Column#18 | Hamary Aasaar | HaaDi Khan

ہمارے آثار۔۔
از قلم ہادی خان

میرے شعور کی جب آنکھ کھلی میں نے دنیا کو بالکل مختلف پایا۔ ہماری زندگی کس طرف کیسے جا رہی ہے۔ ہماری ثقافت تو حال میں جیسی بھی ہے مگر ہمارا ماضی بہت اعلیٰ گزرا ہے۔ بہت برسوں سے عیدیں گزر رہی ہیں، ایک سوچ تھی جو میرے ساتھ چلتی آرہی تھی۔ عید سے چند دن پہلے ہی میں نے کچھ پڑھنے کا سوچا تو مجھے بہت شوق ہوا کہ پاکستان میں اشیاء قدیمی دریافت ہوئی ہیں ان پر پڑھا جائے۔ پہلے پہل تو میں نے جب موئن جو دڑو کے بارے میں پڑھا تھا تو تب عمر بہت کم تھی کہ مکمل طور  پر اسے سمجھا جا سکے، مگر بعد از میں نے اس کو دوبارہ پڑھا اور سمجھا۔ دنیا کی اس قدیم بستی کا احوال تو ایسا تھا کہ ایک مہذب ثقافت یہاں موجود تھی۔ دریائے سندھ کے قریب موجود یہ وادی جدید دنیا میں ایک مثال ہے اور پُر اسرار بھی۔ اپنے عہد کا دنیا کا جدید ترین شہر 2600 سال قبل مسیح موجود تھا۔ خدا معلوم 1700 سال قبل مسیح میں ختم ہو گیا ہو۔ یہاں قدیم مصری اور رومی ثقافت کے اثرات پائے جاتے ہیں۔اس اعتبار سے یہ مزید دلچسپی کا حامل ہے۔ اس دور میں یہ شہر قلعہ بند کیا گیا تھا جس کی منفرادیت صاف ظاہر ہے۔ گرد و نواع میں گلیوں کے جال بچھا رکھے تھے۔ شاید یہ گہری خندقیں کھود کر شہر کو بیرونی خطرات سے محفوظ کیا گیا تھا۔ مگر جو بھی تھا یہ سب کمال سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ٹیلے پر ابھرا ہوا بنا ہوا ہے۔ ٹیلے نما پر واقع یہ شہر سطح زمین سے پچیس فیٹ اونچا ہے۔ اس میں رومی سلطنت کے طرز کا تالاب بنا ہوا تھا۔ کیا ہی جدیدیت کا منظر تھا۔یہاں اناج گھر بھی دریافت کیا گیا تھا۔ اس عمارت میں فرش زمین سے پانچ فٹ اونچا رکھا گیا تھا تاکہ اناج خراب نہ ہو اور ہوا آنے جانے کا راستہ بھی بنایا گیا تھا۔ اس میں بہت اجناس کی بڑی مقدار ذخیرہ کی جاتی تھی۔ اس قلعہ نما شہر میں کتے، بیل اور بھینسوں کے آثار پائے گئے تھے۔ آمد و رفت کے لئے گدھے، گھوڑے اور خچر کا استعمال کیا جاتا تھا۔ باقی چھوٹے موٹے پالتو جانوروں میں بلی، خرگوش، بندر، طوطے وغیرہ پالے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ یہاں مرغیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔ مٹی کے پنجروں میں خدا جانے کون سے جانور بند تھے، مگر اسی نگر میں بھالو اور شیر بھی بند کر رکھے تھے۔ قلعہ کی اجناس میں گندم اور باجرے کی فصلیں نمایاں تھیں۔ لوگ عموماً زراعت کرتے تھے، مچھیروں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
پرانے طرز کے پتھروں کی چکیوں میں گندم کو پیس دیا جاتا تھا اور استعمال کیا جاتا تھا۔ وہاں سے کھجوروں کی گھٹلیاں ملیں، ناریل پھل کے آثار بھی تھے اور کیلے کے درختوں کا بھی اندازہ لگایا گیا۔ زیادہ تر لوگوں کے برتن مٹی کے ہوا کرتے تھے، مگر تانبے اور چاندی کے بھی برتن دریافت ہوئے تھے۔ یہاں پر غریبوں کے گھر ایک طرف اور امیروں کے گھر دوسری جانب بنائے گئے تھے۔ اس وادی کی جدیدیت کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ بھی تھا کہ اس دور میں لوگ پٹ سن کا استعمال کیا کرتے تھے، وہاں پر پٹ سن کے ریشے ملے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ پٹ سن کی رسیاں، بوریاں استعمال کرتے تھے اور اس کے علاوہ مچھلی پکڑنے والے کانٹے کے ساتھ بھی پٹ سن کا ریشہ جڑا ہوا ملا۔
