Microf #5 | Jang | HaaDi Khan
جنگ
بقلم ہادی خان
ہوا میں چیخ و پکار بلند ہوتی جا رہی تھی۔ کسی جانب سے بجلی کی تاروں کی رگڑ سے پیدا ہونے والی چنگاریوں کی چیخیں بلند ہونے لگیں۔ کوئی اپنی آواز بلند کیے جا رہا تھا۔
"یہ کس کی آواز ہے؟"
"یہ درد و کرب کی آوازیں ہیں۔"
"کس کے درد و کرب کی آوازیں؟"
"ہارنے والے کی۔"
اس نے قدم دو قدم اٹھائے اور آگے بڑھا۔
دوسرا سایہ اس کے پیچھے ہو لیا۔
جالی سے باریک باریک نظر آنے والے منظر دیکھا۔ وہ اسیر سا منظر، نظر آرہا تھا۔
چار لوگ موجود تھے۔ ایک کرسی پر دراز تھا۔
"اس کے ہاتھ کیوں باندھے ہیں؟"
"اس کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے۔"
"بھلا ایسے کیسے؟"
سفید کوٹ والے نے گلے میں لٹکائی ٹوٹیاں کوٹ کی سائیڈ پاکٹ میں رکھ دیں۔
"وہ پاگل ہے اور پاگل پن اس کے وجود پر حاوی ہے۔"
سامنے والے کا منہ مکھی گھس جانے جتنا کھل گیا۔
چیخ ایک زور دار ہوا کے جھونکے پر تیرتی ہوئی آئی۔
"یہ مرجائے گا؟"
"اس میں جنگ کو جینے کا عزم ہوا تو جیتے گا۔"
یہ کہتے ہی اس جالی والے کمرے کا دروازہ کھلا، ایک اسٹیچر پر ایک شخص کو لے جا رہے تھے۔
سفید کوٹ والے نے سوالات پوچھنے والی کی طرف اشارہ کیا۔
"اسے لے جاؤ۔"
ہوا میں چیخ و پکار بلند ہوتی جا رہی تھی۔ کسی جانب سے بجلی کی تاروں کی رگڑ سے پیدا ہونے والی چنگاریوں کی چیخیں بلند ہونے لگیں۔ کوئی اپنی آواز بلند کیے جا رہا تھا۔
"یہ کس کی آواز ہے؟"
"یہ درد و کرب کی آوازیں ہیں۔"
"کس کے درد و کرب کی آوازیں؟"
"ہارنے والے کی۔"
اس نے قدم دو قدم اٹھائے اور آگے بڑھا۔
دوسرا سایہ اس کے پیچھے ہو لیا۔
جالی سے باریک باریک نظر آنے والے منظر دیکھا۔ وہ اسیر سا منظر، نظر آرہا تھا۔
چار لوگ موجود تھے۔ ایک کرسی پر دراز تھا۔
"اس کے ہاتھ کیوں باندھے ہیں؟"
"اس کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے۔"
"بھلا ایسے کیسے؟"
سفید کوٹ والے نے گلے میں لٹکائی ٹوٹیاں کوٹ کی سائیڈ پاکٹ میں رکھ دیں۔
"وہ پاگل ہے اور پاگل پن اس کے وجود پر حاوی ہے۔"
سامنے والے کا منہ مکھی گھس جانے جتنا کھل گیا۔
چیخ ایک زور دار ہوا کے جھونکے پر تیرتی ہوئی آئی۔
"یہ مرجائے گا؟"
"اس میں جنگ کو جینے کا عزم ہوا تو جیتے گا۔"
یہ کہتے ہی اس جالی والے کمرے کا دروازہ کھلا، ایک اسٹیچر پر ایک شخص کو لے جا رہے تھے۔
سفید کوٹ والے نے سوالات پوچھنے والی کی طرف اشارہ کیا۔
"اسے لے جاؤ۔"

Leave a Comment