، اب یہاں ایک چونگی موجود تھی۔ کارواں سرائے کو ڈاک خانے میں تبدیل کرلیا گیا تھا۔ گرد و نواع کے گاؤں قصبوں سے لوگ مال و اجناس کو فروخت کرنے منڈی لے جایا کرتے۔
شہر کو چاروں اور سے چونگیاں بنا کر داخلے پر داروغہ بیٹھا رکھے تھے۔ وقت قدیم کے بڑے شہروں کے نواب و جاگیرداروں اور بازار کے مالک کے حکم نامے پر ان رکاوٹوں میں بیل گاڑیاں، گدھا گاڑیاں اور گھوڑا گاڑیاں روک لی جاتیں۔ فی بوری گندم و گیہوں 3 چونگل مال نکال کر سرکاری کھاتے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اگلے وقتوں کا یہ ٹیکس ہوا کرتا تھا۔ جس سے ریاست مسافروں کو، راہگیروں کو امان بخشتی تھی۔تاجروں اور سودے باز لوگوں کے فروخت کے لئے لائے مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا تھا۔ یہ تو بس ایک ملک کا قانون بن چکا تھا، اگرچہ بیشتر کا مال لوٹ لیا جاتا تھا۔ عموماً مالکانِ بازار کی ہی نیت مال کو دیکھ کر بگڑتی۔ جس پر وہ قیمت کے بدلے مال نہیں لیتے بلکہ اپنے پالتو دہشت گردوں سے ان کی جان کو انتہائی خوف کے عالم تک لے جاتے اور جان بخشی مال چھوڑ کر بھاگنا ہوتا۔ اب یہ سودا کون بیچارہ نہ کرتا یہ سودا بے سود تھوڑی ہے۔ مال آنے جانے کی شے ہے مگر جان گئی تو مال کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
قدیم لوگ چونگل کو چونگی بنا کر ہی بولنے لگے یوں اس کا نام یہ پڑا۔ اسی تین رہ پکی سڑک کی چونگی کی پچھلی دیوار کے نیچے خالی نالے میں کالی کتیا نے 5 پلوں کو جنم دیا۔ ان پلوں کے باپ کا علم تو نہیں مگر ماں ان کے ساتھ تھی۔ سڑکوں، جنگلوں میں پیدا ہوئے چلتے پھرتے جانوروں کو کسی قفس کا اسیر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ جانور اس کے عادی نہیں ہوتے۔ کھلی فضا میں پیدا ہوئے، سارا دن پلّے رینگتے اور نالے کے اِس کونے سے اُس کونے تک جاتے، کتیا واپس سب کو جمع کرتی اور سمیٹ کر ایک جگہ رکھ دیتی۔ آدھے دن تک ان کا یہی مشغلہ ہوتا تھا۔ کتیا کو بازار کے اندرون ایک قصائی کی دوکان کے باہر سے اپنا اور اپنے بچوں کا گزر بسر مل جایا کرتا تھا۔ حلال کو قصاب اپنے پاس رکھ لیتا اور بیچ ڈالتا، جو حرام کھانا تھا اسے دے دیا جاتا۔ ایک عام اطلاع کے مطابق اس گوشت کا بڑا حصہ بازار کے مالک کے پالتو شیروں کو بھی جاتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ گوشت دھوتا نہیں تھا، شیر بنا خون لگا گوشت بھی نہیں کھاتے۔ کتیا دوپہر کو جاتی اور وہاں سے انتڑیاں اور باقی اس میں کھانے لائق شے اپنا حق سمجھ کر لے آتی، چند ایک ہڈیاں اور ان کے ساتھ لگا گوشت بھی کھا لیتی۔
آج وہاں معمول سے ہٹ کر ایک طرف کو چار لوگوں نے مال گاڑی کو روکے رکھا تھا۔ ان لوگوں نے مال گاڑی سے قیمتی پوشاک پہنے شخص کو اتار دیا۔ شکل سے مقامی ظاہر نہ ہوتا تھا، شاید وہ تاجر تھا۔ قریب ہی تھا کہ ان میں سے ایک اس کا گلا کاٹ ڈالتا۔
