Column#16 | Janam Din Mubarak Pakistan | HaaDi Khan
کالم : جنم دن مبارک پاکستان۔
بقلم ہادی خان۔
آج ہمارے ملک کا جنم دن ہے۔ لازوال قربانیوں کا محصول ہے یہ وطن، ہجرت کرنا، کہیں سے کوچ کرنا، انتہائی کرب ناک عمل ہے۔ مگر ہمارے اجداد نے ستم اٹھائے اور اس مقدس دھرتی تک مشکلات پار کرکے پہنچے۔ دنوں میں سکھوں کی ہندوؤں کی تلواروں سے بچ بچا کر، راتوں کو سفر کرتے اپنی عزتوں کو مخفوظ کر کے، کوئی دیکھ نہ لے کسی کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ہجرت نے بہت سی لاشیں بھی دیں، اسپیشل ٹرینیں وہاں سے چلتیں، یہاں کٹے پٹے لوگ پہنچتے تھے۔ اس دن کے حوالے سے ہم بہت خوش بھی ہیں اور خفا بھی۔ دیکھتے جاتے ہیں، اپنے برزگوں کو یاد کرتے ہیں، ہمارے بڑوں نے جو درخت لگایا تھا اس کو 73 برس گزر گئے ہیں۔ کبھی ایک وقت تھا اس پودے کی جڑیں اتنی دور تک پھیلی ہوئی تھیں کہ گویا بہت سے فاصلے پر اسی کی ایک شاخ نمودار تھی، اسی کی جڑوں سے نکلنے والا دوسرا درخت بھی نظر آتا تھا۔ جی وہی اپنا صوبہ بنگال، ہم تو آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے بھی تو قربانیں دی ہیں۔ بابائے قوم نے ہم مسلمان کو ایک قوم بنا دیا تھا جو رنگ اور بولی، ذات پات سے بلند تھی۔ تب بس ہم نے آزادی اسی واسطے لی تھی کہ ہم مسلمان آپس میں رہ لیں گے، بس یہ غیر مذہب کے ساتھ رہنا ہمیں ناگوار ہے۔ غیز مذہب کہاں سمجھتا ہے ہمارے مذہب کو، ہم جس کی قربانی کرتے ہیں وہ اس کو مانتے ہیں۔ ہماری زبانیں الگ ہیں، ہمارا رہن سہن مختلف ہے۔ ان ہی باتوں کو ہم زیر غور لائے اور مطالبہ علیحدگی کا کیا، زور لگا کر بھاگ دوڑ کر ہم نے اپنا ملک لے لیا جہاں اب بس مسلمان تھے۔ ایک غیر مذہب نے دیکھا ہم مسلمانوں میں کتنی یکجہتی ہے۔ ہم سب مل کر ایک آواز ہوئے جس کی صدا کمپنی کے ایوانوں سے لے کر کمپنی کی ڈوریں ہلانے والوں تک پہنچی تھی۔ کمپنی کی پس پائی آخر ہونی ہی تھی، یہ انقلاب تھا جو ہرگز کچلا نہیں جانے والا تھا۔ یہ شورِ صدا مطالبہ کر رہی تھی ہمیں آزاد ملک چاہئے۔ ہمیں ان سنگ پرستوں کے ساتھ رہنا ہی نہیں، ہمارا عقیدہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم مشرکین کے ساتھ رہیں۔ یہ رہے کھلے کافر اور ہم توحید پرست، آئے روز کا جھگڑا ہونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اپنے ملک بنا لیں اور سکھ کا سانس لیں۔ یہ آوازیں مشرق و مغرب میں گونج رہی تھیں۔ مسلمانوں کی اکثریت دونوں جانب سے مطالبہ کرتی رہی اور یہ تحریک کی شکل بن گئی اور زور پکڑتی گئی۔کلکتے کے ایوانوں میں بیٹھے کمپنی والے تھرا اٹھتے تھے کہ یہ انقلاب اب حد سے بڑھ گیا ہے۔ ہم ایک اللہ کے نام لیوا، ایک نبی کے کلمہ گو مسلمان ہیں۔ اسی سب میں انگریزوں نے سوچ لیا یہ مسلمان اب رکنے والے نہیں۔ دو صدائیں جو مشرق و مغرب سے آرہی تھیں، دونوں جانب ملک بنانے کے مطالبے کو مان لیا گیا۔ یوں اول گورنرجرنل محمد علی جناح بابائے قوم قائداعظم نے ہمیں کچھ نصیحتیں کیں :
