Afsana #17 | Pur Abla Dast-e-Hinaye | Haadi Khan
پُر آبلہ دستِ حنائی۔۔۔
از قلم ہادی خان۔۔۔
یاتریوں کا خیر مقدم مقامی پنڈت جی کے ساتھ ساتھ باقی
ہندوؤں اور مسلمانوں نے کیا۔ ایک دیوی ماتا ہنگلاج کی مورت کے عین سامنے ہاتھ
باندھے کھڑی تھی اور بھجن گا رہی تھی۔
شیراں والی مائی کا مندر
جوتاں والی مائی کا مندر
مہراں والی مائی کا مندر
لاٹاں والی مائی کا مندر
پیارا پیارا لگے ہے ماں ہنگلاج کا مندر
دربار سہانا میّا کا، دربار سہانا میّا کا
اس کی آواز سن کر سبھی خاموش ہوتے گئے، ایک ایک کر کے
سب نے مندر کی گھنٹی بجائی دیوی کےعقب میں بیٹھ گئے اور اس سریلی آواز کا جادو
چکھنے لگے۔ یاتری سارے اس حسن و سنگیت کی دیوی کے پیچھے ماتا رانی کو پرنام، نمساکار کرنے لگے۔ سب نے
دونوں ہاتھوں کو ملا دیا اور ماتا کے سامنے سر کو زرا سا خم دیا، پھر اس بجھن کے
ساتھ جھومنے لگے۔
یہ شراویا تھی جو سراپا محبت کا پیکر تھی۔شراویا کئی
برسوں سے یہاں بھجن گاتے ہوئے یاتریوں کا استقبال کرتی۔ پنڈت جی ہمیشہ کہتے،
”بھگوان کرشن کی بانسری کا چمتکار ہے جو چند دھنیں شراویا کے گلے میں بیٹھ گئی ہیں،
یہ لڑکی اسم بامسمٰی ہے، موسیقی اس کے گلے میں پیدائش سے ہی ہے۔“
بھجن ختم ہوا تو کسی نے شنک بجایا، کٹی پہاڑیوں سے ٹکڑا
کر آواز ہر جانب پھیل گئی۔ شراویا نے سب کو ہاتھ جوڑ کر نمسکار کیا اور پھر ایک
طرف ہو گئی۔ یاتریوں نےمقامی لوگوں سے میل ملاپ کیا دوبارہ باری باری گھنٹی بجائی،ناریل توڑے، چڑھاوے
چڑھائے اور مندر میں اپنی اپنی جگہ لے کر بیٹھ گئے۔ ایک بہشتی جو کہ شراویا کے
ساتھ والے قبیلہ کا تھا، زرک حسرت وہ سب کوپانی پلانے لگا۔شراویا بھوجن کے لیے پتے
بکھیرنے لگی۔
لانگری اور نائی نے بھوجن تیار کیا اور یاتریوں کو اچھے
سے کھانا کھلایا۔
بزرگوں نے تو اسے تپسیا کہا ہے باقی اوپر والا جانے یہ
کس گناہ کا کفارہ ہے۔ جب گاڑیاں اور بسیں چل پڑیں تھیں، اس دور میں بھی ہنگلاج
ماتا کے مندر کی زیارت کو یاتری دور دراز سے بلوچستان کے صحرائی راستے سے پیدل چل
کر آتے۔ یہ زائرین ہر چھ ماہ بعد یہاں کا رخ کرتے۔ محبت و عقیدت کا یہ قافلہ بھی
اپنی منزل کی جانب گامزن تھا۔ ہندو کتھاؤں کے مطابق راجہ دکش کے گھر بیٹی بھوانی کی
حیثیت سے ماتا نے جنم لیا۔ ماتا نے راجہ کی بہت مخالفت کے باوجود بھگوان شیو سے
شادی کی۔ ایک بار راجہ دکش کے استقبال میں سبھی کھڑے ہوئے لیکن بھگوان شیو کھڑے نہیں
ہوسکے۔ بھگوان شیو، دکش کے داماد تھے۔ یہ دیکھ کر راجہ دکش بہت ناراض ہوگیا۔
وہ داماد شیو کی طرف ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ ستی کے والد راجہ پرجاپتی
دکش نے ہریدوار میں ایک یگیہ میں برہما ، وشنو ، اندرا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کو
مدعو کیا، لیکن جان بوجھ کر ستی کے شوہر بھگوان شیو کو اس یگیہ میں شامل ہونے کی پیش
کش نہیں کی گئی۔
دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا تھا جس کی وجہ سے بھگوان شیو
نے اس یگیہ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ ستی کو معلوم ہوا کہ اس کے والد یگیہ کررہے ہیں
، لیکن شیو کو اس یگیہ میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ یہ جان کر وہ ناراض ہوگئی۔ وہ یگیہ
میں شامل ہونے گئی۔ بلی کے مقام پر ، ستی نے اپنے والد دکش سے شیو جی کو مدعو نہ
کرنے کی وجہ پوچھی اور اپنے والد کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ اس پر دکش نے ستی کے
سامنے بھگوان شیو کے بارے میں مکروہ باتیں کرنا شروع کردیں۔ اس ذلت سے دوچار ستی یہ
