Afsana#12 | Safeed Lamhy | HaaDi khan

افسانہ سفید لمحے
بقلم ہادی خان
"انسان کو جہاں پر لگے پندے پودے ملے۔ کہتے ہیں آدم علیہ سلام کا قد بہت دراز تھا۔ یوں انسان بڑھتا گیا اور پودے جو شاید فرشتوں نے لگائے تھے، وہ بھی بڑھتے گئے۔ تب کتنی ساری ہوا پیدا ہوئی ہوگی۔ جدید سائنس کہتی ہے یہاں کوئی دیو نما ڈائناسور بھی رہتے تھے، یہ انسانوں سے بھی اگلے زمانے کی بات ہے۔ اسی میں انسان بھی بندروں کے ہی کسی روپ سے انسان بنا ہے اور جدید پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں ہم بندروں کی جدید ترین شکل ہیں۔ مگر ہمارا مذہبی ریکارڈ تو انسانوں سے ہی شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے کے بارے میں ہمیں کیا لینا دینا۔ کچھ تھا بھی تو ہماری بلا سے ہو بھلا۔ مگر پھر عذاب الہٰی آیا، سب ڈوبتا گیا، سب منوں مٹی تلے جا سویا۔ اسی کسی عذاب کے متاثریں میں سے بہت ہی عجیب سی مخلوق کی ہڈیاں اور باقیات کے بہت سارے وقت تک زیرِ زمین رہنے سے مختلف معدنیات وجود میں آئیں اور آج بھی ہم انھیں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تو رہی خام خیالیاں یا شاید سچائیاں وللہ عالم۔ مگر تب دنیا اس طرح کی نہیں دکھتی تھی۔ درخت پھر بڑھتے گئے اور جنگلات میں تبدیل ہو گئے، انسانوں نے خود ساختہ جنگلات ابھی تک اگائے ہی نہیں تھے۔ سمندروں میں حصے بخرے بھی بانٹے نہ گئے تھے۔
صحرا میں بھی کوئی فوج نہ چلی تھی، کھجور کے پیڑ بھی خود ساختہ ہی تھے، جن کا پھل بنا گٹلی کا تھا، معلوم ہوتا ہے یہ جنت سے آئے تھے۔ کیوں کہ بنا گٹلی کا پھل جنت میں ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے درخت ہیں جو فرشتوں کے ہاتھوں سے لگے ہیں، ان میں باقی دنیاوی پھلوں کے مقابلے میں قدرے میٹھاس اور لذت زیادہ ہوتی ہے۔ انسان جو پھل خود لگاتا ہے وہ پھیکا بھی ہو سکتا ہے، مگر وہ جنتی پھل سو میں سے ایک اپنی پہچان کروا دیتا ہے۔ ان پھلوں پھولوں کو توڑتا کون تھا جب کہ انسان ابھی پھیلا نہیں تھا حیرت کی ہی تو بات ہے۔" یہ ساری بات مولا داد نے سنائی تو محلے کے بچے تھڑے پر بیٹھے شخص کی شکل تکتے رہے۔
مومنہ نے سر جھٹکا اور واپس دورِ حاضر میں آگئی۔ وہ تمام منظر بنتی ہوئی کہاں چلی گئی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔جو سوالات ہوئے وہ ان  آوازوں سے بھی لاتعلق رہی۔
"پھر انسان پھیلتے گئے تو کیا ہوا؟" وہ سب میں خاموش رہنے والی تھی مگر اس کے سوال کے ساتھ تمام بچوں کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔
"ابھی نہیں پھر کبھی، ابھی میری دکان داری کا وقت ہے۔" مولا داد پنساری تھا، اب وہ کچھ کوٹنے لگا۔
"مولو میری پھکی تیار کری تو نے؟" ایک عجیب و غریب مونچھوں والا شخص تھڑے پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہو گیا۔
اس کی رنگین دھوتی اور مونچھوں کی بڑھتی ہوئی لمبائی سے مومنہ یکسر ڈر کر پیچھے ہٹنے لگی۔وہ اپنا نورانی قائدہ اپنے سینے سے جوڑ کر گھر کی جانب بھاگ کھڑی ہوئی۔
