Column #20 | Ilam ki rok tham | HaaDi Khan
ازقلم ہادی خان
ہم انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ کی کائنات بہت وسیع ہے ۔ آج کے انسان نے ابھی تک ایک دنیا کو مکمل دریافت نہیں کیا تو اس جیسی اور بہت سی کائناتیں ہیں جو کہ سب مل کر ایک بڑی کہکشاں بناتی ہیں دریافت کرنے کا اہم کام ابھی باقی ہے۔ 16 صدی عیسویں کی بات ہے جب اٹلی کے شہر پیسا میں یسو مسیح کے ماننے والے لوگوں کے گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اسی بچے نے بڑے ہو کر انسانوں کی تاریخ بدل دی اور اپنے عصر کے سب لوگوں کو اپنے دعویٰ سے حیران کر دیا تھا۔ وہ راتوں کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کو دیکھتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا یہ دن میں کہاں کو چلے جاتے ہیں۔ یہ سب اس کے دماغ میں چل ہی رہا تھا کہ اسی عصر میں دوربین کی ایجاد ہوئی،اسی کے ساتھ دو لوگوں کا اس پر تنازعہ ہوا ایجاد کو اپنے نام کرنے کی لڑائی میں وہ کسی ایک کے حصے میں بھی نہیں آئی۔مگر گیلیلیو نے اس ایجاد کا سنا تو عینک ساز سے شیشے لے آیا۔ اس نے اسی ایجاد کو بہترین انداز بنا کر اب باقائدہ آسمان کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس نے پہلے ہی ارسطو کے دونوں نظریات ایک یہ کہ، زمین میں بیچ و خم ہیں مگر آسمان بالکل ہموار ہے اور دوسرا یہ کہ زمین مرکز ہے اور نظام شمسی اس کے گرد گھوم رہا ہے، کی تردید کر دی تھی۔یہی لڑکا جو کبھی ماضی میں ارسطو کادلدادا رہا تھا ۔ اس وقت لوگوں نے اس بات کو انجیل سے بغاوت کا رنگ دیا۔ مذہبی انتہا پسندی کی زد میں اسے اپنی کتاب کو عدالت میں بیان کرنا تھا۔اس نے اپنی کتاب میں دانستہ طور پر اس کا ذکر کیا تھا جس پر اسے عدالت کے سامنے اپنے کیے پر معذرت کرنی پڑی۔ گیلیلیو نے عدالت کے سامنے اپنی کتاب میں لکھے انجیل کے خلاف نظریات، کہ زمین مرکز نہیں ہے پر لعنت بھیجی مگر ساتھ ہی زیرِ لب کہامگر زمین تو پھر بھی گھوم رہی ہے۔ پھر جناب دنیا کے مختلف سیارے، ستارے دریافت ہوئے، انسانوں نے خلاؤں کو دریافت کیا۔ اب تو کہتے ہیں انسان چاند پر بھی ڈیرے ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔ انسانوں نے نہ صرف خلائی مخلوق دریافت کر لی ہے بلکہ ان سے گفتگو کرنے کے آلات بھی بنا دیئے گئے ہیں۔ مغرب ہم سے تعلیمی لحاظ سے بہت آگے ہے۔ پھر مسلم دنیا میں، ایک وقت تھا کہ حق تعالیٰ کو ماننے والوں نے جب اسپین فتح کیا ۔وہاں دریافتیں کیں ایجادات کیں دنیا بھر میں مسلمانوں نے ایجادات کرکے ایک ہنگامہ برپا کر دیا، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔
انقلابِ عرب کے بعد جو ہم میں علم کا سورج، یعنی ہمارے حضور امطہرﷺ انھوں نے علماء اور مفکر تیار کیئے، اسی کا فیض نسل در نسل چلتا آرہا ہے۔ ان کا لکھایا، ان کا کہا، ان کا سمجھایا ہوا، آج بھی ہم سب کے سامنےاحادیث و اقوال کی صورت موجود ہے۔ مگر مسلمان تب تک کامیاب رہے جب تک کتابوں سے جڑے رہے۔ جب مسلمانوں میں کتاب کا رجحان کم ہونے لگا تب ہی ہم پس پا ہونے لگے۔ پہلے مسلمانوں کی ایجادات کی دھوم ساری دنیا میں ہوا کرتی تھی، پھر جب توحید دنیا میں عام ہوگیا بظاہر یسو مسیح کے ماننے والے اندر سے توحید پرست بن گئے اور ان کے قلب میں وہ سوز اتر گیا۔ انھوں نے کلام پاک پڑھا، دنیا میں دریافتیں کی، نظریات پیش کیئے۔ مومن کی میراث علم تھا، آقاﷺ کے فرمان کو ہم نے ترک کر دیا، ہم داڑھی کے تضادات اور ہاتھوں کے باندھنے میں الجھ پڑے، ہمارے اصل مقاصد غیر مسلموں نے لے لیے اور وہ اس پر قائم ہیں، جب ہی ترقی یافتہ ہیں۔ ان کے یہاں یہ رواج ہے کہ وہ کھانے سے زیادہ ترجیح مطالعہ کو دیتے ہیں۔ مغربی قومیں بلا کی بری اور کفر کے مرتکب ہوں، مگر ان میں یہ مادہ بچپن سے ہی ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے کرتے ہیں کہ ہر ماہ کتابیں پڑھنے کا ٹارگٹ رکھتے ہیں، اگر کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں، آتے جاتے سن لیتے ہیں مگر کتاب سے کسی صورت دور نہیں۔ مجھے ان کی روایت سے بھی اختلاف نہیں، مگر ان کے یہاں یہ سب پایا نہیں جاتا، وہ جو تیار کر رہے ہیں یہ کہیں باہر سے فیض لے کر کررہے ہیں۔ دوسری جانب وطنِ عزیز ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں ہر سال کتنے لوگ اچھے نمبروں سے پاس ہو کر آگے آتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ بہت سارے نمبر لیتے ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہم 20 ہزار انجینئر ہر سال پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال 14 ہزار ڈاکٹر بنتے ہیں، جن میں سے 70 فی صد خواتین ہوتی ہیں۔ یعنی کہ 10 ہزار خواتین ڈاکٹر بنتی ہیں اور 4 ہزار مرد حضرات، اس سے عورت کے برابری، بلکہ زیادتی کا اعلان ہوتا ہے۔تعلیم نسواں اب محفوظ دور میں داخل ہو گئی ہے۔ خیر ہمارے ملک میں ہر سال اتنے لوگ ڈاکٹر، انجینئر بن رہے ہیں، اتنی ڈگریاں بنتی جا رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے بچے بھی ہیں جنھوں نے 100 میں سے 100 نمبر بھی لیے ہیں امتحانات میں، مگر ہماری تعلیم کا وہ معیار نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کوئی نیوٹن اور آئن سٹائن جنم نہیں لے رہا۔ ہم سائنس دان نہیں بنا رہے۔ ہم نے اپنی اپنی فیلڈ کا پیر پیدا نہیں کیا، جو دنیا کے سامنے اپنے سینے پر سبز ہلالی پرچم لگا کر اپنی لائن کو منوا کر کہے، میں پاکستان سے تعلیم یافتہ ہو کر آیا ہوں۔ دنیا میں مسلمانوں نے پھر سے علم کا علم بلند کرنا ہوگا مگر کیسے؟
سوال یہ ہے کہ مسائل کا حل کہاں ہے؟
مسائل تو بیان ہو گئے مگر ان مسائل کا حل قرآن دیتا ہے۔ ہمیں ان باتوں کا حل اسلام کی وہ تعلیمات دیتی ہیں جنہیں ہم بھول بیٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ جمعہ کی آیت ۵ میں۔
مَثَلُ الَّذِيۡنَ حُمِّلُوۡا التَّوۡرٰٮةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوۡهَا كَمَثَلِ الۡحِمَارِ يَحۡمِلُ اَسۡفَارًاؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِىۡ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴿۵﴾
جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اِس سے بھی زیادہ بری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔
اللہ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ علم کو بنی اسرائیل کے علماء کی مانند اپنے اوپر لاد مت دو، یوں تمہاری مثال گدھے جیسی ہو گی، بلکہ اس سے فیض حاصل کرو، اس پر فکر کرو، سوچ لڑاؤ اس میں سے اپنے لئے دانائی کی باتیں دریافت کرو۔ خدا کی کائنات میں بہت سے علوم ہیں، مگر کہتے ہیں قیامت سے پہلے اپنی اپنی لائن کے ماہرین کو اٹھا لیا جائے گا، ہر علم مٹا دیا جائے گا۔مسلمانوں کے ممالک میں اب تعلیم کا رجحان بہت کم ہے۔ کہتے ہیں علم کو اپنے سینے میں روک لینا بھی گناہ ہے، علم تو بہتا ہوا دریا ہے، اس کو اگر بند لگا دو گے تو یہ گدلا ہو جائے گا، یہ یوں بہتا ہی اُجلا رہتا ہے۔ اگر ایک ماہر اپنے مرنے سے پہلے اپنے علم کو منتقل نہیں کرتا اس نے اپنے علم کا حق ادا نہیں کیا، جیسے غالب کہتا ہے۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