سب برداشت نہ کرسکی اور بلی کی آگ میں کود پڑی اور اپنی جان دے دی۔ جب بھگوان شیو
کو اس حادثے کا علم ہوا تو غصے سے ان کی تیسری آنکھ کھل گئی، ان کے غضب سے ہر جگہ
ایک تباہی ہوئی۔ بھگوان شیو کے حکم پر ، ویر بھدر نے دکش کا سر قلم کیا۔ تب بھگوان
شیو نے ستی کے جسم کو بلی کی آگ سے نکال کر باہوں میں اٹھا لیا اور پورے غم و غصے سے
تمام علاقے میں چلنا شروع کیا۔
شیو ستی کے جسم کو لے کر زمین پر تانڈو کرنے لگے، جس کی
وجہ سے زمین بےقرار ہو گئی، جوالامکھی پھٹ پڑے، سمندر بے قابو ہو گئے، ہوائیں
بےلاگ چلنے لگیں اور طوفان برپا ہو گئے۔ زمین سمیت تینوں جہانوں کو پریشانی میں دیکھ
کر دیوتاؤں کی التجا پر، بھگوان وشنو نے سدرشن چکر کے ساتھ، ستی کے جسم کو ٹکڑے
ٹکڑے کرکے زمین پر گرا دیا۔ جہاں جہاں ماتا ستی کے اعضاء و زیورات گرتے گئے، وہاں
وہاں شکتی پیٹھ وجود میں آیا۔ اس طرح ماتا کے شکتی پیٹھوں کو کل 51 مقامات پر تعمیر
کیا گیا۔ ہند کے سینے پر ہندوؤں کے ایک اہم اور بڑے مقام کا نام ہنگولہ تھا۔
ہنگلاج میا کے مقام پر ان 51 پیٹھوں میں سے ایک پیٹھ ہے۔ یاتری دورانِ سفر بس یہی
ورد کرتے آتے : ”بولو راما کی جئے ہو، بولو ہنگلاج میا کی جئے ہو، بولو پہاڑوں والی
کی جئے ہو۔“
یہاں ہندوؤں کے تمام تہوار منائے جاتے، سال ہا سال یہاں
ہنگلاج میا کا میلہ لگتا رہا۔ ہندوستان اور پاکستان بھر کے ہندو اس یاترا پر
قافلوں کی شکل میں آتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ مقدس مقام، جہاں ان کی تعلیمات کے مطابق
بہت سی اہم باتیں جڑی ہوئی ہیں، اس مسلمان ملک میں یوں سلامت ہے کہ مسلمان بھی اس
صحرائی مزار سے عقیدت کا رشتہ رکھتے ہیں۔ مسلمان اور مقامی لوگ اس کو ”نانی کا
مندر“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہ مٹی کے جوالا مکھی اور پہاڑیوں کی تزئین، قدرت کی
مصوری کے بہترین مظاہر تھے۔ یہ کتنا دل کش اور حسین سفر تھا جو منزل کی جانب ہر
قدم پر سفر کے گھٹنے اور ماتا کے درشن ہونے کی نوید سناتا جاتا۔ یاتری مٹی کے ان
جوالا مکھی پر پڑاؤ کرتے، پھر منت مانتے اور اپنے ساتھ لائے ناریل اس مٹی کے جوالا
مکھی میں پھینک کر ماتا کے مندر کی جانب چل دیتے۔ یہ سفر ایسا ہے کہ پاؤں تھکتے نہیں،
سانس پھولتا نہیں، جسم تپتا نہیں، سب ننگے پیر صحرا کی ریت پر چلتے جاتے ہیں، دل
ہے کہ پھر بھی خوش ہے، محب سے ملنے کے لیے بے تاب و مشتاق ہے۔ اس دورِ حاضر میں
جہاں اب بسیں اور گاڑیاں ایجاد ہو چکی ہیں، اتنی آسائشیں ہیں کہ ہر جانب سڑکوں کے
جال بچھا دیے گئے ہیں، ایسے میں دل ہے کہ مانتا ہی نہیں کہ یہ یاتری یہاں پیدل
آتے ہیں، جو ہزاروں برسوں کی روایت ہے۔ یہ یاتری ماتا کے مندر جاتے ہیں اور ان کے
نوراتری، ہولی، دیوالی سمیت سبھی تہوار یہاں ہوتے ہیں۔
بہشتی کن اکھیوں سے شراویا کو دیکھتا رہا۔ نا چاہتے
ہوئے بھی بار بار زرک کی نظر حسن کی اس دیوی کی طرف جاتی، جو ابھی خوبصورت
بھجن گارہی تھی۔ یہ بھجن اس کے دل میں گھر کر گیا تھا یا وہ آواز و چہرہ، وہ
اس لگن کو سمجھ نہ سکا۔ بہشتی زرک مسلمان تو تھا مگر اس سے قبل انسانیت پرست تھا۔ یہ
شراویا کے قبیلہ سے اگلے قبیلہ میں رہتا تھا۔ شراویا اپنے قبیلہ کی اکیلی کنیا تھی
جو تنہا رہتی تھی۔ اس کے مادر پدر انتہا پسندوں کے ایک گروہ کی نذر ہو گئے تھے تو
شراویا کے قبیلہ کے پسماندگان نے زرک کے قبیلہ کے سردار سے امان چاہی تھی۔ جس سے
قبیلہ کے ساتھ ایک دوسرا قبیلہ ان اقلیتی ہندوؤں کے لیے آباد کیا گیا۔ اس وقت ماتا
کے مندر کو بھی شر پسندوں نے نقصان پہنچانا چاہا مگر ماتا کا چمتکار ہے کہ وہ یہ