وادی میں باقائدہ کفن دفن کے کوئی آثار نہیں ملے، مطلب کہیں پر قبروں کے نام و نشان نہیں دکھائی دیئے۔ بہت سی لاشیں ایک جگہ ملی، جس کا مطلب ہے کسی وبا کا آنا یا شاید باغیوں کو قتل یا سزا ملی ہو۔ خدا معلوم مگر ایک جگہ اتنی ساری لاشیں موجود ہونا عام بات نہیں معلوم ہوتی۔ خدا معلوم یہاں ان لوگوں کو کیوں مارا گیا مگر ان کے قد و قدامت سے وہ آج کے نارمل انسان کی اوسط کے تھے۔ مگر ان کے نچلے دھڑ قدرے بڑے اور باہر کو نکلے ہوئے تھے۔ یہ تو طے ہے یہ برصغیر میں کسی جانب سے ہجرت کرکے آئے تھے، مگر یہ موضوع اختلافات کی نذر ہو گیا، جس پر کوئی ختمی رائے نہیں دی جاسکتی کہ یہاں کس نسل کے لوگ آباد تھے۔ جس کا ذکر پہلے بھی کر چکا ہوں کہ وادی قدیم تھی مگر اس کی پُراسرار گتھیوں کو عصر حاضر میں بھی کوئی نہیں سلجھا سکتا۔ اس دور کی بہت سی مہروں اور برتنوں پر  ایسے کچھ رسم الخط لکھے ہیں کہ آج کا انسان اس کو سمجھنے میں الجھا ہوا ہے۔ ان پر الفاظ کے ساتھ مختلف انسان و حیوان اور نباتات بنے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ مٹی کے ، دھات کے بنے فریم پر کچھ عبارتیں لکھی ہوئی ہیں۔ وہ مختصر تحریریں ہونے کی وجہ سے سمجھی نہیں جا سکتیں، زیادہ تر عبارتیں ایک جملے تک ہی محدود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دیوتاؤ کی مورتیاں بھی ملی ہیں اور بہت سے نام جن کو اس عہد کے لوگ پوجتے تھے۔
اس دور میں لوگوں نے پتھروں کو بھی اچھے سے تراش رکھا تھا۔ ترازو کے پلڑے تولنے کے لئے پتھروں کا استعمال کیا کرتے تھے۔ لکڑی کی دو طرف دھال کے تھال اور مخصوص وزن کے پتھروں سے تول کا کام لیا جاتا تھا۔ اس دور کے سنگ تراش بھی بہت کمال مہارت کے تھے،
جنھوں نے پتھروں کو تراش کر مورتیاں بنائیں اور لوگوں کی شَبِیہیں بنا کر محفوظ کر لیں۔   شطرنج کی مانند بھی ایک بادشاہ وزیر کا کھیل کالے سفید پتھروں سے بنا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ جانوروں کی شَبِیہیں بنا رکھی تھیں۔ اس میں ایک بھالو بنا ہوا دیکھا جو کہ بھالو ناچ کو بیان کر رہا ہے۔ باقی جانوروں کی بھی مورتیاں دھات اور مٹی سے بنی ہوئی ملیں۔ خیر یہ ایک معمہ ہے جس کو آثار قدیمہ والے ہی سلجھائیں گے۔
اس دور کی عورتوں کے زیورات دریافت کر کے محفوظ کر دیئے گیے ہیں، جن کو سونے، چاندی اور نیم قیمتی پتھروں سے ہار میں پرو کر گلو بند اور کلائی پر باندھ دیا جاتا تھا۔ ان میں قیمتی پتھروں کو بھی زیورات کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اس وقت تانبے کے آئینے ہوا کرتے تھے۔ آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا تھا۔ اسی دور سے سرمہ دانی اور سرمہ سلائی بنا ہوا تھا اور لوگوں کے استعمال میں تھا۔ تانبے سے استرے ایجاد کیے گئے تھے، جن کو استعمال کرکے سر منڈے جاتے، داڑھیاں بنائی جاتیں۔