"ہاں سرکار بس اسی کام کو کررہا ہوں۔" مولا داد اب زرا سنبھل کر بولا۔
پھر منظر شام کی طرف جاتا گیا۔
انسانوں کا اول گروہ کہاں آیا اور کیسے آیا وہ نہیں جانتی تھی، مگر وہ آپس میں بڑھتے شور اور آبادی کے ساتھ اس سب کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔ یہ سماج میں دھنگا فساد، یہ سب کچھ بہت نیا تھا، شاید وہ سمے کی غلط سوئیوں پر پیدا ہوئی تھی۔ ہاں مگر وہ کم سنی میں بھی بہت حساس تھی۔
"مومنہ سو جا کل اسکول بھی جانا ہے۔" بڈھی اماں نے اپنی چھڑی کو ہوا میں ہانکتے ہوئے کہا۔
"بی اماں سو ہی رہی ہوں، بس دیکھ رہی ہوں؟" اس کی بات کا آخری حصہ سوال پر اٹک گیا۔
"نی کیا دیکھ رہی ہے تو۔۔۔" بی اماں نے اپنا چشمہ دوبارہ پہن کر اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔
"بس تارے دیکھ رہی ہوں۔" مومنہ کہہ کر اوندھے منہ ہو کر چادر کھینچ کر سونے کو لیٹ گئی۔
"نی تارے کسی نے گنے ہیں، جو تو گن رہی ہے۔۔تارے تو اللہ بخشے تیرے دادے نے گنے تھے۔" وہ بھی دوبارہ لیٹتے لیٹتے قصے کا منہ کھول گئیں۔
"ہیں؟؟ بی اماں دادا نے تارے گنے تھے۔۔ کیسے گنے اتنے سارے ہوتے ہیں یہ تو۔۔۔" مومنہ برقی طاقت سے اٹھ بیٹھی اور بی اماں کی جانب تکنے لگی۔
"سوجا کل بتا دونگی۔۔۔" اماں نے اپنی چھڑی پر سے ہاتھ اٹھا دیا تھا، جس کا مطلب یہی تھا اماں میں اب اٹھنے کی ہمت نہیں رہی۔
"بی اماں ابھی بتا کیا بات ہے۔" مومنہ لاڈلی اور ضدی تھی، اپنی بات پر مینار بنا کر بیٹھ گئی، اب کہاں وہ ہلنے والی تھی۔
"نی سو جا، میری بڈھی ہڈیوں میں اتنا دم کھم نہیں کہ اب تیرے واسطے پھر سے اٹھ کر بیٹھ جاؤں۔۔۔" اماں نے دروغ گوئی کی اور آنکھیں  موند لیں۔
"بی اماں اٹھ کر بیٹھ، ابھی تو بڈھی تھوڑی ہوئی ہے، ابھی تو تجھے 2 پھیرے حج کے لگانے ہیں۔" مومنہ کی اس بات پر بی اماں میں تو بجلی دوڑ گئی۔۔
"تو سچ کہہ رہی ہے اے گڈی۔۔۔ اللہ تیری زبان مبارک کرے۔" بی اماں کھل کر پورے جی سے مسکرائیں گویا 25 برس کی جوان ہو گئی ہوں۔
"آمین بی اماں، میری دعا ہے تو 10 بار اور مالک حضور جائے۔" مومنہ نے بات منوانے کو مکھن نہیں دیسی گھی لگا دیا تھا۔
"اچھا سن تو بھی اپنی بات کی پکی ہے۔" اماں نے اپنی خوشی کو زیرِ لب چھپا دیا۔۔۔ 
"مجھے تیرے دادا نے کہا تھا مجھ سے کتنا پیار ہے۔۔۔" بی اماں زرا سا شرما گئیں۔۔
مومنہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوئی۔
"بی اماں، دادا کا ذکر ہوتا ہے تو تیرے چہرے پر لالی اور شرم کیوں آجاتے ہیں؟" مومنہ کو حیرت ہوئی۔۔
"نی ہمارے لیے سر کا تاج ہی تو سب ہوتا ہے، جب پتا لگتا ہے نسبت طے ہو گئی ہے، تب سے آخری سانس تک وہی سانسوں کی مالا پر چھایا رہتا ہے۔" بی اماں نے وضاحت کی۔
"تو دادا تو اب نہیں ہیں دنیا میں۔۔" مومنہ نے اپنے روایتی بے تکلف انداز میں کہہ ڈالا۔
"نی تیرے منہ میں آبلے پڑیں، اللہ بخشے کہنا کیوں بھول گئی تو۔۔۔" بی اماں یک دم آگ بگولہ ہو گئیں۔
"اچھا ناں بی اماں، اللہ بخشے دادا تو اب جنت میں ہے، اب تو کیوں اس کے نام پر شرماتی ہے۔۔۔" مومنہ نے غلطی درست کر کے دوبارہ سوال داغا۔
