Afsana #14 | Adhuri kahani ka qissa go | Haadi Khan

ادھوری کہانی کا قصہ گو
از قلم ہادی خان
بہت خوبصورت اور خوش شکل لوگوں کی نگری میں اگر تمام نے نہیں تو بیشتر نے اوور کورٹ پہن رکھے تھے۔ یہاں ہر جانب کھانے کے لوازمات کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ ہر انسان اپنی اپنی مصروفیت میں مبتلا تھا۔ ایک کونے میں ایک شخص بیڑی پی رہا تھا۔ اس سے زرا ہٹ کر بینچ پر ایک آدمی آج کے اخبار کے صفحات پلٹ رہا تھا، ساتھ اس کے زرا فاصلے پر ایک عورت اپنی بچی کو اسکول بیگ پہنائے ٹانگوں میں دبائے بیٹھی تھی۔ غالباً بس کی منتظر ہوگی جب ہی بار بار اپنے داہنے بازو پر بندھی گھڑی کو دیکھ رہی تھی۔ سامنے سے ایک  وردی والا گزرا اس کے ہاتھ میں کان پھاڑنے والی، انسان کو بیزار کرنے والی سیٹی تھی۔ شکر خدا کا اس نے بجائی نہیں۔
میرے سامنے سے ہوا کے دوش پر سوار ایک سائیکلوں کی ٹولی گزری۔ چیختے چلاتے یہ من چلے تھے۔ صبح کا یہ وقت رات کی دھند کو کاٹتا ہوا سکڑنے لگا۔ سروں پر اوپر کو جاتی عمارتیں خدا جانے کہاں مکمل ہوتی ہیں۔ سروں کو پیٹھ کے ساتھ لگا کر بھی یہ عمارتیں آنکھوں کے زاویے میں پوری نہیں آتی۔ یہاں میرے علاوہ تمام لوگ گورے رنگ والے تھے، کتنے خوش شکل اور ہشاش بشاش۔ان لوگوں کی ثقافت ، طور ، رسم رواج بھی کیا خوب ہیں۔ اپنے کام سے کام لینا، اپنی رائے رکھنا، کسی پر کچھ مسلط نہ کرنا۔ میری نظروں کے سامنے تو اپنے ملک کی وہ بیٹھکیں نظر آنے لگیں کہ جو مسائل ملک کے پالیمانی ایوانوں میں حل ہونے ہیں، وہ سب گل خان کے ڈھابے پر حل ہوتے تھے۔ گل خان کا ڈھابہ بھی کیا یاد آتا ہے۔ وہ اس کی گُڑ والی چائے, خیال کرتے ہی میں نے لبوں پر زبان کو پھیرا۔ باہر آ کر ماں جان کی یاد تو آتی ہی آتی، ساتھ گلی کے نکڑ پر بیٹھے بھورے کتے کی بھی یاد ستانے لگی تھی۔ آتے جاتے بلاوجہ اس کو دیکھ کر سیٹی بجانا یا چٹکیاں بجانا اور اس کا وہ دم ہلانا، یہ سب بہت غیر ضروری کام تھے جن کی قدر و قیمت یہاں آ کر معلوم ہوئی تھی۔
وہ اخبار والا شخص اپنی اخباریں سمیٹ کر اٹھا، اس نے بینچ کے ہینڈل کے ساتھ اپنی چھڑی ٹکا رکھی تھی۔ اس نے چشمہ درست کیا اور چھڑی کو سہارہ بنا کر روڈ کے ایک جانب کھڑا ہو گیا۔ دونوں جانب کا احوال دیکھ کر اس نے ایک قدم اٹھایا۔  بچی سنبھالے بیٹھی اس عورت نے بزرگ کے ہاتھ کو پکڑا اور ان کو راستہ پار کروایا۔ 
”کر بھلا ہو بھلا۔“ میں بڑبڑایا۔
بزرگ نے اس عورت کو مسکرا کر دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
میں سوچنے لگا کہ یہ اپنا ملک ہوتا تو کر بھلا ہو بھلا والا معاملہ ہوتا۔ کوئی کسی کو سڑک پار کرواتا تو دو منٹ تک ضعیف شخص کی دعائیں نہ ختم ہوتیں۔ اپنے ملک کا رنگ ڈھنگ ہی الگ ہے۔یہاں میری زبان کا کوئی نہیں تھا۔
اس عورت تک نے اوور کورٹ پہنا ہوا تھا، یہ شاید یہاں کی ثقافت ہے یا سردی کی شدت, خدا معلوم جو بھی ہو۔ میں نے تو اپنی روایتی اون والی سوئیٹر پہن رکھی تھی اور ہاتھ بغلوں تلے چھپا رکھے تھے۔
مجھے ماں جان کی بات یاد آئی جو میرے یہاں آتے وقت مجھے کہہ رہی تھیں۔
