Column #32 | Aik baab tamam huwa | HaaDi Khan
ایک باب تمام ہوا
از قلم ہادی خان
مولانا وحید الدین خان عالم اسلام کے لیے بہت بڑا نام ہیں۔ ان کی خدمات دین و امن کے لیے بہت معتبر اور کتابت میں ضخیم ہیں، جن کے اثرات دیر پا رہیں گے۔ مولانا نے ۹٦ برس کی عمر پائی اور بے شمار لکھا جو قابلِ قدر ہے۔ انھوں نے کم و بیش ۲۰۰ کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے مولانا کی بہت سی کتابیں پڑھیں، لیکچرز سنے، اس کے بعد جو ان کی نمایاں کتابیں ہیں ان میں سے ایک کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“ بھی پڑھی ہے۔ مولانا نے دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام امن و ترقی کا دین ہے۔ یہ ظاہری ترقی جو انسانی دنیا میں انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے اس کا موجد اسلام ہے۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر کیسا پایا وہ درج ذیل ہے :
اسلام دور جدید کا خالق از مولانا وحید الدین خان کتاب کا مطالعہ کیا، اپنی نوعیت کی بہترین کتاب ہے۔ تاریخ کے واقعات و حوالہ جات سے معلوم پڑتا ہے کہ یہ کتاب مصنف کی دن رات کی محنت کا ثمر ہے۔ اس کتاب نے مجھے یوں بھی متاثر کیا ہے کہ جہاں اسلام کا ایک رخ دکھایا جاتا تھا کہ مسلمانوں کی جنگوں ، فتوحات، اور تلوار کے ذریعہ جہاد کی تاریخ سننے، پڑھنے کو ملتی تھی۔ وہاں مسلمانوں کے ترقیاتی پہلو کو دکھا کر مصنف نے منفرد کام سرانجام دیا ہے۔ مسلمانوں کے سنہرے لیل و نہار ایک خوبصورت ماضی جو ناجانے کہاں گم ہو گیا تھا، اسے لوگوں کے سامنے واپس لانے کی بہترین کوشش ہے۔ بیشتر لوگ ان حقائق سے غافل ہیں ، وہ اسلام کا ایک پہلو ہی جانتے ہیں مگر ان کو اپنے ایمان کی طاقت کا اندازہ نہیں کہ یورپ کس قدر اس فضا کی تلاش میں تھا جو مسلمانوں کو انقلاب اسلام سے میسر ہوا۔ کتاب کے موضوع سے متعلق اتنے جامع اور مدلل اقتباسات کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح و شفاف نظر آنے لگی کہ اسلام ہی دور جدید کا خالق ہے۔ کتاب میں مصنف نے یہ بات باور کروائی کہ دور جہالیت میں لوگ کیسے توہمات میں گھیرے ہوئے تھے، پھر ایک سوچ جو ایک خدا کے ماننے والوں کی تھی، دنیا میں راغب ہوئی اور دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا۔ کیسے ایک شرک کی سوچ سے ایک خدا کی سوچ کا سفر طے ہوا۔ جن سورج، چاند اور ستاروں کو انسان پراسراریت کی نظر سے دیکھتا، پرستش و پوجا کرتا تھا۔ ان چاند، ستاروں اور سورج کی دریافت و کھوج پر کس سوچ نے اسے آمادہ کیا۔ جن بیماریوں، وباؤں کو، دیوی دیوتاؤں کی ناراضی سمجھ کر انسان بلی دیتا، قربانی کرتا تھا، ان بیماریوں کے علاج و ادویات ایک ایسی سوچ نے بنائی جو ایک خدا کو مانتا تھا اور ان توہمات سے پاک تھا۔ مولانا اس بات کو سمجھانے میں بھرپور کامیاب رہے کہ جو جدیدیت کی مشینری ہے اس کا ایندھن اسلام کی فکر ہے۔ اسلام نے توحید کی سوچ دے کر یہ بات دنیا کو بتائی کہ خدا کے سوا کوئی ہستی مقدس نہیں اور ہر چیز قابلِ بحث و تحقیق ہے۔
باب اول :
مصنف نے تحقیقی و تنقیدی نظر سے تاریخ کا مطالعہ کرکے یہ بات سمجھائی ہے کہ سائنسی سوچ اور انسان کے درمیان مشرکانہ نظریات حائل تھے۔ جب تک انسان غیر مقدس کو مقدس جانتا رہا تب تک تاریکی کے اندھیروں میں ڈوبا رہا۔
