Column #26 | Nadanistagi Ky jurm | HaaDi Khan

کالم : نادانستگی کے جرم
بقلم ہادی خان
ہم انسانوں کی کچھ خواہشات ہوتی ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کسی اعلیٰ عہدے پر جانا چاہتا ہے۔  کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی انجینئر ،کوئی وکیل، کوئی جرنل، کوئی پائلٹ، کوئی سنگر، کوئی اداکار، وغیرہ۔ ہماری بہت ساری خواہشات ہیں جو ہم اپنے ساتھ لے کر بڑے ہوتے ہیں۔ ہماری ان خواہشات میں بہت بڑا ہاتھ ہمارے اوپر دوسرے لوگوں کے اثر کا ہوتا ہے۔ مثلاً ۱۹۹۲ کے بعد ہر ایک نوجوان عمران خان بننا چاہتا تھا، ہر ایک نے کرکٹ کی وردی پہن رکھی تھی اور نوجوانوں پر گویا یہ دیوانگی تھی کہ وہ عمران خان کے ایسے کرکٹ میں جائیں۔ یہ روایات اور رجحان بدلتے رہتے ہیں، لوگوں نے عالمگیر کو سنا تو اس کے اسیر ہو گئے۔    پھر اسی زمانے میں وحید مراد کے ایسے لوگوں نے بال بنوانے اور ادائیں دیکھانی شروع کردیں۔ ان کے ایسے بن کر رہنا اور کپڑے پہننے شروع کردیے۔  یہ سب ہماری انسانی فطرت ہے کہ ہم پر کچھ لوگوں کو بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ پھر ایک دیہائی کے بعد شاہد آفریدی آیا تو نوجوانوں نے اس کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ ہمارے ملک نے بہت سے نایاب ہیرے پیدا کیے ہیں، جن کا نظیر عالم اقوام میں کہیں نہیں ملتا۔
لوگ بال بڑے رکھتے ہیں، اداکار اور دیگر مشہور شخصیات کی دیکھا دیکھی خود کو ان ایسا بنانے کے لیے محنت کرتے ہیں۔ کوئی فلم چلتی ہے تو تمام لوگوں میں اس اداکار کا بول چال معمول بن جاتا ہے۔ یہ سب پسندیدگی کی بات ہے کہ انسان جس کو پسند کرتا ہے اس کی مانند نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ہمارے نچلے طبقے کی بابت بات ہوئی، مگر اوپر والے طبقے کے لوگوں کی بات ہی اور ہے۔ جتنا انسان کا دماغ کھلتا جاتا ہے، اس کی سوچ بھی وسیع ہوتی جاتی ہے۔ صاحب ثروت لوگوں نے اپنے بچوں کو ملک سے باہر بھیجا، ان بچوں نے عمران خان، وحید مراد اور شاہد آفریدی سے باہر کی دنیا دیکھی اور اپنے اوپر موجود درختوں سے اور اوپر کی کھلی فضا دیکھی۔ ان لوگوں نے سائنس دان دیکھے، ادیب دیکھے، بڑے اداکار دیکھے، جیمز بانڈ دیکھا، جان ریمبو دیکھا۔ان لوگوں نے اپنے احداف اور آگے رکھے۔ کسی پر کسی ڈاکٹر کی شخصیت کا تاثر بہت گہرا پڑا، تو کسی پر کسی آرمی جرنل کا۔
یہ تو وہ عام باتیں ہیں جو ہر انسان کے شعور یا لاشعور میں پڑی ملتی ہیں، جو خود ساختہ ہیں۔ مگر کچھ تاثرات ایسے ہیں جو بنائے جاتے ہیں۔ جیسے کہ سیاسی مقاصد کے لیے آپ کو لسانی بنیاد پر اکسایا جاتا ہے۔ اپنی بولی بولنے والا ہر شخص پھر آپ کا عزیز بن جاتا ہے۔ بٹی بٹائی بات ہو جاتی ہے، ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ایک چیز کو دوسری پر جنون کی حد تک ترجیح دینے لگتے ہیں۔کچھ تاثرات ہم میں بھرے جاتے ہیں جن میں اشتہارات بھی شامل ہیں۔ آپ کے ملک میں کسی کریم کو بیچنا ہو تو بڑا سارا اشتہار لگایا جاتا ہے، اس سے قبل آپ کے ملک میں کالے گورے کے نام پر ایک اچھا خاصا محاذ کھولا جاتا ہے۔ کوئی کسی بڑی شخصیت کو یہ طعنہ دے دے یا کسی کی گوری رنگت کو اس کے لیے موضوع بنایا جائے، ان کا مقصد صرف اپنے مال کی مشہوری کرنا ہوتا ہے۔
اس پر کچھ تاثرات ایسے ہیں کہ جن سے مذہبی طبقہ آپ سے کام لیتا ہے، جیسے کہ جنت کی محبت دکھا کر بڑے بڑے اجتماعات بھرے جاتے ہیں۔ نیکی کی تسکین سے لوگوں سے مجمعے بھرے جاتے ہیں اور خوف سے آپ کو کسی کام سے باز بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ہم میں ہر شخص ہی یہ خواہش کرے گا وہ اپنے تمام آل و عیال کے ساتھ جنت میں جائے مگر جب آپ اسے کہیں گے کہ تم نے قتل کیا تو تم جنت میں نہ جاؤ گے تو جنت کھو جانے کے چکر میں وہ اس فعل سے باز رہے گا۔ ایک انسان کو مارنا گویا تمام انسانیت کو مارنا ہے، اب جب اس کا نفس اسے کسی بڑے قدم پر ابھارے گا تو وہ یہ بات سوچ سکے گا۔ حکومت کو چندہ درکار ہو یا مسجد کو، ان کی تقریر میں بہت سے پہلو ہوتے ہیں جس میں ڈر کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، انسان کو ڈرا کر بڑے سے بڑے کام کروائے جاتے ہیں۔ اگر فلاں فنڈ کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ نہ ڈالا تو آنے والی نسلیں پانی سے محروم ہو جائیں گی یا اللہ کی راہ میں نہ دینے والے کا مال اس کی پیٹھ پر گرما کر لگایا جائے گا۔

