Afsana #15 | Dard Qafla | Haadi Khan
افسانہ درد قافلہ۔
بقلم ہادی خان۔
روز و شب کا قافلہ اس قصبے میں خاموشی اور آہستگی کے ساتھ گزرتا تھا۔ وقت کیسے گزر رہا تھا کسی نے توجہ نہ دی تھی۔ بڑے بزرگ جن کے موٹے چشمے نوجوانوں کی عمر سے بھی زیادہ وقت سے لگے تھے، دھیرے دھیرے قطار در قطار راہی ملک عدم ہوتے گئے۔ یہ قصبہ بہت قدیم رسومات اور روایات کا پاس دار تھا۔ یہاں پر بڑے بزرگوں نے کافی ایسی مثالیں قائم کر رکھیں تھیں کہ جو ان کے چلے جانے کے بعد بھی زندہ تھیں اور جن پر عمل درآمد کیا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے اس قصبہ میں یہاں کی پنچائت موروثیت کے تحت پردادے سے پوتے تک نسل در نسل چلی آرہی تھی۔ سکھ اور مسلمان یہاں ساتھ ساتھ سکونت اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس قصبہ میں سارے تو نہیں مگر یہاں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ نواحی گاؤں کے غیر مسلموں کے ساتھ یہاں کے لوگوں کا اچھا سلوک تھا۔ گاؤں گاؤں سے سکھوں کی، ہندوؤں کی عورتیں پانی بھرنے کو یہاں آتی تھیں۔ یہ بھائی چارے کا معاہدہ ناجانے کتنی پشتوں پہلے کسی اللہ کے نیک بندے نے کیا تھا۔ جس کا صلہ اسے جمع شدہ حالت میں مل جایا کرتا ہوگا۔ اس قصبے کی دوسری وجہ شہرت یہاں کا کنواں تھا۔ یہ باولی نما کنواں کسی خدا کے بندے انگریز نے بنایا تھا۔1857 کے بعد یہاں فوجی گزرگاہ کے ہونے کی وجہ سے غلاموں کے ایک دستے سے یہ کنواں کھدوایا گیا تھا۔ کسی نے گنتی نہ کی تھی مگر اس میں پاتال کو جاتی سیڑھیاں لگ بھگ 100 سے زیادہ تھیں۔
گاؤں اور قصبے کے درمیان ایک جھونپڑی بنی ہوئی تھی۔ جھونپڑی کے باہر کھوتا ریڑھی سے الگ بندھا ہوا تھا۔ اور ریڑھی اینٹ گارے کے بنے چبوترے پر رکھی تھی۔ دیمے نے ریڑھی کے پہیوں کے آگے اور پیچھے اس خیال سے پتھر رکھے ہوئے تھے کہ یہ چبوترے سے اتر نہ جائے۔ سورج اندھیرے غار سے نکل کر، سر کے اوپر سے ہوتا ہوا بڑے پربت کے منہ میں جانے والا تھا۔ شام کی لالی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ سائے لمبے لمبوترے ہوتے گئے، کسی پانچ ساڑھے پانچ فٹ کے ابنِ آدم کو اپنے ہی عقب میں چلنے والا 7 فٹ کے عالم چنا سا اپنا ہی سایہ ڈر میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ دھوپ مدہم ہو چکی تھی۔ ماند پڑتی دھوپ ساون کے بادلوں سے جیسے تیسے چھن کر آرہی تھی۔ ریڑھی سے پرے ہو کر جو سایہ زمین پر پڑا تھا وہ پہلے تاثر میں پانی سے تر معلوم ہوتا تھا، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ شام کا گہرا لمبا سایہ تھا جو باقی جگہ سے شوخ معلوم ہوتا تھا۔ اس سائے پر سے سیاہ چیونٹیوں کی قطاریں ناجانے کس جہاد کی راہ پر نکل کھڑی ہوئیں۔ یہ چیونٹیوں کی قطاریں کسی جانب کو چلتی جا رہی تھی، ان قطاروں کا تعاقب کوئی مکمل فارغ انسان ہی کرے تو دونوں سرے معلوم ہوں۔ قطاروں کے برعکس دو چیونٹیاں ایک بڑے چیونٹے کو اپنے ڈنگ کی گرفت میں مضبوط کیے لے جا رہی تھیں۔ کہا جاتا ہے انسان اور ہاتھی کے بعد یہ چیونٹیاں تیسری مخلوق ہیں جو اپنے بیچ مر جانے والے اپنے ہم جنس کو کسی دور جگہ رکھ آتی ہیں، چونکہ ان کا طریقہ کار دفنانے کا نہیں ہے مگر مقصد ہنوز ایک ہی ہے۔ مر جانے والے کی لاش اپنے بطن سے فقط بیماریاں اور بدبو کے علاوہ کچھ نہیں دیتی سو اس کو ٹھکانے لگانا اہم ہے۔
تین بچے اور دو بچیاں ریڑھی پر بیٹھے کھیلنے میں مصروف تھے۔ کوئی بچہ یا بچی ایک سے دوسری جانب ہوتا تو لکڑی کا وہ تخت متزلزل ہو جاتا، جس سے باقی سب سنبھل جاتے۔ پار کے نالے کے قریب گیلی مٹی کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ سب بچے اپنے ہاتھوں کے پیالے کے مطابق مٹی بھر بھر کر لے آئے۔ لائبہ کے ننھے سے ہاتھوں میں اتنی ہی مٹی آئی جس سے نہ کچھ بن سکتا تھا، نہ ہی وہ مٹی کار آمد تھی۔ اس کی مٹی میں فاروق نے اپنی مٹی ملا دی اور چھوٹی بہنا کو ایک پیالی بنا دی۔
”بجیا یہ ویرے نے میرے لیے بنائی ہے۔۔۔“ ننھی لائبہ نے ہتھیلی پر کچی مٹی کی پیالی بنا کر نمائش کی۔۔
بجیا اس کی انداز معصومیت پر صدقے واری جانے لگی۔
”بہت پیاری بنائی ہے۔“ فاروق کے فن پاروں کے سب ہی مداح تھے۔
”میں اب ویرے کے لیے چائے بناتی ہوں۔“ اس نے کہا اور پیالی لکڑی کے تختے پر رکھ دی۔
فاروق نے ننھی لائبہ کی توجہ حاصل کی اور بولا۔ ”لالی میرے لیے چائے بنا رہی ہے تو پتی تیز رکھیو۔۔“
”ٹھیک ہے ویرے ابھی بناتی ہوں۔۔۔“ لائبہ خیالی سی چائے بنانے میں مگن ہو گئی۔
مسعود اور شفقت نے مل کر تنور بنایا۔
”یہ دیکھو چاچے گامے کا تنور، اس میں شفقت روٹی لگائے گا۔“ شفقت نے ہتھیلی پر مٹی کی گلوری کو گول کیا اور انگوٹھے سے دبا کر ایک زاویے میں ڈھا دیا۔
”ہائے اللہ!! اتنی موٹی روٹی۔۔۔ چچا گاما تو اتنی سی روٹی بناتا ہے۔“ لائبہ نے حیرت سے پوچھا۔
شفقت نے زرا سی بناوٹ کر کے روٹی کی شکل بنا کر پوچھا۔
”دیکھ لالی اب ٹھیک ہے نا؟“
”ہاں ہاں، اب روٹی بنے گی ہم سب کھائیں گے۔“ لائبہ کا چہرہ خوشی سے کھل گیا۔
لائبہ نے اپنی پیالی دوبارہ اٹھا لی۔
”اب دیکھنا بجیا میں اسے لگانے لگا ہوں۔“ شفقت نے روٹی چاچا گامے کی مثل لگائی تو سب تالیاں پیٹنے لگے۔
ننھی لائبہ کے ہاتھ میں ویر کی بنی ہوئی پیالی تھی، وہ ایک ہاتھ دیمے کی ریڑھی پر مار کر خوشی میں اپنا حصہ ڈال رہی تھی۔ ہاتھوں کی آپس میں ٹکرانے کی آواز اتنی بلند ہوئی کہ دوسری جانب سے لکڑی کے دروازے میں لگی کنڈی کھلنے کی آواز آئی اور اگلے لمحے دیمے نے آواز لگا دی۔