دراندازی نہ کر سکے۔ شراویا کا باپ کان کن تھا، اس کی ماں گوبر کے اُپلے تھاپتی،
مٹی کے برتن بناتی، کھجور کی چھال سے چٹائیاں اور ٹوکریاں بنانے کے ساتھ ساتھ وہ
اور بہت سے کاموں میں ماہر تھی۔ یہ سارے کام تو بچپن سے شراویا کو ورثہ میں ملے ہی
تھے مگر ساتھ ہی اسے اپنی ماں کی سریلی آواز بھی ملی تھی۔ شراویا کی میّا کا نام
گامینی تھا، اس کی آواز بہت سریلی تھی۔ وہ بھجن گاتی، راگ پہاڑی، راگ بھیروی، راگ
بلاول، راگ درباری بھی گاتی۔ وہ کام کے دوران ناک سے ہلکی سی لے و تان نکالتی رہتی،
اس کے دماغ کے کسی حصے میں ہر وقت موسیقی کا کوئی ادھ پون سلسلہ چلتا رہتا۔ جب باپ
گھر آتا تو یہ گھر دو موسیقاروں کی دہنوں کا مسکن بن جاتا۔ شام سویرے یہاں ہندی کویتا،
بھگت کبیر کی لکھت کو گایا جاتا۔ اس کے ماں باپ کی یہ سارے وقت کی باترتیب مشقت
شراویا کے لیے ہر وقت کسی مشق سے کم نہ ہوتی۔ وہ گھر جہاں دھارمک کان کن باپ اور
بجھن گانے والی میا ہو وہ گھر چوبیس گھنٹے مکتب و درسگاہ سے کم نہ تھا۔ ہندوؤں کے
اس قبیلہ میں کُل ملا کر 16 گھر تھے، جو اپنے اپنے پریوار کے ساتھ یہاں رہتے تھے۔
صبح ابھی سورج دیو نکلا نہ ہوتا کہ شراویا پاس کی ندی
پر نہانے کو جاتی۔ یہ اتنی صبح بھی نہیں ہوتی تھی کہ اپنی آنکھوں سے کسی شے
کو دیکھ کر پہچان لیا جائے، ندی کے باہر ہی شراویا کپڑے اتار کر پانی کو رام
رام کرتی اس میں اتر جاتی۔ پھر دونوں ہاتھوں کو سینے کے ابھار کے سامنے باندھ کر
بند آنکھوں سے پانی میں تین ڈبکیاں لگاتی۔ آسمان سرمئی ہو جاتا اور روشنی غلبہ
پانے لگتی۔جب شراویا اپنے بالوں کو پانی میں اچھے سے دھوتی تو دھرتی منکشف ہونے
لگتی۔ وہ پانی سے نکلتی، دو چار ثانیے تو ہر قطرہ اس کے تن بدن سے نچڑتا رہتا۔ یہ
دودھیا قطرے آسمانی رنگ سے سفید موتیوں کے ایسے نظر آتے۔ وہ کپڑے پہنتی، پھر بالوں
کو باندھتی اور ماتا کے مندر کی جانب چل پڑتی۔ اس کے صبح صبح نہانے والے راز کو اس
نیلی چھتری کے نیچے آج تک کسی نے نہ پایا تھا۔
شراویا گھنٹی بجاتی اور منہ سے باآواز بلند کہتی ”
ہنگلاج میا کی جئے ، پہاڑوں والی کی جئے۔“ یاتری ایک کے بعد ایک اٹھتے اور آتے،
پھر میلا جم جاتا اور تہوار منایا جانے لگتا۔
پھر بھجن ہوتا، عقیدت مند آتے اور چڑھاوے چڑھاتے اور
بھجن سنتے۔ یوگی جی وہاں بھگوت گیتا کی تعلیمات دیتے، ماتا کی کرامات بیان کرتے۔اس
جگہ کی لاکھوں برس پرانی کتھاؤں سے اہمیت بتلاتے۔ یہ سلسلہ 10 روز چلتا رہتا پھر
بادل ناخواستہ دور دراز سے آئے یاتری بہت سی حسین یادیں، آنکھوں میں آنسو اور سر
سے منتوں کا منوں بار اتارے واپس لوٹ جاتے۔
یاتریوں کے لوٹنے کے بعد شراویا نے بہشتی کا شکریہ ادا
کیا اور چڑھاوے کے پیسے سے اسے چند روپے دینے چاہے۔”یہ
لو تم نے بہت مدد کی، یہ تمہاری محنت کی اجرت۔“
”نہیں
نہیں دیوی جی ہم نے تو خالصتاً نیکی کی نیت سے یہ سب کام کیا، ہمارے اچھےکرموں کو
دام سے مت تولیے۔“ بہشتی نے نوٹوں کو دیکھا اور چار قدم پیچھے ہٹ گیا جیسے وہ
روپوں کی بتی نہ ہو کوئی چقو یا تمنچہ ہو۔
اس نے دستِ ادب جوڑے رکھے، وہ پلٹ کر چلا ہی تھا کہ
شراویا کے دل سے ایک ڈور باندھ گیا۔
بہشتی اپنے قبیلہ کا سب سے سادہ لوح لڑکا تھا، بڑے بوڑھے اسے پیار
سے بھولا اور سیانے خبطی کہتے تھے۔ یہ بہشتی اپنی اجداد کے بارے میں یہی جانتا تھا
کہ پہلے یہ لوگ ترکمان تھے، پھر یہ خانہ بدوشوں کے قافلوں سے بچھڑ گئے۔ ایران کے
علاقوں میں بھولا کے پردادا نے اسلام قبول کیا اور اپنے لیے مذہبی پیشوا کی
تلاش شروع کی، وہ ہند جانے والے تھے مگر پہلے وہ بلوچوں کے درمیان قیام کی نیت سے یہیں
