Afsana#13 | Hamary nam Sandeesy | HaaDi khan

ہمارے نام سندیسے
بقلم ہادی خان

صبح کا سویرا اُفق پر گیندے کے پھول کی مانند ہوا میں لہراتا ہوا منظر پر ابھرتا ہوا نظر آیا۔ جیسے کسی رنگ ساز کے قرطاس پر نارنجی، لال، پیلا اور ان سب کے عین درمیان  میں بھری مٹی جیسا دیو نمودار ہوا ہو۔  دھوپ کی اول کرنیں کچے کوٹھے پر  پڑیں تو سما کچھ یوں بن گیا جیسے مٹھائی پر سونے کا ورق چڑھا ہوتا ہے۔ مرغیاں کوٹھنی میں اپنے پر پھڑپھڑانے لگیں۔ صنم نے قرآن کو بند کیا اور دوڑتے ہوئے دیوار کے قریب دم لیا۔
مقدس وید کا کہنا ہے،
”مشرقی افق پر دیکھ، صبح اپنا پھریرا کیسے لہرا رہی ہے۔ یہ صبح سورج کی روشنی سے اپنا بناؤ سنگھار کرتی ہے۔ آسمان پر صبح اپنی سرخ اور سنہری روشنیاں قربان کر رہی ہے۔ وہ اپنا کام گنگناتے ہوئے سرانجام دیتی ہے۔ وہ ایک رتھ میں بیٹھ کر بہت دور ایک محل سے نیچے آتی ہے، اس کے رتھ کو بیس گائیں کھینچتی ہیں اور یہ رتھ نرم اور لطیف روشنی سے نکلتا ہے۔ صبح ان لوگوں کو جو نیک کام کرتے ہیں، ہر روز رزق دیتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو بھی زر دیتی ہے جو سخی ہیں اور ان پروہتوں کو بھی جو مذہبی رسوم احتیاط سے ادا کرتے ہیں۔ وہ ایک کنواری رقاصہ لڑکی کی طرح چمکتے ہوئے زیورات سے خود کو آراستہ کرتی ہے۔صبح اپنے مدود پستانوں کو ایسے کھول دیتی ہے جیسے دودھ دینے کے لیے گائے اپنے تھنوں کو سخت کر لیتی ہے۔ صبح کے پستانوں سے نکلنے  والی روشنی پوری کائنات کو منور کر دیتی ہے۔صبح اندھیروں کو ایسے توڑ دیتی ہے جیسے گائیں اپنے گھونٹوں کو توڑ دیتی ہیں۔ صبح کے چمکتے  ہوئے شعلے نظر کو دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ صبح رات کی تاریکی کو آگے اور پیچھے دھکیلتے ہوئے ایک طرف سمیٹ دیتی ہے۔ صبح دنیا کی ہر مخلوق کو دیکھتی ہے اور اسکی روشنی ہر آنکھ میں نور لاتی ہے۔ صبح ہر کسی کو جگایا کرتی ہے، ہر شاعر کو الفاظ عطا کرتی ہے۔صبح کا دیوتا ہر صبح کو بار بار پیدا کرتا ہے، اور وہ ہر روز ایک ہی رنگ سے پیراستہ ہوتی ہے۔ صبح مردوں اور عورتوں کی عمر کو بڑھاتی ہے اور ان کو زندگی کے دھارے میں لے کر آتی ہے۔ صبح ایک ایسے چالاک جواری کی طرح ہے جو کسی سے کبھی نہیں ہارتا۔ صبح اپنی بہن رات کو ایک طرف دھکیل دیتی ہے، اور رات آسمان کے دوسرے کنارے پر چلی جاتی ہے۔ صبح اپنے عاشق سورج کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔“ دیوی رادھا اپنے بالک کو باآواز بلند وید کی تعلیم فرما رہی تھی۔ رب جانے دکھ اس کم بخت کا کہ 5 سال بعد اولادِ نرینہ نصیب ہوئی مگر وہ بھی لگ بھگ بہری۔
