Microf #8 | Zar parast | HaaDi Khan
زر پرست
از قلم ہادی خان
ایک شخص کے بدن سے مردہ ضمیر کا تعفن اٹھ رہا تھا۔ کسی کا چہرہ مکاری کے گہرے دھبوں سے گدلا ہوا تھا۔ یہ منڈی زیادہ تر طمع پرستوں سے بھری تھی۔ حرص و ہوس کی بوتل پھوٹی اور اس تیزاب سے سب کے منہ جھلسے ہوئے تھے۔ نظروں کے زاویوں سے لے کر سانس لینے تک ہر عمل سے حساب کی آنکھوں میں گناہ سرمچو ہو رہے تھے۔ بےزبان جانوروں کی بھیڑ میں چند زبان والے بھیڑیے اپنے آپ کو معصوموں میں چھپا کر کھڑے تھے۔ کوئی پونجی والا اپنی جیب بچائے بازار میں آیا۔
پھر جیب کترے اس پر پل پڑے اور بازار میں افراتفری پھیل گئی۔
اس سے سنبھلا نہ گیا اس نے ہاتھ چلانا شروع کیے۔
سب بھیڑ دور جاتی سنائی آنے لگی۔
گومگو کی کیفیت میں سرمایہ دار نے جیب پر دوبارہ ہاتھ رکھا سب خالی تھا۔
آنکھوں کو مل کر دھول صاف کی۔
سامنے کوئی نہیں تھا سوائے ایک بھینس کے جس کا پیٹ چاک تھا اور رحم مادر میں ایک نومولود بچہ تھا۔
ایک نفیر کی لہر آئی سب سو گئے۔

Leave a Comment