Microf #9 | Barsati Mendak | HaaDi Khan

مائیکروفکشن: برساتی مینڈک
 از قلم ہادی خان
پانچویں ماہ جب وہ مینڈک تنگ و تاریک راستے سے نکلا۔
برسات بادل بھر کر لائی تھی۔
پہلے پہل تو ایک اچھی نیند کے بعد دنیا بہت بڑی معلوم ہوئی مگر پھر جب وہ کودتا کودتا ایک دیوار سے دوسری دیوار، دوسری دیوار سے تیسری دیوار اور یوں دیوار در دیوار چلتے اس نے دو روز گزار لیے۔
برسات رکتی تو بھی بتی نہ جلتی کہ کہیں سے پروانے نہ گھس آئیں یہ کمرہ سدا سے تاریکی میں ڈوبا رہتا۔ مینڈک کبھی میز کے پیچھے، کبھی الماری کے نیچے سے ہوتا ہوا کودتا راستہ ناپتا رہتا۔
 کھانے کو مکوڑے آنکھ میں سرمہ ڈالنے کر برابر میسر نہیں تھے۔ صبح میں بتی اور دروازہ بند رہتا دن میں کھڑکیوں پر پردہ چڑھا ہوتا۔ تیسرے روز بند بتی کے کمرے میں جب دروازہ کھلنے سے روشنی داخل ہوئی مینڈک نے عافیت جانی اور اس جانب لپکا۔ اندھیر کمرے سے پانچ ماہ بعد زندگی کی خاطر جستجو کرنے والا مینڈک پاؤں تلے آکر پچک گیا۔

No comments

Powered by Blogger.