”سمجھ آگیا شکتی۔“ رادھا دیوی نے اس کے گال کو سہلایا اور لجاجت سے پوچھا۔
”سمجھ تو گیا، مگر نی ماں مجھے ایشور کی دھرتی کتھا سمجھ میں نہ آوے ہے۔“ شکتی نے اپنے بھول پن میں یہ سوال پوچھا، اس کے سوالات سے صنم کو بھی اس سے بلا کی محبت محسوس ہوئی تھی۔
" میرے اللہ اس بچے کو صحت مند کر دے، اسے حسِ سامعہ عطا کر۔"صنم نے دیوار کے اس پار سے دل میں دعا کی۔
صنم روز صبح وید کی تعلیم سننے کو دیوی رادھا اور اس کے گھر کی مشترکہ دیوار میں ہوئے شگاف سے کان لگا لیتی۔ وہ سنتی تو تھی مگر چھپکے سے، اس کے کان دیوی کی جانب اور آنکھیں چارپائی پر ہوتی۔
یہ شگاف ایک آب خورے کے منتقل کرنے کی گنجائش رکھتا تھا۔ یہاں سے ہی دو گھروں کے آپس میں باہمی تعلقات چلتے تھے۔ دال، ساگ، روٹی، آٹا، ایک دوسرے کو دیا جاتا تھا۔ گویا اس شگاف سے ہی ہمسائیوں میں گفت و شنید اور لین دین چلتا تھا۔
رام لال سیدھا سادہ سادھو تھا۔ دن بھر پرانے مندر پر پوجا کرتا، آنے جانے والوں کا پرساد لیتا اور ماں درگا کا بجھن گاتا۔ دان خانے میں پڑے چند سکے اور چڑھاوے کا پرسادان میاں بیوی کو بھوجن کی شکل میں وہیں سے ملتا تھا۔ ان کا گزر بسر بڑے شکر سے ہو جایا کرتا تھا۔ وہ اس شگاف سے آشنا تھا مگر بات مٹی رہے وہ بھی گھر والوں کی اس سازش میں شامل تھا۔ اس کے برعکس صنم کا گھر والا زاہد اپنے ہمسائیوں کے خلاف تھا۔ وہ دین دار نہ تھا، مگر اتنا دین تو نچوڑ کر اس میں موجود تھا کہ ہندوؤں سے لین دین کیا گفت و شنید کرنا بھی معیوب سمجھتا تھا۔
وہ رہے گناہ گار، گندے کافر۔ زاہد کی بات صنم کے دماغ میں ہی تھی کہ کچھ کھٹ پھٹ سی ہوئی۔صنم وہاں سے فوراََ ہٹی اور آئنہ وہاں ٹھیک سے لٹکا دیا۔
زاہد اٹھا تو صنم نے فورا جا کر اسے سہارا دیا۔
”ابے ہٹ تیرے سہارے کی ضرورت نہیں مجھے، جا شیشہ دیکھ کل موہی۔“ زاہد نے اسے دھکا مارا، وہ دور جا گری۔
وہ لنگڑاتے ہوئے  بے ساکھی کا سہارا لئے بیت الخلاء کی جانب چل دیا۔
صنم کا پاؤں زمین پر رگڑا گیا، پھاہے کی جگہ اس نے اپنا ہاتھ دبا کر رکھ دیا۔
کافی برس قبل جب صنم ابھی ابھی بالغ ہوئی تھی، تب وہ گیارھویں جماعت کی طالب علم تھی۔ اس وقت اس کے سارے سہارے ٹوٹ گئے، اس کے والدین راہی ملک عدم ہو گئے۔ وہ اکیلی اپنے ماما جی کے یہاں رہتی تھی۔ زاہد اس کے ماما جی کا دوست تھا۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے ولی اس کے ماما جی بن گئے جنھوں نے اس کی ذمہ داری پڑتے ہی 6 ماہ سے پہلے ہی نبھادی۔