"یہاں تم سب آزاد ہو اپنے حساب سے جیو اپنے مذہب کی پیروی کرو۔"
مختصراً یہ کہ جیو اور جینے دو والا نعرہ سب کے گوش گزار کیا۔ بگڑتے حالات سنبھلنے لگے مگر قائد ہمیں چھوڑ کر آخرت سنوار گئے۔ گویا ایک سایہ تھا جس کے نیچے سب مل جھل کر بھائی چارے کو قائم رکھے ہوئے تھے وہ سایہ چھن گیا۔صاحبِ علم کی بصیرت ہے کہ وہ کسی ایک قوم کو ہرگز نہیں سراہتا تاکہ باقیوں کی دل آزاری یا ایک کی افضلیت کا پرچار نہ ہو۔ سب کی نظریں اب تک اسی جانب مرکوز تھیں، جب وہ سایہ اٹھا ہم کو آس پاس دیکھنا نصیب ہوا۔ معلوم ہوا یہ بنگالی ہے، یہ پشتون ہے، یہ سندھی، پنجابی اور یہ بلوچی ہے۔ ہم ان باتوں کو یاد رکھتے، ان پر عمل کرتے، لیکن ہم نے تو گویا اس درخت کی دوسری جانب والی شاخ کو کاٹنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، جی توڑ کوشش کی کہ ہم ایک نہیں رہیں۔ وہ کالے لوگ ہماری برابری کریں گے، اپنی بولی کو قومیت کا درجہ دینے کی ان کی جرات کیسے ہوئی۔ یہی مسئلے ابھرتے گئے، بولی کس کی بولی جائے گی؟ حکومت کہاں سے ہوگی؟ بس پھر 1971 کا وہ سال آیا جب مشرق سے اٹھنے والی آواز نے اپنے لیے آواز اٹھا دی۔ اس آواز میں وہی تاثیر تھی، جس نے کمپنی کی جڑیں کاٹ دی تھیں۔ پس اسی موقع کا فائدہ اٹھایا، غیر مذہب دشمن پڑوسی نے اور ہمیں وہ کاری ضرب لگائی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
خیر ملک کا جنم دن ہے مجھے یہ کہتے ہوئے کتنا برا لگ رہا ہے کہ اس جانب اب بھی کچھ لوگ 14 اگست کو پرانے صندوق میں چھپائے ہرے سفید جھنڈے کو نکال کر سلام کرتے ہیں۔ وہ بھی ہمارے لوگ تھے۔ رنجشیں مٹائی جاتی ہیں، مگر مل بیٹھ کر حل کرنے سے ہمیں علیحدگی زیادہ موزوں معلوم ہوئی، اب یہ کیچڑ کس نے پھیلایا، یہ مرکز تحریر ہرگز نہیں۔ بس لکھتے لکھتے بنگالی قوم کے جذبات مجھ پر غالب آگئے تھے۔میں بتا رہا تھا میں خوش بھی ہوں اور خفا بھی۔ خوشی کی وجہ یہی یہ ہے کہ ہم 14 اگست کو ایک قوم بن جاتے ہیں وگرنہ پورا سال قومیت کا کارڈ چلایا جاتا ہے۔ چند لوگوں کا مفاد ہے، قومیت میں بٹ بٹا کر ووٹ زیادہ مل جاتے ہیں۔ مگر میری معصوم قوم بھی تو بھولی بہت ہے، پاکستانی کہلانے سے زیادہ سندھی، پنجابی، بلوچ اور پشتون کہلانے پر خوش ہوتی ہے۔ کتنے خوب نعرے لگتے ہیں، ہمیں حق دو، ہمارا حق مارا گیا ہے، مگر کیا کبھی سوچا ہم فقط پاکستان سے اپنی اپنی ذات پات کے لئے مانگتے ہیں، پاکستان کی بات کون کرتا ہے۔ پاکستان کو کس نے کیا کیا دیا۔ کیا دشمن اسی تاب میں نہیں کہ بھائی بھائی آپس میں لڑیں۔ ہم غیر مذہبوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے آج ہمارا اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ جینا اجیرن ہو رہا ہے۔ پھر سے تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔
مجھے افسوس ہے ہمیں آقاﷺ بھائی بھائی بنا کر گئے تھے۔ آج ہمیں بھائی کے ساتھ رہنا گوارا نہیں، کسی کو زیادہ مل رہا ہے تو مسئلہ، کسی کو کم مل رہا ہے تو مسئلہ، اس ملک میں کس بات کی لڑئیاں چل رہی ہیں۔ بجٹ پر، زبان پر، رنگ و نسل پر، ہم نے اپنے ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔
بری بات یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے کردار کو غلط طرح ہم تک پہنچایا۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں کو تلقین کرتے رہے کہ اس ملک کو تم نے سنبھالنا ہے، تم نے چلانا ہے، مگر اب دیکھیں تو ملک کے وزیر اعظم صاحب 67 سال کے ہیں، صدر صاحب 70 کے اور کابینہ کے بیشتر ممبران 50 سال سے اوپر کے ہیں۔ یہ ملک نوجوانوں کو سپرد کیا گیا تھا۔ قائد نے نوجوانوں کو اس ملک کا پاسباں بنایا تھا مگر نواجون اس دوڑ میں کہیں نظر نہیں آرہے۔
افسوس فیاض ہاشمی صاحب ہمیں 91 برس کی عمر میں چھوڑ کر چلے گئے وگرنہ میں ان سے التجا کرتا اپنے شعر کو از سر نو یوں لکھیں۔
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بڈھو سنبھال کے
بقلم ہادی خان۔
آج ہمارے ملک کا جنم دن ہے۔ لازوال قربانیوں کا محصول ہے یہ وطن، ہجرت کرنا، کہیں سے کوچ کرنا، انتہائی کرب ناک عمل ہے۔ مگر ہمارے اجداد نے ستم اٹھائے اور اس مقدس دھرتی تک مشکلات پار کرکے پہنچے۔ دنوں میں سکھوں کی ہندوؤں کی تلواروں سے بچ بچا کر، راتوں کو سفر کرتے اپنی عزتوں کو مخفوظ کر کے، کوئی دیکھ نہ لے کسی کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ہجرت نے بہت سی لاشیں بھی دیں، اسپیشل ٹرینیں وہاں سے چلتیں، یہاں کٹے پٹے لوگ پہنچتے تھے۔ اس دن کے حوالے سے ہم بہت خوش بھی ہیں اور خفا بھی۔ دیکھتے جاتے ہیں، اپنے برزگوں کو یاد کرتے ہیں، ہمارے بڑوں نے جو درخت لگایا تھا اس کو 73 برس گزر گئے ہیں۔ کبھی ایک وقت تھا اس پودے کی جڑیں اتنی دور تک پھیلی ہوئی تھیں کہ گویا بہت سے فاصلے پر اسی کی ایک شاخ نمودار تھی، اسی کی جڑوں سے نکلنے والا دوسرا درخت بھی نظر آتا تھا۔ جی وہی اپنا صوبہ بنگال، ہم تو آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے بھی تو قربانیں دی ہیں۔ بابائے قوم نے ہم مسلمان کو ایک قوم بنا دیا تھا جو رنگ اور بولی، ذات پات سے بلند تھی۔ تب بس ہم نے آزادی اسی واسطے لی تھی کہ ہم مسلمان آپس میں رہ لیں گے، بس یہ غیر مذہب کے ساتھ رہنا ہمیں ناگوار ہے۔ غیز مذہب کہاں سمجھتا ہے ہمارے مذہب کو، ہم جس کی قربانی کرتے ہیں وہ اس کو مانتے ہیں۔ ہماری زبانیں الگ ہیں، ہمارا رہن سہن مختلف ہے۔ ان ہی باتوں کو ہم زیر غور لائے اور مطالبہ علیحدگی کا کیا، زور لگا کر بھاگ دوڑ کر ہم نے اپنا ملک لے لیا جہاں اب بس مسلمان تھے۔ ایک غیر مذہب نے دیکھا ہم مسلمانوں میں کتنی یکجہتی ہے۔ ہم سب مل کر ایک آواز ہوئے جس کی صدا کمپنی کے ایوانوں سے لے کر کمپنی کی ڈوریں ہلانے والوں تک پہنچی تھی۔ کمپنی کی پس پائی آخر ہونی ہی تھی، یہ انقلاب تھا جو ہرگز کچلا نہیں جانے والا تھا۔ یہ شورِ صدا مطالبہ کر رہی تھی ہمیں آزاد ملک چاہئے۔ ہمیں ان سنگ پرستوں کے ساتھ رہنا ہی نہیں، ہمارا عقیدہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم مشرکین کے ساتھ رہیں۔ یہ رہے کھلے کافر اور ہم توحید پرست، آئے روز کا جھگڑا ہونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اپنے ملک بنا لیں اور سکھ کا سانس لیں۔ یہ آوازیں مشرق و مغرب میں گونج رہی تھیں۔ مسلمانوں کی اکثریت دونوں جانب سے مطالبہ کرتی رہی اور یہ تحریک کی شکل بن گئی اور زور پکڑتی گئی۔کلکتے کے ایوانوں میں بیٹھے کمپنی والے تھرا اٹھتے تھے کہ یہ انقلاب اب حد سے بڑھ گیا ہے۔ ہم ایک اللہ کے نام لیوا، ایک نبی کے کلمہ گو مسلمان ہیں۔ اسی سب میں انگریزوں نے سوچ لیا یہ مسلمان اب رکنے والے نہیں۔ دو صدائیں جو مشرق و مغرب سے آرہی تھیں، دونوں جانب ملک بنانے کے مطالبے کو مان لیا گیا۔ یوں اول گورنرجرنل محمد علی جناح بابائے قوم قائداعظم نے ہمیں کچھ نصیحتیں کیں :
"یہاں تم سب آزاد ہو اپنے حساب سے جیو اپنے مذہب کی پیروی کرو۔"
مختصراً یہ کہ جیو اور جینے دو والا نعرہ سب کے گوش گزار کیا۔ بگڑتے حالات سنبھلنے لگے مگر قائد ہمیں چھوڑ کر آخرت سنوار گئے۔ گویا ایک سایہ تھا جس کے نیچے سب مل جھل کر بھائی چارے کو قائم رکھے ہوئے تھے وہ سایہ چھن گیا۔صاحبِ علم کی بصیرت ہے کہ وہ کسی ایک قوم کو ہرگز نہیں سراہتا تاکہ باقیوں کی دل آزاری یا ایک کی افضلیت کا پرچار نہ ہو۔ سب کی نظریں اب تک اسی جانب مرکوز تھیں، جب وہ سایہ اٹھا ہم کو آس پاس دیکھنا نصیب ہوا۔ معلوم ہوا یہ بنگالی ہے، یہ پشتون ہے، یہ سندھی، پنجابی اور یہ بلوچی ہے۔ ہم ان باتوں کو یاد رکھتے، ان پر عمل کرتے، لیکن ہم نے تو گویا اس درخت کی دوسری جانب والی شاخ کو کاٹنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، جی توڑ کوشش کی کہ ہم ایک نہیں رہیں۔ وہ کالے لوگ ہماری برابری کریں گے، اپنی بولی کو قومیت کا درجہ دینے کی ان کی جرات کیسے ہوئی۔ یہی مسئلے ابھرتے گئے، بولی کس کی بولی جائے گی؟ حکومت کہاں سے ہوگی؟ بس پھر 1971 کا وہ سال آیا جب مشرق سے اٹھنے والی آواز نے اپنے لیے آواز اٹھا دی۔ اس آواز میں وہی تاثیر تھی، جس نے کمپنی کی جڑیں کاٹ دی تھیں۔ پس اسی موقع کا فائدہ اٹھایا، غیر مذہب دشمن پڑوسی نے اور ہمیں وہ کاری ضرب لگائی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
