Column #28 | Haqooq e niswan| HaaDi Khan
حقوق نسواں
از قلم ہادی خان
خدا نے اپنی سب سے بہترین تخلیق کو مٹی سے بنایا اور فرشتوں کو بتایا۔ اس مٹی میں بہت مدت تک روح نہیں پھونکی گئی اور ابلیس صاحب آتے جاتے اس کو لاتیں مارتے کہ اللہ نے یہ مٹی بنا دی۔ مگر پھر انسان کی تکمیل ہوئی، اس میں روح پھونکنے سے قبل فرشتوں سےکہا گیا کہ، جب اس میں روح پھونکی جائے تو میرا حکم ماننا ہے، اس کو سجدہ کرنا ہے، تمام فرشتے حکم بجا لائے اور انسان کے سامنے جھک گئے۔ مگر عزازیل صاحب اکڑ کر کھڑے رہے۔نار جو ٹھہرے جن تھے۔ انسان کے لیے جنت تشکیل دی گئی۔ وہ جنت جہاں غم نہیں، جہاں رنج و الم نہیں، جہاں روک تھام نہیں، جہاں پھولوں اور پھلوں کی فراوانی ہے۔ جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا حقیقت ہے۔ جہاں حاجت اور ناپاکی نہیں ہے۔ انسان اکیلا تھا تو اس کی پسلی سے خدا نے ایک عورت بنا ڈالی۔ اس عورت اور اس مرد کو بتادیا گیا تھا کہ اس پھل سے دور رہنا ہے، باقی ساری جنت تمہاری ہے۔ مگر ابلیس صاحب کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اس نے اپنے حربے استعمال کیے، اور انسان کو جنت سے بے دخل کروا دیا۔ زمین 6 دنوں کی محنت سے بنی۔ قرآن کہتا ہے ہم نے زمین کو پھاڑ کر بنایا، آج کی جدید دنیا کے سائنس دان بھی اس کو بگ بینگ کی تھیوری بنا کر بتاتے ہیں۔ 100 سال قبل بھی ہمیں یہ معلوم تھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جاتی جا رہی ہیں، اور آج ہم اس کو مزید جدید آلات سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ، کبھی یہ سب کہکشائیں جڑی ہوئی تھیں، یہ ایک دھماکے کے باعث الگ ہوئیں اور اب مسلسل دور جاتی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ کہکشائیں کسی حد پر رکیں گی یا کبھی یہ واپس آئیں گی؟ قیامت کا منظر بھی ان سب کہکشاؤں کے ملنے جیسا ہی ہے، وہ جنت کا اتنا طویل رقبہ اور وہ جہنم کا کھولتا دہکتا منظر کیا ہے؟ کیا جب یہ سب کہکشائیں واپس لوٹ کر مل جائیں گی تو اس میں سورج جہنم کی حیثیت سے ہوگا؟
خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔ انسان نے دنیا میں محنت کی، اور پہلا قتل عورت کے نام پر ہوا۔ عورت مرد کی بائیں جانب کی پسلی سے بنی ہے۔ ہم بچے مولوی صاحب و بزرگان سے یہی سن کر بڑے ہوئے۔ مرد کی پسلی کی ایک ہڈی کم ہوتی ہے، جب یہ کہا جاتا تو بےساختگی سے ایک ہاتھ بغل میں متلاشی ہو پڑتا۔ ہڈی کا ہونا نہ ہونا بعد کی بات ہے، مگر اس وقت بزرگوں کی سفید داڑھی یقین چھین لیتی تھی، اور اس قدر اندازِ بیان میں صداقت کہ انسان کا دل موہ لے۔ انسان کو واقعی اپنی دو پسلیاں کم لگنے کا ادراک ہونے لگتا۔ مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے۔ ایک نظام بنایا ہے قدرت نے، مرد و عورت کو ایک دوسرے کی ضرورت بنا کر، زمین پر جوڑے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ بہت سے معاملات ہیں جن میں مرد کو عورت کا سر پرست بنا کر بھیجا گیا تھا۔بہت سے کام ایسے ہیں جہاں عورت کو مرد پر فوقیت حاصل ہے۔ پھر دنیا میں مرد و عورت کی تعداد بڑھتی گئی۔