”اوئے رک تیری تو، تم کمینوں نے باز نہیں آنا۔ کم ذات کہیں کے۔۔۔“ وہ بچوں کو مرغیوں کی ایسے ہانکتا ہوا، ہوا میں ہاتھ ہلا رہا تھا۔ اتنے میں سب ادھر ادھر بھاگ گئے۔ وہ سب کھلونے وہیں پھینک کر چپل ہاتھوں میں پکڑے اندھا دھند بھاگے۔
رات کا پہر آتا گیا، ہر منظر سیاہی میں نہا گیا۔
فاروق کی قرآت دل موہ لینے والی تھی۔ وہ مدرسے کا سب سے ذہین بچہ تھا۔ وہ قرآن مکمل کر چکا تھا، جب کہ لائبہ دوسرے پارے پر تھی۔ لائبہ کی اس سست روی کا سبب یہ تھا کہ تب وہ 3 برس کی تھی جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ فاروق نے 3 سال کی عمر سے باپ کی بڑھئی کی دکان پر جانا شروع کر دیا تھا۔ جس سے اس کے لاشعور میں 4 سال سے ماہرانہ بڑھئی کا طریقہ کار بیٹھ گیا تھا۔ وہ وقت اور حالات کے ساتھ بہت اچھا بڑھئی بن گیا تھا۔
اس کی دکان پر ایک بڑھئی بھی نوکری کرتا تھا۔ فاروق اس کے ساتھ مل کر کام کرتا، دونوں کا گھر ایک دوسرے کے کام سے چلنے لگا۔ فاروق کے پاس ایک کاری گر تھا اور کاری گر کے پاس ایک کار استھان، گویا دونوں ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرکے اپنے پیٹ کی آگ بجھالیتے۔
لائبہ نے اپنا دوسرا سپارہ اور فاروق نے اپنا قرآنِ مجید، فرقانِ حمید، اپنے اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔
”ویرے مجھے میٹھا پکوان لے دے۔“ لائبہ نے فاروق کی انگلی پکڑ رکھی تھی، توجہ حاصل کرنے کو اپنے پورے ہاتھ کی قوت سے اس کی انگلی ہلانے لگی۔ فاروق کے ہاتھ کھردرے ہوچکے تھے، بالکل مزدوروں والے ہاتھ۔
”اچھا اچھا لے لے۔“ فاروق نے اس کے ہاتھ کو آزادی دی۔
”ویرے تیرے لیے بھی لے لوں؟“ لائبہ نے میٹھا پکوان اٹھاتے ہوئے کہا۔
”نہیں نہیں، اپنے لیے لے بس۔“ فاروق نےچچا ادریس کو پیسے تھما دیئے۔
چچا ادریس نے اپنی انگلی میں پہنی انگوٹھی کو ہلکا کیا جس پر فیروزہ جڑا ہوا تھا۔ انگوٹھی انگلی سے اتار کر میٹھے پکوان کے خمیر کو انگوٹھی سے نکالا۔ معلوم ہوتا تھا کہ خمیر گوندھتے وقت انگوٹھی اتارنے میں لاپرواہی کی گئی تھی۔
وہ وہاں سے نکل آئے، پکوان تھامتے ہی لائبہ نے اپنا سپارہ فاروق کے سپرد کر دیا۔
”ویرے یہ پکوان اچھا نہیں، اندر سے خالی ہے۔ یہ وہ والا پکوان نہیں جو میں پہلے کھاتی تھی۔“ لائبہ نے پکوان کو اس کی طرف کرتے ہوئے کہا۔
وہ واقعی اندر سے خالی تھا، سوڈا کثرت سے استعمال کیا گیا تھا، جس سے پکوان فقط پھول گیا تھا۔