"مجھے جانے دو مجھے مت مارو۔" اس تاجر نے جان کا امان چاہا۔
"جانے دو اسے۔" جس کی مانند تینوں کا منہ تھا وہ بولا۔
تاجر کو چھوڑنا تھا اور وہ ایسے بھاگ کر غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگھ۔
عموماً وہ کتیا یوں کھڑی ہو کر ایسے منظر دیکھا کرتی تھی، اس کے دل میں بچوں کا خیال نہ ہوتا تو وہ مظلوم کی مدد ضرور کرتی۔ بازار کے بڑے دروازے کو 10 لوگ مل کر کھولتے اور شام ڈھلے بند کر دیتے تھے۔ سارا دن بازار کا بڑا سارا دروازہ منہ کھولے ہوتا۔ بازار کے گرد بڑی دیواریں بنا کر چوری چکاری اور ڈاکوؤں کے حملے سے محفوظ بنا دیا گیا تھا۔ معمولی سی انفنٹری موجود تھی۔بازار نما قلعہ بند منڈی دور دراز تک اپنی خوشبو چھوڑے ہوئے تھا۔ ہر عام و خاص اچھے برے تجربے سے اسے جانتا تھا۔ پھر موسم گرما نے سامان باندھنا شروع کیا اور ساون کا مہینہ آیا اور چلتے پھرتے بادل برستے اور کیا جم کر برستے۔
کتیا نے محسوس کیا کافی عرصہ سے یہ جو نالہ سوکھا پڑا تھا اب پانی سے بھرنے لگا ہے۔ اب وہاں گزارا کرنا مناسب نہیں۔ وہ باہر نکلی اور اِدھر اُدھر بھاگتی دوڑتی کہ کوئی جگہ رہنے کو میسر آجائے۔ ساون کا موسم جم کر برسا، شاید اس کتیا پر خصوصاً توجہ سے برس رہا تھا۔ وہ بھیگتی رہی اور ساری طرف اپنے اور اپنے پلوں کے سر چھپانے کو ٹھکانہ تلاشتی رہی۔ شہر کا دروازہ بند ہونے لگا تھا، اس نے ایک اندازہ لگایا مگر وہ سارے بچے اتنی جلدی نہیں لے جا سکتی تھی۔ بہت سارا وقت وہ ایسے ہی ادھر سے ادھر ماری ماری پھرتی رہی کہیں اسے محفوظ جگہ نہ مل پائی تو وہ مایوس واپس لوٹنے لگی۔ تب ہی چونگی کے داروغہ نے چونگی کا پٹ کھولا، گھر کے ول منہ کیا اور برساتی پہن کر نکل کھڑا ہوا۔کتیا اس کے پیچھے ہو لی، وہ چلتا ہوا ڈاک خانے کے پیش پر بنی سرکاری رہائش گاہ میں جا گھسا۔
کتیا نے وہاں ایک پرانی بگی ٹوٹی دیکھی جو خدا معلوم کب سے یہاں پڑی تھی۔ یہ وہی بگی تھی جو سرکاری تحویل میں تب لی گئی تھی جب ایک باغی نے حکومت کے اندرون کی خارجیوں کو اطلاعات پہنچائیں، اس کی سزائے موت کے بعد اس کی بگی ضبط کر لی گئی تھی۔وہ بگی بارش سے نم ہوئی اور کڑکتی دھوپ سے ٹوٹتی گئی۔اس کے لوہے والی جگہ زنگ کی نذر ہو چکی تھی۔اس پر چھپرا سوراخوں سے بھر ا پڑا تھا مگر نیچلا تختہ قدر بہتر ہی تھا ہاں یہ ان ہی درختوں کی لکڑی تھی جو انسانوں نے آبادی کے بعد درختوں کو کاٹ کاٹ کر استعمال لائی تھی۔
کتیا لوٹ کر گئی نالہ تقریباً بھرنے والا تھا۔ پلے بامشکل سر باہر کو نکالے ہوئے تھے۔ کتیا نے ایک پلے کو جبڑوں میں مضبوطی سے پکڑ کر اٹھایا اور زرا آگے جا کر ڈاک خانے کی عمارت کی پشت پر اسی بگی میں جا رکھا۔ اس کے یوں جانے پر باقی 4 پلو نے تعجب کیا اور باہر کی جانب نکلنے کو ہاتھ پیر مارنے لگے۔ ایک ایک کر کے وہ 4 بچے لے کر چلی گئی اور پانی مزید بھرتا گیا۔ بارش تیز ہونے لگی۔ ایک پلے نے کم جگہ پا کر اس پانی سے بھرے ہوئے نالے کو عبور کر لیا اور باہر ماں کی جانب بھاگا۔ جس وقت وہ اس سڑک پر آیا شہر سے باہر کی جانب ایک گھوڑا گاڑی تیزی سے آ رہی تھی۔ کتیا نے دور سے دیکھا اور بھونکنا شروع کر دیا اور گھوڑے اور گھوڑے والے کو اطلاع دینے کی کوشش کی۔ گھوڑا بھدک کر اور تیز ہو گیا۔ وہ پلا بھاگا اور ماں کی جانب ہونے لگا، اگلے لمحے گھوڑا گاڑی کا پہیہ اس ننھے پلے کو کچلتا ہوا آگے کی جانب چلا گیا۔ کتیا اس کے پیچھے بھاگ کر، بھونک کر احتجاج کرتی رہی۔ مگر چند لمحوں بعد اپنے نقصان کا جائزہ لینے پلٹ آئی۔اس کی بے بسی اس کی بدلتی آواز سے عیاں تھی۔
بارش کے پانی کے ساتھ پلے کے منہ سے رستے خون کا سنگم دیکھ کر اس نے منہ کی مدد سے اسے ہلایا مگر وہ بے جان ہو چکا تھا۔ کتیا اسے منہ میں پکڑنے لگی مگر بری طرح پسلیاں ٹوٹ جانے کی وجہ سے اس کی گرفت نہیں بن پائی۔ اس پلے کے منہ سے ہنوز خون رس رہا تھا۔ جیسے تیسے کر کے کتیا نے اسے ایک طرف کو کر دیا اور بہت دیر تک پلے کی بےجان لاش پر بین کرتی رہی اور منہ سے وقفہ وقفہ سے اسے جنبش دیتی رہی۔مگر وہ ہلتا نہیں تھا باقی کے پلے اسے تعجب سے دیکھتے، کتیا اضطراب کی حالت میں گم سم تھی۔وہ بارش کی وجہ سے نہ اسے دفنا سکتی تھی جب تک وہ اس کے سامنے پڑا رہا وہ توازن کھوتی گئی۔حتیٰ کے وہ اب بو چھوڑنے لگا۔اس مرے ہوئے پلے کی لاش کو باقی بچے کھینچا تانی کرنے لگے۔کتیا سے سہا نہ گیا اور اسے سب کے بیچ سے اٹھا کر سڑک پار چھوڑ آئی۔ بارش برستی رہی، سیاہ رات سر پر تھی۔ وہ مڑ مڑ کر پھر بھی پر امید نظروں سے دیکھتی۔رات واپس اپنی جگہ پر آئی اس نے باقی پلوں کو محفوظ رکھا، اپنے جسم کے نیچے دبا کر ان کو گرمایا۔اگلے دن زمین نرم ہو چکی تھی۔زرا سا وزن کہیں پڑتا تو دھنسنے لگتی۔کتیا بچ بچا کر شہر سے قصاب کی دکان کی جانب گئی۔لوٹی اس کے منہ میں اپنے اور اپنے بچوں کی خوراک تھی۔نادانستہ طور پر اس کی نظر اسی جانب پڑی ایک رات قبل جہاں وہ اپنا لخت جگر چھوڑ آئی تھی۔بہت سی چیلوں سے گھیرا بنا رکھا تھا۔وہ بھونکتی ہوئی بھاگی اور اپنا کھانے کا سامان وہیں پھینک کر اپنے بچے کو حصار میں لیا۔چیلیں اس کے منہ سے گرنے والےگوشت اور ملے جلے مواد پر ٹوٹ پڑیں اور یکے بعد دیگر سب اڑا لے گئیں۔کتیا فقظ بھونکتی رہ گئی۔مگر دوبارہ برسات میں سیاہ سے ماحول میں وہ دیر تک بھونکتی رہتی۔ رات تو اس کی گزری جیسے تیسے مگر اس کے پلّو نےکھانا نہیں کھایا تھا، اسے یاد آیا تو وہ بھاگی اور کچھ اور چھیچھڑے لے آئی۔سب کو سیر کر کے کھلایا ایک جانب کو لیٹ کر بچوں کو دودھ پلایا۔ مگر اگلی رات پھر بارش ہوئی مگر اب کی بار یہ برسات الگ تھی جب سیاہ رات میں بارش ہوتی ہے وہ جابجا بھونکتی رہتی ہے، بادل آتے تو آسمان کو دیکھ کر چلاتی ہے۔ دنیا انسانی میں اشرف المخلوقات ہونے کا مطلب تھا کہ باقی مخلوقات کا ہم خیال رکھیں مگر ہم نے اپنے علاوہ کسی جنس کو جینے کے لائق ہی نہیں سمجھا۔ اب وہ کتیا برسات ہونے پر ہر گھوڑا گاڑی، انسان نما ، گھوڑے نما، ہر چلتی پھرتی لکڑی کی گاڑی یا پہیے کی آواز سن کر اور گیلی سڑک دیکھ کر بھونکتی ہے، بہت بھونکتی ہے، وہ احتجاج کرتی ہے۔ وہ جانتی نہیں ہے اس کے بچے کا قاتل کون ہے، مگر وہ اس کے مماثل ہر شے پر بھونک کر، حملہ کرکے، اپنے طور پر ازالہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
از قلم ہادی خان
دنیا زمین پر بہت خامشی ہوا کرتی تھی۔ یہ زمین سکوت کے عالم میں باقی سیاروں کے سنگ تیرتی جا رہی تھی، نہ کوئی تباہی کا عنصر، نہ کوئی شور و غل۔ پس اماں حوا کی دو اولادیں پیدا ہوئیں، دنیا میں انسانیت کا عمل بڑھتا چلا گیا، وہ دونوں آپس میں لڑ پڑے۔ ایک نے دوسرے کو مار کر کوّے کی دیکھا دیکھی دفنا دیا۔ انسان ابھی کپڑوں سے بھی آشنا نہیں ہوا تھا تو کفن کا تصور بھی کہاں تھا۔ روح زمین پر پہلا قتل ہونا تھا کہ وہ فسادات کی ابتداء تھی۔ انسان نے اپنا رنگ دنیا پر چھوڑنا شروع کر دیا تھا۔ تب سے اب تک زر و زن کی لڑائی چلتی آرہی ہے۔ ایک مرتا ہے تو دوسرا مال پا لیتا ہے، بھلے مارنے والے نے اپنے بھائی کو ہی کیوں نہ مارا ہو۔ کسی کے ہاتھ میں خواہشات کی ہڈیوں کا کاسہ ہے، کسی کے لب نالاں ہیں ، کوئی کم پر شکوہ کناں ہے، کوئی زیادہ پر ناشکرا ہے۔ یہ دھوپ چھاؤں کا سما چار سو ہے۔ جس دھرتی کو ترتیب دینے کی وجہ خیر و شر، یعنی باری تعالیٰ کی رحمانی اور شیرِ شیطانی ہے وہاں امن کہاں ہونا تھا۔ گویا ربِ خداوندی نے دو راستے انسان کو چننے کو دے چھوڑے تھے۔ پس چل پڑا یہ نظام اور دنیا کو پھاڑ کر الگ الگ کیا گیا۔ اس میں پہاڑ میخوں کے طور پیوست کر دیئے گئے کہ یہ توازن نہ کھو بیٹھے۔ زمین پر پیچ و خم موجود تھے۔ انسان تو بس گنتی کے تھے۔ دنیا میں بڑے جزیرے ابھی دریافت ہونے باقی تھے، جن کو بعد میں دنیا کی حکمرانی کرنی تھی۔ پہلا شجر ابھی تک انسانی شریر سوچ کے باعث کٹا نہ تھا۔ پرندوں کی زندگیاں بھی بہت خوش حال تھیں۔ اس دنیا کے درمیان کے علاقے میں پے در پے لوگ آ کر بس رہے تھے۔ پھر ایک خاموش اور بیابان سڑک بچھائی گئی ۔ یہ بیابان سڑک اس سے قبل سنگلاخ کے اونچے نیچے میدان تھے۔ شاید یہ طوفان نوح کے وقت کی بات ہے جب یہاں پر بڑے بڑے گھڑے ہوا کرتے تھے۔یہاں انسانوں کا گزر بہت کم تھا تو یہ اپنی اصل شکل میں ہی رہے تھے۔ انسان ابھی جھیلوں اور وادیوں میں پڑاؤ نہیں کر سکا تھا جس کی وجہ سے یہ ساری جگہیں اپنی فطری اور قدرتی حالت میں تھیں۔ پھر طوفان آیا، جس نے اس علاقے کو پانی کے نیچے چھپا دیا۔ بڑی بڑی موجوں کی لپیٹ میں آتی یہ زمین ہموار ہونے لگی۔ سمندری موجوں نے اسے کاٹ کاٹ کر یا پھر پانی کے شانہ بشانہ چلتی ریت اور پتھروں نے ان گھڑوں کر بند کر دیا، یہ زمین تقریباً ہموار ہو ہی گئی تھی۔ مگر انسان کی سعی سے اس جگہ کو مزید قابلِ آمد و رفت کیا گیا۔ جدید لوگ نئی دریافتیں کرتے اور ساری دنیا کے انقلاب کے ساتھ اس جگہ کو بھی مزید بہتر سے بہتر بناتے تھے۔ پہلے پہل یہاں سے منگولوں کے بدبودار لشکر گزرا کرتے تھے۔ کہتے ہیں منگول ایسی گندی سی قوم تھی، کہ ان کے لشکر کے پہنچنے سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر پہلے ان کی بدبو پہنچ جایا کرتی تھی۔ ان کا اثر دنیا سے ٹوٹا تو پھر ان ہی راستوں سے افغانیوں، ایرانیوں کے لشکر گزرا کرتے۔ تاجروں نے بھی اپنی کالینیں، مال اسباب اور قیمتی کپڑے بیچنے اور دوسرے بازاروں تک اپنا مال پہنچانے کو اس راستے کو آباد رکھا۔ اسی کو دیکھتے ہوئے حکم نامہ جاری ہوا کہ شاہراہ کو سڑک بنا دیا جائے۔
یہ دو شہروں بلکہ دو ریاستوں کے مابین ایک طویل سڑک بنا دی گئی۔ گرد و نواع میں لوگ آ بسے، پھر کرتے کرتے وہاں آبادی ہوتی گئی۔ ان لوگوں کے ذی شعور ہونے کا ثبوت ہے کہ وہ دو ریاستوں کے مابین آ بسے تھے۔ جہاں سے بیک وقت دونوں ریاستوں کی جانب رسائی حاصل کی جا سکے۔ وہ زراعت کرتے تھے لیکن ساتھ پیڑ کٹتے گئے، گھر بنتے گئے۔ زمین کے سینے پر روز گیتی، بیلچا اور کھودنے کے آلات ضرب کی مانند پڑتے۔ مٹی کھودی جاتی اور اینٹیں بنائیں جاتیں۔بھٹیاں بنائی گئیں، انسانی دریافتیں تیزی پکڑتی گئیں۔ دھواں فضا کی جانب اٹھنے لگا، ماحول متاثر ہوتا رہا۔ پرندوں کا کوچ کرنا ناگہانی یا حادثات کی علامت ہے، مگر جہاں انسان آجائیں وہاں سے باقی نفوس کا ہجرت کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ قدیم لوگ کہتے ہیں یہ ایک شہر ہوا کرتا تھا جب دونوں ریاستیں ایک ہوا کرتی تھیں، مگر بادشاہ کے دو بچے تھے تو ریاست بھی دو نظریوں کی نذر ہو گئی۔
شہزادے عقل و فہم رکھتے تھے، وگرنہ دونوں نمائندے ہی مضبوظ ظاہر ہوتے تھے۔ خانہ جنگی کی بو سرایت کرنے لگی تو ریاست کے حصے بخرے کر دیئے گئے۔ ساتھ رہ کر لڑنے سے الگ رہ کر سکھ پانا بہتر ہے۔ ایک شہر کو چاک کرکے دونوں ریاستوں کا درمیان بنا دیا گیا۔ یہ ایک شہر ہوا کرتا تھا، سلطنت میں ضم تھا جب یہاں کارواں سرائے بنا ہوا تھا۔ تب مسافر دور سے آتے اور رات گزاری کو یہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ پھر سلطنت ٹوٹی، یہ شہر اب بغیر کسی سلطنت کی حدود کا شہر ہے، اب یہاں ایک چونگی موجود تھی۔ کارواں سرائے کو ڈاک خانے میں تبدیل کرلیا گیا تھا۔ گرد و نواع کے گاؤں قصبوں سے لوگ مال و اجناس کو فروخت کرنے منڈی لے جایا کرتے۔