رکے، مقامی لوگوں کا اچھا رویہ دیکھا، پھر مستقل یہی کے ہو کر رہ گئے۔ دو پیڑیاں
وہ یہیں ان سنگلاخ چٹانوں کے درمیان ہی رہے۔ رزک کے والد اور دادا ہر سال جہاں
جہاں خدمت پیش کرنی ہوتی جایا کرتے، ان جگہوں میں کمبھ کا میلا، اجمیر شریف کا
عرس، داتا صاحب کا عرس، سندھ کے نیکو کار لوگوں کا مسکن شامل تھا۔ وہ سبھی جگہ
جاتے اور مفت میں پانی پلانے کا کام سرانجام دیتے۔ انھوں نے اسی کارِ خیر میں اپنی
ساری زندگی صرف کردی اور کبھی کسی سے ایک پائی اجرت نہ طلب کی، وہ فی سبیل اللہ
کام کرتے اور میلہ ختم ہوتے ہی یہ بھی اپنے قبائل کی جانب لوٹ آتے۔
زرک کے والد اور دادا ایک بار اجمیر شریف گئے، پھر وہاں
ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ وہ وہیں پھنس کر رہ گئے۔ ان کا جب دین دھرم لوگوں
کو معلوم ہوا تو وہ بھی اسی فسادات کی نذر ہو گئے، یہ باتیں کئی برس بعد وہاں سے
آتے ایک ہندو یاتری نے انھیں بتائی تھیں۔ ہندوستان پاکستان کی جنگ کے بعد جب
فسادات ہوئے تھے تب اسی ہندو نے زرک کے والد اور دادا کو پناہ دی تھی اور انھوں نے
اپنی وصیت میں اپنے حالات اور پیش آنے والے واقعات زرک اور گھر والوں کو بتانے کو
کہا تھا۔ زرک ابھی لڑکپن میں تھا، قدرت نے اس کے کاندھوں پر بے سکونی کی چادر ڈال
دی تھی۔ اس کی جوانی مشک کا بار اٹھانے کے قابل تو نہ تھی مگر خدا کے اسکرپٹ میں
اس کا یہی رول تھا، جو اسے طوحاً و کرہاً نبھانا تھا۔
قبیلہ کا سردار اسے پسند کرتا تھا۔ وہ جب شکار پر جاتا یا
دوسرے مچھیرے جب دنوں تک مچھلیاں پکڑنے جاتے تو بہشتی کے طور پر زرک کو ساتھ لے لیتے۔
وہ لمبے سفر کے لیے 30 لیٹر والی مشک اپنی پیٹھ پر باندھ لیتا اور ساتھ چلا جاتا۔
ایک زمانے تک اس کا گزر بسر یونہی ہوتا تھا۔ مگر جب اس کی ماں بھی مر گئی تو اسے
اب اجرت کی زرا ضرورت نہ رہی، وہ فی سبیل اللہ کام کرتا اور ایک پیٹ بھرنے واسطے
جو ضروری ہوتا شام تلک کما لیتا۔
سبھی لوگ اس سے بہت الفت رکھتے تھے سوائے مسجد کے امام
کے۔ امام صاحب جمعہ کے خطبہ میں ہر گناہ گار اور کافر کی مثال زرک کے نام سے دیتے
اور یہی وجہ تھی کہ زرک عملی مسلمان ہونےکے باوجود گھر پر یا کسی اکیلی جگہ پر نماز
پڑھتا، وہ امام صاحب کے رویے کی وجہ سے مسجد سے دور ہوتا گیا۔ امام صاحب کو اس سے یہی
مسئلہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو تو پانی پلاتا ہے اور نیکی کماتا ہے مگر جب وہ ہندوؤں
کو پانی پیش کرتا ہے تو اپنے اعمال ضائع کر دیتا ہے اور اس کی نحوست سے قبیلہ پر
بارشیں بند ہو جاتی ہیں۔ خدا ناراض ہو جاتا ہے۔
پھر وہ زمانہ آیا کہ امامِ مسجد مرگئے اور ان کے جنازے
میں وہی نحوست پھیلاتا بہشتی فی سبیل اللہ پانی پلاتا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ امام
صاحب کے مقتدی جو اس سے نفرت کرتے تھے، اس کی یتیمی اور سادہ لوحی سے متاثر ہونے
لگے اور وہ قبیلہ کے ماتھے پر بِندی کی حیثیت رکھنے لگا۔
اب وہ پھر سے مسجد جاتا اور خدام کی کمی بھی پوری کرتا،
ساری مسجد کو صاف رکھتا، فارغ وقت میں مسجد کے لیے دریاں بُنتا۔ بہت برس گزر گئے،
اس کی خدمات کو دیکھنے کے بعد اب اس کی عمر ایک مکمل مرد کی ہوگئی تھی۔ مسجد کی کمیٹی
کے لوگوں نے اس کی شادی کے بارے میں اس سے بات کی۔
وہ نہایت تابع دار اور فرمانبردار تو تھا مگر اسے لگا
سب مل کر اسے فریب دے رہے ہیں۔ پہلے پہل تو وہ وہاں سے چل پڑتا جہاں یہ بات شروع
ہوتی۔ مگر بعد میں جب یہ بات ہر جگہ ہونے لگی تو وہ مان گیا۔ ”جو آپ لوگوں کی مرضی۔“
”تمہیں
کوئی لڑکی پسند ہے؟“ جب کمیٹی کے چیئر مین نے پوچھا تو وہ تمسخر سمجھ کر وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