”سینہ ڈھانپ کر رکھنا، سردی دل کو نہ لگے تو انسان بیمار نہیں ہوتا۔“ ماں جان کی ہزار ہا نصیحتیں میرے گوش گزار ہوئیں، اس کے بعد سفر کا اجازت نامہ لیے، ماتھے پر بوسہ سجائے کسی فاتح یا غازی کی مانند میں نے امریکہ کے سفر کا آغاز کیا۔
میرا دیس، میرے لوگ، میرا ملک، چھوڑ کر جو میں پردیس آیا, میرے آنسوؤں کی لہریں بہنے لگیں۔ امریکہ کی شامیں سرد تھیں اور پُرسکون بھی۔ میں ایسے ماحول کا قطعاً عادی نہیں تھا۔طبیعت میں انتشار و اضطراب سا 
 آ بیٹھا۔سر شدید درد کر رہا تھا، میں کچھ دیر سونے چلا گیا۔ شام کو سونے کے باعث سویرے میری جلدی آنکھ کھلی، صبح میں سڑک پر کھڑا آتے جاتے لوگوں کو انہماک سے دیکھ رہا تھا۔ سفید چمڑی والے اس سرد بستہ صبح کے وقت گلابی گلابی سے چہرے گھوم رہے تھے۔ یہ سب ہی مجھے اپنے ملک کے نورانی چہروں والے متقی بزرگ لگ رہے تھے۔  جو بلا کی پرہیزگاری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
میں وہاں سے چلا تو راستے میں مجھے جگہ جگہ کتابوں کی دکانیں ، کتاب خانے اور سڑک کنارے اخبار بیچنے والے اور اخبار پڑھنے والے لوگ نظر آئے۔ لوگوں نے اپنے مطالعہ میں کسی طور خلیل نہ ہونے دیا کہ کون چل کر جا رہا ہے۔ کون آتا ہے، کون جاتا ہے، کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔
مجھے ایک ہندوستانی شکل و نقش کے شخص کو دیکھ کر اپنائیت سی محسوس ہوئی۔ وہ اخبار فروش تھا۔
”کیا آپ ہندوستانی ہیں؟“ میں نے اس کے پاس جاتے ہی سوال داغ دیا۔
گویا ہماری سرحدیں مابین ہیں مگر زبانوں میں رس ایک جیسا ہی ہے۔
”جی جی اور آپ پاکستان سے ہیں؟“ اس نے بھی اندازہ لگایا۔
اس کا نام فیض تھا، اور وہ نوجوان ہندوستانی مسلمان تھا۔ وہ یہاں پڑھنے کے سلسلے میں آیا تھا اور دیہاڑی لگا کر جو پیسے جمع کرتا، اپنا ویک اینڈ اس سے خوش گوار بنا لیا کرتا تھا۔
”یہ سب لوگ کتابوں میں ہی مگن رہتے ہیں؟ یہ کسی سے بات نہیں کرتے؟“ میں نے چلتے چلتے سوال پوچھا۔ 
”یہ سمجھیں کہ ان لوگوں کو پڑھنے کی بیماری ہے، اگر یہ نہ پڑھیں تو ان کا دن نہیں گزرتا۔ حکومتی خبریں، ملکی، غیر ملکی، جدیدیت کی جانب ہر ہر قدم سے یہ خود کو آشنا رکھتے ہیں۔ایسے سمجھیں یہ آج کو جیتے ہیں اور آج کے ساتھ رہتے ہیں۔ کل کیا ہوگا ان کو اس بات کی کوئی سر دردی نہیں۔“ فیض نے مجھے بہت اچھے سے سمجھایا اور مجھے قدرے حیرت ہوئی۔
ہمارے پاس سے ایک شخص بھاگتا ہوا گیا۔ اس کے پیچھے وہ سیٹی بجاتا کوتوال بھاگ رہا تھا اور اسے رُک جانے کا آرڈر کر رہا تھا۔ میں نے اپنا دھیان واپس فیض کی جانب کیا وہ میری ہی جانب دیکھ رہا تھا۔
”یہ کیا ہے؟“ میرے پیٹ میں سور ہو گیا تھا جو پھدکنے لگا، تو تجسس اس سے پہلے کہ مجھے مار دیتا میں نے یہ معاملہ پوچھ لیا۔
”یہ سیاہ فام ہیں، ان کو زیادہ تر نوکریاں نہیں ملتیں تو یہ چوری چکاری کرتے ہیں، کسی کا بٹوہ مار لیا، کسی سے موبائل چھین لیا، خیر ان کا روز کا ہے۔“ فیض نے کہا اور میری نظریں پھر اسی جانب گئیں۔
اس سیاہ فارم کو گرا کر وہ کوتوال اس کی گردن پر جا بیٹھا۔ مگر میں نے اپنا دھیان دوسری جانب کرنے کی کوشش کی۔
”میرا پہلا دن ہے تو میں یہ سب دیکھ کر بڑا عجیب سا محسوس کر رہا ہوں۔ آپ زرا بتائیں یہاں گھومنے کی کون سی جگہ ہے۔“ میں نے  اکتاہٹ بھرے مشرقیت والے لہجے میں کہا۔