زاہد کی پہلی اہلیہ کچے کوٹھے کے گرنے سے مری تھی، اس کے دو بچے تھے۔ وہ دونوں ہی صنم کی عمر کے ہو چکے تھے، باپ نے انہیں کام پر لگا دیا تھا۔ وہ شہر سے ہر ماہ چٹھی لکھتے تھے۔ آج 4 تاریخ تھی اور آج بھی چٹھی آنی تھی۔
زاہد بیت الخلاء میں ہی تھا جب صنم واپس حال میں لوٹ آئی۔ صنم نے دم بھر کو سانس نہ لیا اور چولہے میں لکڑیاں جھونکنے لگی۔ آگ جلانا اسے بہت دیر سے آیا تھا، مگر اب وہ اچھے سے چولہا جلدی تیار کر لیتی تھی۔ ایک پراٹھا اور ایک پراٹھی اس نے توے پر بنائی اور پھر چائے چڑھا دی۔
”یہ زہر تیرے سے بن بھی جائے گا یا سویرے سویرے تیرا منہ ماتھا سیدھا کروں۔“ وہ موت کا فرشتہ بن کر اس پر مسلط ہوا۔
وہ غصے میں ناجانے صنم کی کتنی نسلوں کو قبروں سے نکال چکا تھا۔ وہ ناشتہ لے کر اس کے پاس پہنچی، اسے کھانا دیا اور فوراً لوٹ آئی۔
”بہت بدمزہ پکاتی ہے، تیرے ہاتھوں سے جوانی کیا گئی ذائقہ بھی چلا گیا۔“ سامنے ستون کے قدموں پر تھوک کر وہ باہر چلا گیا۔
صنم نے چائے پراٹھا کھایا۔ وہ ساتھ ساتھ سوچوں کی وادیوں میں ڈوبتی چلی گئی، اس کے میکے سے کبھی کوئی آیا ہو اسے یاد نہیں تھا یا وہ کبھی اپنے پچھلوں کے یہاں گئی ہو۔
زاہد ماما جی کو کوستا رہتا کہ اس نے چھ ہزار میں کیا مرکھنا بیل اس کے ساتھ باندھ دی ہے، اس کے گلے میں کیا سوکھی بھینس کی رسی ڈال دی ہے۔ انڈوں کے اخبار والے شاپر کو انڈوں سے خالی کر کے صنم اسے انہماک سے پڑھنے لگی۔کراچی میں باڑ آئی ہے، بارشیں زور و شور سے ہوئی ہیں، کچے مکانات بھی گرے ہیں۔ پانچ فٹ کے پانی نے گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کی گردنیں پکڑلی ہیں۔ 
بھارت نے بارڈر پر بزدلی دیکھائی اور رات کی تاریکی میں ہمارے 4 سپوتوں کو شہید کر دیا۔خبریں گدلی ہوچکی تھیں اس لیے وہ انہیں بامشکل پڑھ رہی تھی۔
اس کے پھیپھڑوں میں ان مسلسل بری اخباروں کی یادیں بھر گئیں، اس کا من چلچلانے لگا۔
اس بات کو کافی دیر ہو گئی جب وہ وہاں آکر بیٹھی تھی۔ دیو نکلے سر پر آکھڑا ہوا۔ وہ اٹھی اور جھاڑو لگانے لگی۔
صنم کے کپڑے جو وہ کفن کی مانند جسم سے ناجانے کب سے لگائے ہوئی تھی، جگہ جگہ سے پھٹ گئے تھے۔ چھید چھدنے کے بعد کپڑا ستر ڈھکنے کے قابل تو نہیں رہا تھا مگر وہ چادر سے اپنے ستر کو حد درجہ ڈھک کر رکھتی۔ وہ ویسے بھی گھر سے باہر جاتی نہیں تھی، اس قفس میں وہ زاہد کی قیدی تھی۔ ممانی جان کی مہندی کے پیلے کپڑے اسے شادی پر تحفتاً ملے تھے، وہی پہن کر اس گھر کی دہلیز کے اندر داخل ہوئی تو اس کے بعد باہر کوئی دنیا بھی ہے یہ جیسے وہ نہیں جانتی تھی، اس کی شادی کو قریب 8 برس ہو چکے تھے۔ یونہی اخبار یا ردی کا کوئی ٹکڑا ہاتھ آجاتا تو وہ پڑھ لیتی، مگر ان آٹھ سالوں میں اس کے پاس قرآن کا کوئی حساب نہیں تھا، وہ قرآن اتنی بار پڑھ چکی تھی گویا اسے اب اکا دکا اغلاط کو نکال کر پورا کا پورا قرآن یاد ہو چکا تھا۔
