Column #30 | Social media ki haqeeqi Amwat | HaaDi Khan
سوشل میڈیا کی حقیقی اموات
از قلم ہادی خان
انسان نے کتنی جلدی ان 3 صدیوں میں ترقی کی, منازل طے کر لیں۔ جو خلقت آسمان سے زمین پر رینگتے ہوئے نظر آتے تھے، وہ آسمان پر پہنچ گئے۔اشرف المخلوقات نے اتنی بلندیاں طے کر لیں ہیں جو کہ شاید کرنی نہیں چاہئے تھیں یا جن کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ مطلب جو ترقیاں ابھی کچھ برسوں بعد ہونے کی تھیں وہ بھی ہم نے مکمل کر لیں، جس سے معاشرے پر وہی اثرات نمایاں ہوتے ہیں جو ایک قبل از وقت بچے کے پیدا ہونے سے ہوتے ہیں۔ یہ بچے 7 ماہ کے یا 6 ماہ کے ہی نکال کر مشینوں میں رکھ دیئے جاتے ہیں، جن کے اثرات ان پر تمام عمر رہتے ہیں۔ کسی کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، کوئی غذائی قلعت کا شکار ہوجاتا ہے، کمزوری کا حملہ بھی ہو سکتا ہے، مزید بھی بیماریاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح جس ترقی کے لیے ابھی دنیا ذہنی طور پر تیار نہیں، اس کو قبل از وقت دنیا کے سامنے رکھیں گے تو مختلف بیماریاں پیدا ہونگی۔ایسے ہی دنیا میں موبائل فون کے انقلاب کو ابھی اور وقت لگنا تھا۔ یہ قبل از وقت ہمارے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ مطلب 2010 کے بعد صرف چند برسوں میں موبائل کے صارفین اتنی تیز رفتاری سے بڑھے۔ 2010 میں دنیا بھر میں 30 کڑوڑ موبائل فون لوگوں کے استعمال میں تھے اور 2020 میں آج یہ اعداد و شمار 150 کروڑ تک پہنچ چکا ہے اور اُمید کی جا رہی ہے 2021 میں یہی موبائل فون بکنے کی تعداد 170 کروڑ کے قریب ہو سکتی ہے۔ یہ کتنا بڑا انقلاب ہے کہ دنیا میں موبائل فون اتنی جلدی بکنے لگے ہیں کہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی روز مرہ موبائل فون کا بے انتہاء استعمال کر رہی ہے۔ اوسط 8 سے 10 گھنٹے ایک عام انسان موبائل فون استعمال کرتا ہے۔ اس میں مسلسل تیزی کا رجحان نمایاں ہے۔ ہمارے ملک میں اگر کوئی ان پڑھ جو کہ اسکول کی تعلیم سے محروم ہوگا، اس کے پاس بھی ایک سمارٹ فون اور ایک سادہ فون ہوگا۔ ایک انٹرنیٹ چلانے کے واسطے ایک کان سننے کے واسطے۔ اس پر مزید یہ کہ سماجی رابطے کے مختلف ذرائع مثلاً فیسبک ، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع لوگوں میں مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ شروع شروع میں جب پاکستانی لوگوں نے فیسبک کا نام سنا تو اس پر ایک ایک بندے نے 2 سے 3 جعلی اکاؤنٹ بنائے ہوتے تھے، یہ بھی ایک ٹرینڈ تھا۔ سماجی دنیا کی جہاں بہت سی خوبیاں ہیں وہاں پر نقصانات بھی اَن گنت ہیں۔ کان پر رکھنے والے موبائل جو کہ پہلے لوگوں کو اتنے مہنگے پڑتے تھے، وہ اب ایک انٹرنیٹ کی موجودگی پر دیس ودیس میں پھیلتا گیا ہے، اور کان سے اتر کر موبائل چہرے کے سامنے آگیا ہے، انسان اس کے ذریعے کسی کے روبرو بیٹھ کر بھی بات کر سکتا ہے۔ کتنی جلدی ہماری نیلی دنیا میں اتنا سب کچھ ہوتا چلا گیا اور ہم نے جلدی یا تادیر اس کو قبول کرلیا۔
اسی تناظر سے منسلک ایک بات یہ ہے کہ گزشتہ روز ایک بہت اچھی ملنسار اور زندہ دل مصنفہ جن کا قلمی نام عطیہ رانی ہے راہی ملک عدم ہو گئیں۔ ان کا اصل نام سیدہ سعیدہ رضا تھا جو کہ بیشتر تو کیا 95 فیصد لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد معلوم ہوا۔ ان کے مرنے کی اطلاعات چند دنوں سے ہر جگہ گردش کر رہی تھیں۔ یہ تو انٹرنیٹ کا حسن ہے، جہاں سچائی ہے وہاں جھوٹ تین چار گنا بڑھ چڑھ کر ہے۔ تو سب لوگوں نے بھاگ دوڑ کی، ان کے گھر تک رسائی حاصل کی۔ اردو ادبی حلقوں میں وہ بطورِ ایڈمن شامل تھیں، وہیں کے باقی لوگوں نے ان کی بیٹی سے بات کر کے اس بات کی تصدیق کروائی۔ مصنفہ کے کالم جیو ہزارہ میں بھی شائع ہو چکے ہیں مگر افسوس یہ علمی سلسلہ مزید نہ چل سکے گا۔ ان کے جانے کی خبر ہمیں دیر سے ملی، ان کو فیسبک پر قریب دو برس سے جانتا ہوں انھوں نے بہت کام کیا ہے، ان سے براہ راست تو ایک دو بار ہی بات ہوئی مگر لوگوں سے ان کی ہمیشہ تعریف ہی سنی۔ جہاں تک فیسبک کی بات ہے انھوں نے اسی ایک ایپ کو 2 برس دیئے مگر ان کے جنازے میں اس سماجی رابطے کے احباب میں سے کوئی بھی شامل نہیں تھا اور شاید ایک ادھ ہوں تو ہوں۔ میرا سادہ سا سوال ان لوگوں سے ہے کہ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے تو کیا گلوبل ولیج میں کسی کو کسی کے مرجانے کی خبر بھی دیر سے ملتی ہے، کہ انسان مرحوم کے جنازے تک بھی نہ پہنچ سکے۔ کیا ہم لوگ اس مصنوعی دنیا میں ایک دوسرے کے روبرو بیٹھ کر اتنے قریب ہیں، جتنے اس مصنوعی دنیا سے باہر ہیں۔ میرے خیال میں ہم ابھی تک اس ٹیکنالوجی کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھے، یہ ٹیکنالوجی بندر کے ہاتھ میں ماچس والا کام کر رہی ہے۔ انسانوں نے قربتیں گھٹانے کو یہ سب بنایا اور افسوس یہ نزدیکیاں دوریوں سے بھی بدتر نکلیں۔ گلوبل ولیج میں سب اکیلے ہیں، کوئی کسی کے ساتھ نہیں۔ آخر میں یہی کہوں گا اللہ پاک سیدہ سعیدہ رضا کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِِ جمیل عطا فرمائے۔

Leave a Comment