”اچھا اچھا سمجھ گیا۔“ اس نے مسکرا کر کہا۔ ”آپ یہاں سے اس سڑک کو پار کریں اور ۱۰ منٹ تک پیدل چلنے پر آپ کو پارک نظر آئے گا، وہاں آپ کا دل بھی لگا رہے گا۔“ آخری بات اس نے معنی خیز لہجے میں کہی۔
راستے میں کچھ لوگ بھیڑ بنا کر کھڑے تھے، جن کے رنگ کالے اور کپڑے نارنجی رنگ کے تھے۔ میں وہاں نہیں رکا اور چلتا گیا، بیلچے اور باقی اوزار پکڑے وہ لوگ گٹر کی صفائی کرنے والے تھے۔
ہاتھوں میں پھونکیں مارتے اور آپس میں ہاتھوں کو ملتے ملتے دو دوشیزا میرے پاس سے گزریں، ان کی پیٹھوں پر بستے لگے ہوئے تھے۔ ہمارے تصورات میں جیسی باتیں تھیں کہ امریکہ کیسا ہوگا یہ ہرگز ویسا نہ تھا۔ شاید یہ کچھ لوگوں کی افواہیں ہوں کہ وہاں بے حیائی سرعام ہے، مگر میں نے وہاں ایسا کچھ نہیں پایا۔
بلآخر پارک آہی گیا۔ لوگ ورزش اور باقی تندرست جسم کی مشقوں میں مصروف تھے۔ ایک لڑکی میرے سامنے سے بھاگتی ہوئی گزری، اس سرد موسم میں اس کے ماتھے پر برف کے جیسے چمکتی پسینے کی بوندیں ٹمٹما رہی تھیں۔ مگر دھوپ کی آمد ہو چکی تھی، سورج اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ ابھرتا ہوا ساری جگہ سونے کے ورق پھیلاتا جا رہا تھا۔ گاڑیاں خاموشی سے گزر رہی تھیں، نہ اپنے ملک جیسا ٹریفک، نہ اپنے ملک جیسی گالم گولچ تھی، لوگ مزے میں ریڈیو لگائے علمی پوڈ کاسٹ سنتے اور کام پر جاتے نظر آئے۔ 
میں بھی وہاں سے نکلا تو ایک جانب کو مجھے عجائب گھر نظر آیا۔ میں لپک کر اس کے منہ کھلے دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ یہاں باہر سے بھی زیادہ خاموشی اور پُرسکون ماحول تھا۔ میں نے تصویریں دیکھیں، یہاں یہ بڑا سارا ہال امریکہ کی سول وار پر مختص کر دیا گیا تھا۔
کیسے ان کے صدر ابراہیم لینکن نے غلامی کے خلاف علم بلند کیا۔ مجھے لگتا ہے یہ بھی ایک جہاد ہی تھا۔ وہاں ایک جانب ایک کتاب پڑی تھی۔میں نے اسے کھولا تو اس میں جہاں نشانی رکھی گئی تھی وہاں پہلی نظر میں جو سطر میں نے پڑھی وہ کچھ یوں تھی۔
”جنگوں میں ہر مرنے والا، مارنے والے کی نظر میں غلط ہوتا ہے۔ ایک جانب کے مرنے والے دوسری جانب کی نظر میں فائدہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایک انسان کے مرنے پر دوسرے انسان کا افسوس کبھی نہیں ہوتا، مگر اس میں انسانیت مر جاتی ہے۔“
میں نے وہ سارا سما دیکھا، وہ مزدور، وہ کالے لوگ، یہ سب آزاد ہیں؟ میں نے دوبارہ سے گمان کیا وہ سارے فوجی ، وہ لوگ جو مرے، جن کی تعداد  قریبا ٦ لاکھ ہے ان کا مرنا رائیگاں گیا؟ مجھے ہال میں پا کر انچارج نے بتی جلا دی۔
میری بینائی تیز لو سے ٹکرائی، میں گرنے والا تھا کہ اس شخص نے مجھے سہارا دیا۔
میں وہاں سے نکل آیا۔ باہر مانگنے والے کو دیکھا وہ بھی سیاہ فام تھا، پھر میں نے بھاری بوجھل سامان پیٹھ پر لادے، سیڑھیاں چڑھتا سیاہ فام دیکھا۔ پاکستان کے ایک گمنام مصنف کے ایک پرانے افسانے کا جملہ میرے ذہن میں ڈھول پیٹنے لگا۔ 
”ایک قوم، ایک ثقافت، ایک نسل کو تباہ کر کے مسح و مسترد کیا جا رہا ہے۔“

No comments

Powered by Blogger.