Column #22 | Haqoomti Baghion sy salook | HaaDi Khan
حکومتی باغیوں سے سلوک
ازقلم ہادی خان
شام کی شام ایک انسانیت سوز قتلِ عام ہوا۔مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے سیاہ ترین دن شاید ہی کوئی اور ہوگا۔ حضور اطہر ﷺ جو دین لائے تھے بادشاہی نظام کے خلاف، وہ دین جو ایک انقلاب کی مانند جزیرہ نما عرب سے نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تین برّ اعظموں تک پھیل گیا۔ مگر ٹھیک 50 سال بعد ایسا سانحہ ہوا کہ آج بھی جب وہ دن آتا ہے تو تمام مسلمان اشک اشک روتے ہیں، تمام لوگوں کے دل بھر جاتے ہیں۔ حضور اطہرﷺ کی آل کو ریت کے ریگزاروں میں ناحق شہید کر دیا گیا۔ بادشاہی نظام یعنی ملوکیت اسلام میں داخل ہوئی تو مسلمانوں پر زوال آگیا۔یہ خانہ جنگیوں کے بعد کا بگاڑ تھا یا شاید یہ اس بگاڑ کا اختتام تھا۔ یزید جب تخت نشین ہو گیا تو وہ اس بگاڑ کا آخری مہرا تھا۔ جب امام حسین علیہ السلام کو مدینے میں خط کے ذریعے اطلاعات ملتی رہی تھیں، امام کو لوگوں نے بتایا کہ جمعہ کے دن کے خطبوں میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ نمازیں جان بوجھ کر دیر تک معطل کر دی جاتی ہیں۔ تو آپ نے ایک وقت میں سوچ لیا کہ اب وہاں کے لوگوں کے دکھ میں شامل ہونے کو چلے جانا چاہیے۔اسی واسطے امام حسین علیہ السلام نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفے روانہ کیا۔مسلم بن عقیل کا وہاں خیر مکدم ہوا، لوگوں نے بہت چاہ سے ان کا استقبال کیا، ان کے ساتھ احسن اخلاق سے پیش آئے۔ کوفے کے لوگوں نے ان کو کھانے کھلائے، ان سے محبت کی اور ان کو اپنے پاس رکھا۔ مسلم بن عقیل نے اپنے بھائی کو یعنی امام حسین علیہ السلام کو یہاں آنے کی اطلاع دی اور مطمئن ہو گئے، مگر پھر یکسر حالات بدل گئے۔وہ اتنے بڑے مجمعے کی نماز کی امامت کرنے والے سے لوگ نا آشنا ہو گئے۔ حالات بگڑ گئے، لوگ مکر گئے اور لوگوں نے نظریں پھیر لیں۔ امام حسین کوفے کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ انھوں نے مدینہ پاک سے اپنا رخت سفر باندھا اور کوفے کے لوگوں کی اتنی اچھائی سنی کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوفے کی جانب چل دیئے۔ لوگوں نے روکنے کی بہت کوشش کی کہ ان لوگوں نے آپ کے والد سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وفا نہیں کی تھی، آپ بھی ان پر بھروسہ مت کریں۔ امام نے ان کی بات کو سنا ضرور مگر وہی کیا جو اللہ پاک کو منظور تھا۔ دیکھیئے اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ جنگ کرنے کو لوگ اتنی قلیل تعداد میں جائیں، تو حضرت حسین علیہ السلام ہرگز جنگ کے ارادے سے نہیں گئے تھے۔ اہل و عیال کو لے کر کون جنگ کرنے جاتا ہے، خیر یہ بات تو بعد میں ان پر واضح ہوئی کہ یہاں ان کو کن ارادوں سے بلایا گیا ہے۔ آپ کے بھائی مسلم بن عقیل کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔آپ کے پاس مثالیں ہیں۔ آپ زیادہ دور نہ جائیں، آپ گاندھی جی کے احتجاج کا طریقہ کار دیکھیں۔ان کے طریقے کے مطابق کوئی بھی احتجاج ہو وہ حاکم وقت کے خلاف بھوک ہڑتال کرتے ہیں یا سڑک پر قیام کی حالت اختیار کر لیتے ہیں۔ جس سے حکومت کو واضع ہو جاتا ہے کہ یہ کچھ لوگ یہاں جمع ہیں، یہ اپنی جانب توجہ لینا چاہ رہے ہیں، اب ان کے معاملات طے کیے جائیں۔ ان کے مطالبات سنے جائیں، ان کی تکلیف کو سمجھا جائے۔ یہ غیر مسلح احتجاج ہوتے ہیں، جس میں ریاست کی مداخلت نہیں ہوتی، عام عوام کا حاکمِ وقت سے احتجاج ہوتا ہے۔ جس میں لوگ عورتوں اور بچوں سمیت کسی ایک جگہ پر احتجاج کرتے ہیں۔ امام حسین جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے۔