جھاڑو لگاتے ہوئے اسے  بغلوں سے چرچراتے ہوئے کپڑا ٹوٹنے کی آواز آئی۔ اسے خود سے حیا محسوس ہوئی اور صنم نے پھیلے بازو کی کہنی کو پسلیوں سے لگا لیا۔ بازو پھیلا کر اب وہ جھاڑو نہیں لگارہی تھی۔
غربت کی سکڑاہٹ سے کوئی فائدہ ہو نہ ہو مگر حیا اور مسکینوں کی تمام علامات پوری ہو جاتی ہیں۔ انسان سمٹ چمٹ کر رہنے کا عادی ہو جاتا ہے، اس کے ہاتھ بلند چیزوں کی تاب میں نہ پھیلتے ہیں، نہ بلند ہوتے ہیں۔ ہاں فقط دعا میں، مگر وہ بھی کہنیاں پسلیوں سے اٹھتی نہیں۔
باہر سے کھانسنے کی آواز آئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی سنبھلا ہو، پھر پتھروں پر ٹک ٹک کرتی بیساکھی کی آواز سن کر صنم یک دم ہوش کے جہاں میں لوٹی۔
دروازہ لکڑی کا تھا اور کنڈی پرانے طرز کی زنجیر والی، جو ایک کھونڈے کے ساتھ جا لگتی۔ دروازے کا پردہ ہٹا اور زاہد اندر داخل ہوا۔
”او منحوس ادھر آ۔۔۔“ حقارت سے اسے پکارا۔
”یہ چٹھی میرے سامنے کھول۔۔۔“ اس کی رال ٹپکنے لگی۔
صنم چارپائی کی دوسری جانب بیٹھ کر چٹھی کھولنے لگی۔ 
”ادھر لا۔“ جیسے ہی چٹھی کھلی زاہد نے جھٹ سے چھین لی۔ اس میں پیسے پڑے تھے۔
”تیرے منحوس ہاتھ لگے تو پیسوں میں برکت نہ رہے گی۔ تو وہ خط پڑھ۔“ وہ پیسے گننے لگا۔
”جلدی پڑھ پیٹ میں سور ہو گیا ہے کیا کم ذات، ریڑھ کی ہڈھی میں گدگدانے لگا ہے۔“ وہ بے تابی سے بولتا گیا۔
”سلام اماں !
ابا کو بھی سلام۔“ صنم نے ابا کو سلام پہلے پڑھا تھا تاکہ اس پر بھی وہ بھڑک نہ اٹھے۔
”ابا راحت علی کام کرتے ہوئے چھت پر سے گر گیا تھا، اس کا علاج کروایا۔ اس کی اور میری مزدوری کے چودہ سو روپے بھیجے ہیں، دو سو ہسپتال کا خرچہ اور باقی ہم دونوں کے دانے پانی کے پیسوں کا حساب لکھا ہے۔
اگلی باری سارے پیسے بھیجیں گے۔ چھوٹا بہت یاد کرتا ہے ہم جلدی ملنے آئیں گے۔
آپ دونوں کی یاد بہت آتی ہے۔“ آخری سطر صنم نے مذکر کی شان میں پڑھی تھی۔
”یہ حرام خور, کتے کے پلے مجھ سے جھوٹ بولیں گے، باپ کو دینے کو پیسے نہیں ان کے پاس۔“ پاس پڑے تھوک دان کو اٹھا کر اس نے صحن میں پٹخ دیا۔
ہری نسوار کا ہرا لیس دار لعاب آنگن میں پھیل گیا، اور بدبو کرنے لگا۔
”یہ سب تیرے منحوس ہاتھ لگنے سے ہوا۔“ زاہد نے اپنی بےساکھی اٹھائی اور اپنی حد میں بیٹھی صنم کو ماری۔ وہ روتی ہوئی وہاں سے اٹھی تو اس کی جگہ خالی ہو گئی۔
