Column#17 | Neem Amal Khatra Iman | HaaDi Khan

کالم: نیم اعمال خطرہ ایمان
بقلم ہادی خان
صاحبو 15 سے 17 دن پہلے قربانی کرنے، دیکھنے، جانور خریدنے اور سنبھالنے کا جوش اس قوم میں جاگ اٹھا تھا۔ عید الاضحیٰ تو قدیم وقتوں کی روایت ہے جو بعد از اہلِ قرآن یعنی مسلمانوں پر بھی لازم کی گئی۔ عید کا لفظی مطلب بار بار ہے یعنی جو چیز لوٹ کر واپس آئے۔ اور الاضحی کا مطلب ہے زیادہ قربانیاں۔ یہ قربانی چونکہ ہر بار واپس آتی ہے, ہر سال یہ دوہرائی جاتی ہے اس لئے اس کو عید الاضحی کہتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے بڑے تہواروں میں سے ایک ہے۔ اللہ پاک کے چند نمایاں پیغمبروں میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ سلام ہیں اور یہ عید ان کی یادگار ہے۔ ان کو امت کے لئے امام بنایا گیا جن کے راستے پر ہر سال کروڑوں مسلمان چلتے ہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں۔ عید الاضحیٰ ایک قدیم روایت ہے جس کا پس منظر یوں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی سب سے قیمتی شے میری راہ میں قربان کرو۔ پہلے پہل تو انھوں نے اپنا اونٹ قربان کر دیا لیکن بات نہیں بنی۔ مگر پھر ان کو دوبارہ خواب آیا کہ وہ اپنے جگر پارے کو ذبح کر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم اگرچہ نبی تھے مگر انھوں نے اپنے بیٹے اسماعیل سے اس معاملے کو بیان کیا۔ حضرت اسماعیل صرف نبی کی اولاد ہی نہیں بلکہ قرآن میں انھیں ذہین اور صالح اولاد کہا گیا ہے جو انھوں نے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا۔ اب کم سن 12 سے 15 برس کی عمر کا بچہ اپنے والد سے مکالمہ کرتا ہے۔ 
"بابا جان جو حکم ہے کر گزریں آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔"
 اہلِ کتاب میں تو اس پر دو رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اولاد کون تھی اسماعیل یا اسحاق۔ یہودی اسحاق علیہ سلام کو ذبیح اللّٰہ مانتے ہیں اپنی کتاب کے مطابق اور قرآن کے پیروکاروں میں سے اہل تشیع اور سنی دونوں میں پچانوے فیصد لوگ اسماعیل علیہ سلام کو قربان ہونے والی اولاد مانتے ہیں۔ اگرچہ قرآن میں اس واقعے میں کسی کا واضح نام نہیں لیا گیا۔ اسماعیل ہوں یا اسحاق دونوں ان کے ہی بیٹے ہیں۔ یہاں ابراہیم علیہ سلام کی ہی آزمائش تھی۔ بہرحال باپ بیٹے نے حق تعالیٰ کے اس حکم کو مانتے ہوئے اس بات پر دل و جان سے آمادگی کا اظہار کیا۔ حضرت ابراہیم اولاد کو اوندھے منہ لٹا کر چھری پھیرنے ہی لگے تو وہاں یک دم ایک فرشتے کی مدد سے جانور نے بچے کی جگہ لے لی۔ ایک باپ نے چھری چلا ہی دی تھی، آنکھوں  پر پٹی تھی مگر اس احساس کو محسوس تو کر لیا تھا کہ میرا بچہ کٹ رہا ہے۔ قرآن میں بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو بہت بڑی آزمائش دے دی تھی۔ پس یہی وہ سنت ہے جو سال ہا سال عید کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ ابراہیم علیہ سلام اس آزمائش سے سرخرو ہوئے تو ان کا انعام ہے کہ میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں آپﷺ  کو بھی اس سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ آخری نبی کو بھی پہلے گزرے نبی کے اعزاز کو زندہ رکھنے اور اپنی پوری امت کے لئے مثال بنانے کا کہا گیا۔ جو عمل ہمارے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اور کرنے کی ترغیب دی وہ ہم سب پر بھی لازم ہے۔
ہم مسلمانوں پر ہر سال اس قربانی کو کرنا لازم ہے اگر ہم صاحبِ استطاعت ہوں۔ ہمارے ملک میں بھی اس عید کی سنت کو بڑے ذوق و شوق سے ادا کیا جاتا ہے۔ ہمارے لوگ محلے میں ٹھاٹ بٹھانے کے لئے مہنگے مہنگے جانور لیتے ہیں اور تمام میں نمائش کرتے ہیں۔ میں نے ایک شخص سے معلوم کیا تو اس نے ایک لاکھ ستر ہزار کا جانور لیا تھا میرا منہ پیسوں سے زیادہ جانور کے قد کاٹھ کو دیکھ کر کھلا رہ گیا۔ اتنا دراز قد بڑا لحیم ضحیم جانور تھا۔ اللہ اس قربانی کو قبول کریں۔ ایسے ہی دو اور لوگوں سے معلوم کیا انہوں نے بھی لگ بھگ اتنے ہی پیسوں کے جانور خریدے ہوئے تھے۔ لوگوں نے جانور سڑکوں کے کناروں پر بیچنے کو باندھے تھے۔ ایک جگہ قیمت پوچھ لی تو جانور کے مالک نے اتنی کڑھی نظروں سے دیکھا جیسے میں نے اس کی وقعت گرا دی ہو۔ اس نے منہ پھاڑ کر کہا دو لاکھ ساٹھ ہزار۔ میں نے ایک نظر جانور کی حالت زار کو دیکھا اور تعجب سے کہا اس کے دو لاکھ ساٹھ ہزار۔ بس پھر کوئی مکالمہ نہ ہوا اور اس کی گھورتی نظروں نے مجھے چلتا کیا۔