انھوں نے اپنے کم سن بچوں کو ساتھ لیا ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ فقط کوفے کے لوگوں کی بات سننے جا رہے تھے۔ ان کی ہمدردی کرنے کو سفر کر رہے تھے۔ ایسے حالات میں ہم کبھی بھی احتجاجیوں پر جبر نہیں کر سکتے۔ اگر انھوں نے جنگ کرنی ہوتی یا وہاں جا کر فوج اکٹھا کرنی ہوتی، تو مدینے میں بھی بہت لوگ تھے جو جبر کے خلاف کھڑے ہوتے۔ خیر اگر ریاست کے خلاف کاروائی ہو، بغاوت ہو، تو انسان کہتا ہے چلو ہم نے بغاوت کچل دی، مگر وقت کا حکمران خود کو خلیفہ مانتا ہے اور خلیفہ احتجاج دیکھتے ہیں، عوام الناس کو سنتے ہیں۔ اس بات پر مجھے خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطاب کا واقعہ یاد آتا ہے۔ آپ ؓ خطبہ فرما رہے تھے۔ سامنے سے ایک شخص اٹھا اور کہا : "اے عمر تمہارا قد ہم سے بڑا ہے، ہم سب کو ایک جیسا کپڑا ملا اور اس کپڑے میں تمہارا کُرتا نہیں بن سکتا تھا، کیا تم نے مال غنیمت میں سے باقی مسلمانوں سے زیادہ کپڑا لیا ہے؟"
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کو جواب دینے کا کہا۔عبداللہ ابن عمر نے کہا : "چونکہ میرے والد کا کُرتا ان کے حصے کے کپڑے سے پورا نہیں بنتا تھا تو میں نے اپنے حصے کے کپڑے سے ان کو دیا تب ان کا کُرتا بنا۔" احتجاجی کو جواب ملا اور وہ مطمئن ہوا تب تو دوبارہ بیٹھ گیا۔ اب یہ جمہوریت کی ہی پرانی صورت ہے، جس میں آزادی حقِ رائے ہے، تب عام لوگ حکمرانوں سے سوال کر سکتے تھے۔ اس وقت احتجاج کو سنا جاتا ہے، مسائل کو حل کیا جاتا تھا۔ جب ہندوستان اور پاکستان کی تکمیل ہوئی، ہمیں بچپن سے کوئی بات یاد ہو نہ ہو مگر ہمیں 14 اگست کو یہ بات ضرور یاد آجاتی ہے کہ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا۔ جب انگریزی راج نافذ ہو چکا تھا، تو اسے ہم ملوکیت کا بادشاہی راج یا ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں۔ جس میں کسی انسان کو حاکم وقت کی مرضی کے برعکس چلنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ ہم اگر حکومت کے خلاف بولیں گے تو ہم سزا کے مرتکب ہوں گے۔ اب 1857 سے 1947 تک انتھک محنت کے بعد مسلمانوں نے اور ہندوؤں نے احتجاج سے ہی اپنے ممالک حاصل کیے ہیں۔ تب حکومت کے خلاف احتجاج کرتے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا۔ تب کمپنی والوں نے انسانوں کو جیلوں میں ڈالا اور ان پر کھلے تشدد کیے، کچھ لوگ اس وقت زخموں کی طاب نہ لاتے ہوئے مر گئے۔ یہ ہے اصل قربانی، جس میں انسان مذحمت نہیں کرتا۔ یہ کبھی بھی ریاست کے خلاف نہیں ہوتی، بلکہ حکومت کے خلاف ہوتی ہے۔ اگر تو یہ احتجاج ریاست کے خلاف ہو اور چند لوگ کریں تو ریاست کو اختیار ہے کہ اس بغاوت کو کچل دے۔ اور اگر آزاد ریاست ہے اور حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ ان کو ناحق قتل کر دیں۔ حسین علیہ السلام کا بھی احتجاج حاکم وقت کے سامنے تھا، ان کو ریاست کے باغی کہہ کر قتل کر دیا گیا جو کہ ناحق قتل ہے۔ اصل مقصد یہ نہیں کہ کس طرح قتل کیا گیا، اصل مدعا اور ہمارا رونا تو پھلتے پھولتے اسلام کے نظام کو تباہ کرنے کا ہے۔ آقاﷺ کے نظام کے باغیوں کو خدا غارت کرے، اِس جہاں میں بھی اُس جہاں میں بھی۔