چند ساعت وہ اسے کوستا رہا اور پھر ناجانے کب سو گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا دیوی رادھا کان دھرے سن رہی ہو۔ اس کے جھمکوں کی آواز آئی۔
مگر وہ بے بس تھی۔ صنم صحن صاف کرنے لگی۔جلدی سے یہ کام سمیٹا اور چولہے کے سامنے جا بیٹھی۔
دال چڑھائی اور اب کے اندر کمرے کی جھاڑ پونچھ میں لگ گئی۔ اسے اپنے ماں باپ کی واحد تصویر کو روز صاف کرنا اچھا لگتا تھا۔ وہ جب  اسکول جایا کرتی تو اس کے والد اسے 1 روپیہ دیتے تھے۔ ماں لاکھ کہتی بچی بگاڑنے پر تلے ہو مگر وہ اپنے جتن چلاتے۔ ایک روپیہ پورے اسکول میں لانے والی وہ واحد بچی تھی۔ مگر وقت اور تقدیر نے یہ آزمائش بھی دکھانی تھی۔
اس نے خط کو دوبارہ کھول کر پڑھا جس میں وہ الفاظ جو اس نے حذف کر لیے تھے وہ بھی لکھے تھے۔
”اماں یہ اس میں 250 تیرے ہیں، سب ابا کو مت دینا اور اسے یہ پڑھ کر بھی مت سنانا ورنہ تیرے ساتھ ساتھ وہ ہمارا بھی حشر کر دے گا۔ نیا جوڑا لے کر پہننا، ہو سکے تو اپنے میکے چلی جانا میں پیسے بھیجوں گا، ہم دونوں کا بڑا پیار۔“
کب اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر بہنے لگے, اسے خبر نہ ہوئی، وہ مورت بےحس بن گئی۔
شام کو جب زاہد معمول کے مطابق باہر گیا تو رادھا نے شیشہ بجایا۔
صنم بھاگتی ہوئی گئی اور اپنی اکلوتی دوست یا شاید اس گھر نما کائنات کے دوسرے رخ، دوسرے گھر کو دیکھنے پہنچی۔ یہ بالکل ایسا ہی منظر تھا کہ انسان زمین پر سے چاند کو دیکھتا ہے، جو بس اسے دیکھ سکتا ہے کیونکہ ہر ایک کی تمنا پوری نہیں ہوتی کہ وہ چاند پر جائے۔
”رے تو کیا بن گئی ہے لڑکی، اپنا دھیان رکھا کر۔ یہ تجھے مارتا ہے، پیٹتا ہے۔ تو کیوں سہتی ہے، بولا کر۔“ اس شگاف سے وہ دونوں سہیلیاں آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں۔
صنم نے اپنے روکھے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لیا اور کہا۔۔
”میرا نام صنم ہے اور مجھے رکا رہنا ہے مورت بن کر۔ مجھے کچھ نہیں کہنا بس میں ایسے ہی خوش ہوں۔“
”ری تُو تو میاں کی بھولی گائے ہے گائے۔ دیکھ مجھے تیرے کو دیکھ کر زرا بھی اچھا نہیں لگتا، تو اس سے پٹا نہ کر۔ وہ تو لنگڑا ہے اس سے دور بھاگ جا ڈھونڈے گا بھی نہیں تجھے۔“ دیوی نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے بغاوت کا مشورہ دیا۔
”تم نہیں سمجھو گی۔“ صنم نے سرد مہری سے کہا۔
”میاں تیرے کو سکھ دیوے، سکھی رہ۔۔۔“ دیوی نے مسکراتے ہوئے اسے دعائیں دیں۔
وہ دونوں وہاں سے ہٹ گئیں اور جلدی سے سب پہلے جیسا کر دیا۔
