Column #21 | Adhura Amal Nama | HaaDi Khan

کالم : ادھورا اعمال نامہ
ازقلم ہادی خان
ہم اس پرسکون معاشرے میں رہ رہے ہیں، جہاں ہر کسی کو اپنے مسائل کے علاوہ سب سے ہمدردی ہے۔ ہم سب اگر اپنے اپنے مسائل پر غور کریں، ان کو حل کریں، تو مجموعی طور پر سب کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اول ہم اپنے مسائل کو جانتے نہیں، دوم ہم جانتے ہوں تو ان مسائل کا حل نہیں جانتے اور اگر ہم حل جانتے ہیں تو اس کو حل کرنا نہیں جانتے۔ ہم گھر سے نکلتے ہیں، سگنل لال ہے تو ہارن دے دے کر سامنے والے کو غلطی کا مرتکب ٹہراتے ہیں۔ حالانکہ یہاں ہم غلطی پر ہیں، ہم میں صبر نہیں ہے۔ ہم سب کو لگتا ہے ہم سے آگے یا اوپر جو ہے، سب اسی کی غلطی ہے۔ جیسے عوام کو معلوم ہے کہ ہمارے اخلاقی مسائل کا حل حکومت کے پاس نہیں، مگر ہم اس کا بھی ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ ہم نے اگر کل کچرا کسی کے گھر کے سامنے رکھ دیا اور اگلے دن اس نے بھی اپنے گھر کا کچرا ہمارے گھر کے سامنے رکھ دیا، تو اس کا ذمہ دار حکومت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے، کہ حکومتی گاڑیاں کچرا وقت پر نہیں اٹھاتیں، حالانکہ یہ ہمارے عمل کا بدلہ ہے، ہمارا مکافاتِ عمل ہے۔ ایسے ہی ہمارے ارد گرد بہت سے مسائل ہیں، جن کا حل حکومت کے پاس نہیں، بلکہ ہماری اپنی سعی میں ہے، ہماری اپنی قوتِ دست میں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کبھی کبھی ہم کچھ چیزوں سے بالکل لاتعلق ہو جاتے ہیں یا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اخلاقی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ ہمیں زمین پر پڑا اپنے ملک کا پرچم بھی نہیں نظر نہیں آتا، یا ہم اتنے تہذیب یافتہ ہیں کہ ہم اس کو اٹھانے کے لیے جھکنا پسند نہیں کرتے۔ خدا معلوم ہم کسی خوش فہمی میں ہیں، یا غلط فہمی میں۔ خیر ہم نے ہمیشہ اپنے بچوں کو بھی نظرانداز کر دیا ہے۔ کہیں روزگار کی تلاش میں اتنے آگے نکل گئے ہیں، کہ پردیس پہنچ کر ہم نے اپنے بچوں کو یکسر بھلا دیا ہے۔ میں جانتا ہوں یہ ان کے ہی بھلے کے لیے ہے، مگر یہ بات مان لیں کہ ہم نے ان کو بھلا دیا ہے۔ ہم پر ان کی حفاظت، صحت اور پھر تعلیم کا ذمہ ہے، پہلی دونوں ذمہ داریوں کے بعد تیسری نے آنا تھا، ہم تیسری ذمہ داری مکمل کرنے کے لیے اول دو باتیں فرموش کر دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک میں ہیں، تو ہم کام کے سلسلے میں اتنے مصروف ہیں کہ پل بھر کا وقت نہیں نکال سکتے ان بچوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے، جن کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ اگر ہم کسی اچھی جگہ ملازمت کر رہے ہیں یا سرکاری نوکری ہے یا اپنا کاروبار ہے، تو ہم اس رویے کو خود پر ہر وقت سوار رکھتے ہیں۔ یہ دورِ حاضر کا بہت بڑا المیہ ہے، ہم نے غور نہیں کیا ہوگا، جب ہم اپنے بچوں سے ملتے ہیں تو اسی سرکاری افسر کی ٹھاٹ باٹ کے ساتھ، یا پھر کسی کمپنی کے سی ای او یا اپنے کاروبار کے سیٹھ بن کر ملتے ہیں۔ ان کو غلطی کرنی کی کوئی گنجائش نہیں دیتے۔ ان سے اسی سرکاری افسر، کاروباری سیٹھ کی حیثیت سے ملتے ہیں۔ میرے ماں باپ قربان ہوں آقاﷺ سردار کونین پر، آقاﷺ جب بچوں سے ملتے تھے تو بچوں کی مانند ملتے تھے، ان کے ساتھ کھیلتے اور گود میں اٹھا کر پیار کرتے، انھیں اپنی پیٹھ پر بیٹھا کر گھماتے تھے، اپنے کاندھے پر بیٹھاتے تھے۔ مگر یہاں ہم اگر خود کو جانچیں، ہم اپنے بچوں سے کیسے ملتے ہیں، ماؤں نے بچوں کے دماغوں بابا یا ابا کے نام کا اتنا خوف ڈال رکھا ہوتا ہے کہ بچہ کم سنی میں ہی باپ کو کسی جلاد کی مانند سمجھنے لگتا ہے۔ اس پر یہی کہ مائیں پرورش میں یکسر ناکام ہو گئی ہیں، پیار لاڈ سے سمجھانے کے بجائے ایک بات کہہ دی کہ باپ آئے گا اس سے کہوں گی، جس سے بچہ ایک خیالی خوف کو لیے بڑا ہوتا ہے۔ ہمیں بچوں کے ساتھ ان کی عمر کی جانب لوٹنا چاہیے۔ بچہ اگر 4 برس کا ہے ہمیں اس سے اس کی زبان میں بات کرنی چاہیے، اس کی سوچ تک کے الفاظ استعمال کرنے چاہیے، جو اس کی ذہنیت ہے، اسی کے حساب سے بولنا چاہیے۔ مگر ہم کیا کرتے ہیں 4 برس کے بچے کے ساتھ 30 برس کی ذہنیت سے بات کرتے ہیں، اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ، اس لیے وہ بچہ پس پا ہو جاتا ہے۔ سمیٹ دیتا ہے اپنی معصومیت کو، اپنی شرارتوں کو، اپنے پچپنے کو اور کوشش کرتا ہے کہ ہم سے ایک میچور انسان بن کر ڈیل کرے۔ ایسا کر کے ہم اس کے اندر کا بچپن چھین رہے ہیں، ہم بچوں سے ان کا پچین چھین رہے ہیں یا شاید ہم ان بچوں کو اسی عمر میں مار رہے ہیں۔ پھر وہ کبھی بھی اصل بن کر آپ سے بات نہیں کر پائیں گے، پھر وہ اپنی ایک مصنوئی سی شخصت جو آپ کو پسند ہو، بنا لیں گے۔
کیا ہوگا اگر ہم بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بچوں کی عمر کے بن کر بات کریں، پھر وہ ہم سے آسانی سے بات کریں گے، ہمارے بیچ میں کوئی خلا نہیں رہے گا، وہ اصل ہو کر آپ سے گھل مل جائیں گے۔جب ہم ان کی عمریں بڑھا دیں گے، 4 برس کے بچے 30 برس کے ہو کر سوچیں گے تو وہ اپنی کوتاہی، خوف، غلطی، کبھی بھی ہم پر عیاں نہیں کریں گے۔ وہ اپنی ذات تک محدود رہ جائیں گے، سمٹ چمٹ کر اپنی بات اور اپنے راز، اپنی ذات تک محدود کر لیں گے۔ بڑھنے کی عمر میں وہ سمٹتے چلے جائیں گے۔ وہ بہت کمپوز ہو کر باپ سے، ماں سے، بات کرنے لگیں گے۔ بچوں کو ان کی عمر کا ہو کر دیکھانا چاہئے، تاکہ وہ کسی تکلف کو آڑے نہ لاسکیں۔ اگر کوئی مصیبت ان پر آجائے تو وہ بلاجھجک اپنی مشکل کو باپ سے، ماں سے بیان کر سکیں۔ بچے ہم سے وہ بات نہیں کہہ پاتے جو انھوں نے نئی دیکھی ہو یا ان کو بری لگی ہو۔ کیوں کہ وہ آپ کے سیٹھ رویوں سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے وہ پہلے ایسی باتوں کو چھپانا چاہیں گے۔ گویا ہم ان سے ان کی معصومیت اور بچپن چھین کر انھیں اپنی عمر کا سمجھ فہم والا بنادیتے ہیں۔ پھر بچے وہ سب نہیں بتا پاتے کہ ان کے ساتھ کہاں کہاں بدسلوکی ہوئی، کہاں ان کو برا لگا، اور کس کی بات کا برا لگا۔