باب دوم :
مصنف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جب تک انسانوں نے بادشاہوں کو خدا سمجھنا نہ چھوڑا تب تک سائنسی سوچ و فکر کے لیے ماحول سازگار نہ بن سکا اور انسانیت ترقی کی راہ پر کبھی سفر جاری نہ کر سکی۔
باب سوم :
اس باب میں مصنف نے مسلمانوں کی ترقی اور سائنس کے لیے خدامات کی بابت کافی تاریخی باتیں لکھیں۔ کیسے مسلمان اور عربی و ہسپانوی اہلِ یورپ کے معلم بنے رہے، کیسے انھوں نے یورپ کو باقائدہ نئی فکر کی جانب راغب کیا۔ اس سے قبل کوئی اگر نیا تصور پیش کرتا تو کلیسا کی طرف سے اسے سزائے موت سنا دی جاتی، اسے دار پر کھنچوا دیا جاتا تھا مگر اسلامی انقلاب کے بعد لوگوں میں ہر غیر مقدس چیز کو سمجھنے اور سوالات کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔
باب چہارم :
یہاں مصنف نے اپنی تمام کاوشوں کا نچوڑ بیان کیا ہے۔ کیسے ایک ایسے معاشرے میں جہاں دریاؤں ، سمندروں ، بادشاہوں ، بیماریوں اور دیگر قدرتی آفات کو دیوی دیوتاؤں سے منسوب سمجھا جاتا تھا، ان افکار کو مسلمانوں نے توڑا اور اس پر تحقیق شروع کی، دنیا میں کیسے ترقی کا وہ بند کھل گیا جو توہم پرستانہ اعتقاد کے پیچھے کتنی صدیوں سے مقفل تھا۔
اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ایک عام فہم انسان اس بات کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے گا کہ اسلام ہی دراصل دور جدید کا خالق ہے۔
اس کتاب کے مجھ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، میں نے اسلام کے ظاہری کے ساتھ ساتھ پوشیدہ روم کو دیکھا اور سمجھا۔ میرے دماغ میں عموماً یہ بات رہتی تھی آیا کہ مسلمانوں نے بھی سائنسی دنیا میں کوئی ایجادات کی ہیں یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں نصاب کی کتابوں سے تھوڑا بہت ملتا ہے۔ جہاں واجبی سا بوعلی سینا ، ابن رشد یا الخوازمی یا البیرونی کے ناموں کا ذکر چھیڑا جاتا ہے۔ بچے ان عظیم لوگوں کو بس رٹے لگا کر عارضی سا یاد کرتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے نوجوان ہماری بکھری ہوئی تاریخ کو کھنگالتے نہیں۔ مولانا نے بہت ہی سلیس اردو میں اسلامی تاریخ کے ثمرات کو عوام الناس کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ انسان ناجانے کن توہمات میں گھیرا ہوا تھا، پھر اسلام کے توحیدی نظام نے لوگوں کو وقت کے فرعونوں اور نمرودوں کے سامنے بھی کلمہ حق بلند کرنے قوت دی۔ مولانا کی وفات کی اچانک خبر نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔ گویا پاؤں کے تلے سے زمین نکل گئی، آنکھوں میں اشک اتر آئے اور دماغ سمجھنے سے قاصر رہا، مگر لب پر انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہو گیا۔ یہ اسی تعلیم کے نتیجے میں ہے جو مولانا ہمیں دے کر گئے ہیں۔ ایک جگہ فرماتے ہیں اگر آپ کو خبر ملے مولانا اب نہیں رہے تو تمہارا جواب یہ ہونا چاہئے کہ ”مگر اللہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔“ سبھی کو یہ کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“ پڑھنی چاہئے، بہت ہی آسان اور سمجھ آنے والی کتاب ہے۔

Leave a Comment