Column#19 | Kahani nagar Saif ul Malook | HaaDi Khan

کہانی نگر سیف الملوک
از قلم ہادی خان
 دنیا پر انسان ہر جگہ نہیں گھوما پھرا تھا۔جب انسان نے ہر ایک چوٹی اور ہر میدان، صحرا اور سمندر، جھیل، دریا دریافت نہیں کیے تھے، یہ ان وقتوں کی بات ہے جب ابنِ مریم کی پیدائش نہیں ہوئی تھی۔ ابنِ مریم سے بھی قبل یہ مصر کے کسی علاقے سے کہانی شروع ہوئی۔ مصر کے بادشاہ عاصم کے بیٹے سیف نے مسلسل 7 راتیں خواب میں ایک بہت ہی خوبصورت جگہ دیکھی۔ خواب کا ایک حصہ تھا، جس میں اس نے ایک ماہ جبین پری کو دیکھا، پری کا نام تھا بدی الجمال جو صاحبِ جمال تھی۔ خواب میں ہی شہزادہ اس کا دیوانہ ہو گیا۔ اس نے دیوانگی میں بادشاہ کو جب سارا قصہ سنایا تو بادشاہ نے یکسر اس کو منع کر دیا کہ یہ فقط دیوانے کا خواب ہے۔ شاید وہ کہاوت بھی اتنی مشہور اسی وجہ سے ہوئی کہ "دیوانے کا خواب جس کا کوئی سر پیر نہ ہو۔" خیر مگر شہزادہ اس جگہ کو مصر میں در بدر ڈھونڈتا رہا مگر اسے کسی جانب یہ جگہ نہ ملی۔ حتیٰ کہ ایک سال تک وہ اسی خواری میں مبتلا رہا۔ مگر پھر اس کی ملاقات ایک ولی اللہ سے ہوئی۔ شہزادے نے سارا قصہ اس خاکستر کو سنایا۔ اس سے پہلے یہاں کوئی انسان نہیں آیا تھا، دنیا کے وجود پر موجود یہ جنت نظر وادی کسی نے نہیں دیکھی تھی۔ اس درویش نے اس خواب کی پیش گوئی کی اور ملکہ پربت کا ذکر کیا اور بتایا یہ کوہ قاف کی پری ہے۔ یہ پری تمہاری پیدائش سے ہی تم پر فریفتہ ہے۔ دنیا کا سب سے مشکل ترین پہاڑ جسے آج تک کسی نے سر نہیں کیا تھا۔ خدا نے کچھ زمین انسانوں کے لیے تو کچھ پہاڑ پریوں اور جنات کے لئے مختص کیے، مگر پھر انسانوں نے محصول سے تجاوز کرنا شروع کر دیا۔ سنا ہے کسی نے آج تک ملکہ پربت کو سر نہیں کیا۔ نہ کسی کوہ پیماں نے، نہ کسی بلندی سر کرنے والے نے، آج بھی یہ علاقہ کسی غیبی مخلوق کے قبضے میں ہے۔ خیر پھر شہزادے کی دیوانگی پر اس بزرگ نے ایک سلمانی ٹوپی بھی شہزادے کو دی، جس کو پہنتے ہی دو جن اس کی خدمت میں نمودار ہوئے جو اس شہزادے کو لے کر وادی ناران میں پہنچے۔ جب اس کی بینائی نے اس جھیل کو دیکھا تو پہچان گیا یہ وہی جھیل ہے جو اس نے خواب میں دیکھی تھی۔ شہزادے نے چالیس دن یہاں چلا کاٹا۔ چالیسویں دن کے بعد اس نے دیکھا کہ جھیل پر پریاں اتری ہیں، وہی ملکہ بدی الجمال پری نہا رہی ہے اور اس کی سات سہیلیاں اس کا پہرہ دے رہی ہیں۔ شہزادے نے اپنے ماتحت جنات سے پوچھا :
"اس پری کو میں کیسے قبضے میں کروں؟"  جنات نے جا کر پری کا تاج اٹھا لیا۔ وہ سب وہاں سے فارغ ہو کر نکلیں تو سب کے تاج موجود تھے لیکن ملکہ کا تاج غائب تھا۔ ملکہ نے سہیلیوں سے برہمی کا اظہار کیا کہ شاید انھوں نے مذاق کیا ہو۔ وہ سب کی سب اُڑ کر چلی گئیں۔ پری نے دیکھا اس کا تاج شہزادے کے پاس ہے تو پری نے شہزادے کے پاس جا کر کہا : 
"میں کسی دیو کے قبضے میں ہوں اگر وہ یہاں آگیا تو ہم دونوں کو مار دے گا۔"
مگر شہزادے نے اسے اپنے ساتھ لیا اور نیچے ناران کی جانب چل دیا۔ واپس جانے والی پریوں نے اس دیو کو بتایا کہ بدی الجمال جھیل میں ہی ان سے غائب ہوگئی۔ وہ دیو غصے میں آیا اور ملکہ کو ڈھونڈنے نکلا، اسے  ملکہ وہاں نہ ملی تو غصے سے اس نے پہاڑ پر لات ماری اور سارا  پانی نیچے ناران کی جانب بہنے لگا۔ وہاں شہزادے نے دعا مانگی :
"یااللہ پانی کا خوف بھی ہے اور دیو کا خطرہ بھی ہے ہمیں تو ہی محفوظ کر۔" 