ازقلم ہادی خان
شام کی شام ایک انسانیت سوز قتلِ عام ہوا۔مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے سیاہ ترین دن شاید ہی کوئی اور ہوگا۔ حضور اطہر ﷺ جو دین لائے تھے بادشاہی نظام کے خلاف، وہ دین جو ایک انقلاب کی مانند جزیرہ نما عرب سے نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تین برّ اعظموں تک پھیل گیا۔ مگر ٹھیک 50 سال بعد ایسا سانحہ ہوا کہ آج بھی جب وہ دن آتا ہے تو تمام مسلمان اشک اشک روتے ہیں، تمام لوگوں کے دل بھر جاتے ہیں۔ حضور اطہرﷺ کی آل کو ریت کے ریگزاروں میں ناحق شہید کر دیا گیا۔ بادشاہی نظام یعنی ملوکیت اسلام میں داخل ہوئی تو مسلمانوں پر زوال آگیا۔یہ خانہ جنگیوں کے بعد کا بگاڑ تھا یا شاید یہ اس بگاڑ کا اختتام تھا۔ یزید جب تخت نشین ہو گیا تو وہ اس بگاڑ کا آخری مہرا تھا۔ جب امام حسین علیہ السلام کو مدینے میں خط کے ذریعے اطلاعات ملتی رہی تھیں، امام کو لوگوں نے بتایا کہ جمعہ کے دن کے خطبوں میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ نمازیں جان بوجھ کر دیر تک معطل کر دی جاتی ہیں۔ تو آپ نے ایک وقت میں سوچ لیا کہ اب وہاں کے لوگوں کے دکھ میں شامل ہونے کو چلے جانا چاہیے۔اسی واسطے امام حسین علیہ السلام نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفے روانہ کیا۔مسلم بن عقیل کا وہاں خیر مکدم ہوا، لوگوں نے بہت چاہ سے ان کا استقبال کیا، ان کے ساتھ احسن اخلاق سے پیش آئے۔ کوفے کے لوگوں نے ان کو کھانے کھلائے، ان سے محبت کی اور ان کو اپنے پاس رکھا۔ مسلم بن عقیل نے اپنے بھائی کو یعنی امام حسین علیہ السلام کو یہاں آنے کی اطلاع دی اور مطمئن ہو گئے، مگر پھر یکسر حالات بدل گئے۔وہ اتنے بڑے مجمعے کی نماز کی امامت کرنے والے سے لوگ نا آشنا ہو گئے۔ حالات بگڑ گئے، لوگ مکر گئے اور لوگوں نے نظریں پھیر لیں۔ امام حسین کوفے کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ انھوں نے مدینہ پاک سے اپنا رخت سفر باندھا اور کوفے کے لوگوں کی اتنی اچھائی سنی کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوفے کی جانب چل دیئے۔ لوگوں نے روکنے کی بہت کوشش کی کہ ان لوگوں نے آپ کے والد سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وفا نہیں کی تھی، آپ بھی ان پر بھروسہ مت کریں۔ امام نے ان کی بات کو سنا ضرور مگر وہی کیا جو اللہ پاک کو منظور تھا۔ دیکھیئے اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ جنگ کرنے کو لوگ اتنی قلیل تعداد میں جائیں، تو حضرت حسین علیہ السلام ہرگز جنگ کے ارادے سے نہیں گئے تھے۔ اہل و عیال کو لے کر کون جنگ کرنے جاتا ہے، خیر یہ بات تو بعد میں ان پر واضح ہوئی کہ یہاں ان کو کن ارادوں سے بلایا گیا ہے۔ آپ کے بھائی مسلم بن عقیل کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔آپ کے پاس مثالیں ہیں۔ آپ زیادہ دور نہ جائیں، آپ گاندھی جی کے احتجاج کا طریقہ کار دیکھیں۔ان کے طریقے کے مطابق کوئی بھی احتجاج ہو وہ حاکم وقت کے خلاف بھوک ہڑتال کرتے ہیں یا سڑک پر قیام کی حالت اختیار کر لیتے ہیں۔ جس سے حکومت کو واضع ہو جاتا ہے کہ یہ کچھ لوگ یہاں جمع ہیں، یہ اپنی جانب توجہ لینا چاہ رہے ہیں، اب ان کے معاملات طے کیے جائیں۔ ان کے مطالبات سنے جائیں، ان کی تکلیف کو سمجھا جائے۔ یہ غیر مسلح احتجاج ہوتے ہیں، جس میں ریاست کی مداخلت نہیں ہوتی، عام عوام کا حاکمِ وقت سے احتجاج ہوتا ہے۔ جس میں لوگ عورتوں اور بچوں سمیت کسی ایک جگہ پر احتجاج کرتے ہیں۔ امام حسین جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے۔