شاعر کا بھلے جو مطلب ہو مگر موقع محل کے حساب سے بات سے یہاں پر مناسب لگتی ہے، حق تعالیٰ نے سانسیں دیں مگر ہم نے ان سانسوں کا حق ادا نہ کیا، جو اس نے انسان کو تاکید کی تھی وہ انسان نے سنی نہیں۔
آج سے چودہ سو سال پہلےقرآن نے جس چیز میں ہمارے واسطے نشانی رکھی، وہ دریافت اسلامی ممالک کے حصے سے نہیں بلکہ مغرب کی جانب کی گئی۔
وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِىۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُوۡنَۙ ﴿۶۸﴾
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا۔
سورۃ نحل کی اس آیت کو مغربی تحقیق دانوں نے آج کی دنیا میں بیان کیا ہے کہ شہد کی مکھیوں میں جو شہد جمع کرنے کا کام ہے وہ مادہ مکھیاں کرتی ہیں۔ جیسے کہ قرآن میں نحل کا لفظ آیا ہے جو کہ مونث کے لئے استعمال ہوتا ہے، تو فکر کی بات ہے کہ لگ بھگ 1450 سال قبل عرب میں ایک شخص نے اس قرآن کو خدا کا کلام کہا تو بہت کم لوگ ماننے کو تیار ہوئے، مگر آج کی اس مغربی دریافت کے بعد اس دنیا کے پاس اسلام کو، حق اللہ کو، واحد ماننے میں کون سا جواز رہ گیا؟
اس سے بڑا سوال ہے ہم 1450 سال سے قرآن پڑھ رہے ہیں، مگر آج تک یہ ہم نے دریافت نہیں کیا، جو ہمیں نظر نہیں آیا وہ غیر مسلموں کو کیسے نظر آگیا؟ کیا ہمارا علم مکمل ہمیں مل رہا ہے یا کسی جانب کسی نے علم سینے میں ہی روک رکھا ہے۔
ہم انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ کی کائنات بہت وسیع ہے ۔ آج کے انسان نے ابھی تک ایک دنیا کو مکمل دریافت نہیں کیا تو اس جیسی اور بہت سی کائناتیں ہیں جو کہ سب مل کر ایک بڑی کہکشاں بناتی ہیں دریافت کرنے کا اہم کام ابھی باقی ہے۔ 16 صدی عیسویں کی بات ہے جب اٹلی کے شہر پیسا میں یسو مسیح کے ماننے والے لوگوں کے گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اسی بچے نے بڑے ہو کر انسانوں کی تاریخ بدل دی اور اپنے عصر کے سب لوگوں کو اپنے دعویٰ سے حیران کر دیا تھا۔ وہ راتوں کو آسمان پر چمکنے والے ستاروں کو دیکھتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا یہ دن میں کہاں کو چلے جاتے ہیں۔ یہ سب اس کے دماغ میں چل ہی رہا تھا کہ اسی عصر میں دوربین کی ایجاد ہوئی،اسی کے ساتھ دو لوگوں کا اس پر تنازعہ ہوا ایجاد کو اپنے نام کرنے کی لڑائی میں وہ کسی ایک کے حصے میں بھی نہیں آئی۔مگر گیلیلیو نے اس ایجاد کا سنا تو عینک ساز سے شیشے لے آیا۔ اس نے اسی ایجاد کو بہترین انداز بنا کر اب باقائدہ آسمان کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس نے پہلے ہی ارسطو کے دونوں نظریات ایک یہ کہ، زمین میں بیچ و خم ہیں مگر آسمان بالکل ہموار ہے اور دوسرا یہ کہ زمین مرکز ہے اور نظام شمسی اس کے گرد گھوم رہا ہے، کی تردید کر دی تھی۔یہی لڑکا جو کبھی ماضی میں ارسطو کادلدادا رہا تھا ۔ اس وقت لوگوں نے اس بات کو انجیل سے بغاوت کا رنگ دیا۔ مذہبی انتہا پسندی کی زد میں اسے اپنی کتاب کو عدالت میں بیان کرنا تھا۔اس نے اپنی کتاب میں دانستہ طور پر اس کا ذکر کیا تھا جس پر اسے عدالت کے سامنے اپنے کیے پر معذرت کرنی پڑی۔ گیلیلیو نے عدالت کے سامنے اپنی کتاب میں لکھے انجیل کے خلاف نظریات، کہ زمین مرکز نہیں ہے پر لعنت بھیجی مگر ساتھ ہی زیرِ لب کہامگر زمین تو پھر بھی گھوم رہی ہے۔ پھر جناب دنیا کے مختلف سیارے، ستارے دریافت ہوئے، انسانوں نے خلاؤں کو دریافت کیا۔ اب تو کہتے ہیں انسان چاند پر بھی ڈیرے ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔ انسانوں نے نہ صرف خلائی مخلوق دریافت کر لی ہے بلکہ ان سے گفتگو کرنے کے آلات بھی بنا دیئے گئے ہیں۔ مغرب ہم سے تعلیمی لحاظ سے بہت آگے ہے۔ پھر مسلم دنیا میں، ایک وقت تھا کہ حق تعالیٰ کو ماننے والوں نے جب اسپین فتح کیا ۔وہاں دریافتیں کیں ایجادات کیں دنیا بھر میں مسلمانوں نے ایجادات کرکے ایک ہنگامہ برپا کر دیا، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔
انقلابِ عرب کے بعد جو ہم میں علم کا سورج، یعنی ہمارے حضور امطہرﷺ انھوں نے علماء اور مفکر تیار کیئے، اسی کا فیض نسل در نسل چلتا آرہا ہے۔ ان کا لکھایا، ان کا کہا، ان کا سمجھایا ہوا، آج بھی ہم سب کے سامنےاحادیث و اقوال کی صورت موجود ہے۔ مگر مسلمان تب تک کامیاب رہے جب تک کتابوں سے جڑے رہے۔ جب مسلمانوں میں کتاب کا رجحان کم ہونے لگا تب ہی ہم پس پا ہونے لگے۔ پہلے مسلمانوں کی ایجادات کی دھوم ساری دنیا میں ہوا کرتی تھی، پھر جب توحید دنیا میں عام ہوگیا بظاہر یسو مسیح کے ماننے والے اندر سے توحید پرست بن گئے اور ان کے قلب میں وہ سوز اتر گیا۔ انھوں نے کلام پاک پڑھا، دنیا میں دریافتیں کی، نظریات پیش کیئے۔ مومن کی میراث علم تھا، آقاﷺ کے فرمان کو ہم نے ترک کر دیا، ہم داڑھی کے تضادات اور ہاتھوں کے باندھنے میں الجھ پڑے، ہمارے اصل مقاصد غیر مسلموں نے لے لیے اور وہ اس پر قائم ہیں، جب ہی ترقی یافتہ ہیں۔ ان کے یہاں یہ رواج ہے کہ وہ کھانے سے زیادہ ترجیح مطالعہ کو دیتے ہیں۔ مغربی قومیں بلا کی بری اور کفر کے مرتکب ہوں، مگر ان میں یہ مادہ بچپن سے ہی ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے کرتے ہیں کہ ہر ماہ کتابیں پڑھنے کا ٹارگٹ رکھتے ہیں، اگر کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں، آتے جاتے سن لیتے ہیں مگر کتاب سے کسی صورت دور نہیں۔ مجھے ان کی روایت سے بھی اختلاف نہیں، مگر ان کے یہاں یہ سب پایا نہیں جاتا، وہ جو تیار کر رہے ہیں یہ کہیں باہر سے فیض لے کر کررہے ہیں۔ دوسری جانب وطنِ عزیز ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں ہر سال کتنے لوگ اچھے نمبروں سے پاس ہو کر آگے آتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ بہت سارے نمبر لیتے ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہم 20 ہزار انجینئر ہر سال پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال 14 ہزار ڈاکٹر بنتے ہیں، جن میں سے 70 فی صد خواتین ہوتی ہیں۔ یعنی کہ 10 ہزار خواتین ڈاکٹر بنتی ہیں اور 4 ہزار مرد حضرات، اس سے عورت کے برابری، بلکہ زیادتی کا اعلان ہوتا ہے۔تعلیم نسواں اب محفوظ دور میں داخل ہو گئی ہے۔ خیر ہمارے ملک میں ہر سال اتنے لوگ ڈاکٹر، انجینئر بن رہے ہیں، اتنی ڈگریاں بنتی جا رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے بچے بھی ہیں جنھوں نے 100 میں سے 100 نمبر بھی لیے ہیں امتحانات میں، مگر ہماری تعلیم کا وہ معیار نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کوئی نیوٹن اور آئن سٹائن جنم نہیں لے رہا۔ ہم سائنس دان نہیں بنا رہے۔ ہم نے اپنی اپنی فیلڈ کا پیر پیدا نہیں کیا، جو دنیا کے سامنے اپنے سینے پر سبز ہلالی پرچم لگا کر اپنی لائن کو منوا کر کہے، میں پاکستان سے تعلیم یافتہ ہو کر آیا ہوں۔ دنیا میں مسلمانوں نے پھر سے علم کا علم بلند کرنا ہوگا مگر کیسے؟
