Column #24 | Matam Ham par | HaaDi Khan

ماتم ہم پر
ازقلم ہادی خان
گزشتہ دنوں ایک الم ناک، شرم ناک، انسانیت سوز واقعہ پیش آیا۔ ایک خاتون لاہور سے سیالکوٹ کے موٹروے پر اپنی گاڑی میں روانہ ہوتی ہیں، مگر آگے جا کر گاڑی موٹر وے پر رک جاتی ہے کیونکہ اس میں پیٹرول ختم ہو گیا تھا۔ گاڑی میں خاتون اور اس کے بچے تھے۔
خاتون نے موٹروے پولیس کو کال کی مگر ان سے معلوم ہوا کہ یہ علاقہ ان کی حدود میں نہیں آتا۔ اسی کے چند ساعت بعد دو لوگوں نے گاڑی کا شیشہ توڑا، گاڑی لوٹی اور موقع محل دیکھ کر عورت کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ کہ اس عورت کے بچوں کے سامنے یہ سب عمل ہوا۔ یہ کہنے، لکھنے، پڑھنے میں، بہت سادہ سی بات لگتی ہے، مگر دو منٹ اس بات کو اپنے اوپر رکھ کر سوچیں تو قیامت اور کیا ہو سکتی ہے اس واقعہ سے بڑھ کر؟ لیکن ہمیں تو اپنا ہی دکھ نظر آتا ہے، باقی دنیا کا دکھ دنیا جانے۔ اول تو ہمارے ملک میں جنسی زیادتیاں ہوتی رہتی ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ کہیں دن کو، کہیں رات کو، تو جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ خاتون وہاں پر رات کو کیا کر رہی تھی اور وہ بھی کم سن بچوں کے ساتھ، اس کا محرم کہاں تھا، تو وہ لوگ دن دھاڑے ہونے والے ریپ کیس کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اسی شہر لاہور میں دن دیہاڑے الم ناک سانحے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ افسر کہتے ہیں وہ عورت جی ٹی روڈ سے جاتی، ان کو کوئی بتائے اگر آپ کو مظلوم سے ہمدردی نہیں ہے تو آپ مجرم کے حمایتی بھی مت بنیں۔ آپ کی ڈیوٹی واقعے کو بیان کرنا ہے یا اپنی مرضی کی ممکنات شامل کرنا ہے۔ آپ کا کام مجرم کو پکڑنا ہے۔ دوم آپ کے اس بیانیے سے کتنوں کو یہ سیکھ ملی ہے کہ شہر کے محافظ ہی مجرم کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، تو باقی لوگ بھی جرم کے لیے آزاد ہیں۔ یہ بات مان لیں کہ اب سی سی پی او کو اس معاملے سے بری کر دیا جائے گا۔ اس بات کو نظر انداز کیا جائے گا۔ جیسے تیسے ان کا بیانیہ کسی اور تشریح کے ساتھ چلا کر ان کو بچا لیا جائے گا اور ان کو صحیح ثابت کیا جائے گا۔
سرکاری پولیس اہلکار کے بیانیے پر ایک شعر عرض کرنا چاہوں گا۔

سر شام لٹ چکا ہوں سر عام لٹ چکا ہوں
کہ ڈکیت بن چکے ہیں کئی شہر کے سپاہی
(صابر ظفر)

