Column #23 | Ham aur hamary Islaaf | HaaDi Khan
ہم اور ہمارے اسلاف
ازقلم ہادی خان
خدا کی قدرت دیکھیں، اس نیلی بیضوی شکل کی دنیا میں 7 براعظم ہیں، یہاں پر بہت سے سرد و گرم علاقے موجود ہیں، اسی پر صحرا کی خشکیاں ہیں، جزیرہ نما عرب ہے اور وہاں کے سخت محنت کش لوگ بھی۔ عرب میں بہت سے قبیلے بَنُو عباس، بَنُو تَيْم، نو عدي، بَنُو امیہ، بَنُو ہاشم، بَنُو عامر، بَنُو اسد، بَنُو عبد شمس اور بَنُو مخزوم وغیرہ ہیں۔ ان میں سے چُن کر بَنُو ہاشم کو معتبر کیا گیا، اور ان میں سے ایک شخص جنﷺ کے کردار کی گواہی دشمن بھی دیتے تھے کہ یہ صادق اور امین ہیں، ان کو ایک دین دیا گیا، ایک نئی سوچ دی گئی۔ ان کو ایک فرشتے کے ذریعے باری تعالیٰ نے اپنا کلام سنایا۔ جس پر کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب کلام الہٰی ہے۔ ان عربوں میں، ان کے بیچ میں ایک شخص نے خدا کی واحدانیت کا اعلان کردیا۔ یہ سب اتنا نیا تھا کہ لوگ سمجھ ہی نہ سکے، جو سمجھے اور صداقت پر کھڑے ہوئے وہ ایک طرف ہو گئے۔ حضور اطہر ﷺ نے سب کو اپنا ایمان پوشیدہ رکھنے کی تعلیم فرمائی۔ اب وہاں ہر جانب چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ یہ ایک بالکل نئی بات تھی، جو ان سخت جان لوگوں کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ سب لوگ وہی تھے اعلان سے پہلے والے، مگر ان میں اب کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کون کون مسلمان ہو گیا ہے۔ کسی شخص کے اس نئے دین میں آنے کا معلوم ہوتا، تو باقی سب کو یقین نہیں آتا کہ وہ بھی اپنے باپ دادا کے بت پرستی کے عقیدے سے پھر گیا ہے۔
وہاں اب ایک کشمکش تھی کہ کیا واقعی فلاں کا بیٹا اس دین میں آگیا، فلاں کا چچا اس دین میں آگیا۔ سب لوگ حیرت میں ہی مبتلا رہے اور تادیر رہے، مگر پھر تمام کو اس بات پر مکمل یقین ہوگیا کہ یہ دین حق اور سچ ہے۔ جن کے نصیب میں ہدایت نہ تھی، خدا نے کفار کے خلاف جنگ میں ان کو جہنم واسل کر دیا۔
اس تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مسلمانوں نے جب ایک بات پر اکتفا کیا اور ایک مٹھی کی طاقت بن کر باہر نکلے، تو سلطنت فارس اور سلطنت روم کو بھی پاش پاش کر دیا۔ کفار کے لشکروں کو مٹھی بھر عربوں نے اکھاڑ کر رکھ دیا۔کافر اس تدبیر کو سمجھ نہ سکے کہ ان لوگوں نے اتنی منظم اور جدید فوجوں کو کیسے ہرا دیا۔ وہ عرب جو کبھی ہمارے سامنے کھڑے ہونے کی جسارت نہیں کرتے تھے، وہ کیسے ہمارے سروں پر لٹکتی تلوار ثابت ہوئے۔ کیسے یہ ساٹھ لوگ ساٹھ ہزار کے لشکر کی صفیں اکھاڑ دیتے ہیں۔ خالد ابن ولید ؓ کی قیادت میں یہ لوگ پانچ ہزار کفار کا خاتمہ کرتے کرتے روم و فارس کے دروازے کھٹ کھٹانے چلے جاتے ہیں۔ اب خالد ابن ولیدؓ کو دیکھیں یہ کسی غزوہ یا جنگ میں پس پا نہیں ہوئے، حالانکہ غزوہ احد میں بھی مسلمانوں کی صفوں میں بگاڑ پیدا ہوا تھا لیکن خالد نے وہ جنگ بھی تقریباً جیتی تھی۔ یہ جو کبھی عرب کا بت پرست تھا، اب کیسے مسلمانوں کی کمانڈ سنبھالتا ہے اور ان کو اس عروج پر پہنچاتا ہے کہ تاریخ میں کسی جرنیل، بادشاہ اور سپہ سالار نے ایسی تدبیر نہیں برتی ہوگی۔ جو راستہ 10 دن کا تھا وہ خالد ابن ولیدؓ 3 دنوں میں طے کرتے تھے۔ یہ عرب کا بت پرست اب صرف اس سوچ پر تھا، جو محمد عربیﷺ نے اس کو دی تھی۔
یہ سوچ ہی اللہ کی واحدانیت اور اسی کی بقائی کی ضمانت ہے۔ ہماری جانیں تو کبھی نہ کبھی جانی ہی ہیں، یہ دنیا بھی عارضی ہے، تو کیوں نہ اپنی جنوانیاں اس کارِ خیر میں صرف کریں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں۔ خالد ابن ولیدؓ کہتے تھے میرے جسم پر ایک بھی جگہ ایسی نہیں جہاں برچھی، تلوار یا نیزے کا نشان نہ ہو، میں نے اتنی جنگیں لڑیں مگر اب میں بستر مرگ سے لگ پڑا ہوں، میرے حصے میں جنگوں کی شہادت تھی ہی نہیں۔
ان کی سوچیں یہی تھیں جو اقبال ہمیں 80 سال پہلے کہہ گئے ہیں۔
کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔
میں عموماً سوچتا ہوں یہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کے کلمے میں ایسا کیا ہے کہ وہ لوگ اس کلمے کو پڑھ کر پھر رکتے نہ تھے۔ وہ بس شہادت کا جام پینے کو جنگوں اور غزوات میں نکل کھڑے ہوتے تھے۔ اس کلمے میں ایک وعدہ ہے۔ عالم ارواح میں ایک وعدہ لیا گیا تھا کہ انسانوں کے جسموں سے روحوں کو آزاد کردیا جائے گا۔ ایسے ہی یہ کلمہ بھی وعدہ ہے کہ تمہیں باقی دنیا میں مقام ملے گا، جنت ملے گی، باقی دنیا میں بادشاہی ملے گی۔
پس اس فانی دنیا کے تمام لوازمات کو خود پر منع کر دو۔ سمجھو کہ دنیا تمہارے لیئے روزہ ہے اور اس کی خواہشات تمہارے روزے کو توڑ دیں گی۔بس وہ لوگ متقی ہو گئے اور ان کو حکمرانی ملی۔
اقبال نے اپنے شعر میں یہی بات کہی ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا۔
ایمان والے باطل سے کبھی بھی دبنے والے نہیں ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو کتنے اصحاب نے اس کا سر کچلنے کے لیے جان کی قربانی دی۔ یہ سب صرف اسی مقدس ہستی کی حرمت کے لیے ہوا۔ برنس نے مسلمانوں کا ایک قافلہ لوٹا، وہ یہودی تھا، اس نے حضور اطہر ﷺکی شان میں گستاخی بھی کی، سلطان صلاح الدین ایوبی نے دو سال کی مدت تک اپنے اندر اس آگ کو جلائے رکھا اور جب اس نے بیت المقدس فتح کیا تو اُس یہودی کا سر قلم کردیا۔
یہ سب عزتیں ان لوگوں کو حضور اطہرﷺ کے صدقے میں ملی ہیں۔ کتنی مثالیں ہیں کہ حضور اطہرﷺ کے صدقے میں لوگوں کو عزتیں ملی ہیں، جو باقی رہیں گی تاوقت تک۔ مگر اب دیکھیے، یہ سوچ کہ جان و مال سب اللہ کا دیا ہے مسلمانوں میں ختم ہو گئی ہے، بلکہ ناپید و نابود ہو گئی ہے۔ایک ۹/۱۱ کے ڈرامے کا ہونا تھا کہ ساری دنیا میں تیزی سے پھلنے پھولنے والے مذہب اسلام کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ افغانستان میں، شام میں، فلسطین میں اور باقی ممالک میں بھی یہ بہروپیے گھس گئے ہیں۔ جہاں برقع ، داڑھی اور شلوار قمیص والوں کو دیکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گجرات میں خون ریزی کی گئی۔ دنیا کی اتنی بڑی آبادی کا مذہب جس نے یورپ اور افریقہ، ہندوستان تک میں اپنے نام کے پرچم لہرائے، وہ سب اب دفائی مزاج کے ہو گئے ہیں۔ جو پہلے لڑنے کا، جہاد کا جذبہ رکھتے تھے، اب سہم گئے ہیں۔ مسلمانوں میں خوف بھر دیا گیا ہے۔ اب مسلمانوں کا حال ایسا ہے کہ دنیا میں کہیں دھماکہ ہوتا ہے تو دنیا بھر کے مسلمان دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں، کہ اللہ کرے ان میں کوئی مسلمان نہ ہو۔ یہ حالات ہیں اب ہمارے، جو پیغامات ہمارے لیے تھے ہم وہ سب بھول گئے ہیں۔ اب ہمارے سامنے قرآن کی بےحرمتی ہوتی ہے۔ وہ قرآن، جس کی حرمت کے لیے جنگیں ہوتی تھیں، شاہ سوار گھوڑے لیے دشمنوں کے پیچھے جاتے تھے اور میدان جنگ سے فرار ہونے والے لوگوں کو بھی جانے نہ دیتے تھے۔ رسول کے تقدس کے لیے قیمتی اثاثے جنگوں میں کھو دیئے گئے، وہ حافظ قرآن بھی کھودئیے گئے جو حضور نے خود تیار کیے تھے۔ آقاﷺ کے نام پر جان نثار کرنے کا جذبہ اب بھی ہے ہم سب میں، مگر نام کا۔ جب فرانس میں اس مقدس ہستیﷺ کے خاکے بنا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں، تو اسلامی ممالک کو خبر ہی نہیں ہوتی، اگر چند کو خبر ہو بھی جائے تو مذامتی بیان جاری ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ جلوس نکال کر فرانس کا جھنڈا جلا دیتے ہیں اور بس یہی بدلہ ہے۔ جب سویڈن میں قرآن جلانے کی روایت بن گئی ہو اور پھر ہم مذمت کر لیں، تو مان لیں کہ اب ہماری بات میں وزن نہ رہا۔ ہماری بات اب بات نہیں، اب لوگ ہمیں سنتے نہیں، ہمارے اقدار گر رہے ہیں۔ اب ہمیں بےعزت کیا جاتا ہے دنیا میں۔ جنت کا خواب، اب خواب ہی ہے۔ ہمارے دماغوں میں کسی نے اپنی مرضی کی خوف کی سوچیں بھردی ہیں، ہماری اصل قدریں چوری ہو گئی ہیں۔ فقط یہی کہ جب تک ہم قرآن و سنت کو اپنے گھروں کی بلند جگہوں پر رکھ کر، اس مقدس کتاب کو کھولنے کے بجائے نذرِ گرد کرتے رہیں گے، تب تک ہم پس پا ہی ہوتے رہیں گے

Leave a Comment