100 Words Story #6 | Rishty | Haadi Khan

رشتے
ازقلم ہادی خان
ماں باپ کے مرنے کے بعد وہ دادا کی ذمیداری بن گئی۔وقت گزرتا گیا, وہ بڑھتی گئی اور بزرگوں کا وقت گھٹتا گیا۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا اور اسے ایک دھچکا لگا کہ دادا اللہ  کو پیارے ہو گئے۔
وہ حالات کی ماری مایوس بیٹھی تھی۔ بہت سے رشتہ دار آئے۔ کوئی سر پر ہاتھ رکھتا تو کوئی کندھا پیش کرتا۔ وہ جی بھر کر رو لی۔
مامی اور چچی نے اس سے پوچھا : "اب تم کہاں جاؤ گی , تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا۔"
بس ان جملوں کے ساتھ بقایا تمام رشتے بھی دم توڑ گئے۔

No comments

Powered by Blogger.