شہر کو چاروں اور سے چونگیاں بنا کر داخلے پر داروغہ بیٹھا رکھے تھے۔ وقت قدیم کے بڑے شہروں کے نواب و جاگیرداروں اور بازار کے مالک کے حکم نامے پر ان رکاوٹوں میں بیل گاڑیاں، گدھا گاڑیاں اور گھوڑا گاڑیاں روک لی جاتیں۔ فی بوری گندم و گیہوں 3 چونگل مال نکال کر سرکاری کھاتے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اگلے وقتوں کا یہ ٹیکس ہوا کرتا تھا۔ جس سے ریاست مسافروں کو، راہگیروں کو امان بخشتی تھی۔تاجروں اور سودے باز لوگوں کے فروخت کے لئے لائے مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا تھا۔ یہ تو بس ایک ملک کا قانون بن چکا تھا، اگرچہ بیشتر کا مال لوٹ لیا جاتا تھا۔ عموماً مالکانِ بازار کی ہی نیت مال کو دیکھ کر بگڑتی۔ جس پر وہ قیمت کے بدلے مال نہیں لیتے بلکہ اپنے پالتو دہشت گردوں سے ان کی جان کو انتہائی خوف کے عالم تک لے جاتے اور جان بخشی مال چھوڑ کر بھاگنا ہوتا۔ اب یہ سودا کون بیچارہ نہ کرتا یہ سودا بے سود تھوڑی ہے۔ مال آنے جانے کی شے ہے مگر جان گئی تو مال کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
قدیم لوگ چونگل کو چونگی بنا کر ہی بولنے لگے یوں اس کا نام یہ پڑا۔ اسی تین رہ پکی سڑک کی چونگی کی پچھلی دیوار کے نیچے خالی نالے میں کالی کتیا نے 5 پلوں کو جنم دیا۔ ان پلوں کے باپ کا علم تو نہیں مگر ماں ان کے ساتھ تھی۔ سڑکوں، جنگلوں میں پیدا ہوئے چلتے پھرتے جانوروں کو کسی قفس کا اسیر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ جانور اس کے عادی نہیں ہوتے۔ کھلی فضا میں پیدا ہوئے، سارا دن پلّے رینگتے اور نالے کے اِس کونے سے اُس کونے تک جاتے، کتیا واپس سب کو جمع کرتی اور سمیٹ کر ایک جگہ رکھ دیتی۔ آدھے دن تک ان کا یہی مشغلہ ہوتا تھا۔ کتیا کو بازار کے اندرون ایک قصائی کی دوکان کے باہر سے اپنا اور اپنے بچوں کا گزر بسر مل جایا کرتا تھا۔ حلال کو قصاب اپنے پاس رکھ لیتا اور بیچ ڈالتا، جو حرام کھانا تھا اسے دے دیا جاتا۔ ایک عام اطلاع کے مطابق اس گوشت کا بڑا حصہ بازار کے مالک کے پالتو شیروں کو بھی جاتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ گوشت دھوتا نہیں تھا، شیر بنا خون لگا گوشت بھی نہیں کھاتے۔ کتیا دوپہر کو جاتی اور وہاں سے انتڑیاں اور باقی اس میں کھانے لائق شے اپنا حق سمجھ کر لے آتی، چند ایک ہڈیاں اور ان کے ساتھ لگا گوشت بھی کھا لیتی۔
آج وہاں معمول سے ہٹ کر ایک طرف کو چار لوگوں نے مال گاڑی کو روکے رکھا تھا۔ ان لوگوں نے مال گاڑی سے قیمتی پوشاک پہنے شخص کو اتار دیا۔ شکل سے مقامی ظاہر نہ ہوتا تھا، شاید وہ تاجر تھا۔ قریب ہی تھا کہ ان میں سے ایک اس کا گلا کاٹ ڈالتا۔
"مجھے جانے دو مجھے مت مارو۔" اس تاجر نے جان کا امان چاہا۔
"جانے دو اسے۔" جس کی مانند تینوں کا منہ تھا وہ بولا۔
تاجر کو چھوڑنا تھا اور وہ ایسے بھاگ کر غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگھ۔