”لالی معیار گر جاتے ہیں جب قدریں بڑھنے لگتی ہیں۔ تجھے پتہ ہے جب ایک چیز بکنے لگے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے، اس کی پائیداری کم ہوجاتی ہے۔“ فاروق نے مشکل سے، مگر لائبہ کو سمجھانے کی مکمل کوشش کی۔
فاروق نے اسے اپنی عمر کی سمجھ کی گھٹی پلانے کی کوشش کی، مگر وہ فلسفہ لائبہ کی عمر سے کافی اوپر کی بات تھی۔
شام آنے تک جب بچے سپارے کا سبق پڑھ کر گھر آجاتے تھے۔ تب تک دیمے کی گدھا گاڑی بھی اپنی جگہ پر کھلی ہوتی تھی۔ روشنیاں بس ڈوبنے کے قریب قریب ہوتیں۔ گدھا بندھا ہوتا، ریڑھی چبوترے پر لگی ہوتی۔ بچوں نے دیمے کی ریڑھی کو اپنا مستقل ٹھیہ بنا رکھا تھا، وہ ان کے کھیل کا میدان تھا۔ کل کے کچھ برتن جو ان کمہاروں اور کمہارنوں نے بنائے تھے، وہ سب دیمے کے غصے کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ دیما کبڑا تھا اس کے چلنے، بلکہ رینگنے تک تمام بچے کہاں کے کہاں چلے جاتے تھے۔ بچے تو ہاتھ نہ آئے، لیکن وہ جو چھوڑ کر چلے گئے اس نے وہ سب توڑ ڈالا۔ جیسے یاجوج ماجوج دیوار کو چاٹتے ہیں اور بغیر خدا کی رضا کے کل کام کو منطقی انجام تک پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیں، تو خدا بھی اس کام میں اتنی برکت ڈال دیتا ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ایسے ہی وہ بچے روز اپنا پرانا کام چھوڑ کر جاتے تھے لیکن اگلے دن انھیں سب نئے سرے سے بنانا پڑتا تھا، ان کا کھیل کبھی پورا نہیں ہوتا تھا، اگلے دن وہ محنتیں، وہ صورتیں، سب ٹوٹ پھوٹ چکی ہوتی تھیں جو بنا کر وہ بھاگتے تھے۔
بچے آج پھر سے چلے آئے اور شام تک ناجانے کیا کیا بناتے رہے۔ آج ننھی لائبہ کو ویر فاروق نے گڈی بنا کر دی تھی۔
ہائے وہ پیارے بالوں والی گڈی، گڈی کے بال بھٹے کے بالوں سے بنائے گئے تھے، سنہرے رنگ کے بال۔
”بجیا بجیا ویر نے میری جیسی گڈی بنائی ہے دیکھ۔۔“ ننھی لائبہ نے اپنی خوشی بجیا سے بانٹی۔
”بہت پیاری ہے لاڈو، بالکل تیرے جیسی۔۔“ بجیا نے اس کی بلائیں لیں، مگر آج ان کی آنکھوں میں چمک بھی تھی۔
یہ تاثر لائبہ نے دیکھ لیا، خدا جانے اس نے کیا سمجھا۔
فاروق نے آج تانگہ بنانے کی کوشش کی مگر وہ بار بار ناکام ہو رہا تھا۔ وہ آج دیمے کا تانگہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
شفقت اور مسعود نے آج کوزہ گر رشید کی شبیہ بنانے کی ٹھان لی۔ اس کی دوکان کا وہ تھال جس میں وہ مٹی گوندھتا۔ وہ صراحی جس سے وہ مٹی نرم کرتا۔ وہ چارپائی جس پر مٹی کے برتن اور شیدے کی انگلیوں سے نکلے فن پارے رکھے ہوتے تھے، جس کو دنیا دیکھ کر اپنی آنکھوں میں انوکھی سی چمک بھرتی۔ پھر وہ دیسی و شہری لوگ اسے خریدتے اور اس کی تعریفیں کرتے۔
ان دونوں کی کمال ذہانت تھی کہ ایک ایک کرکے سب کچھ تیار ہو گیا۔ انہوں نے وہ تمام آلات بنا ڈالے جو اس دکان پر موجود تھے۔