شام ہو گئی، روشنی کی بہن اندھیرے نے روشنی کو آکاش کے دوسری جانب دھکیل دیا اور خود راج کرنے کو آگئی۔ تاریکیاں ایسے پھیلنے لگیں جیسے انسان کے دل سے خون چپے چپے، بالشت بالشت، میں سرائیت کرتا ہے۔
”ادھر آ رے۔“ زاہد نے گھر آتے ہی اسے آواز دی۔
وہ گھبرا کر آئی۔
”یہ چٹھی پڑھ۔۔۔“ اس نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اس نے دھیرے دھیرے لفافہ کھولا اور تہہ در تہہ مڑا ہوا کاغذ کھولا۔ لگ رہا تھا یہ لفافہ دن کو ہی ہرکارہ اسے دے گیا ہوگا، کیونکہ لفافے میں زاہد کے پسینے کی بُو آرہی تھی۔
”آپا بلقیس کا خط ہے۔ خیر خیریت سے ہو زاہد۔جلدی آتی ہوں تمہارے یہاں۔ میرا بچہ شادی جوگا ہو گیا ہے، اس کی تاریخ طے کرتی ہوں اور گاڑی پکڑ کر تجھے میٹھائی کھلانے آتی ہوں۔
ولسلام۔“
زاہد نے فورا اس سے لفافہ چھین لیا اور پھاڑ ڈالا، اس میں ۱۰۰ کا نوٹ نکلا۔
”آپا نہیں بھولتی مجھے پیسے دینے کو۔“ وہ خوشی سے اس نوٹ کو دیکھ رہا تھا۔
جیب میں سے باقی سارے پیسے نکال کر گننے لگا۔۔۔
جب تک صنم نے کھانا تیار کیا اور آکر اس کے سامنے رکھا۔
”لاکھ روپے جمع ہوجائیں گے جلدی ہی، نی سن رہی ہے نا تو، لاکھ۔“ وہ آج بہت خوش تھا۔
”ماشاءاللہ نظر نہ لگے۔“ صنم اسے خوش دیکھ کر ہی خوش ہو گئی تھی۔
”بس ۲۰ ہزار کم ہیں، پھر لوگ مجھے بھی لکھ پتیا کہیں گے۔“ وہ اپنی مستی میں جھول رہا تھا۔
”ایک بات کہنی تھی۔“ صنم نے بہت مشکل سے اتنے الفاظ کہے تھے۔
”ہاں بول۔۔“ اس نے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے کہا۔
”اتنے پیسے جمع ہو گئے ہیں تو اب اپنی ٹانگ کا علاج کروا دے شہر جا کر۔“ صنم نے ٹوٹے الفاظ میں بات مکمل کر ہی دی۔
”نہ کبھی بھی نہ، شہر نہیں جانا۔ یہ کمینے سارے پیسے کھا جائیں گے، میری محنت کی جمع پونجی ہے۔“ وہ تیش میں آگیا اور بری طرح چلایا۔
”مجھ سے تیری یہ معذوری نہیں دیکھی جاتی۔۔“ وہ دور ہو کر ڈرتی ہوئی بولی۔
”ابھی رک تیرا کام کرتا ہوں۔“ وہ اٹھا اور اس کو تھپڑ رسید کئے۔
رات کے پہر وہ باہر نکل گیا۔
صبح سویرے چھت پر سونے کا ورق پھیلنے سے پہلے کنڈی کے کھلنے کی آواز آئی، صنم قرآن پڑھنے میں مگن تھی۔
زاہد نے آکر اسے گدی سے پکڑا اور چار پائی سے نیچے گرا دیا۔ قرآنِ کریم، فرقان حمید لڑھک کر نیچے جا گرا۔
”جا اب ، اوئے آ اسے لے جا۔“ وہ بری طرح غصے میں پاگل ہو چکا تھا۔ اتنے میں ایک  طاقتور توانا نوجوان اندر آیا۔
وہ اٹھی، اپنی چادر درست کرنے سے پہلے قرآن کو اٹھا کر سینے سے لگایا۔ 
”کہاں لے جا، میں کہیں نہیں جارہی۔“ اس لڑکے نے آگے بڑھ کر صنم کا ہاتھ پکڑ لیا۔ 