بچوں سے بدسلوکی ایک اہم موضوع ہے، جو اب تک ہم نے فراموش کیا ہوا تھا۔ اس میں جنسی زیادتی، تشدد، گھریلو ناچاکی وغیرہ شامل ہیں، جو بچوں پر بہت گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔نادانستگی میں بچوں کو ہم نے خود ہی خود سے دور کر دیا ہے، ہمیں ایسے واقعیات کا پتہ تب لگتا ہے جب وہ زیادتی کرکے قتل کر دیئے جاتے ہیں۔اگر وہ مارے نہ جائیں تو ان پر اس کا اثر تمام عمر رہتا ہے۔ وہ خوف کے ساتھ زندگی گزار دیتے ہیں، مگر اپنی زبان سے کبھی کچھ نہیں کہتے کیوں کہ وہ اپنے والدین کے متعلق ایک منفی تاثر کو گمان میں بیٹھا چکے ہوتے ہیں۔ ان کی نشونما رک جاتی ہے۔ وہ بڑھ نہیں سکتے، وہ اسی عمر میں رک جاتے ہیں۔ بظاہر وہ پروان چڑھتے ہیں، مگر ذہنی طور پر وہ اسی عمر کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان واقعات کو بھلانے کے لیے ان کو خاصی عمر درکار ہوتی ہے۔
کچھ بچوں میں چڑچڑا پن ہوتا ہے، وہ نفسیاتی طور پر بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں۔ جب ایک بچے کے سامنے اس کے گھر میں والدین میں ہر روز لڑائی ہو۔ وہ بچپن سے انتہائی شور وغل میں رہا ہو۔ اس کا باپ، اس کی ماں پر اور اس کی ماں اس کے باپ پر چلا رہی ہو، ماں چلا رہی ہو اور باپ سن رہا ہو یا پھر باپ پیٹ رہا ہو اور ماں سہہ رہی ہو، تو اس بچے پر اس قسم کے واقعات  کے برے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کا بچپن وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ وہ اس دنیا میں تشدد دیکھ کر تھم جاتا ہے۔ بےسکونی کا علاج پھر اسے نشے کی جانب بھی لے جاتا ہے، کبھی اپنی ذات کی نفی کی جانب لے جاتا ہے اور کبھی غلط راستوں پر۔ بچے کبھی یہ سوچ کر اس دنیا میں نہیں آتے کہ وہ برے بنیں گے، ہمارے رویے، ہماری باتیں ان کو برا بناتی ہیں۔
میری رائے یہی ہے کہ اگر آپ ان پڑھ بھی ہیں، تو بھی ہفتے ہفتے کی تعلیم لے لیں۔ اگر آپ بچے جن رہے ہیں تو آپ کو اتنا شعور ہونا چاہیے کہ وہ کس بات سے برا منا سکتے ہیں، ان کی پروش کیسے کی جائے، ان کے سامنے کیا بات کرنی ہے اور کیا نہیں۔ کیوں کہ بچوں کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔آپ کو خدا کے حضور کل کو جواب دہ ہونا پڑے گا، حقوق ادا کیے ہوں تو بہتر ہے۔ جیسے کمرہ امتحان میں کہتے ہیں جواب آتا ہو یا نہیں مگر سوال لکھ کر کوشش ضرور کریں، اسی طرح اپنا اعمال نامہ ادھورا مت چھوڑیں، اس کو بھرا ہوا لے کر جائیں تاکہ کل کو جواب ہو کہ ہم نے کوشش تو کی تھی۔

No comments

Powered by Blogger.