عموماً وہ کتیا یوں کھڑی ہو کر ایسے منظر دیکھا کرتی تھی، اس کے دل میں بچوں کا خیال نہ ہوتا تو وہ مظلوم کی مدد ضرور کرتی۔ بازار کے بڑے دروازے کو 10 لوگ مل کر کھولتے اور شام ڈھلے بند کر دیتے تھے۔ سارا دن بازار کا بڑا سارا دروازہ منہ کھولے ہوتا۔ بازار کے گرد بڑی دیواریں بنا کر چوری چکاری اور ڈاکوؤں کے حملے سے محفوظ بنا دیا گیا تھا۔ معمولی سی انفنٹری موجود تھی۔بازار نما قلعہ بند منڈی دور دراز تک اپنی خوشبو چھوڑے ہوئے تھا۔ ہر عام و خاص اچھے برے تجربے سے اسے جانتا تھا۔ پھر موسم گرما نے سامان باندھنا شروع کیا اور ساون کا مہینہ آیا اور چلتے پھرتے بادل برستے اور کیا جم کر برستے۔
کتیا نے محسوس کیا کافی عرصہ سے یہ جو نالہ سوکھا پڑا تھا اب پانی سے بھرنے لگا ہے۔ اب وہاں گزارا کرنا مناسب نہیں۔ وہ باہر نکلی اور اِدھر اُدھر بھاگتی دوڑتی کہ کوئی جگہ رہنے کو میسر آجائے۔ ساون کا موسم جم کر برسا، شاید اس کتیا پر خصوصاً توجہ سے برس رہا تھا۔ وہ بھیگتی رہی اور ساری طرف اپنے اور اپنے پلوں کے سر چھپانے کو ٹھکانہ تلاشتی رہی۔ شہر کا دروازہ بند ہونے لگا تھا، اس نے ایک اندازہ لگایا مگر وہ سارے بچے اتنی جلدی نہیں لے جا سکتی تھی۔ بہت سارا وقت وہ ایسے ہی ادھر سے ادھر ماری ماری پھرتی رہی کہیں اسے محفوظ جگہ نہ مل پائی تو وہ مایوس واپس لوٹنے لگی۔ تب ہی چونگی کے داروغہ نے چونگی کا پٹ کھولا، گھر کے ول منہ کیا اور برساتی پہن کر نکل کھڑا ہوا۔کتیا اس کے پیچھے ہو لی، وہ چلتا ہوا ڈاک خانے کے پیش پر بنی سرکاری رہائش گاہ میں جا گھسا۔
کتیا نے وہاں ایک پرانی بگی ٹوٹی دیکھی جو خدا معلوم کب سے یہاں پڑی تھی۔ یہ وہی بگی تھی جو سرکاری تحویل میں تب لی گئی تھی جب ایک باغی نے حکومت کے اندرون کی خارجیوں کو اطلاعات پہنچائیں، اس کی سزائے موت کے بعد اس کی بگی ضبط کر لی گئی تھی۔وہ بگی بارش سے نم ہوئی اور کڑکتی دھوپ سے ٹوٹتی گئی۔اس کے لوہے والی جگہ زنگ کی نذر ہو چکی تھی۔اس پر چھپرا سوراخوں سے بھر ا پڑا تھا مگر نیچلا تختہ قدر بہتر ہی تھا ہاں یہ ان ہی درختوں کی لکڑی تھی جو انسانوں نے آبادی کے بعد درختوں کو کاٹ کاٹ کر استعمال لائی تھی۔
کتیا لوٹ کر گئی نالہ تقریباً بھرنے والا تھا۔ پلے بامشکل سر باہر کو نکالے ہوئے تھے۔ کتیا نے ایک پلے کو جبڑوں میں مضبوطی سے پکڑ کر اٹھایا اور زرا آگے جا کر ڈاک خانے کی عمارت کی پشت پر اسی بگی میں جا رکھا۔ اس کے یوں جانے پر باقی 4 پلو نے تعجب کیا اور باہر کی جانب نکلنے کو ہاتھ پیر مارنے لگے۔ ایک ایک کر کے وہ 4 بچے لے کر چلی گئی اور پانی مزید بھرتا گیا۔ بارش تیز ہونے لگی۔ ایک پلے نے کم جگہ پا کر اس پانی سے بھرے ہوئے نالے کو عبور کر لیا اور باہر ماں کی جانب بھاگا۔ جس وقت وہ اس سڑک پر آیا شہر سے باہر کی جانب ایک گھوڑا گاڑی تیزی سے آ رہی تھی۔ کتیا نے دور سے دیکھا اور بھونکنا شروع کر دیا اور گھوڑے اور گھوڑے والے کو اطلاع دینے کی کوشش کی۔ گھوڑا بھدک کر اور تیز ہو گیا۔ وہ پلا بھاگا اور ماں کی جانب ہونے لگا، اگلے لمحے گھوڑا گاڑی کا پہیہ اس ننھے پلے کو کچلتا ہوا آگے کی جانب چلا گیا۔ کتیا اس کے پیچھے بھاگ کر، بھونک کر احتجاج کرتی رہی۔ مگر چند لمحوں بعد اپنے نقصان کا جائزہ لینے پلٹ آئی۔اس کی بے بسی اس کی بدلتی آواز سے عیاں تھی۔