”بیچ دیا ہے لالے نے تجھے مجھ پر، پورے ۲۰ ہزار میں۔“
یہ بات اس کی سماعتوں سے ٹکرائی اور وہ بپھر پڑی۔
ہاتھ چھڑا کر وہ زاہد کے پاس گئی۔ اس اثناء میں اس کی چادر لڑھک کر زمین پر جا گری۔
”بول یہ غلط کہہ رہا ہے، بول نا۔“ وہ چلائی۔
زاہد نے جیب سے نقد روکڑی نکالی، وہ نوٹ گننے میں مشغول تھا۔
اس کے بعد صنم نے کیا کہا، نہ وہ کسی کو یاد ہے، نہ زاہد کے کانوں پر کوئی بات پڑی۔ وہ بادل ناخواستہ ننگے پاؤں، ننگے سر قرآن کو سینے سے لگائے بھینس کی مانند اس نوجوان کے پیچھے پیچھے گھسیٹتے ہوئے آرہی تھی۔ رام لال نے اس شخص کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اس توانا وجاہت والے نوجوان کے ایک گھونسے کی مار تھا۔ رادھا نے اس کے پاؤں پکڑے مگر بےسود، وہ تب کے بعد کہاں گئی، کہاں رہی، کسی کو علم نہیں۔
مہینے بعد جب بچوں کا خط آیا ہرکارہ اسے دروازے پر ہی دے گیا تھا۔ زاہد نے ایک نظر گھر کے تمام حلیے پر ڈالی، اسے صنم کہیں نظر نہیں آئی۔
زاہد خط لے کر گھر سے نکلا کہ ممیاتے ہوئی بھیڑیں سامنے آگئی۔
”گزر بھی جا کم ذات۔“ اس نے چرواہے کو کوسنا شروع کردیا۔
اتنے میں اس نے دیکھا وہاں سے امامِ مسجد سائیکل پر گزر رہے تھے۔ وہ اردو پڑھنا جانتے تھے، وہ دیگر وقت میں چٹھیاں ہی لکھتے تھے اور اپنا معمولی سا معاوضہ لے لیتے۔
چٹھی ان سے پڑھوا کر اس نے پیسے گنے اور 2 روپے دے کر وہ جانے لگا تھا کہ امام مسجد نے اس کو مخاطب کیا۔
”زاہد تیرا نام اتنا پاک ہے، تو نے کیوں یہ کیا۔ یہ چٹھیاں جو تو پڑھوانے کے لئے لوگوں کے پاس جاتا ہے۔ کیا تجھے زرا بھی علم نہیں ایک چٹھی اس (امام صاحب نے اوپر کو انگلی اٹھا کر اشارہ کیا) نے بھی بھیجی ہے، اسے بھی پڑھنا ہے، نہیں تو کسی سے پڑھا کر سننا ہے۔ اس کو پڑھنے کے لئے، اسے جاننے کے لئے بھی اتنا تجسس ہونا ضروری ہے۔“ جب تک وہ بولتے گئے، تب تک وہ اپنے دست ادب میں جوڑ کر کھڑا رہا۔
واپسی پر اس کے دل اور سر پر کچھ بوجھ تھا۔ آج اس کا زور اس کی بےساکھیوں پر نہیں تھا، بلکہ آج وہ اپنے دل پر  بوجھ لیے واپس آرہا تھا۔
وہ گھر آیا اس نے اپنے تمام پیسوں کو یک جا کیا اور گننے لگا، وہ لکھ پتی بن چکا تھا۔ مگر اس کے دل کا بوجھ مزید وزن پکڑتا گیا۔ اس نے نظر اٹھائی، کوئی خدائی مخلوق اس کے سامنے کھڑی تھی، زاہد یرق کر رہ گیا۔ دنیا کا امیر وجود، اعمال کی غریب  ترین روح ثابت ہوا۔ ایک لمحے میں وہ مٹی کا پہلوان جو ناجانے کتنی اکڑ سے کھڑا تھا، مٹی کا زرہ زرہ ہو کر بکھر گیا۔

No comments

Powered by Blogger.