17 صدی عیسوی میں مغرب کی عورتیں پورے لباس پہنا کرتی تھیں۔ اس وقت عورتیں گھروں میں رہا کرتی تھیں۔ مگر پھر چند صاحبِ ثروت لوگوں کی عورتیں گھروں کے قفس توڑ کر باہر نکلیں، اور مرد کے شانہ بشانہ چلنے لگیں۔ یہ دنیا میں بہت نئی بات تھی۔ پھر صدی گزری اور 18 صدی میں برطانیہ اور امریکہ کی، سفید چمڑی کی اعلیٰ طبقے کی عورتیں بھی نئی نئی باہر نکلنا شروع ہوئیں اور تعلیم حاصل کرنے لگیں۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی سب نے بھی احتجاج کیا اور جیسے تیسے کر کے اپنے تعلیمی نظام کے لئے بات منوا لی۔ تب تک ایک نظام نہ جانے کب سے چلا آرہا تھا، کہ مرد عوامی شعبے یعنی کاروبار، تجارت، حکومتیں اور گھر سے باہر کے معاملات سنبھالیں گے اور عورتیں گھر کی چار دیواری میں بچوں کی پرورش، گھر داری اور صفائی کریں گی، جھاڑو لگائیں گی۔ مگر تعلیم نے عورت کے ذہن کو کھول دیا کہ وہ بھی انسان ہے، اس کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ عورت نے خودی کو پہچانا اور اپنی اہمیت کو مردوں کے معاشرے میں بلند کرنا شروع کر دیا۔
افریقی سیاہ فام عورتیں اور ہندوستان کی عورتیں، سفید چمڑی کے مقابلے میں تباہ حال تھیں۔ وہ گھرداری کے ساتھ باہر کے کام بھی کرتی تھیں اور مرد بس ان سے کام لیتے تھے۔عورتیں کسی کے یہاں ملازمت کر لیتیں، گھروں میں کپڑے سیتیں یا مٹی کے برتن بناتیں، سب کام کر کے جو اجرت ملتی وہ اپنے شوہر کے ہاتھ پر رکھ دیتیں۔ یہ وفادار عورتیں مار بھی کھاتیں، بچے بھی جنتی اور گھر اور باہر کا کام بھی کرتیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آپ بس خدمات لیتے ہی تھے، خدمات کے بدلے اجرت نہ دیتے اور بس کام کے عوض کام ہی تھا۔ مرد عورت کو اپنی ملکیت سمجھ کر ان پر حکم چلایا کرتے۔ عورتیں شادی سے پہلے والد اور شادی کے بعد شوہر کی غلام کی حیثیت سے زندگی گزار لیتی تھیں۔ مگر امریکہ اور برطانیہ کی گوری چمڑی نے تمام عالم کی عورتوں کو پیغام دیا کہ تعلیم حاصل کرو اور گھروں سے باہر نکلو، عوامی کاموں کا حصہ بنو۔ تم انسان ہو تمہیں بھی تحفظ، صحت، عزت اور ہر شعبے میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس طرح دنیا کا ایک غلام طبقہ اوپر اٹھنے لگا۔ پیچھے صدیوں کی غلامی تھی، اب انھیں نجات ملنے لگی۔ عورتوں نے باآواز بلند ایک ہی نعرہ لگایا، اور دھیرے دھیرے عورتوں نے احتجاج کر کے امریکہ، برطانیہ میں تعلیمی اداروں میں جانے کو اپنا بنیادی حق قبول کروایا۔
19 صدی سے قبل ہندوستانی، افریقی عورتوں کے حقوق ہی نہیں تھے۔ عموماً عورتیں گھر پر رہتیں، صفائی کرتیں، کھانا پکاتیں یا سلائی کرتیں۔ وہ گھروں سے باہر جانے کے لیے بھی آزاد نہ تھیں، وہ لوگ اسکولوں کو بھی نہیں جا سکتی تھیں۔ یہ کہیں کہ اس وقت عورتوں کے اسکول تھے ہی نہیں۔ اگر اسکول بنتا تھا تو صرف مردوں کے لئے۔ گویا اس دنیا کا نصف صرف غلامی کے لیے پیدا ہوا ہو۔ مگر پھر دور بدلا. توپیں، بندوقیں بنیں جو کہ لازمی بات ہے انسانوں کو قتل کرنے کے مقصد سے ہی بنائی گئی تھیں۔ حالات بدلنے لگے، جنگیں ہونے لگیں اور ہسپتالوں میں عورتوں کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔ تاریخ میں پہلی بار مردوں نے ہسپتال میں عورتوں کے ہونے کو ضروری سمجھا اور ان کو وہاں بھرتی کیا۔ یوں ایک نئی ابتداء ہوئی اور پھر ڈاکٹر، نرس اور ناجانے کون کون سی نوکریاں عورتوں کو ملیں اور وہ ہسپتالوں میں داخل ہو گئیں۔