فاروق نے آج ناکامی ماتھے پر سجا رکھی تھی۔ وہ آج ناجانے کیوں بار بار ناکام ہورہا تھا، اس سے وہ تانگہ نہ بن سکا۔
ننھی لائبہ نے اس گڑیا کو درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصہ بجیا کو دیا، ایک خود رکھ لیا۔ بجیا نے اسے حیرت سے دیکھا۔
”لے بحیا اب یہ گڑیا ہم دونوں کی ہے۔۔۔“ لائبہ نے کچھ معصومیت، کچھ سمجھ داری سے کہا۔
”یہ اتنی پیاری گڑیا کیوں توڑ دی لالی۔“ بجیا نے کچھ حیرت، کچھ احتجاج کرتے ہوئے کہا۔
”تمہیں بھی تو پسند آئی یہ، اب گڑیا ہم دونوں میں بٹ گئی نا بجیا، اب آدھی تیری آدھی میری۔“ لائبہ نے کند مغز سے یہ مکالمہ کیا تھا۔
بجیا بس اس کا منہ تکتی رہ گئی اور کچھ نہ بولی۔
فاروق نے ناکام ہو کر ریڑھی کے بنائے گئے دو پہیے ایک جانب دو دوسری جانب پھینک مارے۔
شام کی بانگ بلند ہوئیں تو عظیم بھائی مسجد کی چھت پر چڑھ کر اذان کہنے لگے۔
دیمے کی کنڈی کھڑکی اور وہ گدھا اندر باندھنے کو لے جانے آیا۔ وہ سب وہاں سے بھاگے اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا۔
اگلے دن کوئی اپنے گھر سے نہ نکلا تھا۔ پرسوں بھی ہنگاموں کا سا ماحول رہا۔ چند دن قتل و غارت کی افواہیں سرگرداں رہیں۔
لکڑی کے دروازے کے اس باریک سے سوراخ سے دیکھا تو دیمے کا سارا سامان اس کی ریڑھی پر لدا ہوا تھا۔
ننھی لائبہ ویر کو بلا کر لائی۔۔
وہ دونوں تعجب سے یہ منظر دیکھنے لگے۔ وہ آج اس سمت نہیں جا رہا تھا جو بازار کی جانب جاتا ہے، وہ کسی اور جانب اپنا سارا سامان لیے چل دیا تھا۔
”چچا دیما کہاں جا رہا ہے؟“ فاروق نے بھاگتے ہوئے جا کر اماں سے پوچھا۔
”کملیا تجھے نہیں پتہ باہر کیا قیامت نازل ہوئی ہے۔“ مائی نورین نے مٹیالی سی چادر دانتوں میں دبائے ہوئے کہا۔
”نہیں اماں مجھے کیا معلوم کیا ہو رہا ہے؟“ فاروق اور لائبہ مائی کا منہ تکتے رہ گئے۔
”نی بٹوارہ ہو رہا ہے، وہ گاما کہتا ہے کہ مسلمانوں کا ملک بن رہا ہے۔ میں کہا ہمارا کیا لینا دینا ملک سے، ہماری بستی ہے، ہمارا اپنا قصبہ ہے، کیا نہیں یہاں جو ہم ملک واسطے مارے مارے پھریں۔ گاؤں گاؤں کا پانی پئیں، خاک چھاننے کا شوق ہے تو وہ جاوے۔۔۔۔“ مائی نے دانستہ طور پر دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
”وہ دیما نئے ملک جا رہا ہے اماں؟“ فاروق نے سوال داغ دیا۔
”ہاں ہماری بلا سے جاوے، ہمارا کیا لگے، ہمارا اپنا قصبہ ہے۔۔۔“ مائی نے اسے جھڑک دیا۔
لائبہ دوبارہ دروازے کی جانب گئی اور دروازے کی جھری سے دیکھنے لگی۔ ایک کے بعد ایک کر کے سب اپنی اپنی گدھا ، گھوڑا گاڑیوں پر ایک جانب ایک سمت میں جا رہے ہیں۔
