Column #31 | Moeed yousuf Aur bokhalaya huwa hindustan | HaaDi Khan
بقلم ہادی خان۔
مجھے بڑا اچھا لگتا ہے جب پاکستان اور ہندوستان کے آپس میں مذاکرات ہوتے ہیں۔ جرنل مشرف نے کتنی بار ہندوستان کو کھری کھری سنادی۔ ہمیشہ ہی اختلافات اتنے ہوتے ہیں کہ ایک مچھلی بازار بن جاتا ہے۔ انکر پرسن بولتا ہے تو مہمان کی آواز دھیمی کر دی جاتی ہے، یہ ایک بڑا ماہرانہ کام ہے کہ مہمان کی آواز کو کم کر دیا جاتا ہے۔ جس سے میزبان اونچا بولتا سنائی دیا جاتا ہے، سامعین کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میزبان کے اعتراضات پر مہمان بوکھلا گیا ہے۔ ہمیشہ سے یہ روایت قائم رہی ہے کہ نہ ہندوستان والے اپنے خلاف کچھ سنتے ہیں، نہ پاکستان والے اپنے خلاف کچھ برا سنتے ہیں۔ بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سب بول پڑتے ہیں اور بات یہاں کی وہاں ہو جاتی ہے۔ ایک صحت مند بحث جس سے کوئی حل دریافت ہو آج تک ہمارے بیچ نہ ہوئی۔ مجھے ہمیشہ سے اس بحث کی چاہت ہی رہی۔ مگر چند روز قبل جب ڈاکٹر معید یوسف نے کرن تھاپر سے ایک زبردست بحث کی مزہ ہی آگیا۔ یہ گفتگو 1 گھنٹہ 15 منٹ پر محیط تھی۔ انھوں نے کشمیریوں کے رہنما فاروق عبداللہ کے بیان کو کوٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ ہندوستان کے ساتھ رہنے سے زیادہ چائنہ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں گے اور کشمیری ہندوستان سے نفرت کرتے ہیں۔“ یہ بات سن کر ہندوستان کے صحافی کی باچھیں حیرت کے مارے کھل گئیں۔ اس نے فوراً اس پر گلگت بلتستان کا نام لے لیا، گویا مسئلہ ہی اٹھا کر مہمان کے سر پر مار دیا گیا ہو۔ سوال پر سوال ہونے لگے تو مچھلی بازار ہی سجے گا اور نہیں تو کیا ہوگا۔ بات شروع ہوئی کشمیر کی حیثیت بدلنے سے جس پر معید یوسف جو کہ وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ہیں نے پاکستان کی رہنمائی کرتے ہوئے سب کو حقائق سے آگاہ کیا، بعد ازیں انھوں نے ہندوستان کو اپنا رویہ بدلنے کا کہا اور پاکستان کی جانب سے شرائط رکھیں۔ انھوں نے کہا پاکستان اب مذاکرات کی میز پر تب بیٹھے گا جب ہندوستان اپنے رویے کو بدلے اور پانچ شرائط پر عمل درآمد کرے۔ انھوں نے کہا ہندوستان کو اپنا رویہ بدلنا چاہئے، وہ پہلے تو یہ مانیں کہ کشمیر کا تنازعہ واقعی وجود رکھتا ہے۔اس پر دنیا کا ہر بڑا ادارہ اعتراضات کر چکا ہے، اس پر بیرونی ممالک بات کر رہے ہیں۔
جس کے بعد گلگت بلتسان کے صوبہ بننے پر ہندوستان کو حسبِ معمول پیٹ میں مڑوڑیں اٹھنے لگیں۔ اس کے دفاع میں ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ یہ تو وہاں کی عوام خود منتخب کرے گی۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کو پاکستان میں ضم کیا جائے۔ ہم انھیں مکمل طور پر حق ارادیت دیں گے۔ معید صاحب نے کرن تھاپر کو پاکستان آکر گلگت کے لوگوں سے ان کی رائے پوچھنے کی پیش کش کی، جس پر معید صاحب کے جواب کے مکمل ہونے سے پہلے ہی تلملاتا ہوا کرن تھاپر بول کر بات کو کاٹ گیا۔ اس نے معید یوسف کی دعوت کو یکسر رد کر دیا۔ کرن تھاپر جو کہ ہندوستان کا بہت منجھا ہوا صحافی ہے اپنی ہی باتوں میں گول ہو گیا۔ کچھ ہی عرصہ پہلے خود ایک جگہ انھوں نے کشمیر کی ابتر حالت کے بارے میں لکھا، مگر مودی سرکار کی طرف داری کرنے کے لیے وہ اپنے لکھے کے برعکس بول پڑے۔ اس پر ڈاکٹر معید یوسف نے ان کو ان کے لکھے کی نشاندہی کروائی۔ معید یوسف صاحب نے ہندوستانی صحافی کو دعوت دی کہ وہ پاکستان آکر گلگت بلتستان کا دورہ کریں اور خود عوام الناس سے دریافت کریں وہ کیا چاہتے ہیں۔اس پر صحافی صاحب نے پلٹا مارا اور بات بدل دی۔ پھر اپنی عادت سے مجبور ہو کر صحافی صاحب نے کشمیر کے مسئلہ میں بلوچستان کا ذکر کیا، جس پر معید یوسف نے ان سے کہا میں یہاں کشمیر پر بات کرنے آیا ہوں نہ کہ آسام یا باقی اندورنی مسائل پر بات کرنے۔ پھر معید یوسف صاحب نے ان کو پاکستان پر لگنے والے برسوں سے دہشت گردی کے بےبنیاد الزامات کو مسترد کیا اور ان کو یہ بتایا کہ یہ سب ہندوستان کا وطیرہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان نے ان لوگوں کی مدد کی جنھوں نے پاکستان میں دہشت گردی کروائی۔ ہندوستان نے ان کی پشت پنائی کی جنھوں نے پاکستان میں دھماکہ کروائے۔ ہندوستان نے ان کو پیسے دیئے جنھوں نے پاکستان میں قتلِ عام کروایا۔ انھوں نے مزید یہ کہا کہ ہندوستان میں کچھ ہو جاتا ہے تو صبح اٹھ کر پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے، مگر ہم لوگوں نے برسوں کی محنت سے ثبوت اکھٹے کیے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پشاور میں ہونے والے حملے جس میں ہم نے معصوم پھولوں کے بشمول 144 انسانوں کو کھویا اس حملے کی پشت پناہی ہندوستان نے کی تھی۔ انھوں نے صرف اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ ہندوستان کا مکروہ چہرہ انھی کے میڈیا سے ان کی عوام تک پہنچایا۔ ڈاکٹر معید یوسف کے ہر ہر جواب پر صحافی صاحب کو منہ کی کھانی پڑی۔گویا اتنے مضبوط اعصاب کا مالک بوکھلاہٹ کا شکار نظر آیا۔ صحافی صاحب نے اپنے اصولوں کو پامال کیا اور مہمان کو بات مکمل کرنے سے ٹوکتا رہا، یہ ہندوستان کی صحافت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ میں نے پاکستان کا موقف اتنی جی داری سے پیش کرتا کسی کو آج تک نہیں دیکھا۔
ڈاکٹر معید یوسف نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ 5th Genration War میں ہندوستان کے الزامات کو مسترد کیا اور پاکستان کے موقف سے سب کو آگاہ کیا۔ آخر میں انھوں نے امن کا پیغام دے کر بات کو مکمل کیا۔ یہ پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ کسی سویلین نے ہندوستانی میڈیا پر بیٹھ کر ہندوستانی عوام کو حقائق بتائے۔ یہ پاکستان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے، جس کو ملک بھر میں جیت کے جشن کے طور منایا جانا چاہیے۔

Leave a Comment