"ہمارے میں مرد و زن اسی کو کافی جانتے ہیں، جس سنگ ما پے ویا کر دیں۔" بی اماں نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔
"بی اماں پھر تاروں کا بتا نا۔۔۔" مومنہ اس موضوع سے اکتانے لگی۔۔
"خود ہی یہ پوچھا اب پلٹی مار لی۔" بی اماں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
"میری عمر کا خیال کر لے میں اتنا بول رہی ہوں اور اوپر سے پدڑی کے جیسے مجھے ادھر ادھر بھگانے لگی۔" بی اماں نے اپنی چھڑی کو ہاتھ میں لیا اور ٹانگیں منجھی سے نیچے لٹکا کر بیٹھ گئیں۔
"اللہ بخشے تیرے دادا نے جب مجھے کہا تھا کہ مجھ سے کتنا پریم ہے؟ یہ بات مجھ سے کرتے کرتے انھیں سات برس لگے، اللہ بخشے تیرا باپ اتنا سا تھا۔ اب تو وہ بھی مجھ سے رخصت ہو گیا۔ ہائے میں مارے شرم منہ چادر میں دے کر رہ گئی۔" بی اماں نے ابھی بھی منہ ہاتھ کے پیالے میں چھپا لیا تھا۔
مومنہ کو تو نیند کے جھونکے آنے لگے۔
اس نے منہ کھول کر جمائی لی اور ہوا اپنے اندر میں سمالی۔۔ بی اماں یہ سب دیکھ نہ سکی وگرنہ اسے ضرور جھڑک دیتی۔
"تیرا باپ اتنا سا تھا میری گود میں بڑا ہوا۔ اللہ ہی جانے اور کس کس نے رخصت ہونا ہے میرے ہاتھوں یا میں تم لوگوں کے ہاتھوں سے رخصت ہو جاؤں گی۔" بی اماں کو ہر غم کے موقع پر اپنی فکر ستانے لگتی تھی، یہ بات مومنہ نے بچپن سے ہی سن رکھی تھی۔
"بی اماں تارے رہ گئے۔۔" مومنہ نے یاد دہانی کروائی۔
"ہاں تیرے دادا نے جب مجھ سے کہا کتنا پریم ہے؟ تو میں نے کہا بہت سے زیادہ۔ پھر کہنے لگا کسی بات سے دلیل دو۔ میں نے کہا تارے گن لو، مجھے تم سے تاروں کی تعداد جتنا پیار ہے۔" بی اماں نے ایک سرد آہ بھری۔
"بی اماں پھر کیا ہوا؟" مومنہ کو تجسس ہونے لگا۔
"بھئی وہ بہت سارے تارے گنتے تھے، روز گنتے، ساری رات گنتے اور بہت دور تلک جاتے۔" بی اماں کی آنکھ میں آنسو آیا، وہ اسے چھپا گئیں۔
"پھر بی اماں؟" مومنہ نے ان کی ڈھارس بندھائی۔
"ایک روز وہ انسانوں کی بستی سے درندوں کی نگری تلک چلے گئے۔ سویرا ہوا وہ لوٹ کر نہ آئے۔اگلا سویرا ہوا تو پھر بھی نہ آئے۔ تیسرے سویرے وہ درندوں کے نگر سے مردہ حالت میں ملے۔" بی اماں اب آنسووں سے رونے لگیں۔
"اور نہیں سنائے ہوتا۔۔۔" وہ یوں کہتے ہوئے لیٹ گئیں اور روتے روتے جلدی ہی سوگئیں، انسان رو لے تو اسے نیند جلدی آجاتی ہے۔
مومنہ اسی سب کو سوچتے ہوئے دماغ میں بہت سی باتیں، اضطراب، الجھنیں لیئے سو گئی۔
یہ تمام کیفیات اس کے دماغ کے کسی لاشعور گوشے میں جمع ہونے لگیں۔
اگلے روز مومنہ صبح اٹھی اور اپنی سوم جماعت کا بستہ اپنے کندھے پر لٹکایا۔ ناشتہ وہ اس سے قبل کر چکی تھی، بی اماں نے دوپٹے کے کنارے سے دو روپے اس کی ہتھیلی پر رکھے اور وہ خوشی خوشی نکل کر اسکول کی جانب چل دی۔
اس کے سر پر کچھ کھٹ پٹ ہونے لگی۔
اس نے سر کو اٹھا کر دیکھا کیمیکل کی ڈور میں ایک کوا چمکادڑ کی مانند الٹا لٹکا ہوا تھا۔