بارش کے پانی کے ساتھ پلے کے منہ سے رستے خون کا سنگم دیکھ کر اس نے منہ کی مدد سے اسے ہلایا مگر وہ بے جان ہو چکا تھا۔ کتیا اسے منہ میں پکڑنے لگی مگر بری طرح پسلیاں ٹوٹ جانے کی وجہ سے اس کی گرفت نہیں بن پائی۔ اس پلے کے منہ سے ہنوز خون رس رہا تھا۔ جیسے تیسے کر کے کتیا نے اسے ایک طرف کو کر دیا اور بہت دیر تک پلے کی بےجان لاش پر بین کرتی رہی اور منہ سے وقفہ وقفہ سے اسے جنبش دیتی رہی۔مگر وہ ہلتا نہیں تھا باقی کے پلے اسے تعجب سے دیکھتے، کتیا اضطراب کی حالت میں گم سم تھی۔وہ بارش کی وجہ سے نہ اسے دفنا سکتی تھی جب تک وہ اس کے سامنے پڑا رہا وہ توازن کھوتی گئی۔حتیٰ کے وہ اب بو چھوڑنے لگا۔اس مرے ہوئے پلے کی لاش کو باقی بچے کھینچا تانی کرنے لگے۔کتیا سے سہا نہ گیا اور اسے سب کے بیچ سے اٹھا کر سڑک پار چھوڑ آئی۔ بارش برستی رہی، سیاہ رات سر پر تھی۔ وہ مڑ مڑ کر پھر بھی پر امید نظروں سے دیکھتی۔رات واپس اپنی جگہ پر آئی اس نے باقی پلوں کو محفوظ رکھا، اپنے جسم کے نیچے دبا کر ان کو گرمایا۔اگلے دن زمین نرم ہو چکی تھی۔زرا سا وزن کہیں پڑتا تو دھنسنے لگتی۔کتیا بچ بچا کر شہر سے قصاب کی دکان کی جانب گئی۔لوٹی اس کے منہ میں اپنے اور اپنے بچوں کی خوراک تھی۔نادانستہ طور پر اس کی نظر اسی جانب پڑی ایک رات قبل جہاں وہ اپنا لخت جگر چھوڑ آئی تھی۔بہت سی چیلوں سے گھیرا بنا رکھا تھا۔وہ بھونکتی ہوئی بھاگی اور اپنا کھانے کا سامان وہیں پھینک کر اپنے بچے کو حصار میں لیا۔چیلیں اس کے منہ سے گرنے والےگوشت اور ملے جلے مواد پر ٹوٹ پڑیں اور یکے بعد دیگر سب اڑا لے گئیں۔کتیا فقظ بھونکتی رہ گئی۔مگر دوبارہ برسات میں سیاہ سے ماحول میں وہ دیر تک بھونکتی رہتی۔ رات تو اس کی گزری جیسے تیسے مگر اس کے پلّو نےکھانا نہیں کھایا تھا، اسے یاد آیا تو وہ بھاگی اور کچھ اور چھیچھڑے لے آئی۔سب کو سیر کر کے کھلایا ایک جانب کو لیٹ کر بچوں کو دودھ پلایا۔ مگر اگلی رات پھر بارش ہوئی مگر اب کی بار یہ برسات الگ تھی جب سیاہ رات میں بارش ہوتی ہے وہ جابجا بھونکتی رہتی ہے، بادل آتے تو آسمان کو دیکھ کر چلاتی ہے۔ دنیا انسانی میں اشرف المخلوقات ہونے کا مطلب تھا کہ باقی مخلوقات کا ہم خیال رکھیں مگر ہم نے اپنے علاوہ کسی جنس کو جینے کے لائق ہی نہیں سمجھا۔ اب وہ کتیا برسات ہونے پر ہر گھوڑا گاڑی، انسان نما ، گھوڑے نما، ہر چلتی پھرتی لکڑی کی گاڑی یا پہیے کی آواز سن کر اور گیلی سڑک دیکھ کر بھونکتی ہے، بہت بھونکتی ہے، وہ احتجاج کرتی ہے۔ وہ جانتی نہیں ہے اس کے بچے کا قاتل کون ہے، مگر وہ اس کے مماثل ہر شے پر بھونک کر، حملہ کرکے، اپنے طور پر ازالہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

Leave a Comment