سبھی لوگوں نے زیرِ لب ہنسی روکے رکھی لیکن جب وہ وہاں
سے گیا تو سب نے فلک شگار قہقہہ لگایا۔
”شرما
گیا لڑکا۔“ سب نے نظروں نظروں میں ایک دوسرے سے گفتگو کی۔
ایک روز عشاء کی نماز ہوئی، چیئر مین صاحب نے اسے اپنے
پاس بلایا اور تنہائی میں پوچھا۔ چیئر مین صاحب کا نام حاجی عبدالصبور تھا، وہ اسے
بہت پسند کرتے اور اس یتیم پر دستِ شفقت رکھتے تھے۔
”تمہیں
کوئی لڑکی پسند ہے؟ شرماؤ نہیں مجھے بتاؤ، یہ ہمارے نبیﷺ کی سنت ہے۔“ حاجی صاحب نے
نہایت محبت سے کہا۔
جواب ندارد۔
”دیکھو
شادی تو سبھی کرتے ہیں، میں نے بھی کی ہے، قبیلہ کے ہر فرد نے کی ہے اور جس کی عمر
ہوگی اس نے بھی کرنی ہے۔“ بولتے ہوئے حاجی صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے
ہمت دی۔
جواب ندارد۔
”تم
کچھ بولو تو بات آگے چلے گی۔“ وہ مسلسل بول کر اس کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔
اب کی بار اس کے لب وا ہوئے۔ ”مجھے ایک لڑکی پسند ہے
مگر کوئی اس پر راضی نہ ہوگا۔“
”سردار
کی لڑکی کو چھوڑ کر کسی کا نام تو لو، میں اس مسجد میں بیٹھ کر تم سے وعدہ کرتا
ہوں کہ میں یہیں تمہارا نکاح پڑھاؤں گا۔“
حاجی صاحب زرک کی نفسیات سے آگاہ تھے، جبھی اسے
بولنے کے لیے موقع دے رہے تھے۔
”وہ
ساتھ کے قبیلہ میں ایک یتیم لڑکی ہے۔“ وہ بولا کہ حاجی صاحب نے اس کے کندھے کو پھر
سے تھپکایا۔
”ہاں۔“
انھوں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔
”وہ
لڑکی دھارمک ہے اور ہندو ہے۔“ وہ لاجرعہ
بول کر مسجد سے باہر نکل گیا۔
حاجی صاحب سوچ میں ڈوب گئے اور مسجد کے محراب میں رکھا
دِیا رات بھر جلتا جلتا صبح کے کسی پہر بجھا اور اس کا دھواں چاروں اور پھیل گیا۔
زرک فجر میں نماز پڑھنے نہ آیا تھا۔ وہ رات کے رات کسی
کی نظروں میں آئے بغیر ہی قبیلہ سے نکل گیا تھا۔ صبح طلوع ہوئی اور چاند روشنیوں میں
چھپ گیا۔ زرک باپ دادا کے مرنے کے بعد آج پہلی بار اجمیر شریف کی جانب جانے کو
اپنا سامان تیار کر رہا تھا۔ اس وقت حالات اتنے کشیدہ نہ تھے، اس لیے اسے کسی قسم
کی دقت کا سامنا کیے بغیر سرحد پار جانے کی اجازت مل گئی اور وہ ٹکٹ لے کر بس میں
سوار ہو گیا۔
وہ وہاں بغیر اجرت سب کو پانی پلاتا اور دعائیں لیتا۔
کوئی اپنی خوشی سے کوئی پیسہ روپیہ اس کو دینا چاہتا تو وہ نہ لیتا مگر لوگوں کی
محبت ہوتی کہ پیسے اس کے جیب میں ڈال دیتے۔
اس کی بےلوث خدمات کو دیکھ کر اجمیر شریف کے خادموں نے
اس کا تعارف پوچھا تو اس نے اپنے باپ دادا کی نسبت دی، سب نے اسے بہت اہمیت کی نظر
سے دیکھا اور اب سب اُس کی زیادہ قدر کرنے لگے۔ لنگر خانے سے جب کھانا خادمین میں
تقسیم ہوتا تو اسے پہلے دیا جاتا، اسے رہنے کو ڈھنگ کی جگہ مہیا کی گئی۔
وہ وہاں بیس دن رہا، سب کی خدمت کرکے اپنے اور اجداد کے
حق میں اس وسیلہ سے دعا کروائی۔
”اے
خدا ! میں جب واپس جاؤں تو مجھے وہ لوگ پہلے ایسے قبول کر لیں، اے خدا ! میں جب
واپس جاؤں تو حاجی چچا مجھ سے سختی نہ کریں۔ وہ یہ بات ہی گویا بھول چکے ہوں، یا
اللہ تجھے تیرے اس محبوب بندے کا واسطہ کہ جب میں واپس جاؤں میرے معاملات اتنے برے
نہ ہوں جتنے مجھے خدشات لاحق ہیں۔ میرے بابا اور میرے اجداد کی قبروں پر رحمت نازل
کر، ان کے اعمال نامہ میں ان پر شفقت فرمانا۔“ اس نے واپس اپنی بستی کی طرف منہ کیا
اور رختِ سفر باندھ کر چل دیا۔
وہ واپس آیا تو دیکھا کہ وقت نے سبھی کچھ بدل رکھا ہے۔
جب وہ اپنے قبیلہ سے زرا ہی فاصلے پر تھا کہ دیکھتا ہے کہ سامنے بھیڑ جمع ہے اور