خیر ملک کا جنم دن ہے مجھے یہ کہتے ہوئے کتنا برا لگ رہا ہے کہ اس جانب اب بھی کچھ لوگ 14 اگست کو پرانے صندوق میں چھپائے ہرے سفید جھنڈے کو نکال کر سلام کرتے ہیں۔ وہ بھی ہمارے لوگ تھے۔ رنجشیں مٹائی جاتی ہیں، مگر مل بیٹھ کر حل کرنے سے ہمیں علیحدگی زیادہ موزوں معلوم ہوئی، اب یہ کیچڑ کس نے پھیلایا، یہ مرکز تحریر ہرگز نہیں۔ بس لکھتے لکھتے بنگالی قوم کے جذبات مجھ پر غالب آگئے تھے۔میں بتا رہا تھا میں خوش بھی ہوں اور خفا بھی۔ خوشی کی وجہ یہی یہ ہے کہ ہم 14 اگست کو ایک قوم بن جاتے ہیں وگرنہ پورا سال قومیت کا کارڈ چلایا جاتا ہے۔ چند لوگوں کا مفاد ہے، قومیت میں بٹ بٹا کر ووٹ زیادہ مل جاتے ہیں۔ مگر میری معصوم قوم بھی تو بھولی بہت ہے، پاکستانی کہلانے سے زیادہ سندھی، پنجابی، بلوچ اور پشتون کہلانے پر خوش ہوتی ہے۔ کتنے خوب نعرے لگتے ہیں، ہمیں حق دو، ہمارا حق مارا گیا ہے، مگر کیا کبھی سوچا ہم فقط پاکستان سے اپنی اپنی ذات پات کے لئے مانگتے ہیں، پاکستان کی بات کون کرتا ہے۔ پاکستان کو کس نے کیا کیا دیا۔ کیا دشمن اسی تاب میں نہیں کہ بھائی بھائی آپس میں لڑیں۔ ہم غیر مذہبوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے آج ہمارا اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ جینا اجیرن ہو رہا ہے۔ پھر سے تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔
مجھے افسوس ہے ہمیں آقاﷺ بھائی بھائی بنا کر گئے تھے۔ آج ہمیں بھائی کے ساتھ رہنا گوارا نہیں، کسی کو زیادہ مل رہا ہے تو مسئلہ، کسی کو کم مل رہا ہے تو مسئلہ، اس ملک میں کس بات کی لڑئیاں چل رہی ہیں۔ بجٹ پر، زبان پر، رنگ و نسل پر، ہم نے اپنے ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔
بری بات یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے کردار کو غلط طرح ہم تک پہنچایا۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں کو تلقین کرتے رہے کہ اس ملک کو تم نے سنبھالنا ہے، تم نے چلانا ہے، مگر اب دیکھیں تو ملک کے وزیر اعظم صاحب 67 سال کے ہیں، صدر صاحب 70 کے اور کابینہ کے بیشتر ممبران 50 سال سے اوپر کے ہیں۔ یہ ملک نوجوانوں کو سپرد کیا گیا تھا۔ قائد نے نوجوانوں کو اس ملک کا پاسباں بنایا تھا مگر نواجون اس دوڑ میں کہیں نظر نہیں آرہے۔
افسوس فیاض ہاشمی صاحب ہمیں 91 برس کی عمر میں چھوڑ کر چلے گئے وگرنہ میں ان سے التجا کرتا اپنے شعر کو از سر نو یوں لکھیں۔
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بڈھو سنبھال کے

Leave a Comment