مگر تب یہ مسئلہ کھڑا ہونے لگا کہ پہلے جو عورت محنت کر کے کماتی، وہ اپنے شوہر یا باپ کو دیتی تھی، مگر اب اس نے ان پیسوں کو اپنے لیے جمع کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پہل اس بات کی بہت مذاحمت کی گئی، پھر لوگوں نے اس بات کو تسلیم کر ہی لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے عورتوں نے ماحول میں اپنی جگہ بنانا شروع کر دی۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے لگیں، ان کی تربیت کرنے لگیں۔ عورتوں کو یونیورسٹی میں داخلے ملنے لگے، وہ یونیورسٹی جو کہ مخصوص لڑکوں کے لیے بنا کرتی تھی۔
پھر نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک ہے، جہاں 1893 میں عورتوں کو باقائدہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت مل گئی۔ اگلے وقتوں میں جنسی زیادتی کا کوئی بھی باقائدہ قانون موجود نہیں تھا۔عورتوں کے پاس اپنا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، وہ پہلے اپنے والد اور شادی کے بعد اپنے شوہر پر انحصار کرتی تھیں۔ مگر یہ سب روایات ایک ایک کرکے ٹوٹتی گئیں اور عورت مضبوط ہوگئی۔
اب دنیا نے رفتہ رفتہ عورتوں کی اہمیت جان لی ہے، اور ان کو مختلف شعبوں میں مردوں سے برتر بھی گردانا گیا ہے، مگر ہمارا ملک اس سب میں ابھی بھی بہت پیچھے ہے، ہم لوگ اپنے نفس کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں یا اپنی برتری کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں 49 فیصد عورتیں ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت اور تحفظ کے کچھ حقوق ہیں، جن کو اپنی مٹھی میں رکھنے کو ہم نے اپنی مردانگی سمجھ رکھا ہے۔ جس سے اتنی بڑی تعداد ایک لمبے عرصے تک دبتی رہی ہے، کیونکہ عورتیں تعلیم سے دور رہی ہیں، مگر اب جب اس عورت نے تعلیم پائی ہے تو اسے اپنی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے۔ اب ان کو مزید روکنا یا دبانا تو اپنے خلاف باغیوں کو پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان ایشین ٹائگر بن سکتا ہے اگر ہم عورتوں کو ان کے حقوق دیں گے، وہ اس ملک کی معشیت کا دوسرا پہیہ ہیں۔
بلاشعبہ اب ہمیں اس بات کا اعتراف کر لینا چاہئے کہ عورتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، وگرنہ یہ عورت مارچ جیسے باغی عزائم ہمارے سامنے آئیں گے۔ مجھے ڈر ہے کسی دن عورت نے عورت ہونے کے نام پر ووٹ لیا تو ملک میں مردوں کی تعداد سے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مردوں کے دور میں عورت اگر کسی کو بدنام کرنا چاہے تو آرام سے کر سکتی ہے، اگر یہ معاشرہ عورتوں کا معاشرہ بن گیا تو کوئی مرد سر اٹھا کر نہ چل سکے گا

Leave a Comment