کچھ تاثرات ایسے ہوتے ہیں جو ہم پوری زندگی اپنے قلب کے کسی گوشے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی میں کسی ڈاکٹر کو دیکھا اور متاثر ہو گئے، اب ہماری زندگی میں وہ خواب پورا نہ ہوا تو ہم اپنی اولاد پر اس کا بھرا بھرایا وزن ڈال دیتے ہیں۔ ہم اپنی پوری زندگی میں کسی وکیل کے منشی بنے رہیں تو ہماری خواہش بن جاتی ہے کہ ہمارا بچہ/بچی وکیل بنے۔ ہم خود اس پسماندگی میں زندگی گزار دیں کہ ہم تو پوری عمر ڈاکٹر صاحب کے ڈرائیور بنے رہے، ہمارا بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا۔ ہم کسی میجر یا کرنل کے گھر باورچی بنے رہے تو ہمارا بچہ میجر یا کرنل بنے۔ یہ تو ایک انتہائی درجے کی غلط بات ہے کہ ہم اپنی سوچ کو دقیانوس بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ہی نکتہ پر رک جاتے ہیں۔ آپ اپنی ۱۰ سال کی خواہشات کو ایک کم سن اور کچے دماغ پر مسلط کر دیتے ہیں۔ ہر فرد کی انگلیوں کے نشان الگ ہیں، ہر سوچ، ہر دماغ، الگ ہے تو ہم کیوں صلاحیت مار دیتے ہیں۔ ہر بچہ سائنس دان پیدا ہوتا ہے، وہ نئی جہتیں دریافت کرتا ہے، اسے ماحول میں پنپنے کا موقع ملنا چاہیے۔ آپ دیکھیں مغرب میں چھوٹے چھوٹے بچے مصنف ہوتے ہیں، کیا سے کیا ایجاد کرتے ہیں، انتہا درجے کے ذہین ہوتے ہیں، کیوں کہ وہاں اس قسم کی دھمکیاں نہیں ہوتیں کہ ہمارے خوابوں کو پورا کرنا، ہماری لاج رکھنا۔ کیا یہ  child labour نہیں کہ آپ ایک سوچ کا قتل کر رہے ہیں؟ ایک بچہ جسے خدا نے ایک صلاحیت دی ہے، جو ناجانے کس شعبے کا پیر ہوتا اس پر ہم یہ مسلط کر دیں کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو چھوڑ کر ایک وہ بوجھ جو اسکے عزیزوں کے کندھوں پر تھا اس کا وزن اٹھائے۔ یہ بچوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے، معاشرے کو نئی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہئے۔ ادوار کے ساتھ سوچیں بدلتی ہیں، مگر ہم اس سست رفتاری کے ساتھ جدت کو اپنا رہے ہیں کہ جب تک ہم اس جدت کو پوری طرح اپنائیں گے تب تک ناجانے کتنی نسلیں اداس اور دباؤ کا شکار  ہوتی رہیں گی۔

No comments

Powered by Blogger.