Microf #7 | Badalty mausam | HaaDi Khan


بدلتے موسم۔ 
بقلم ہادی خان
انگلی پکڑ کر چلنے والا بچہ، بڑھاپے میں شہر آیا تھا۔ تمام نقشہ بدل چکا تھا۔
میری ٹوٹتی گردن بھی اس عمارت کی لمبائی کو یک نظر میں نہیں سمو سکتی۔ سڑکوں پر بھاگتی دوڑتی گاڑیاں افراتفری کا سا منظر دکھا رہی ہیں۔چائے خانے کی پہچان کے طور پر بورڈ پر بنے ہوئے بڑے سے کپ کو دیکھ کر وہ اندر ہو لیا۔
"ایک چائے کا پیالہ دینا۔"
"یہاں چائے نہیں کافی ہے۔"
"کافی مانے؟"
"دودھ۔۔۔ اور پتی ہے۔"
چند لمحوں تک مشینیں اپنے انگ انگ کے درد کو روئیں۔
سب جگہ اتنی صاف تھی کہ وہ باہر نکل گیا۔
فٹ پاتھ کے چبوترے پر اکڑوں بیٹھا تو سامنے لڑکا لڑکی آپس میں بغل گیر ہوئے۔
کافی منہ میں رہی، ناک میں اچھو لگا۔
"ولایت بہت ترقی کر گیا ہے۔۔۔" اٹھا بھاگ دوڑ کر شام کی ٹرین پکڑ کر واپس لوٹ گیا۔

No comments

Powered by Blogger.