اتنے عظیم  اور اپنے عہد کے جدید ترین شہر کو ہم نے بیس روپے کی حیثیت دی۔ میرا مطلب ہے بیس روپے کے نوٹ کی پشت پر اس وادی کا عکس چھپوایا گیا، یہ بیس روپے اس وقت میں بڑی قیمت ہوا کرتی تھی مگر آج کے دور میں کم اور حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ میں نے فقیر کو بیس کا نوٹ دیا تو اس نے سو کا مطالبہ کیا، جب میں نے کہا معاف کرو بابا اس نے تیور چڑھائے اور وہ بیس روپے بھی واپس دے کر چلا گیا، اسی دن مجھے یقین ہوا کہ بیس روپے کی وقعت باقی نہیں رہی اب۔ خیر میں یہ سب پڑھ رہا تھا تو عید کی رنگا رنگ محفل اگلے روز میرے سامنے آگئی۔ اگرچہ بڑی عید میں لوگ بچوں کو عیدیاں نہیں دیتے مگر جس کو مل جائے اس کا نصیب۔ ہمارے دور میں بھی جب عیدی ملا کرتی تھی تو چھوٹی عید پر ہی ملتی تھی وہ بھی دس بیس یا پچاس، اگر بہت کوئی سخی مل جائے تو سو روپے بھی مل جاتے تھے۔ ہم اس کو کُل ملا کر جمع کرتے اور عزت سے اماں کے ہاتھ پر رکھ دیتے تھے۔ ہاں تو راز رکھیے گا اس بات کو ہم نے اس میں سے کچھ پیسے الگ رکھ لیئے ہوتے تھے۔
اماں کو سو والے کا پچاس کہہ دیتے اور پچاس والے کا تیس کہہ کر ڈنڈی مار دیتے، مگر وہ بڑے بھی ہماری ساری عیدی کی نمائش اماں کے سامنے کر ہی دیتے تھے کہ آپ کے بیٹے کی عیدی میں نے اسے دے دی ہے۔
عموماً اماں کے پاس رکارڈ پہنچ جاتا تھا پھر بادل ناخواستہ دوسری جیب میں چھپائے ہوئے پیسوں کو بھی دینا پڑتا اور ساتھ یہ کہتے میں تو بھول گیا تھا۔ یہ ہمارا بچپن بھی کتنا سہانا تھا، جھوٹ جان بوجھ کر نہیں بولتے تھے، مگر بولنے میں عافیت ہوتی، جان بخشی ہو جاتی تھی۔ خیر عید پر ہم نے بچوں کو دیکھا ساری جمع پونجی لے کر جاتے ہیں اور اپنے لئے چھروں والی بندوقیں اور پستولیں لے لیتے ہیں۔ سارا دن آپس میں چور پولیس کھیل کر گزار دیتے ہیں۔ مگر خاکم بدہن ہو مجھ کو، سوچ رہا ہوں اگر ہم پر کوئی عذاب الہٰی آگیا تو ہمارے آثار، جو اگلی قومیں نکالیں گی وہ بندوقیں، ٹینک، بارود اور چھری وغیرہ ہی ہوں گے۔ موہن جو دڑو والوں نے انسانیت کی فلاح کے لیے بہت کام کیئے اور ہم نے انسانوں کے زندان، لوگوں کو مارنے کے لئے جدید آلات اور ہر چیز لڑائی کی بنا رکھی ہے۔ اگلے لوگوں کے آثار سے ہم ان کو جفاکش، محنتی کہتے ہیں اور اپنے دور کے جدید طریقوں پر بنی ایجادات دیکھ کر ایک رائے قائم کرتے ہیں کہ وہ لوگ انسان دوست تھے اور مل کر رہنے والے تھے۔ مگر ہمارے آثار میں تو ہم لوگوں نے نفرتوں کی تفرقہ بازی اور چھری چاکو کی لڑائیوں کی ہی پذیرائی کی ہے۔
ہمارے آثار میں صرف یہی سب دریافت ہوگا کیا؟ ہم کو مارنے، کاٹنے والا ہی لکھا جائے گا کیا؟

No comments

Powered by Blogger.