Column #27 | Jidat Ky amraz | HaaDi Khan
کالم : جدت کے امراض
بقلم ہادی خان
ہماری انسانی دنیا میں انسانوں نے پتھروں کو آپس میں رگڑ رگڑ کر آگ بنا دی۔ کیا کیا ہنر انسان کو آج آگئے ہیں مگر ہماری ابتداء بڑی دلچسپ ہے۔خدا نے آدم علیہ السلام کو کھیلی کرنا سکھایا اور ایسا کچھ کہا ہوگا کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہو کر اب دنیا میں خود اگاؤ اور کھاؤ۔ یہ ہم مسلمانوں کا ماننا ہے کہ یہی انسان کی ابتداء ہے اور ہم سب اسی ایک جوڑے کی اولاد ہیں، آدم اور حوا علیہم السلام نے دنیا میں اناج اگایا، کاٹا اور کھایا۔ اسی کے بالکل برعکس ایک طرف تو سائنس کا انسانیت کا ارتقاء ہے جو دس لاکھ سال کی طویل ترین کتھا ہے، جس کی گتھیوں کو سلجھانے بیٹھیں تو خدا جانے کس نے کب، کیسے، کیا بنا ڈالی ہے سمجھ نہیں آتا۔ ہمارا اپنا اسلامی موقف ہی بہتر ہے کہ انسان کو جنت سے نکال کر زمین پر بسایا گیا۔ بس اس کی مخالفت یا ضد میں انسانوں کو جان بوجھ کر جانور سے انسان بنایا جا رہا ہے۔ تو انسانوں نے اول تو پتھروں کو دیکھا ، ان کو جانچا اور پرکھا ، پھر ان کو آپس میں رگڑا تو کچھ چنگاریاں پیدا ہوئیں۔ پھر انسان نے سوکھی گھاس کو جلایا، کچھ پکایا اور کھایا۔ پہلے پہل تو وہ آگ سے ڈر کر دور ہٹ گیا ہوگا۔ پھر انسانوں میں مختلف زبانیں آئی۔ انسانوں نے دھیرے دھیرے اپنے دماغ کو استعمال میں لانا شروع کیا۔ چیزوں کو پہچاننا شروع کیا، ان کو نام دینا شروع دیا۔ کہتے ہیں عام انسان اپنے دماغ کو بہت کم استعمال کرتا ہے اسی لیے لگ بھگ پانچ ہزار سالوں میں اب جا کر ہم چاند پر پہنچے ہیں۔ ان گزشتہ دو صدیوں میں بڑی بڑی دریافتیں ہوئیں ہیں۔ ہم نے دنیا میں کیسے اناج لگایا، کیسے ڈیم بنائے، یہ سب بہت محنت طلب کام رہے۔ کاشت کاری کتنا مشکل ترین عمل تھا، پہلے پہل انسان خود زمین کا سینہ چیرتا، اس میں دانا ڈالتا۔ مگر عقل کے استعمال سے اس نے جانوروں کو اس کام میں مدد کے لیے استعمال کیا ، پھر مشینیں آگئیں اور آسانیاں بھی آسان تر ہوتی گئیں۔ بجلی بنی اور کیسے کھمبوں سے گھروں میں آئی۔ کیسے پہلا انسان بجلی لگنے سے مرا ہوگا اور باقی سب خوف میں مبتلا ہوئے ہوں گے۔ پہلی بار جب بلب بنا ہوگا تو کیسے آنکھوں میں اجالا چھا گیا ہوگا۔ بس انسان نے آہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کی اور بادلوں پر قدم رکھے۔
آج کے انسان چاند پر پہنچ گئے اور سورج کے قریب تک رسائی حاصل کر لی۔ یہی انسان ۱۰۰۰ سال پہلے یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ انسان زمین چھوڑے گا، انسان زمین سے اوپر بھی اٹھے گا۔ اس نیلی چھتری کے باہر بھی ایسے گول گول گولے ہیں, ہر ایک اپنے مدار میں تیرتا ہے۔ اب یہ سب ممکن ہو گیا ہے، اسی صدی میں انسانوں نے نیلی چھتری کے پار جانا شروع کیا، جدید گاڑیاں بنتی گئی۔ ہوا میں سفر کو ممکن بنا دیا گیا۔ زیرِ سمندر بھی سفر ممکن ہو گیا ہے۔ بلندیاں سب دریافت ہو گئیں، دنیا میں بلند ترین چوٹی کہاں ہے، دنیا کے کس مقام پر سب سے گہرا گڑھا ہے، یہ سب معلومات اب ہمارے پاس ہیں۔ ہمارے ہی جیسے انسانوں نے خطرناک جنگوں کے ساز و سامان بھی بنائے اور وہ بھی زور و شور سے آئے روز جدت پکڑتے جا رہے ہیں۔ فاصلے ایسے سمٹے کہ ایک موبائل فون سے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں سے ہم بس ایک لمحے کی دوری پر مل سکتے ہیں۔ ہم کسی سے بھی چند لمحوں میں بات کر سکتے ہیں، اسے دیکھ سکتے ہیں، روبرو بیٹھ کر گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ پہلے انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر پیدل کرتا تھا یا گھوڑے استعمال میں لاتا تھا۔ تب تو سفر میں ایک مہینہ بھی لگ جاتا تھا، نئے نئے تجربات ملتے تھے، نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا تھا، اب وہی سفر سمٹ کر گھنٹوں میں آگیا ہے، مگر اب سفر کے تمام لوازمات خارج ہو گئے ہیں۔
ہماری اس دنیا میں جہاں اتنی ترقی ہوئی وہاں آپ نے دیکھا کچرا بھی زور و شور سے پھیلنے لگا، آبی مخلوقات ہم سے شکوہ کناں ہیں کہ ہم نے انسانوں کی بستی سے تجاوز کر لیا ہے۔ ہم نے ایک تو بڑے بحری جہاز بنا لیے، دوم ان پر اتنے بڑی آواز پیدا کرنے والے گویا کان پھاڑنے والے ہارن بھی نصب کر دیئے ہیں اور اب ان آبی جانوروں کی بستیوں پر دندناتے پھرتے ہیں۔ ہم کچرا جابجا پھینک رہے ہیں۔ درختوں کو اس تیزی سے کاٹ رہے ہیں کہ جیسے ہم نے دیمک کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ ہم نے ماحول میں اس قدر انتشار پھیلا دیا ہے کہ اب جنات ، چرند پرند اور باقی مخلوقات ہماری شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس دنیا پر ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم انسانوں نے ڈیرے نہ ڈالے ہوں۔ہم نے اپنے ساتھ ، آس پاس رہنے والے ہر ایک کو تنگ کر رکھا ہے۔ پہلے ہمارے یہاں ریڈیو ہوا کرتے تھے، جب تک رہے ہمیں معلوم ہوتا تھا فریکوینسی کس جانب سے آرہی ہے۔ مگر پھر ریڈیو ہم سے جاتے رہے اور ہم نے ٹیلی وژن کا دور آتا دیکھا، جب بہن ٹی وی دیکھتی تو بھائی چھت پر اینٹینا کی سمت درست کرتا تھا، تب گھر گھر میں مکینک ہوا کرتے تھے۔ مگر افسوس اب ہم وہ دور بھی ختم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پہلے گھر میں گھڑیاں ہوا کرتی تھیں ، ہم جس کا وقت بڑی سوئی ۲ پر اور چھوٹی ۱۰ پر ہے کہہ کر بتایا کرتے تھے۔ حساب کتاب کے لیے کیلکولیٹر ہوا کرتا تھا، جس کی مدد سے بڑے بڑے حساب کیے جاتے تھے، عام حساب تو یوں ہی دماغ کی مدد سے کر لیا جاتا تھا۔ اگلے وقتوں میں جب موبائل فون اتنا عام نہ تھا تو شہروں میں ٹیلیفون ہوا کرتے تھے تب برسوں ہمیں اپنے قرابت داروں کے نمبر یاد رہتے تھے، بھلے کہیں لکھے نہ ہوں تب ہماری یاداشت بہت تیز ہوا کرتی تھی۔ اب وہ سب ختم ہو گیا، گویا انقلاب کے طور پر چھوٹے شیطان یعنی موبائل فون کے آنے سے ہماری زندگیوں میں کتنی سہولت آگئی۔ مگر ان سہولتوں نے ہم سے شاید ہماری معمولی سی بھی صلاحیت چھین لی ہے۔ ہمیں اب ۱۱۰ جمع ۲۳٦ کرنے کے لیے موبائل کا کیلکولیٹر دیکھنا پڑتا ہے، اب ہم اپنے دماغ کو اتنی زحمت بھی نہیں دیتے۔ ہم مشینی دور میں اس قدر گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہیں کہ ہم اب بد سے بدتر کی جانب چل رہے ہیں، اب ایک اور وقت آئے گا جب ہم ۳ جمع ۱۴ کرنے کے لیے بھی موبائل نکال لیں گے اور ہمارا دماغ ہنوز بےکار ہوتا جائے گا۔ مجھے اور آپ سب کو میری نصحیت ہے کہ اپنا موبائل چلانے کا وقت مقرر کریں اور اس میں اضافی تجاوز سے گریز کریں کہ یہ مضر صحت اور خطرہ فہم ہے۔

Leave a Comment