انھوں نے اپنے کم سن بچوں کو ساتھ لیا ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ فقط کوفے کے لوگوں کی بات سننے جا رہے تھے۔ ان کی ہمدردی کرنے کو سفر کر رہے تھے۔ ایسے حالات میں ہم کبھی بھی احتجاجیوں پر جبر نہیں کر سکتے۔ اگر انھوں نے جنگ کرنی ہوتی یا وہاں جا کر فوج اکٹھا کرنی ہوتی، تو مدینے میں بھی بہت لوگ تھے جو جبر کے خلاف کھڑے ہوتے۔ خیر اگر ریاست کے خلاف کاروائی ہو، بغاوت ہو، تو انسان کہتا ہے چلو ہم نے بغاوت کچل دی، مگر وقت کا حکمران خود کو خلیفہ مانتا ہے اور خلیفہ احتجاج دیکھتے ہیں، عوام الناس کو سنتے ہیں۔ اس بات پر مجھے خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطاب کا واقعہ یاد آتا ہے۔ آپ ؓ خطبہ فرما رہے تھے۔ سامنے سے ایک شخص اٹھا اور کہا : "اے عمر تمہارا قد ہم سے بڑا ہے، ہم سب کو ایک جیسا کپڑا ملا اور اس کپڑے میں تمہارا کُرتا نہیں بن سکتا تھا، کیا تم نے مال غنیمت میں سے باقی مسلمانوں سے زیادہ کپڑا لیا ہے؟"
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کو جواب دینے کا کہا۔عبداللہ ابن عمر نے کہا : "چونکہ میرے والد کا کُرتا ان کے حصے کے کپڑے سے پورا نہیں بنتا تھا تو میں نے اپنے حصے کے کپڑے سے ان کو دیا تب ان کا کُرتا بنا۔" احتجاجی کو جواب ملا اور وہ مطمئن ہوا تب تو دوبارہ بیٹھ گیا۔ اب یہ جمہوریت کی ہی پرانی صورت ہے، جس میں آزادی حقِ رائے ہے، تب عام لوگ حکمرانوں سے سوال کر سکتے تھے۔ اس وقت احتجاج کو سنا جاتا ہے، مسائل کو حل کیا جاتا تھا۔ جب ہندوستان اور پاکستان کی تکمیل ہوئی، ہمیں بچپن سے کوئی بات یاد ہو نہ ہو مگر ہمیں 14 اگست کو یہ بات ضرور یاد آجاتی ہے کہ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا۔ جب انگریزی راج نافذ ہو چکا تھا، تو اسے ہم ملوکیت کا بادشاہی راج یا ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں۔ جس میں کسی انسان کو حاکم وقت کی مرضی کے برعکس چلنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ ہم اگر حکومت کے خلاف بولیں گے تو ہم سزا کے مرتکب ہوں گے۔ اب 1857 سے 1947 تک انتھک محنت کے بعد مسلمانوں نے اور ہندوؤں نے احتجاج سے ہی اپنے ممالک حاصل کیے ہیں۔ تب حکومت کے خلاف احتجاج کرتے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا۔ تب کمپنی والوں نے انسانوں کو جیلوں میں ڈالا اور ان پر کھلے تشدد کیے، کچھ لوگ اس وقت زخموں کی طاب نہ لاتے ہوئے مر گئے۔ یہ ہے اصل قربانی، جس میں انسان مذحمت نہیں کرتا۔ یہ کبھی بھی ریاست کے خلاف نہیں ہوتی، بلکہ حکومت کے خلاف ہوتی ہے۔ اگر تو یہ احتجاج ریاست کے خلاف ہو اور چند لوگ کریں تو ریاست کو اختیار ہے کہ اس بغاوت کو کچل دے۔ اور اگر آزاد ریاست ہے اور حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ ان کو ناحق قتل کر دیں۔ حسین علیہ السلام کا بھی احتجاج حاکم وقت کے سامنے تھا، ان کو ریاست کے باغی کہہ کر قتل کر دیا گیا جو کہ ناحق قتل ہے۔ اصل مقصد یہ نہیں کہ کس طرح قتل کیا گیا، اصل مدعا اور ہمارا رونا تو پھلتے پھولتے اسلام کے نظام کو تباہ کرنے کا ہے۔ آقاﷺ کے نظام کے باغیوں کو خدا غارت کرے، اِس جہاں میں بھی اُس جہاں میں بھی۔

Leave a Comment