Column #29 | Ham par musalat jang | HaaDi Khan
ہم پر مسلط جنگ
ازقلم ہادی خان
میں جب ایک نجی اسکول میں پڑھتا تھا تو میں نے وہاں سے بہت کچھ سیکھا جس میں میرے کے بہت اہم موضوع ہیں مگر جب میں نے غور کرنے کی کوشش کی تو ہمارے ایک انگریزی کے معلم ہیں ضیاءرسول (اللہ پاک انھیں صحیت و تندوستی والی دراز عمر نصیب کرے)یہ ان چند لوگوں میں شامل ہیں جن کا میری زندگی پر گہرا اثر رہا ہے۔چونکہ ہماری نوجوان لڑکوں کی جماعت تھی تووہ ہمیں پڑھاتے ان کی طرز تعلیم میں تو مزاح کا عنصر نمایاں تھا اسی لئے وہ جو بات کرتے اس کا ہم پر بڑا گہرا اثر رہتا۔مگر جب اسکول سے جانے لگے تو میں نے ان سے کاغذ پر اپنے لئے آٹوگراف مانگی انھوں نے اپنے سگنیچر کے ساتھ یہ لکھ دیا۔
An empty Mind is devil workshop
جو کہ تب ہوا کر دی کہ یہ تو جانے کس لئے کہا ہوگا۔مگر تب یہ بات میرت لاشعور کے کسی گوشہ میں جا سمائی۔اس کے بعد میں ریڈیو بہت سنتا رہا مجھے بھرپور متاثر کیا ہے آرجے احسن سید نے جن کے الفاظ میرے لئے نصحیت بنتے ہیں دو برسوں سے ان کو سن رہا ہوں اور بہت کچھ سیکھا۔چند دن پہلے ان سے بات ہوئی بہت نفیس اور دریادل انسان ہیں۔ان سے میں نے ایک مختصر بات کی اور آخر میں اپنے لئے نصیحت مانگی انھوں نے کہا"اپنی تنہائیوں کو پاک رکھیں"
تب وہ ضیاء رسول والی بات میرے ذہن میں ایک دم سے آئی کہ یہ دونوں باتیں قدرے مشترک ہیں۔پھر میں نے گزشتہ دنوں سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ فیسبک اور اس کے ملتے جلتے دوسرے ایپلیکیشن دیکھے تو وہاں ہرچند نے ایک نعرہ پکڑ رکھا تھا۔ ایک جانب کا نظریہ تھا "یزید پر لعنت" اور دوسری جانب کا نعرہ تھا "اصحاب اکرام کے گستاخوں پر لعنت"مجھے بڑی حیرت ہوئی یہ مناظر دیکھ کر ۔ایک شخص جو کہ موبائل لے کر تنہائی میں بیٹھا ہے اس کو نہ کوئی مشورہ دے رہا ہے نہ ہی کوئی اس کو اکسا رہا ہے بس وہ اکیلا ہے تو کسی ایک ٹرینڈ میں شامل ہونا اس پر لازم ہے۔کیا آج کے دور میں ہماری تنہائیاں ہی تنہائی سے خالی نہیں ہیں۔یہاں احسن بھائی اور سرضیارسول کی باتوں کو میں نے دوبارہ غور سے دیکھا واقعی لوگوں نے اس جدید دور میں اپنی تنہائیوں کو کسی اور کے سپرد کر دیا ہے۔ایک ٹرینڈ والے کی پوسٹ پر اس کے حمایتوں اور مخالفین کی زبردست جنگ چل پڑی۔جو جس سوچ کا ہوتا دوسرے پر اپنی انتہاپسندی کی سوچ مسلط کرنے لگ جاتا۔دلیل پر دلیل کے مراسلے لکھے جا رہے تھے۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ کیوں لڑ رہے ہیں ان کا آپس میں کوئی لین دین نہیں ان کا آپس میں کوئی قول کلام نہیں تو ان کو بلاوجہ کس نے آخر کار لڑایا؟ میں نے اس اہم نکتے کو بڑی دیر تک سوچااور اپنے ایک دوست جو ایک قسم کے ٹرینڈ میں شامل تھا میں نے اتنا مشورہ دیا آپ اس سب سے باہر رہیں۔مگر انھوں نے کہا ہم سے ہمارے مقدسات کی گستاخیاں نہیں برداشت ہوتی۔میں نے سوال کیا "کیا یہ نعرہ خالصتا آپ کا ہے یا کسی نے سوچ آپ پر مسلط کر دی؟"کیا کسی کے کہنے پر اصحاب اکرام حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں کوئی کمی آئی؟وہ دنیا میں ،قبر میں اور آخرت میں حضور اطہر ﷺ کےساتھ ہونگے ہاں مگر لعنت ملامت کرنے سے اپنے اعمال بھی جاتے رہیں گے ۔