سوال یہ ہے کہ مسائل کا حل کہاں ہے؟
مسائل تو بیان ہو گئے مگر ان مسائل کا حل قرآن دیتا ہے۔ ہمیں ان باتوں کا حل اسلام کی وہ تعلیمات دیتی ہیں جنہیں ہم بھول بیٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ جمعہ کی آیت ۵ میں۔
مَثَلُ الَّذِيۡنَ حُمِّلُوۡا التَّوۡرٰٮةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوۡهَا كَمَثَلِ الۡحِمَارِ يَحۡمِلُ اَسۡفَارًاؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِىۡ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴿۵﴾
جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اِس سے بھی زیادہ بری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔
اللہ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ علم کو بنی اسرائیل کے علماء کی مانند اپنے اوپر لاد مت دو، یوں تمہاری مثال گدھے جیسی ہو گی، بلکہ اس سے فیض حاصل کرو، اس پر فکر کرو، سوچ لڑاؤ اس میں سے اپنے لئے دانائی کی باتیں دریافت کرو۔ خدا کی کائنات میں بہت سے علوم ہیں، مگر کہتے ہیں قیامت سے پہلے اپنی اپنی لائن کے ماہرین کو اٹھا لیا جائے گا، ہر علم مٹا دیا جائے گا۔مسلمانوں کے ممالک میں اب تعلیم کا رجحان بہت کم ہے۔ کہتے ہیں علم کو اپنے سینے میں روک لینا بھی گناہ ہے، علم تو بہتا ہوا دریا ہے، اس کو اگر بند لگا دو گے تو یہ گدلا ہو جائے گا، یہ یوں بہتا ہی اُجلا رہتا ہے۔ اگر ایک ماہر اپنے مرنے سے پہلے اپنے علم کو منتقل نہیں کرتا اس نے اپنے علم کا حق ادا نہیں کیا، جیسے غالب کہتا ہے۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
شاعر کا بھلے جو مطلب ہو مگر موقع محل کے حساب سے بات سے یہاں پر مناسب لگتی ہے، حق تعالیٰ نے سانسیں دیں مگر ہم نے ان سانسوں کا حق ادا نہ کیا، جو اس نے انسان کو تاکید کی تھی وہ انسان نے سنی نہیں۔
آج سے چودہ سو سال پہلےقرآن نے جس چیز میں ہمارے واسطے نشانی رکھی، وہ دریافت اسلامی ممالک کے حصے سے نہیں بلکہ مغرب کی جانب کی گئی۔
وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِىۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُوۡنَۙ ﴿۶۸﴾
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا۔
سورۃ نحل کی اس آیت کو مغربی تحقیق دانوں نے آج کی دنیا میں بیان کیا ہے کہ شہد کی مکھیوں میں جو شہد جمع کرنے کا کام ہے وہ مادہ مکھیاں کرتی ہیں۔ جیسے کہ قرآن میں نحل کا لفظ آیا ہے جو کہ مونث کے لئے استعمال ہوتا ہے، تو فکر کی بات ہے کہ لگ بھگ 1450 سال قبل عرب میں ایک شخص نے اس قرآن کو خدا کا کلام کہا تو بہت کم لوگ ماننے کو تیار ہوئے، مگر آج کی اس مغربی دریافت کے بعد اس دنیا کے پاس اسلام کو، حق اللہ کو، واحد ماننے میں کون سا جواز رہ گیا؟
اس سے بڑا سوال ہے ہم 1450 سال سے قرآن پڑھ رہے ہیں، مگر آج تک یہ ہم نے دریافت نہیں کیا، جو ہمیں نظر نہیں آیا وہ غیر مسلموں کو کیسے نظر آگیا؟ کیا ہمارا علم مکمل ہمیں مل رہا ہے یا کسی جانب کسی نے علم سینے میں ہی روک رکھا ہے۔

Leave a Comment