اسی وقت وہاں ایک غار نما جگہ بن گئی۔ پری اور شہزادے نے وہاں پناہ لی۔ وہ غار آج بھی موجود ہے، اس میں ہر قسم کی ٹیکنالوجی فیل ہے، وہاں نہ لائٹ چلتی ہے نہ ہی موبائل کے سگنل ملتے ہیں۔
دیو مارا مارا پری کی تلاش میں ادھر ادھر پھرنے لگا۔ ایک مقام پر اس نے غصے سے پاؤں مارا وہاں پر چشمہ پھوٹ پڑا، وہ چشمہ آج بھی پیلا جھیل کے نام سے مشہور ہے۔ بہت دنوں تک وہ ملکہ بدی الجمال پری کی تلاش کرتا رہا مگر افسوس کہ اس کی یہ تلاش بے سود رہی۔
کچھ دن میں ہی وہ دیو نڈھال ہو چکا تھا، اسے پری نہ ملی تو دیو نے پہاڑ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ شہزادے کے جنات نے اسے خبر دی کہ دیو اب ختم ہو گیا ہے۔ پھر ان محسن جنات نے ملکہ بدی الجمال اور شہزادے سیف کو اٹھا کر مصر پہنچا دیا۔
دوسری جانب یہ کہانی کچھ یوں ہے کہ شہزادہ دہلی کا تھا اور اس نے ایک نجومی کو اپنا قصہ سنایا جس نے بتایا وہ پری اسے ناران کی ایک جھیل پر ملے گی۔ اس کے لئے اسے بارہ سال چلا کاٹنا ہوگا۔ شہزادے نے طویل مسافت کی، راستے کی دشواریاں اٹھائیں اور وہاں پہنچ کر چلا کاٹنے لگا۔ 12 سال بعد اسے پریوں کے اترنے کی آوازیں آنے لگیں۔ شہزادے نے دیکھا کہ سب پریاں جھیل میں اتر کر نہانے لگیں، اس نے ملکہ بدی الجمال کے کپڑے اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیے۔ انسان کو دیکھ کر باقی کی پریاں وہاں سے اُڑ کر چلی گئیں مگر بدی الجمال پری نے اپنے کپڑے شہزادے سے مانگے۔ شہزادے نے اس کے سامنے شادی کی شرط رکھی اور اپنے 12 سال کے انتظار اور محبت کی داستان اس کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ پری یہ سب سن کر اس کی محبت میں مبتلا ہو گئی اور اس کے ساتھ جانے پر رضامند ہو گئی۔ اس زمانے میں اس بڑے سے پہاڑ پر جس کا نام ملکہ پربت ہے، سفید دیو نام کا دیو رہتا تھا۔ وہ بھی پری پر دل لٹائے ہوئے تھا۔ اسے معلوم پڑا کہ وہ دونوں جان بچا کر ناران کی جانب اتر گئے ہیں تو دیو نے جھیل کا بند توڑ ڈالا۔ جھیل کا منہ کھلتے ہی سارا پانی نیچے ناران کی جانب بہنے لگا۔ یہاں لوگوں کی آراء مختلف ہیں، کچھ کہتے ہیں سیلاب میں ہی دونوں مر گئے تھے، کچھ لوگ کہتے ہیں غار میں پناہ لے لی تھی، وللہ عالم۔
اس واقعےکو میں نے بذبان مقامی لوگوں سنا ہے۔اس جگہ کا نام سیف الملوک ہے، سیف شہزادہ اور ملوک ملاقات کی جگہ سے نسبت ملی۔ اس جگہ کی پُر اثراریت یہ بھی ہے کہ جھیل کا بیشتر پانی جھیل کی تہہ سے نکلتا ہے اور باقی کا برف کے پگھلنے سے، مگر اس کی گہرائی آج کے جدید دور میں بھی معلوم نہیں کی جاسکی ہے۔ جو جو اس کی گہرائی ماپنے گیا واپس نہیں آیا۔

حکومتی شمار کے مطابق یہاں کی بلندی سطح سمندر سے 10500 میٹر بلند ہے اور ملکہ پربت اس سے بھی 7000 فٹ بلند ہے۔ مجموعی طور پر یہ 17000 ہزار فٹ بلند ہے سطح سمندر سے۔یہاں پر سردیوں میں برف پھیل جاتی ہے اور مقامی لوگوں کو مجبوراً ناران شہر کی جانب  کوچ کرنا پڑتا ہے۔ سردی میں جھیل پر برف جم جاتی ہے۔ یہ کہانی سننے سنانے میں تو بہت دلچسپ تھی مگر حقیقت کیا ہے معلوم نہیں، مگر ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے یہ جگہ کہانی کے مطابق کسی پرستان سے کم نہیں۔ یہ واقعی اتنا خوبصورت اور جنت نظیر ہے کہ یہاں پریاں رہنی چاہیے۔

No comments

Powered by Blogger.