وہ مطمئن ہو گئے میری باتوں سے مگر انھوں نے پھر بھی اس محاذ پڑ ڈٹے رہنے کا سوچا تو مجھے پھر خیال آیا ہماری سوچوں کو کون چلا رہا ہے؟نہ ان سے کوئی خاطر خواہ جواب ملا نہ ان سے کوئی بات کا سر پیر ملا مگر انھوں نے ایک طرف کے لیے سرتوڑ کوششیں کرنا تھی کسی نامعلوم سی جنت کے لئے؟جہاں ہمارے خون کھولتے ہیں وہی تو صبر کا کہا ہوا ہے جن لوگوں کو حضور اطہرﷺ نے دنیا میں کم و بیش 3 بار جنت کی بشارت دی ہے ان کی شان میں رتی برابر کوئی کمی نہیں کر سکتا۔ایک جانب اندازہ لگائیے دنیا میں مقابلہ گرم ہے کہ 5th Genration (5G)موبائل ٹیکنالوجی پہلے چائنہ متعارف کروائے گا امریکہ اس دوڑ کو سر کرے گا یا روس سے کوئی انکشاف ہوگا اس دور میں ہماری ترجیحات یہ ہیں کہ فلاں پر لعنت اور فلاں پر لعنت۔ہم نے آئی ٹی میں کتنے میدان مار لیے؟ہم نے گزشتہ 5 برسوں میں دنیا میں کون سی ایک ایسی چیز دریافت کر لی جو دنیا میں کہیں ملتی؟جی ہاں یہ تو موجود ہے ہم نے 2012 سے 2016 تک انھیں لعنتوں کی آڑ میں پاکستان 14 ہزار پاکستانی اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیئے۔یہ کسی ہندو نے مارے؟ کیا یہ یہودیوں نے مارے؟ کیا یہ عیسائیوں نے مارے؟ مجھے نہیں پتہ تو بتائیں کیا کوئی جنگ ہوئی تھی یا کسی وبا میں اتنے لوگ مرے؟ آپ کے ہر اندازے پر یہی ضرب ہوگی کہ یہ سب قتل ہوئے مارنے والا بھی مسلمان مرنے والا بھی مسلمان گویا کلمہ گو گولی چلاتا ہے اور سامنے والا کلمہ پڑھ کر مرتا ہے۔تو ذمہدار کون ہے؟ان ہی نعروں سے بہت بڑے بڑے طوفان بنتے ہیں BUTTERFLY THEORY کو ہی پڑھ لیں ایک تتلی کے پر کے ہوا کہیں جا کر طوفان بن جاتی ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی ناچاقیاں کب نفرت میں بدل جاتی ہیں اور سکوت ڈھاکہ جیسے سیاہ ترین دن ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گلے کاٹنے سے نہ کوئی محب الوطن ہو سکتا ہے نہ ہی کوئی بڑا زہد یا متقی ہو سکتا ہے نہ ہوگا۔ان معملات کو اچھے سے سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جرنل آصف غفور صاحب سنبھالتے تھے۔ان کے دور میں انھوں نے کھل کر بتایا اور قوم کی تربیت کی کہ یہ نعرے کیسے انڈیا سے نکل کر آتے ہیں ہم لوگ ان کے اس نعرے کو قابل نتائج دینے کے لئے چڑھائی کرتے ہیں باقی سب پر۔ہمارا مسئلہ تعلیمی فقدان نہیں بلکہ جہالت ہے ہم لوگ علم کی کمی سے نہیں اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھنے کی وجہ سے دنیا میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ میں تو بس یہی کہوں گا کچھ کہنے سے پہلے کسی جنگ میں کودنے سے پہلے دس بار سوچ لینا چاہئے بنا سوچے سمجھے کسی جنگ میں کودنے کا نقصان ہم نے 70 ہزار لوگ اور اربوں روپوں کی تباہی سے چکایا ہے ہمیں تو تجربہ ہے ناجانے کیوں ہم ہربار ایک ہی بل سے سانپ سے ڈھنسے کے شوقین ہیں۔جو کہ حدیث کے برعکس ہے اسی پر عبدالستار ایدھی صاحب کا قول نقل کر رہا ہوں " دنیا میں مجھے ایک مسلمان ڈھونڈ دو جس کو ہم مسلمان کہہ سکیں دنیا میں ،میں چلینج کرتا ہوں"
میری قوم میں اگر کوئی ذمہدار مطالعہ کا رجحان واپس لے آئے ان تو ہمارے 80 فیصد خوساختہ مسائل اور بےشمار آراء کا قلا قمہ ہو جائے گا۔

Leave a Comment