Column #25 | Bury muashry k achy ham | HaaDi Khan

برے معاشرے کے اچھے ہم
ازقلم ہادی خان
جب ہم چھوٹے تھے، تب ہمارا محلہ بہت پُر امن ہوا کرتا تھا۔ ہم نے بہت کم جھگڑے سنے تھے۔ کبھی کسی نے کسی کو چھڑی مار دی، کسی نے کسی کو ڈنڈا مار دیا۔ بہت ہی کوئی انوکھی بات ہوتی تھی کہ گھاس کاٹتے دو لوگ لڑ پڑے، ایک نے دوسرے کو درانتی مار دی، اس کا خون رسنے لگا۔ جب کوئی ہمیں یہ بات سناتا تو ہمیں بلا کی حیرت ہوتی، یقین تو آتا ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ہماری عقل اس کو تسلیم کرنے لگی تھی۔ پردیس سے کوئی فون کرتا تو اسے بھی بتاتے وہ چار محلے چھوڑ کر  فلاں ۹۰ سال کا بابا فوت ہو گیا ہے، سات سمندر پار اس پردیسی کو بھی بابا کی موت کا دکھ ہوتا تھا۔ ہمارے محلے میں منشیات کی لت میں لگے ایک چچا رہتے تھے۔ان کا نام فدا محمد تھا۔ ہم نے بچپن سے ہی ان کو سگریٹ پیتے دیکھا تھا۔ اس زمانے میں سگریٹ کی خالی ڈبی واپس کرو تو ایک روپیہ ملتا تھا۔لوگ سگریٹ بھی پی لیتے اور ڈبیا بھی جمع کرتے۔ وہ چچا ۱۰ دن میں اتنے سگریٹ پی کر ڈبیا جمع کرتا کہ ۱۱ویں دن ان کی سگریٹ ان کو دس دن کی خالی ڈبیوں پر فری مل جاتی۔ وہ منشیات کا بہت استعمال کرتے تھے۔ ہمارے محلے میں پولیس بھی آنے لگی تھی، مگر اس زمانے میں ہر نشئی ہی اپنے جیب میں ضمانت قبل از گرفتاری لیے گھومتا تھا۔ میرا مطلب ہے ۱۰۰ یا ۲۰۰ روپے دیئے اور اسی جگہ پر بری ہو گئے۔ فدا محمد بھی اسی تکنیک کا استعمال کرتے اور ہر باری بری ہو جاتے۔مگر ان کی گرفتاری کا چرچا ہر ہفتہ بعد ہوا کرتا تھا۔ اس دور میں ہم سب لوگ شام کے شام جمع ہوا کرتے تھے، کبھی کھیلتے تو کبھی یونہی کسی ایک کی ٹانگ کھینچتے۔ ایک دن کسی بچے  نے ایسے ہی کہہ دیا کہ فدا چچا مر گیا۔ ہم سب کو یقین نہ آیا۔ سب اپنے اپنے گھروں کی جانب چلے گئے اور گھر جا کر سب نے یہی بات بتائی کہ فدا چچا مر گئے۔ ہمارے دل غمگین تھے۔ کسی کو یقین نہ آتا تھا۔ ہر آنے والے فون کو اطلاع دی جاتی کہ چچا فدا مر گئے۔ ہر فون کرنے والا جنازے کا پوچھتا۔ مگر اگلی صبح کو کیا منظر دیکھتے ہیں وہ چچا اپنے گھر کے سامنے بنے چبوترے پر بیٹھے سگریٹ کے کش لگا رہے ہیں۔ لوگ  پہلے تو جن بھوت یا آتما سمجھ کر قریب نہ گئے، مگر جب گئے تو معلوم ہوا وہ زندہ ہیں۔ کتنی بری بات ہے جو انسان ہمیں کبھی ایک آنکھ نہ بھاتا تھا، اس کے مرنے پر ہم دکھی تھے اور اصلی والا دکھی تھے مگر وہ مرا نہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہوا، انسان کو کسی کے دکھ کی لاج رکھتے ہوئے سچی کا مر جانا چاہیے۔
پھر ایک بار گورنمنٹ ڈگری کالج کے لڑکوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ انھوں نے گاؤں کی مسجد میں صبح صبح جا کر مولوی صاحب کو اعلان نامہ پکڑا دیا۔ اعلان ہوا کہ فلاں دوست کے والد صاحب کا رضائے الہٰی  سے انتقال ہوگیا ہے۔
پہلے پہل تو لوگوں کو یقین نہ آیا، مگر بعد ازیں انھوں نے گھر جا کر تصدیق کی تو وہ زندہ حیات پائے گئے۔ مگر یہ اعلان سنتے ہی لوگوں کا پہلا تاثر جو حیرت کا تھا، وہ قابل دید تھا۔