اس کی ہی جانب دیکھ رہی ہے۔ زرک نے بہت بار پیچھے مڑ مڑ کر دیکھا کہ شاید وہ میرے
بعد آنے والے کسی کے منتظر ہوں۔ وہ پہلے آہستہ چال چلتا آرہا تھا مگر جب قریب
پہنچا تو نظر چُرا کر زرق برق ہو کر اپنے گھر کی جانب جانے لگا کہ حاجی صاحب نے
اسے آواز لگائی، ”بھولا یہ کیسی ناراضی دیکھا دی تم نے، ہم سب کو پریشان کرکے کہاں
گئے تھے۔“ یہ شفیق و نرم لہجہ سن کر وہ دم بخود رہ گیا۔
”تم
نے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور اصولاً ہم کو اسے پورا کرنا چاہئے تھا، آخر تمہاری
زندگی ہے۔ تم اپنی پسند نا پسند بتانے کا حق رکھتے ہو۔“ ایک پستہ قد بزرگ چھڑی کے
سہارے آگے آکر بولے۔
”ہمیں
اس پر کوئی اعتراض نہیں مگر اس شرط پر کہ اب تم قبیلہ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ
گے۔“ حاجی نے آگے بڑھ کر گلے لگایا کہا۔
”تمہارا
مسئلہ ہم بڑے اور حاجی صبور، سردار کے پاس لے کر گئے تھے، انھوں نے حامی بھری اور
خود اس لڑکی سے بات کی، وہاں سب لوگ سردار کی پیش کش پر خوش ہیں۔“ مجمع سے ایک اونٹ
کی رنگت کےبزرگ نے گویا اسے جنت کی بشارت
سنا دی ہو۔
زرک کچھ بولتا اس سے پہلے لوگ اس پر پل پڑے اور باری
باری اسے گلے لگانے لگے۔
”مبارک
ہو لڑکی کو اس رشتہ پر کوئی اعتراض نہیں۔وہ تم سے پہلے سے متاثر ہے۔“ سب مبارک ہو،
مبارک ہو، کہہ رہے تھے۔ اسے رتی برابر یقین نہیں آرہا تھا، یا تو یہ لوگ پاگل
ہوگئے ہیں یا اس کی خدمت خدا کے حضور قبول ہو گئی ہے۔
اگلے اساڑھ کے پہلے ہفتہ میں ہی ان کا ملن طے ہوا۔ زرک
کو باپ سے ورثہ میں مشک ملی تھی جو چند برس چلی پھر اس نے اپنے دادا کے سیکھائے
ہوئے فن کا کمال مہارت سے استعمال کیا اور ایک بہترین مشک بنائی جس میں قریباً 30
لیٹر پانی جمع ہو جاتا تھا۔
اس شادی میں دونوں قبائل کے بڑوں کی رضامندی تھی۔ کسی
کے ذہن و گمان میں بھی مذہب کی روک ٹوک، ذات پات، برادری، پگڑی اور ناک کی پرواہ
نہ تھی۔ دونوں قبیلے رہتے ایک ساتھ تھے۔ ایک دوسرے کی رسوم میں شامل ہوتے تھے۔
دونوں ہی سردار کی عزت کرتے تھے۔ کئی دہائیوں سے میدانِ جنگ بننے والا یہ بلوچستان
کا حصہ اب ہر قسم کی فرقہ پرستی ، انتہاء پسندی اور ہر طرح کے تعصبات کی لعنت سے
پاک ہو چکا تھا۔
ملن سے پہلے منگنی کی ایک ہلکی سی رسم رکھ دی گئی۔
بہشتی زرک حسرت بہت خوش تھا، جو اس کی من کی مراد تھی وہ اب بلآخر پوری ہونے والی
تھی۔ یہ خوبصورت لمحے، یہ الفت بھری ساعت، یہ شرم و جھجک کی گھڑیاں، جہاں سبھی لوگ
وقتاً فوقتاً دونوں سے ہی چھیڑا چھاڑی کررہے تھے، وہاں زرک کی قسمت میں اس
سندر سشیل ناری کو لکھ دیا گیا تھا۔
شراویا کتنے رنگوں میں رنگی ہوئی تھی۔ لال جوڑے کا رنگ،
مہندی کا رنگ، پھولوں کے ہرے بھرے رنگ اور ان رنگوں میں لال لال محبتوں کا رنگ جو
اس کی آنکھوں میں زرک کے لیے تھا۔
خالی وقتوں میں زرک شراویا کی تصویرکو سوچتا اور بے ترتیب
جملے بولتا رہتا۔ ایک شام وہ کھجور کے باغ میں بیٹھا ہوا خود کلامی کررہا تھا۔
”شراویا تمہارا پُر سحر چہرہ، جسے شاعر اگر غور سے دیکھیں تو غزل کہیں، سنگ تراش دیکھیں
تو صنم تراشیں، خانہ بدوش دیکھیں تو سبزے کی منت مانیں۔ پھر تمہارے رخسار پر،
آنکھوں پر، پلکوں پر شعر کہے جائیں جن کی تقطیع تم ہو۔ جس کی تشریح تم زندہ مثال
ہو۔ سنگ تراش تمہیں آسمانی حسن کہتے تو خانہ بدوش تمہیں دیوی کا اوتار بلاتے۔
تمہاری پُرنور آنکھوں سے حسن ابلتا ہے، تم گونگے بہرے کو نظر بھر کر دیکھ لو تو وہ
بولنے لگیں اور جب تم مجھے ایسے ادا بھر کر دیکھتی ہو تو میں اپنی تمام حسیات چند
لمحوں کے طلسم سے کھو دیتا ہوں۔ کُل کائنات میں سب سے خوبصورت مسکراہٹ تمہاری ہی