خیر یہاں ہم نے ایسا ہی ایک نظام بنایا ہوا ہے کہ جرم کرنے والے سے زیادہ مظلوم پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ اب اس کو کون اپنائے گا، اس کی عزت کہاں باقی رہی۔ عورت کا اپنا کیا قصور تھا اس میں جو اس کو اس واقعے پر اب باتیں سنائی جائیں گی۔ اگر ایک عورت کے سامنے دو معاملات ہیں ایک یہ کہ اس کی زیادتی ہو دوم یہ کہ وہ اپنی جان دے دے، تو اپنی جان لینا یا خودکشی کرنا اپنے ہاتھ میں ہے جو انسان خود کرتا ہے، یہ کوئی بہادری نہیں بلکہ یہ گناہ کبیرہ ہے، جس کی معافی تلافی نہیں۔ دوم وہ زیادتی جو اس کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ ہوئی، اس میں وہ بَریُّ الذِّمَّہ ہے، یہاں اس کا کوئی قصور نہیں، اس کو برا مت کہیں، بلکہ زنا بالجبر کرنے والے کو لعن طعن کریں۔
یہاں ہمارے ملک میں لوگ خاندان کی ناک بچانے کے لیے کیس نہیں کرنے دیتے، یہ بات بھی طے ہے کہ ۹۰ فیصد عورتیں مجرموں کے خلاف خاندان کی لاج رکھنے کے لیے نہیں بولتی ہیں بلکہ اپنا منہ سی لیتی ہیں، مطلب ہمارے اس ملک میں ۹۰ فی صد عورتیں جن کی عزت لُٹ چکی ہے، وہ مجرم کے خلاف قانونی کاروائی ہی نہیں کرتی ہیں۔ ایک عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور وہ خاموش رہتی ہے تو زیادتی کرنے والے کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں کہ عورتیں کیس نہیں کرتیں، میرے پکڑے جانے کے ممکنات بہت کم ہیں اور یہ ذہنی خواہشات کے مریض اس عمل سے باز نہیں آتے۔
کچھ لوگوں کی سوچ اس قسم کی بھی سامنے آتی ہے جو عورت کے لباس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ کہ اگر لباس تنگ ہوگا تو مرد یہ عمل کرے گا ہی، تو ان سے معلوم کرنا چاہوں گا جب پچھلے دنوں ایک بلی کے ساتھ مسلسل کئی روز تک زیادتی ہوتی رہی تو بلی نے کس قسم کے کپڑے پہنے تھے؟ ان سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جانوروں کے ساتھ جو یہ فعل کرتے ہیں اس میں جانوروں کا کیا قصور ہے؟ جانوروں نے حجاب کرنا تھا یا عبایا پہننا تھا؟
جناب یہ آپ لوگوں کی سوچ ہے بس، بات یہ ہے کہ جس کو جہاں موقع محل ملا اس نے وہاں ہاتھ صاف کرلیا۔ ایک ویران سڑک پر جہاں بتی بند ہے، جہاں عام عوام الناس موجود نہیں، جہاں عورت کے ساتھ کوئی مرد نہیں، تو ٦۰ فیصد تو ہم نے خود ہی مجرم کو زیادتی کرنے کی جگہ مہیا کر دی ہے۔ اس پر افسران کہیں عورت کی غلطی ہے، ستم پر ستم یہ کہ عورت کو ہی برا کہا جائے، مجرم مکمل طور پر مطمئن ہے کہ اس کی پکڑ نہیں ہو سکتی تو وہ یہ فعل دوبارہ کرنے کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ ہم لوگ نادانستگی میں مجرم کو چھوڑ کر عورت پر لعن طعن کررہے ہیں کہ وہ نکلی ہی کیوں، اس کے ساتھ یہ عمل ہوا اب اس سے شادی کون کرے گا، اس کو کون اپنائے گا وغیرہ وغیرہ۔ میرا، میرے ملک کے معززین سے دستِ ادب جوڑ کر سوال ہے کہ کیا یہ عمل اس کی مرضی سے ہوا تھا جو سارا کچرا اس پر ڈال دیا گیا ہے۔ آپ نے خاندان کی ناک کو عورت کے کردار پر کیوں لا کر رکھ دیا ہے کہ مجرم تو بَریُّ الذِّمَّہ ہے جس میں ہوس تھی، اور جو مظلوم ہے اس کو دنیا برا کہہ رہی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہمارے سارے پیمانے ہی الٹے پڑے ہیں، ہم نے مجرم کے بجائے مظلوم کو جج کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ جو اگر زندہ بچ گئی ہے تو اس کی زندگی اب خراب ہو گئی، لیکن مجرم کو کسی نے برا نہیں کہا۔ مزید یہ کہ مجرم کو ہم یہ سہولت بھی مہیا کر دیتے ہیں کہ وہ پکڑے نہیں جاتے، اگر اس ریاستِ مدینہ میں قانون ہے کہ کسی سے زیادتی ہو گئی تو اس کے مجرم کو پکڑا جائے۔ فرض کریں وہ پکڑا بھی جائے تو کیا ضمانت ہے کہ اسے سزا بھی ملے گی. اگر وہ کسی بااثر شخصیت کا جاننے والا ہوا تو؟ یہاں کا قانون کمزور، بہت کمزور ہے۔ کیونکہ اجتماعی زیادتی کرنے والا ایک شخص تو پہلے بھی اس طرح کے جرم کا مرتکب ہوچکا ہے مگر آزادی سے مزید جرم بھی کر رہا ہے۔
جب پولیس نے اس عورت کو دیکھا تو اس عورت نے سب سے پہلے کہا مجھے گولی مار دیں، دوم نمبر پر اس نے کہا میرا کوئی مقدمہ درج نہ کیا جائے, میری بدنامی ہوگی۔ ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں کہ عورت مجرم کے خلاف نہیں جا سکتی کیونکہ ہم نے اس عورت کو بےعزت سمجھنا ہے، اب وہ خاندان میں کسی سے نظریں نہیں ملا سکتی، وہ رپورٹ کرکے آواز نہیں اٹھا سکتی، اس سے کوئی شادی بھی نہیں کرے گا، اسے قانونی کاروائی کرنے سے اپنے لوگ ہی پیچھے کریں گے۔ اس سب میں ایک جانب تو یہ عورت مر رہی ہے، دوسری جانب مجرموں کو مزید اس بات کی اجازت مل رہی ہے کہ وہ یہ گناہ اب بھی کر سکتے ہیں۔ اور جنہوں نے نہیں کیا وہ بھی اس سے یہ ہی سبق سیکھ رہے ہیں کہ پہلوں کو کب سزا ملی جو ہمیں ملے گی۔
کچھ لوگوں کے تبصرے ایسے بھی تھے کہ اس عورت نے گاڑی کا پیڑول پہلے کیوں نہیں دیکھا، تو جناب کیا گاڑی خراب نہیں ہو سکتی؟ ٹائر بھی پھٹ سکتا ہے، مزید ۱۰۰ مسائل ہو سکتے ہیں۔ گاڑی ہے کیا کر سکتے ہیں، مشین کا کیا بھروسہ ہوتا ہے، یہ ہرگز کوئی تنقیدی بات نہیں ہے، ایسی باتیں کرکے ہم مزید مجرموں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔
ہم نے خود ہی ایسا معاشرہ بنا رکھا ہے کہ عورت سے زیادتی ہو تو مجرم بَریُّ الذِّمَّہ ہے اور عورت کو ہم نے برا کہہ کر مار دینا ہے۔ ہم خود بلاواسطہ طور پر مجرم کی حمایت کر رہے ہیں، بھلے ایک جملہ کہہ کر یا عورت کو برا کہہ کر۔ ہمیں اپنے معاشی اخلاقیات پر کام کرنا چاہیے، ہمیں ہماری سوچوں کو وسیع کرکے سوچنا چاہیے، ہمیں اب معاشرہ بنانا ہے اور جرم کو جرم ماننا ہے، نہ کہ عزت بےعزتی کا مسئلہ۔ عورت کو انسان سمجھیں، اگر اس کے ساتھ یہ فعل ہوا ہے تو اس کی مرضی سے نہیں ہوا، بلکہ مجرم کو قانونی طور پر عدالت میں لائیں، قانون کے مطابق سزا دلوائیں، بلکہ اسے عبرت بنائیں جو مستقبل کے لیے مثال کے طور پر ہر فرد کے ذہن نشین ہوجائے۔
آخر میں میں ایک گزارش کروں گا ان لوگوں سے جن کو ممبر رسول ﷺ ملا ہوا ہے۔ میں علماء ، ذاکر، شیخ، قاری، مولانا، مفتی صاحب اور دیگر مذہبی اسکالرز سے مخاطب ہوں کہ آپ لوگوں کو ہر جمعہ ملتا ہے، اس کے علاوہ ہر عشاء کے بعد بھی آپ لوگوں کو مسلمانوں کی سماعتیں ملتی ہیں، آپ اس میں فلاں کافر، فلاں بدعتی اور فلاں اسلام سے خارج، کا نعرہ مت لگائیں اور اصل اسلام لوگوں کے ذہن نشین کریں۔ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ آپ ایسے واقعات کی شریعت کی مقدس کتابوں سے حوالے دے کر مذمت کریں۔ آپ لوگوں کو لاکھوں لوگ سنتے ہیں، آپ فتوی جاری کریں، ان جرائم کا حل اسلام سے ہی ہو سکتا ہے، اور یہ آپ کی بھی ذمہ داری ہے، اس کے متعلق آپ سے بھی پوچھ گچھ ہوگی۔

No comments

Powered by Blogger.