وہ ابھی پھڑپھڑا رہا تھا۔ کسی کرب میں مبتلا تھا۔ مومنہ حساس تھی اسے دیکھ کر رونے لگی، اور اس کے بےجان ہونے تک اسے تکتی رہی۔
وہ بے حس ہوا مگر اسے آتی جاتی ہوا، ہلاتی اور ستاتی رہی۔
مومنہ اسکول میں بھی سارا دن بے دھیانی سے بیٹھی رہی۔ اس کی توجہ اس مردہ کوے اور دادا کی تین دن باسی لاش پر مرکوز تھی۔
کب گھنٹی بجی، ساری بچیاں اٹھ کر باہر کا چکر لگا آئیں، اگلی استانی آئیں، وہ اس سب سے لاتعلق بیٹھی تھی۔
چھٹی کی گھنٹی کے ساتھ اس کے ہوش بحال ہوئے، جب اس نے جماعت ہم جماعتوں سے خالی پائی۔ وہ کرسی سے اٹھی اور چلتی ہوئی گھر واپس آرہی تھی۔ اس کی نظر ایک جانب دریچے پر پڑی۔ وہاں چڑیوں کا گھونسلہ بنا ہوا تھا۔ جس کی گھاس کو ایک شخص جھاڑو کی مدد سے باہر پھینکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اگلے لمحے گھونسلا زمین پر آن گرا اور تین انڈے ٹکڑیوں میں ٹوٹ کر بکھر گئے۔ ان میں موجود ادھ بنے بچے اور ملی جلی جھلی پٹ پڑی۔
ایک طوفانِ احتجاج بلند ہوا اور چڑیوں نے اس جگہ کو آن گھیرا۔ مگر اب سب بے سود تھا، سب کچھ بے جان ہو چکا تھا۔ مومنہ یہ منظر بہت قریب سے دیکھ رہی تھی۔ ان چڑیوں میں سے دو ایک مختلف ہلکے بھورے رنگ کی تھیں اور ایک سیاہ دھبوں والا چڑا، وہ سب آسمان کی جانب دیکھ کر صدائیں بلند کر رہے تھے، مومنہ سے دیکھا نہ گیا، وہ وہاں سے ہٹ گئی۔
وہ گھر گئی تو خاموش رہی، کھانا کھا کر لیٹ گئی۔ اماں کام پر ہی تھی۔ بی اماں تلاوت کلامِ اللہ کررہی تھیں۔
عصر کی اذانوں کے ساتھ وہ سپارہ اٹھا کر مدرسے کی جانب چل دی۔ جب وہ مدرسے میں بیٹھی تھی، اس نے کھلی فضا کو دیکھا۔ وہاں چند پرندے چہچہارہے تھے۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ تعداد میں بہت سارے ہو گئے۔ مدرسے کا وقت ختم ہوا، وہ سپارہ پڑھ کر لوٹ رہی تھی، سگنل پر ایک جگہ اس نے پرندوں کو پناہ لیتے ہوئے دیکھا، وہاں سے بھی گھاس لٹک رہی تھی۔ اس نے نظر انداز کردیا کیا۔ اسے یاد آیا مدرسے کے سامنے چندے کے ڈبے کے قریب کوئی نہ جاتا تھا، اس میں سے بھی پرندوں کے گھونسلے کے تنکے نکلے ہوئے تھے۔ مومنہ یہ سب نظر انداز کر کے وہاں سے نکل آئی۔
وہ لوٹی تو مولا داد اپنی مخصوص نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ بچوں نے اس کے مدار میں اس کا حصار کر رکھا تھا۔مولو قصہ گو اپنی دھن میں قصہ سنارہا تھا۔
"جنات میں سے ایک نے سرزنش کی تھی، پھر اس کو قیامت تک سزا ملی۔" مولا داد اپنی کسی کہانی میں مشغول تھا۔ 
"سزا کیا ملی مہلت مل گئی۔"
"فرشتوں کے درختوں کا کیا ہوا مولا چچا؟" مومنہ نے سب میں جگہ بنا کر آگے آکر پوچھا۔
"ہاں مومنہ بچی کو پہلے بتا دیتا ہوں۔" مولا داد نے سب میں مومنہ کے سوال کو اہمیت دی۔
"وہ خدا کے حکم پر فرشتوں کے لگائے ہوئے پودے انسانوں نے کاٹ لیئے۔" اس نے مومنہ کو دیکھ کر کہا۔
"اس پر رہنے والے تمام پرندے کہاں گئے اور کیوں گئے؟" مومنہ نے خوف کے عالم میں پوچھا۔
"وہ کچھ بے گھر ہوئے، کچھ مارے گئے اور کچھ کوچ کر گئے، کیونکہ وہاں انسان آگئے تھے۔"

No comments

Powered by Blogger.