تو ہے جو پتھروں کو پگلا دے۔“ وہ یوں بڑبڑا رہا تھا گویا اس کے سامنے شراویا
بیٹھی ہو۔ یہ منظر دیکھ کر حاجی چچا اور باقی لوگوں نے زور دار قہقہہ لگایا کہ وہ
خیالات کی دنیا سے واپس پلٹ آیا۔
وقت گزرتا گیا پھر سے یاتری آئے ، یاتریوں کا پھر سے
استقبال کیا گیا۔ اب کے بہشتی کو یہ لوگ فقط بہشتی کی نگاہ سے دیکھ کر نظر انداز
نہ کرتے تھے بلکہ اب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے، اس کو بوسہ دیتے اور ساتھ اسے آشیرواد
دیتے۔
زرک اور شراویا کی نظریں ملتیں تو شراویا شرما کر رُخ
پھیر لیتی اور زرک اپنا سا منہ لیےکھڑا رہ جاتا۔ یاتری پھر دل میں غم اور آنکھوں میں
آنسوں لیے قافلوں کی شکل میں چلے گئے۔
اب کے ان کی شادی کی تاریخ قریب تھی تو من بےقرار ہوا
چاہتا تھا۔ شراویا جب زرک کے بارے میں سوچتی تو اس کی سانسیں بے ترتیب ہو کر تیز
ہو جاتیں، اس کا تن بدن تپ جاتا۔ شراویا کی نیندیں اب کم ہونے لگی تھیں اور زرک کا
دھیان اب بٹنے لگا تھا۔ وہ دونوں ہی اس نئے جذبے سے ناآشنا تھے۔ نہ شراویا کسی سے
حالِ دل بیان کر سکتی نہ زرک کسی سے اس حالت کا ذکر کر سکتا تھا۔
جیسے تیسے دن کٹ گئے۔ پھر وہ دن بھی آن پہنچا کہ پہلے
ان کا نکاح ہوا پھر جب زرک ان کے قبیلے میں گیا تو چند ہندوؤانہ رسوم ہوئیں، شادی
کا مزہ دوبالا کیا گیا۔ وہ دونوں اب ایک ایسے مقام پر تھے کہ ان کو یہ سماں اچھا
لگنے لگا، وہ ایک مضبوط بندھن میں بندھ چکے تھے۔
چھ راتیں وہ ایک ساتھ گزار چکے تھے، ان کی چارپائی
محبتوں کی کئی یاداشتوں سے گندھ چکی تھی۔ وہ دو بدن کتنی ہی بار ایک چادر ہوئے،
کتنی ہی راتیں جاگے۔ شراویا کی آنکھیں زرک نے اتنے قریب سے پہلی بار دیکھی تھیں،
وہ دو آنکھیں زندگی سے بھرپور آنکھیں تھیں۔ یہ چاشنی سے بھر پور شب و روز ایک مکمل
مرد اور ایک بھری ہوئی عورت کے مابین پُرلطف ہوتے گئے۔ زرک شروایا کی آغوش کی گرمی
اور اس کی چھاتیوں کی نرمی کے سحر سے مسحر ہونے لگا۔ شراویا کو جب زرک سینے سے لگا
کر اپنے اندر بھینچنے کی کوشش کرتا تو وہ بھی بنا کسی مزاحمت کے اس کی ہوتی
جاتی۔ یہ راتیں گواہ تھیں وہ دو پریمی سچے تھے اور ان کی محبت امر تھی۔ ان دونوں میں
کوئی سودے بازی نہ تھی فقط محبت تھی، خالص محبت جو ہر قسم کی طمع سے ماورا تھی۔
پھر دو دنوں بعد طیلسان پہنے سردار آیا اوردروازے پر دو
کمزورں دستکیں دیں ، پھر ایک تیسری زوردار دستک کے بعد بہشتی زرک باہر آیا۔سردار
نے اسے گلے لگایا شادی مبارک کہا۔ پھر اسی خوشی میں اسے شکار کا
تحفہ دینے کے لیے ساتھ آنے کی دعوت دی۔ زرک جلدی سے اندر گیا اور تیار ہوا، ساتھ
اپنا مشک بھر کر پیٹھ پر لاد لیا۔ اس نے شراویا کو بازوؤں میں بھرا اور ایک بوسہ اس
کے ماتھے پر دیا دوگالوں پر اور ان آنکھوں کو الفت سے چومنے لگاچند ثانیے کا مختصر
سا الوادعی ملاپ ہوا جس کے بعد وہ گھر سے
نکل کر منزل کی جانب چل دیا۔
شراویا اب کے تین دن تک کیا کرتی سو اس نے پہلے گوبر کے
اُپلے گوندھ کر گھر کے پچھواڑے پر تھاپ دئیے۔ پھر اس نے اپنی ماں کا فن آزمایا اور
ٹوکریاں اور مٹی کے برتن بنانے لگی۔ شراویا ان فنون میں ید طولیٰ رکھتی تھی۔ صبح
کو وہ بھجن گانے جاتی اور جلدی ہی واپس آکر اپنے گھر کے کاموں میں الجھ جاتی۔
اس کے ہاتھوں سے مہندی اتر گئی اور زرک تین دن کی مسافت
کے بعد تھکا ہارا گھر آیا تھا۔ اب کے سفر اسے تھکا دیتے تھے۔
زرک آیا مگر ایک رات کے لیے ، صبح اسے پنجاب کی طرف
نکلنا تھا۔ سخی سرور کے مزار پر ان کا سالانہ عرس تھا، وہ وہاں چند برسوں سے بلا
ناغہ جایا کرتا تھا۔ اس رات اس نے ان تین راتوں کی جدائی کی شدت شراویا کو بھی