خیر چھوڑیں جانوروں کی قیمتیں تو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ اپنا گزارا قربانی میں ایک حصہ ڈال کر چل تو جاتا ہے۔ ویسے بھی نمائش نہیں کرنی چاہئے بس اللہ ہمارے قربانیوں کو قبول فرمائے۔ پھر دنوں کو گزرتے دیکھا لوگ کیسے جانوروں کو ادھر ادھر گھما کر لاتے ان کو چارا ڈالتے، بچے ان کے ساتھ کھیلتے اور مستیاں کرتے۔ بس ایک رونق میلا لگا ہوا تھا۔ پھر سننے کو ملتا فلاں کا جانور رسی توڑ کر بھاگ گیا ہے۔ لوگ اس کے پیچھے ایسے بھاگتے جیسے سپاہی مجرم کو پکڑنے کے لئے بھاگتا ہے۔ ویسے جانوروں کو ستانے والوں اور ان کا خیال نہ رکھنے والوں کے ساتھ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے۔ پھر آتا ہے وہ دن جس دن سب اپنی قربانیاں لا کر قصائی کے سامنے کھڑی کر دیتے ہیں۔ بس ایک پل میں سارے پندرہ دن کا محصول اور ثواب ملنے کا دن ہوتا ہے۔ پھر قصاب اپنے مخصوص روایتی انداز میں اس دو لاکھ کے جانور کو داؤ لگاتا ہے، گراتا ہے اور اس پر چھری پھیرتا ہے۔ پس یہی تو سنت تھی جو ادا کرنی تھی۔ پھر گھنٹہ بھر میں قصاب سارا گوشت بنا کر دیتا ہے۔ اگر زیادہ ماہر ہو تو پون گھنٹہ میں سارا کام کرکے ہاتھ جھاڑ کر دس ہزار روپے لیئے اور یہ گیا وہ گیا۔
کتنا اچھا کام ہوا کہ قربانی ہو گئی۔ اب صاحب لوگ تو سارا سال گوشت کھاتے رہتے ہیں۔ وہ تقریباً تمام ہی غریبوں اور قرابت داروں کو دے بھیجتے ہیں مگر جو متوسط طبقہ ہے وہ تو گوشت کو فریج کے آخری سانس تک بھر دیتا ہے جس سے فریج بامشکل بند ہوتا ہے اور پھر مہینہ بھر وہ لوگ اسی گوشت کو کھاتے ہیں تو نظام چلتا ہے۔ بہرحال غریب غربا بھی اچھے کھانے کھا لیتے ہیں۔ پھر جب کھالیں لینے والوں کی گاڑی آتی ہے تو  لوگ خوشی خوشی ان کو کھالیں دیتے ہیں اور ساتھ تصاویر بھی بناتے ہیں یادگار کے طور پر۔
اپنی قربانی کا ہر حلال حصہ گھر منتقل کرنے کے بعد وہ پندرہ دن کا نمائشی کمپٹیشن تو ختم ہو جاتا ہے مگر یہاں ہمارے لیے المیہ ہے۔ بلکہ ہمارا مجموعی رویہ اس بات کو برا پیغام بنا کر غیر مذہبوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اسی پر پڑوسی ملک بھارت اور ادھر کے ہندو محاذ کھڑا کرتے ہیں کہ مسلمان اپنی قربانی کرکے گند پھیلا دیتے ہیں۔ یہ کام وطن عزیز میں بھی ہو رہا ہے۔ ہم لوگ اپنا اپنا کچرا وہیں گلی محلے میں پھینک دیتے ہیں جس سے آزاد خیال لبرل لوگوں کو تنقید کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ ساون کا مہینہ ہے ہم تمام گند جنگلی جھاڑیاں اور بنا اجازت اُگی بھنگوں میں پھینک کر انسانوں کی نظروں میں اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ ہم شریعت کے ان اصولوں کو ہی مان رہے ہیں جس میں ہماری واہ واہ ہو۔ لوگوں کو بڑھ چڑھ کر قیمتیں بتا سکیں۔ جہاں ہم دو لاکھ کی قربانی کرکے اپنے رب کی رضا کا ڈھونگ رچاتے ہیں وہاں ہم صفائی نصف ایمان کا درس کیونکر بھول جاتے ہیں۔ ہم اگر دو لاکھ کا جانور لا سکتے ہیں اور ایک ہزار مزدوری دے کر بدبو دار مواد نہیں ہٹوا سکتے تو کیا واقعی ہماری قربانی قبول ہوئی ہے؟ ہم ایک سنت کو آباد تو کر رہے ہیں مگر نصف ایمان کو دھرم بھرم کررہے ہیں تو کیا ہم اللہ کے احکام پر، نبی ﷺ کی سنت پر ہیں؟
ہم فرض کام کو پس پا کر دیتے ہیں سنت کام کے سامنے، ایسا کیوں؟ جہاں ایک گھنٹہ لگا کر ہم قربانی کا گوشت بنواتے ہیں وہاں ہم پانچ منٹ میں آلائشیں کیوں نہیں اٹھواتے اور حکومتی بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق اس کو ٹھکانے کیوں نہیں لگاتے۔ مجھے لگتا ہے ہمیں صفائی کا کمپٹیشن کرنا چاہئے جس کی رو کچھ یوں ہو کہ جس نے زیادہ صفائی کی عوام الناس اس کی واہ واہ کرے گی، شاید پھر ہماری سنت کے ساتھ ہمارت فرض بھی سر انجام ہو جائیں۔

No comments

Powered by Blogger.