بالکل ان چیونٹیوں کی مانند، اندھے کے پیچھے اندھے کا سا ماحول گرم تھا۔
بجیا ، مسعود اور شفقت بھی ایک تانگے پر سوار نظر آئے تو لائبہ ہڑبڑا گئی۔ جس مٹیالے دروازے کے پیچھے دو دل ان کے ساتھ دھڑکتے تھے، ان تین دلوں کی نظریں بھی اسی دروازے پر مرکوز تھیں۔ شاید اس انتظار میں کہ کب وہاں سے کوئی قافلہ نکلے اور ان کے ہمراہ ہو چلے۔
”ویرے بجیا کہاں جا رہی ہے، بجیا کو نہ جانے دو، اسے روکو۔“ لائبہ نے فاروق کی قمیص کو جھنجھوڑ کر کہا۔
وہ فورا اندر کی جانب لپکا۔
”اماں وہ تایا اشرف بھی نئے ملک جا رہا ہے، ہم کیوں نہیں جا رہے؟ اماں ہمیں بھی جانا ہے نا، ہمارا یہاں اور ہے کون، قصبہ انجان ہوتا جا رہا ہے۔“ فاروق نے اشک بار آنکھوں سے مائی نورین سے گلہ کیا۔
”ہاں جانے دو، ہم کیا کریں۔“ مائی نورین نے سرد مہری سے جواب دیا۔
”پھر ہم یہاں کس کے لیے ٹھہرے ہوئے ہیں، ہمارا تایا بھی تو جا رہا ہے، ہمارا یہاں کون باقی ہے اماں؟“ فاروق نے سوال داغ دیا۔
”کل چھت پر ملی تھی نسرین، کہتی ہے تیرے پاجی کہتے ہیں تیرے پاس نہ تانگہ ہے، نہ کوئی ریڑھا اور دو بچے ہیں، کہاں لیتی پھرے گی تو، اس لیے بہتر ہے تو ہمارے ساتھ نہ جا۔“مائی نورین کے آنسو لڑک گئے۔
”تیرا ابا ہوتا تو ریڑھا بنا لیتا، یا اس کو حق تعالیٰ زندگی دیتا وہ تجھے سیکھا جاتا۔۔۔ پھر ہم بھی ہجرت کر لیتے۔“ مائی نورین سوئی دھاگہ ایک جانب رکھ کر باہر آگئی۔
کچھ دن بعد ایک جانب پاکستان بنا اور ایک طرف ہندوستان، سب کو علم ہو گیا یہ فسادات، یہ ہنگامے کیا تھے۔ سکھوں کی پانی بھرنے والی عورتوں کے مردوں نے مسلمانوں کو کاٹنا شروع کیا۔ یہ لوگ بچ گئے، کیا کہیں مالک کا مہر فضل ہوا۔
لوگ گھروں سے نکلتے، ہجرت کرتے۔ کچھ یہاں سے وہاں جاتے، کچھ وہاں سے یہاں آتے۔ ٹولیاں آتیں جاتیں، اتنی بڑی انسانی ہجرت کی تاریخ بہت کم دیکھنے کو آئی ہے۔
حالات برابر ہوئے، سرحدیں بنیں، اس قصبے سے تھوڑی دور ہی ایک سرحد بن گئی۔ اب جب شام ہوتی تو فاروق اور لائبہ کھیلنے کو باہر جاتے، مگر وہاں وہ ریڑھی انھیں نہیں ملتی۔۔
وہ وہیں کھڑے اس سیدھے راستے کو تکتے رہتے، مگر وہاں جانے والے واپس نہیں آئے۔ مخصوص وقت پر وہ روزانہ وہاں جاتے اور وہیں اس راستے کو تکتے رہتے۔
وہ دونوں اُس آخری شام اپنے کھلونوں کے ساتھ ساتھ اپنا بچپن بھی وہیں اُس ریڑھی پر چھوڑ کر بھاگ آئے تھے۔ وہ دوبارہ اب مٹی سے نہیں کھیلے تھے، مٹی سے تقدیریں بنتی ہیں، انسان بنتے ہیں۔ وہ ادھوری گڑیا بھی لائبہ کی مثل تھی۔ اس کا آدھا وجود اس ملک میں تھا اور آدھا وجود دوسرے ملک، وہ ان کے درمیان بٹ چکی تھی۔ سب کچھ بٹ گیا تھا۔ ان کا بچپن ، کھلونے، لوگ اور وہ قافلہ بھی۔

Leave a Comment