محسوس کروائی۔ اس نے شراویا کو پوری رات اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ وہ لڑکی
طول و عرض میں سراپا محبت تھی۔ وہ عفیفہ زرک پر بخار کے ایسے حاوی ہونے لگی تھی۔
وہ ایک لمحے کو نہ سویا، رات کے کسی پہر بولا، ”یہ تم نے اپنے ہاتھوں سے کیا سلوک
کر رکھا ہے شری، کیسےسادہ بے رنگ ہاتھ بنا رکھے تم نے ، ان کو مہندی سے رنگ
دو۔“
شراویا نے ناراضی سے کہا، ”من بھر بھر چاہتا ہے کہ
مہندری لگاؤں مگر۔۔۔۔۔ تم تو گھر ہوتے نہیں ہو۔“ وہ زرا رک کر ناراضی سے بولی۔
”میں
تمہارے پاس ہوں شری ۔اس نے پل کو سانس روک
دیا۔تم سے دور رہ کر بھی میرے پل پل پر تمہارا قبضہ ہے، تمہاری
پائل ، تمہاری بالیوں اور نتھی سے میرا جیون جڑا ہوا ہے۔ میرے نام کی مہندی لگاؤ۔
میں نے دنیا کے خوبصورت ترین شہر دیکھ رکھے ہیں، انبوہ میں بےحد خوبصورت چہرے دیکھے
ہیں۔ درگاہوں پر بلا کی حسینائیں آتی جاتی رہی ہیں، مگر کہیں میری نظریں نہ ٹھہریں
اور تم سے میری نظریں ہٹتی نہیں ہیں۔ تم دنیا کا نصف حسن ہو، محبت و چاہت کی دیوی
ہو۔“
شراویا کے اوپری ہونٹ پر ہلکی سی پسینے کی بوندیں
نمودار ہوگئیں۔ ”کل لگاؤں گی۔“
رات اتنی مختصر محسوس ہوئی کہ پل دوپل میں کٹ گئی۔
پھر صبح وہ تیار ہوا اور اپنی منزل کی جانب بس میں سوار
ہو گیا۔
شراویا کام میں مصروف ہو گئی اور ساتھ اپنے بھجن گانے
لگی۔ دن بہت مصروف رہا۔
اگلے دن صبح خاموش تھی، پرندے کسی اور نگر سے اُڑ کر ان
ریگستانوں میں پناہ لینے آئے تھے۔ کتنے پرندوں کے قافلے اس نے صبح سے گن لیے تھے۔
آج کام تھوڑا تھا، فراغت پانے کے بعد اُس نے فرصت پائی تو سورج ماند پڑنے
لگا۔ شراویا ہاتھوں پر مہندی کے پھول رچانے لگی۔ بہت دیر تک مہندی لگی رہی۔
شام کے سائے پھیلنے سے پہلے ہی ہرکارہ زرک کے حوالے سے خبر لایا۔
شراویاکے ہاتھوں پر مہندی لگی تھی تو اس نے ڈاکیہ کو
خبر پڑھنے کو کہا، ”کمیٹی کی جانب سے یہ چٹھی زرک کے لواحقین کے لیے ہے۔ عرس مبارک
پر دھماکے سے زرک اور دیگر لوگ شہید ہو گئے ہیں، ان کی تدفین یہیں قبرستان میں کی
گئی ہے۔ان کا غائبانہ جنازہ ادا کر لیا جائے۔ خدا ان نیک بختوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے، انا اللہ وانا الیہ
راجعون۔“ ہرکارہ چٹھی اسے تھما کر آگے بڑھ گیا۔ خبر تھی کہ نفیر، شراویا کے کانوں
میں مندر کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔چار لمحے گزرے ہوں گے اب اس کے کانوں میں سوائے ایک خالی خالی سے شور کے
کچھ نہ تھا۔ وہ اس سب کو سمجھ نہ پائی، اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ خبر سنتے ہی اس
کے حواس اُڑ گئے۔ وہ صدمے کی حالت میں تھی، چولہے پر پانی ابل رہا تھا۔ شراویا نے
بےدھیانی میں اس گرم پانی میں مہندی والے ہاتھ دھو ڈالے مگر اس کا سانس ساکن تھا،
اسے جلن کا احساس تک نہ ہوا۔
شراویا چند ثانیے کے لیے پتھر کی مورت بنی رہی، وہ لڑکی
جو کبھی دوسرے قبیلہ سے تیسرے قبیلہ تک نہ گئی تھی، وہ شراویا، رستوں سے ناآشنا
لڑکی، سر پر چادر رکھنا بھول گئی اور صحرا کی جانب دیوانہ وار بھاگی۔ شام ڈھل گئی
لیکن اسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔ صحرا میں طوفان اٹھا اور سارا جہاں ریت میں نہا
گیا۔ قبیلہ والے سویرے اس کی تلاش میں نکلے۔ پورے دن کی کھوج کے بعد شام ڈھلے ایک
ریت کے ٹیلے پر شراویا مردہ حالت میں پائی گئی۔ اس کا باقی جسم مٹی میں دھنس چکا
تھا اور ہاتھوں میں زرا زرا سی ریت تھی۔ ریت ہوا سے اڑتی گئی تو مہندی کے رنگ میں
آبلے کچھ ابھرے بھرے اور کچھ کریدے ہوئے تھے۔
تمام شد

Leave a Comment