یہ تو چلیں بہت چھوٹی بات ہے، مگر جب ہماری سوچیں ہی ایسی خبریں سننے والی بنا دی جائیں یا خود بن جائیں، تو ہمیں اس طرح کی ہی خبروں کا انتظار ہوگا۔ دیکھیں جب ہم میڈیا کو جھوٹا اور برا کہتے ہیں تو اس کے پیچھے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں۔ میڈیا وہی بات دیکھائے گا جو اکثریت دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر ہم سب دھوکے میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں، تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ میرے کچھ ہندوستانی دوست ہیں، میں نے تجربہ کرکے دیکھا۔میں نے ان کے سامنے تاج محل، لال قلعہ اور ہندوستان کے دیگر مشہور مقامات کا ذکر کیا اور بہت تعریف و توصیف کے کلمات ادا کیے، انہوں نے بھی کھل کر بات کی اور لاہور، کراچی، پشاور اور اسلام آباد کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ مگر جب میں نے کہا کہ مودی برا ہے، تو اس نے جواب میں کہا عمران خان برا ہے۔ میں نے کہا واچ پائی اچھا بندہ تھا، اس نے کہا نواز شریف اچھا بندہ تھا۔ میں نے سچن ٹنڈولکر کی تعریف کی، تو اس نے شاہد آفریدی اور شعیب اختر کی تعریف کی۔ میں نے کشمیر کا ذکر کیا اس نے بلوچستان کا ذکر کیا۔
بلآخر میں نے اپنے میڈیا کو برا کہا تو اس نے بھی بلا جھجھک اپنے میڈیا کی دھلائی کر دی۔میں نے اس سے اخذ کیا کہ دیکھیں ہم لوگ خود نفریتیں پھیلانے والے ہیں۔ ہمیں خود کو سدھارنا چاہیے۔میڈیا تو ہماری پسند کی چیز دکھاتا ہے، لیکن اگر وہ اصلیت دکھانے لگے، ہم اپنے ٹیلی وژن توڑ بیٹھیں۔لوگ ان چینلوں کے دفاتر توڑ ڈالیں۔
وہ بچپن میں بچوں کے زرا زرا سے جھوٹ، بڑے ہو کر ہماری زندگی کا حصہ بن گئے، بلکہ ضرورت بن گئے کہ ان کے علاوہ زندگی ادھوری ہو گئی، ہم خود وہ سب دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسی کو حکومت کے گرنے کا جھوٹ پسند ہے، کسی کو حکومت کے برقرار رہنے اور کامیاب ہونے کا جھوٹ پسند ہے۔کوئی ایک جانب تو کوئی دوسری جانب بٹ چکا ہے۔ ہم نے خود ہی بانٹ دیا ہے خود کو، ایک ٹیم بری ہے تو ایک ٹیم اچھی ہے۔ ن لیگ کا کوئی ایم این اے مرے تو باقی جماعتوں کے کارکن ڈھول پیٹتے ہیں، پی ٹی آئی کا کوئی کرپٹ پکڑا جائے تو باقی جماعتوں کے کارکن ڈھول پیٹتے ہیں۔ ہم نے انسانوں کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے، ہم نے انسانوں کو ان کے روپ، ان کے رنگ ڈھنگ اور اپنے مفادات کی آڑ میں پرکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں اب بس وہی جھوٹ بہلاتا ہے جو ہمارے مطلب کا ہو۔

ہم یہ جھوٹی خبریں خود بنواتے ہیں، کیونکہ ہم خود جھوٹ کے ساتھ پروان چڑھے ہیں۔ یہ جھوٹ اب ہماری زندگیوں کا بہت اہم حصہ ہے۔ اگر ہمیں بحیثیت قوم آگے بڑھنا ہے تو خدارا جھوٹ کی تصدیق کریں اور جھوٹوں کی باتوں میں نہ آئیں، مگر اس سے قبل خود جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔ اس گناہ سے توبہ کریں۔ دنیا، ملک و قوم سب خودبخود ٹھیک ہو جائے گا جب سچے لوگ سامنے آئیں گے۔

No comments

Powered by Blogger.